بند کریں
ادب افسانہحسن پاگل کر دیتا ہے

مزید افسانہ

پچھلے مضامین - مزید مضامین

مزید عنوان

حسن پاگل کر دیتا ہے
اور ہم تو پیدا ہوتے ہی حسن کے عاشق ہو گئے تھے ۔کہ ہم نے اپنے ارد گرد حسین چہرے ہی دیکھے تھے۔مگر حسن صرف چہروں میں ہی تو نہیں ہوتا ۔ ہمیں تو ہر حسیں شے لبھاتی تھی ۔ چاہے وہ حسن کسی بھی رنگ وروپ میں ہو،پھولوں میں ہو ،ستاروں میں ہو ، انسان کی صناعی میں ہو ،خود انسان میں ہو یا اس کی تصویر میں ہو
ثریا بابر
حسن کی تاثیر پر غالب نہ آسکتا تھا علم
اتنی نادانی جہاں کے سارے داناؤں میں تھی
علامہ اقبال۔۔بانگ درا
اور ہم تو پیدا ہوتے ہی حسن کے عاشق ہو گئے تھے ۔کہ ہم نے اپنے ارد گرد حسین چہرے ہی دیکھے تھے۔مگر حسن صرف چہروں میں ہی تو نہیں ہوتا ۔ ہمیں تو ہر حسیں شے لبھاتی تھی ۔ چاہے وہ حسن کسی بھی رنگ وروپ میں ہو،پھولوں میں ہو ،ستاروں میں ہو ، انسان کی صناعی میں ہو ،خود انسان میں ہو یا اس کی تصویر میں ہو۔
 مگر ستم یہ ہوا کہ ہم ایسا دل اور آنکھیں لے کر ایک ایسی جگہ پیدا ہو گئے جہاں گلیاں گنجان آباد ،صفائی کا نظام ناقص، چھوٹی چھوٹی گلیوں میں بڑی بڑی نالیاں بہا کرتی تھیں۔اور ایسی تنگ گلیوں میں بھی آگے سے دروازہ لگا کر گلی اس لیے بند کر دی گئی تھی کہ،،ہر ملک ،ملک ما است،اور یوں یہ بڑی بڑی نالیاں بچوں کی حوائج ضروریہ پوری کرنے کے کام آنے لگیں۔گلی میں آنے جانے والوں کو بے شمار چیزوں سے بچنا پڑتا کیونکہ،،بچے آخر بچے ہوتے ہیں۔
 لیکن کنول کیچڑ میں ہی کھلتا ہے۔اور شاید اسی لیے ہمارے ماں باپ نے ہمارا نام کنول رکھ دیا۔عوام اور حکومت کی اس قدر شاہکار کوششوں کے باوجود ہمارے اندر کا حسن پرست مر نہ سکا ۔بلکہ ہر کوشش کے نتیجے میں طاقتور سے طاقتور ہوتاچلا گیا۔
جس طرح بے تحاشا ،وشیوں میں غم کا تڑکا ضروری ہوتا ہے اسی طرح انتہائی مشکل حالات میں بھی آسانی کا کوئی نہ کوئی دروازہ کھلا ہوتا ہے۔یہ دروازہ یوں کھلا کہ ایک چھوٹا سا ڈبہ ہمارے گھر آ گیاجسے عرف عام میں ٹی۔وی کہا جاتا ہے۔نو دس سال کی عمر،گنجان آباد علاقے کی بد صورتی میں رہنے والی ایک حسن پرست لڑکی، اور ٹی۔وی پر خوبصورت لوگوں کا براجمان ہونا،کالا سفید سہی، خوبصورت تو خوبصورت ہی لگتا ہے بلکہ کچھ زیادہ ہی لگتا ہے۔اس لیے جب ٹی۔وی چلتا تو ہم ٹکٹکی باندھے اسے ہی دیکھتے رہتے۔ ڈرامے تو سمجھ آ نے مشکل تھے ہاں، اشتہارات فورا سمجھ میں آ جاتے تھے اور ان میں جلوہ گر ہونے والی حسن کی دیویاں ہمارے ذہن پر نقش ہوتی جاتی تھیں۔
 کچھ وقت گزر گیا۔اٹھتی عمر کے ساتھ ہمیں خوبصورت لوگ اور زیادہ خوبصورت لگنے لگے۔ٹی۔وی بھی کالے سفید سے رنگین ہو گیا ساتھ ہی سنگین ہو گیا مگر ہمارے اشتہارات دیکھنے کے شوق پر کوئی فرق نہ پڑا پھر ہمارے ذہن کی سوئی ایک اشتہار کی خوبصورت ماذل پر اٹک گئی۔اشتہار ٹوتھ پیسٹ کا تھا۔
 ٹوتھ پیسٹ تو ہم نے استعمال نہیں کیا ۔مگر اس اشتہار کی ماڈل ہمیں اس قڈر اچھی لگی کہ جب بھی وہ اشتہار آتا ،ہم سارے کام چھوڑ کر اسے ہی دیکھنے کھڑے ہو جاتے۔کبھی کبھی دل چاہتا کہ ہم اس حسن کی دیوی سے ملیں ،اس کے قدموں میں عقیدت کے پھول نچھاور کریں، اس سے باتیں کریں ۔مگر یہ سب کچھ ایک خواب ہی تھا جس کی تعبیر کے دور دور تک کوئی امکانات نہیں تھے۔
ایک ہفت روزہ رسالے کے آخری صفحے پر بھی اس ماڈل کی تصویر آتی تھی کیونکہ اشتہار چھپتا تھا۔جیسے ہی رسالہ آتاہم قبضہ کر لیتے ۔حسن دیکھ کراپنی آنکھوں کی پیاس بجھاتے،اوربار بار اسے دیکھتے رہتے۔
 ہم پانچ بہنیں دو بھائی ہیں۔بہنوں میں جہاں بہناپا ہوتا ہے وہاں جلاپا بھی ہوتا ہے۔ہماری دو بڑی بہنوں کو اندازہ ہوا کہ ہم اس ،،بت نا رسا ،،پر عاشق ہیں تو انہوں نے ہمیں سمجھانے کی کوشش کی،مذاق اڑایا ، طعنے مارے،، اوئے ہوئے لڑکی ہو کر لڑکی پر عاشق ہو کوئی لڑکا ہی دیکھ لیا ہوتا ،،اب ان مادہ پرستوں کو کون سمجھائے کہ حسن پرست مذکر مئونث نہیں دیکھتا وہ تو صرف حسن دیکھتا ہے۔
رسالہ گھر کے دوسرے افراد بھی پڑھتے تھے اس طرح ہمیں کبھی کبھی اس دلربا کی تصویر ،،طلب دیدار حسن ،، کے وقت دستیاب نہ ہو تی تھی ۔ اس لیے ہم نے اس ،حسین ،کی تصویریں اپنی ایک پرانی کاپی میں کاٹ کاٹ کر چپکا لیں ۔ہماری ظالم بہنوں کے ہاتھ ایک دن وہ کاپی آ گئی اور انہوں نے وہ پوری کاپی جلا ڈالی ۔۔۔۔ جو درد ملا اپنوں سے ملا ،غیروں سے شکایت کون کرے۔۔۔
محبت کی کہانی میں جدائی کا موڑ ضرور آتا ہے۔یہ باتیں ہماری والدہ صاحبہ کے کانوں میں بھی پڑ گئیں۔ایک کمرے کے چھوٹے سے گھر میں کوئی بھی بات سماعتوں سے کہاں محفوظ رہ سکتی ہے ۔انہوں نے والد صاحب سے ذکر کیا انہیں شاید خدشہ ہوا کہ ،،آغاز جوانی ،، کی یہ محبت کوئی اور رنگ نہ اختیار کر لے ،یوں وہ رسالہ ہمارے گھر آنا بند ہو گیا ۔
ان ہی دنوں ہمارا کالج میں داخلہ ہو گیا۔پڑھنے لکھنے کی مصروفیت بڑھ گئی۔پھر بھی کبھی وہ اشتہار اگرٹی۔وی پر چل جاتا تو ہم ،،ٹک ٹک دیدم،دم نہ کشیدم ،،کی تصویر بن جاتے۔
اللہ تعالی نے رزق کچھ کشادو کیا۔والد صاحب نے ایک یہتر جگہ گھر بنا لیا۔صحن میں کیاری بنائی گئی۔اس میں پھول پودے لگائے گئے۔احسن الخالقین کی توہر تخلیق بے پناہ خوبصورت ہوتی ہے۔سو ہمارے دیدار حسن کی طلب کو تھوڑی تسکین ملی۔شاخوں پر پتے نکلتے یا کوئی نیا پھول کھلتا تو ہم دیرتک اسے دیکھتے رہتے ۔
میڈیا والے تو چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں۔کمپنی والوں کو کوئی نئی ماڈل مل گئی۔وہ اشتہار نئی ماڈل کے ساتھ آنا شروع ہو گیامگر ہمارے دل سے اس ،،حسین کی ،،یاد نہ گئی۔وقت تو گزرتا ضرور ہے۔کچھ اور گزر گیا۔
ہمارے انٹر میڈیٹ کے امتحانات چل رہے تھے ک ہمارے ایک تایا کے بیٹے کا رشتہ ہمارے لیے آیا۔ باوجود اس کے کہ ہم سے دو بڑی بہنیں موجود تھیں،ہمیں ،،چٹ منگنی پٹ بیاہ،، کر کے رخصت کر دیا گیا۔شایدہمارے والدین کو اندیشہ ہو گیا تھاکہ ہو سکتا ہے ہم کسی اور، حسین،کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہو جائیں لہذا انہوں نے ہمیں سب سے پہلے ٹھکانے لگا دیا۔مگر یہ دل کی بات زبان پر نہ آ سکی۔عاشق اتنے تیز طرار اور بد لحاظ کہاں ہوتے ہیں۔عاشق چالاک ہواکرتے تو بیہ زمانہ ان پرکیسے ستم ڈھاتا۔؟؟؟؟؟؟
 ستم کاری کا سلسلہ ایک بار شروع ہو جائے تو دل کا لہو پیئے بغیر رکتا نہیں۔اتفاق سے اپنے سسرال میں خاتون اول ہم ہی تھے ۔نند پیداہی نہیں ہوئی تھیں اورساس بیوہ تھیں یوں اب نند پیدا ہونے کے امکانات بھی نہیں تھے۔مزید ستم یہ کہ کوئی صورت ایسی خوبصورت نہ تھی جو ہمارے لاشعور کے حسن کے خاکے میں پوری آ تی ۔سب کا لب و لہجہ بھی کچھ سخت ہی تھاورنہ حسن کے عاشق تو حسین آواز سے بھی تسکین پاتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے اندر ،،دیدار حسن ،،کی طلب بڑھنے لگی اور اس طلب نے ہمارے ساتھ وہ سلوک کیا کہ الامان و الحفیظ۔۔۔۔
 وقت کا پانی بہتا رہا۔سب بہن بھائی اپنے اپنے گھر بار والے ہو گئے۔اب ملنے ملانے میں سب کے سسرالوں کا عمل دخل بھی بڑھ گیا۔حساب رکھا جانے لگا کہ ،،تم نے اسے پوچھا تو اس نے تمہیں پوچھا، ائے ہائے نہیں پوچھا،اچھا اب نہیں پوچھا تو کب پوچھیں گے اور کیسے پوچھیں گے؟؟؟؟؟؟
 ان ہی دنوں ہمارا اپنی چھوٹی بہن شمیل کے گھر ملتان جانا ہوا ۔اس کا گھر تین منزلہ تھا۔سب سے نیچے کرایہ دار ،دوسری منزل پر وہ خودرہتے تھے ،تیسری منزل گرمیوں میں ہوا خوری کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ کھانے پینے کی چیزوں کی فراوانی تھی مگر سیوریج کا نظام بڑا ناقص تھا۔ مخلوق خدا ،، پریشر پمپ،، اور ڈنڈے لے کر خوار وزبوں پھرا کرتی تھی کہ ،نالیاں کھلیں تو مہکتی خوشبوؤں سے چھٹکارہ حاصل ہو۔
شمیل نے کھانے میں بہت تکلف کیا ۔مزیدار کھانوں کے لیے کئی مرغیاں جان سے گئیں۔مشروبات کا دور چلا۔پھر ،، بڑے ،،، تو بچوں کو لے کو ملتان جھیل چلے گئے کیو نکہ گرمی بہت شدید تھی اور بچے ٹھنڈک چاہتے تھے ۔ہم اور شمیل بیٹھ کر حال دل کہنے لگے۔
 ہمارے دانتوں میں کوئی گوشت کا ذرہ پھنس رہا تھا ۔ہم نے شمیل سے کہا ،برش کر لیا جائے تو بہتر ہے، اس نے باتھ روم کے سامنے لگے ہوئے کیبنٹ کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں سے پیسٹ لے لو۔
 ملتان کے بارے میں کسی نے کہا ہے۔۔۔۔۔۔ چہار شے از تحفہء ملتان است،، ،،،،گرد ، گدا ،گرما و گورستان است۔
 ہم نے جا کر کیبنٹ کھولا تو اچانک ہی موسم بدل گیا۔جھلسا دینے والے ماحول میں ایک دم ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں ،پھول کھلنے لگے، خوشبو ئیں مہکنے لگیں ۔ہمارے سامنے ہماری خوایوں کی ملکہ ،حسن کی شہزادی،ہماری محبت جلوہ گر تھی۔جس کے دیدار سے ہمیں محروم رکھنے کے لیے ہماری کاپی جلا دی گئی،رسالہ بند کر دیا گیااور شاید ہمیں بے چین و بے قرار سمجھ کر سب سے پہلے پیا گھر بھیج دیا گیا۔وہ پری وش ہمارے سامنے جلوہ گر تھی۔ہمیں اس کے سوا سب کچھ نظر آنا بند ہو چکا تھا۔اور ہم ایک بار پھر ،،ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم،، کی تصویر بن چکے تھے۔
 اتنے میں شمیل کی آواز آئی۔،، آپی کیا سوچ رہی ہو؟؟؟۔ برش تو کرو،، شمیل کی آواز سن کر ہمیں تھوڑا ہوش آیا۔ہم نے اس ٹیوب میں سے ،مادئہ ٹیوب،نکالا اور دانتوں پر رگڑنے لگے۔
ذائقہ کچھ عجیب سا تھا۔مگر اس ،،ماہ لقا،، کے دیدار کے سامنے ساری مشکلیں ،سارے ذائقے ہیچ تھے۔اتنے میں شمیل آ گئی۔ اس نے جو ہمارے ہاتھ میں پکڑی ٹیوب دیکھی تو پوچھنے لگی ،، آپی تم نے اس سے برش کیا ہے۔؟؟؟؟؟
کیوں کیا ہوا ؟؟ ہم نے بھی ذرا اکڑ کر پوچھا۔ہمیں ،،دیدار حسن،، کی دولت اتنے دن بعد ملی تھی۔ ہم اپنی خوش نصیبی پر اترائے ہوئے تھے۔
آپی،شمیل نے آنکھیں پھاڑ کر کہا ۔ یہ شیونگ کریم ہے،پیسٹ تو یہ برابر میں رکھا ہوا ہے۔ تمہیں نظر نہیں آیا۔؟؟؟
 ہم نے چونک کر اپنے ہاتھ میں پکڑی ٹیوب کودیکھا جس پر شیونگ کریم بھی لکھا ہوا تھامگر ہمیں اپنے جذبوں کی دھندلاہٹ میں نظر ہی نہیں آیا۔یہ تو اللہ کا شکر تھا کہ ،،بڑے ،،گھر میں موجود نہیں تھے ۔ورنہ ہماری حسن کے سامنے ایسی بے خودی کا مذاق بن جاتا۔مردوں کو یہ یقین کب آتا ہے کہ خواتین بھی حسن پرست ہو سکتی ہیں؟؟؟ وہ تو خواتین کو صرف فیشن پرست سمجھتے ہیں۔
 ہم نے جلدی سے کلی کی ، منہ صاف کیا ،مگر یہ آگہی کا کرب بہت برا ہوتا ہے۔یہ معلوم ہونے کے بعد کہ محترمہ صرف پیسٹ کے ڈبے پر ہی نہیں،شیونگ کریم کے ڈبے پر بھی تشریف رکھتی ہیں،ہمیں ایک دم
ہر جائی اور بے وفا معلوم ہونے لگیں۔دل چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر روئیں۔مگر صبر تو کرنا تھا ،کون سا محترمہ نے ہم سے ساتھ نبھانے کے وعدے کیے تھے۔آنسو تو ہماری آنکھوں سے نہ نکلے البتہ شمیل کے گھر کی ساری دعوت ،،حلق ،کے راستے نکل گئی۔ شمیل باتھ روم کے در وازے پر کھڑی پھٹی پھٹی آنکھوں سے ہمیں دیکھ رہی تھی۔
ہمیں اس عمل ناگوار سے فرصت ملی توہماری توجہ شمیل کی طرف ہوئی۔اور ہمارا ذہن جو کھانا کھانے کے دوران یہ حساب لگانے میں مصروف تھا کہ اس نے ہمیں اتنی اچھی طرح پوچھا ہے اب جب یہ ہمارے گھر آئے گی تو اس کو اسی طرح پوچھنے میں کتنا خرچہ ہو جائے گا،اچانک بہک گیا اور ہم بے ساختہ کہہ گئے۔ ،،، دیکھ شمیل اب ہمارے اوپر تیرا کوئی ادھار نہیں ہے ہم نے جو کچھ کھایا تھا یہیں چھوڑ کر جا رہے ہیں،،،
 اس جملے نے شمیل کی زبان کے وہ سارے ،،بند قبا،،کھول دیئے جنہیں مختلف لفظوں میں برداشت کہا جاتا ہے۔۔۔
 آپی ادھار نقد کو تو چھوڑو ،تمہیں پتہ بھی ہے تم نے کیا کیا ہے؟؟؟ ابھی کل ہی تو ہم نے بھنگی بلوا کر ساری نالیاں کھلوائی ہیں۔ائے ہئے میری تو ساس بھی کل ہی چھوٹے دیور کے گھر ایک ہفتے کے لیے گئی ہیں۔ وہ ہی اس کرائے دارنی کی زبان کے سامنے بند باندھ سکتی ہیں۔آپی،، اس کی تو امی بھی آئی ہوئی ہیں ۔میرے لیے تو مخالف فو ج کی تعداد دگنی ہو جائے گی۔میری طرف سے تو ابھی بولنے والابھی کوئی نہیں ہے ۔شمیل کے لہجے میں مظلومیت شامل ہو گئی تھی۔
 اسی وقت سیڑھیوں پر سے یچوں کی قلقاریوں کی آواز آئی۔یعنی ،،بڑے اور بچے ،،تھوڑی ہی دیر میں اوپر پہنچنے والے تھے ۔اور ہمارا ذہن جو محبوبہ کی گلی میں پٹنے والے عاشق کی طرح صدمے میں تھا ۔کچھ مستعد ہوا ۔ہم ایک جوش کے ساتھ دوبارہ اسی علاقے کی طرف بڑھے ۔،،پریشر پمپ کہاں ہے ؟؟یہ کام ہم کر دیں گے،، مگر شمیل ہماری راو میں حائل ہو گئی۔
 تم کوئی بھنگی ہو ؟؟ جمعدار ہو ؟؟ جو یہ کام کرو گی؟ سمیر گھر پر ہیں خود ہی کچھ نہ کچھ کرو ا لیں گے ۔ہم مہمانوں سے کوئی کام نہیں کراتے ہماری اخلاقی اقدار کے خلاف ہے ،کرائے دارنی تو لڑتی ہی رہتی ہے،اور شمیل نے اس علاقے کا دروازہ بند کر دیاجہاں ،حلق،کا عمل وقوع پذیر ہوا تھا۔
 اسی وقت ،سب ،اوپر آ گئے۔بچے خوشی خوشی اپنی سیر کا حال سنانے لگے ۔بڑے ، لاؤنج میں پڑے صوفوں پربیٹھ گئے۔ہمارے میاں صاحب بولے۔ ،،کنول بیگم تیاری کر لیں تھوڑی ہی دیر میں نکلنا ہے۔
 سمیر بھائی نے کہا ، شمیل جلدی سے چائے بنا لیں۔۔۔ شمیل کچن میں گئی ، ہمارا ذہن مسلسل ،تلافی اورمداوے کے طریقے سوچ رہا تھا ۔ہم شمیل کے پیچھے پیچھے کچن میں گئے اور اس کے کان میں پوچھا ،،شمیل بھنگی کتنے پیسے لیتا ہے ؟؟؟؟
شمیل ہمارے اچانک پوچھنے سے چونکی ،گھبراہٹ میں اس کا ہاتھ آٹا گوندھنے کے لیے کھڑے تسلے پر لگا۔تسلا سلیب سے نیچے کودا ،ساتھ میں ماربل کے دو کپ بھی لے گیا ،کچن میں ٹوٹے ٹوٹے بکھر گئے۔
لاؤنج میں سے سمیر یھائی کی آواز آئی ۔ واہ بھئی واہ ،شمیل کچن میں ہو تو پتہ چلتا ہے کہ کچن میں کوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں بے اختیار ہنسی آ گئی اور شمیل روہانسی ہو گئی۔ کوئی بات نہیں ، اسی طرح سے تجربات میں اضافہ ہوتا ہے ،،ہم نے شمیل کو تسلی دی ، مگر اس کی شکایتی نظروں کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
چائے پی کر ہم نیچے اترے۔ صدر دروازے کے نزدیک پہنجے ہی تھے کہ پیچھے سے کرائے دارنی کی چیختی ہوئی آواز سنائی دی۔۔۔ بھابی،،ی،ی،ی،ی پھر وہی مسئلہ ؟؟؟؟
ہم نے جلدی سے دروازے سے قدم باہر رکھ دیا۔ طبیعت تو ہماری کافی صاف ہو چکی تھی ۔ مگر یے قرار دل کونہ جانے کیوں تھوڑا سا قرار آ گیا تھا ،،، کسی بھی چیز کی سہی،،، ہم نے حسن کی دیوی کے قدموں میں بھینٹ چڑھا دی تھی ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے