بند کریں
ادب افسانہ انسان شناس

مزید افسانہ

- مزید مضامین

مزید عنوان

انسان شناس
موسم بہار کی آمد آمد تھی رنگ برنگے پھول تتلیوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ،تازہ ہوا کے جھونکے آوارہ بادلو ں کی طرح ہر جگہ چکر لگا رہے تھے ۔یونیورسٹی کےگارڈن میں کافی گہما گہمی تھی،یونیورسٹی کے لڑکے اور لڑکیوں کا جھرمٹ موسم کی صباحت سے کافی محظوظ ہو رہے تھے
بابر نایاب
موسم بہار کی آمد آمد تھی رنگ برنگے پھول تتلیوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ،تازہ ہوا کے جھونکے آوارہ بادلو ں کی طرح ہر جگہ چکر لگا رہے تھے ۔یونیورسٹی کے
گارڈن میں کافی گہما گہمی تھی،یونیورسٹی کے لڑکے اور لڑکیوں کا جھرمٹ موسم کی صباحت سے کافی محظوظ ہو رہے تھے ،جوانی کے خمار میں ڈوبی کھلکھلاہٹیں مسکراہٹیں موسم کے مزاج کے مطابق اپنے عروج پر تھیں،آنے والے لمحات سے بے خبر شوخ جذبات مستقبل کے سپنے بُن رہے تھے ،قہقہوں کی محفل سے الگ تھلگ بیٹھی سندیلا بے خبرنوٹس بنانے میں مصروف تھی آج ویسے بھی اُس کی سائیکلوجی کی کلاس آف تھی۔
بہار کے شرارتی جھونکے بار بار سندیلا کے آنچل کو گرا کر اُس کی کالی گھنی زلفوں کے ساتھ کھیلنے کی اپنی ناکام سی کوشش کرتی تھی ،بڑی بڑی آنکھیں کشادہ پیشانی پر سجی گہری ذہانت اور سنجیدگی سندیلا کے وقار میں مزید اضافہ کر رہی تھی،گلاب کی طرح مہکتا رنگ کلیوں کی طرح بے داگ سفید رنگت ،شبنم کے قطروں کی طرح صاف شفاف وجود نے سندیلا کو حسن و جمال کے تمام رنگوں سے بھر دیا تھا،لڑکے اور لڑکیوں کی سجی محفل میں سے بار بار اُٹھتی آنکھیں سندیلا کے وجود کا طواف کر رہی تھیں مگر سندیلا حسن کے مجسم کی طرح ساکت تھی ،یار کبھی سندیلا بھی ہماری کمپنی کو جوائن کر لیتی تو محفل کو چار چاند لگ جاتے ایک شرارتی لڑکے نے فقرہ اُاچھالا،اُدھر دال گلنے والی نہیں جناب وہ محترمہ تو ہم فی میل کلاس فیلوز کو لفٹ نہیں کرواتی آپ کس باغ کی مولی ہو،رخسار کے جواب نے شرارتی لڑکے کا منہ بند کر دیا۔آہ قسمت والوں کو ہی سندیلا جیسا ہم سفر ملے گا ہم جیسوں کو تو صرف سفر ہی سفر ملے گا ،وقار نے دل پر ہاتھ رکھ کر بڑی سے آہ بھرتے ہوئے کہا،یار محفل ہماری ہو رہی ہے پھر سندیلا کا تذکرہ لے کر بیٹھ جاتے ہو ہمیں کیا ضرورت ہے انا کے بت کو اپنی محفل میں لانے کی ،نازش نے انتہائی ناگوار لہجے میں کہا، ارے واہ انا کا بت کیا نام دیا ہے ، امجد کے ہنسنے پر سب ہنس پڑے،محفل میں خاموش بیٹھا شاہنواز کی آنکھیں اچانک پھر سندیلا کے وجود سے ٹکرا گئی بس وہی ایک جذباتی لمحہ تھا جب شاہنواز لٹ چکا تھا اور دل ہی دل میں شاہنواز نے چپکے سے عہد کر لیا کہ اس انا کے بت کو موم بنا کر ہی چھوڈوں گا۔
###
غلام حسین اپنے کمرے میں لیٹا دروازے کو دیکھ رہا تھا غلام حسین کی چارپائی کے پاس ایک پرانے خستہ حال میز پر دوائیوں کا ایک ڈھیر لگا ہوا تھا ،وقفے وقفے سے غلام حُسین کی کھانسی کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی ،اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور سندیلا تھکن سے چور کمرے میں داخل ہوئی ،اسلام و علیکم ابا کیسے ہیں آپ،سندیلا نے انتہائی پیار سے اپنے ابا کو سلام کیا اور چارپائی پر اُن کے پاس بیٹھ گئی ۔
وعلیکم السّلام بیٹا بس زندگی کے دن پورے ہو رہے ہیں، غلام حسین نے بمشکل بیٹھ کر اپنی اکلوتی بیٹی سندیلا کی پیشانی پر بوسہ دیا ،غلام حسین کی اُداس آنکھیں بیٹی کے آنے پر روشن ہو گئیں،ابا آپ کو میری زندگی بھی لگ جائے ایسی باتیں مت کیا کریں ،سندیلا نے فکر مندی سے کہا،بیٹا بڑھاپا تو خیالوں،یادوں اور تنہائیوں کا گھر ہے تیرے آنے سے پہلے ہی میں تیرے بارے میں سوچ رہا تھا تمہیں تو پتا ہے میرے دل کی راحت تو ہے ،الله بخشے تیری ماں کے انتقال کے بعد تو بہت چھوٹی سی تھی تیرا ننھا سا وجود نے تمہاری ماں کی جدائی کا غم آدھا کر دیا آج تم بڑی ہو گئی ہو مگر میرے لیے وہی سندو ہو جو میرے کندھے پر بیٹھ کر دکان سے چیز لینے جاتی تھی ہمیشہ پروردگار سے تمہاری سلامتی کی دعائیں مانگتا رہتا ہوں الله پاک تمہیں خوشیا ں والا گھر دے بس اب ایک ہی آرز و رہ گئی ہے کہ تجھے کوئی اچھا جیون ساتھی مل جائے تب میں آرام سے مر سکوں ،آہستہ آہستہ یہ کہتے ہوئی غلام حسین کی کھانسی شروع ہو گئی سندیلا نے جلدی سے جگ سے پانی گلاس میں ڈال کر اپنے ابا کو پلایا اور ساتھ ہی کھانسی کا سیرپ بھی پلا دیا۔
ابا آپ میرے بارے میں فکر مند مت ہوں میری زندگی کا مقصد ہی آپ کی خدمت کرنا ہے آپ نے اپنی زندگی میری پرورش میں گزار دی میں کیسے آپ کو تنہا چھوڑ کر جا سکتی ہوں ،یہ کہتے ہوئے سندیلا کی آنکھیں نم ہو گئیں ،بیٹا میرا تو دل کرتا ہے تو ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہے مگر خدا نے جو کائنات کا نظام بنایا ہے ہم سب کو اس نظام کے تحت ہی چلنا پڑتا ہے بیٹیاں تو شروع سے ہی پرایا دھن ہوتی ہیں۔خیر وہ اپنے محلے کا رضوان ہے نا تیرے جانے کے بعد وہ آ جاتا ہے میری خدمت کرتا ہے دوائی وغیرہ پلا دیتا ہے بڑا نیک بچا ہے الله اُسے خوش رکھے ، غلام حسین نے کہا،رضوان کا نام سن کر سندیلا کے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا یونیورسٹی سے واپسی پر اکژ رضوان سے اس کا ٹکراؤ ہو جاتا تھا تب رضوان نماز ظہر ادا کرنے مسجد جا رہا ہوتا تھا اُدھر سندیلا بھی گھر واپس آ رہی ہوتی تھی رضوان میں ایک عجیب سے بات یہ تھی کہ اُس کی آنکھیں ہمیشہ جھکی ہوئی ہوتی تھی مگر جب سندیلا کی نظر اُس پر پڑ جائے سندیلا کو بڑا عجیب سا محسوس ہوتا تھا جیسے رضوان کی جھکی ہوئی نظریں کوئی پیغام دے رہی ہوتی تھیں جب سے سندیلا نے اس محلے میں آنکھ کھولی اُس نے رضوان کو پانچ وقت کا نمازی ہی پایا ،لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہی پایا محلے کے دوسرے لڑکوں کو طرح کبھی اُس کی آواز اُونچی نہیں سنی اب جب ابا کی زبانی یہ بات سنی کہ رضوان ابا کی دیکھ بھال بھی کرتا رہتا ہے تو سندیلا کے دل میں رضوان کی قدر و منزلت مزید بڑھ گئی ۔
###
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں شاھنواز نے نوٹس بناتی سندیلا کو کہا جو دنیا مافیا سے بے گانہ اپنے کام میں مگن تھی،سندیلا نے نظر اُٹھا کر شاھنواز کو دیکھا ،جی بیٹھ جائیں سندیلا نے سے آہستہ سے جواب دیا اور دوبارہ اپنے نوٹس بنانے لگ پڑی ،میں یہاں آپ سے باتیں کرنے آیا ہوں آپ کو دیکھنے کے لیے نہیں کیونکہ یونیورسٹی میں آپ انا کے بت کے حوالے سے مشہور ہو چکی ہیں ،شاھنواز نے انتہائی دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا،
سندیلا سے آج تک کسی نے اس انداز میں بات نہیں کی تھی سندیلا کے چہرے پر غصے کے تاثرات اُبھر آئے ،دیکھیں معاف کیجئے میرا مقصد آپ کی دل آزاری کرنا نہیں حقیقت حال سے با خبر کرنا ہے اور میں آپ سے دوستی کا خواہشمند بھی ہوں اگر آپ چاہیں تو شاہنواز نے پھر بے باکی سے کہا۔
دیکھیں مسٹر اپنی لمٹ کراس مت کریں میں کسی لڑکے سے بات نہیں کرتی اور نا ہی میں آ پ جیسے لوگوں کے ماحول کی عادی ہوں سندیلا نے سر د مہری سے جواب دیا ٹھیک ہے آپ کی مرضی اگر اپ تنہا ہی رہنا چاہتی ہیں تو پھر رہیں ،شاھنواز اُٹھ کھڑا ہوا ،مگر ایک بات ضرور یاد رکھیے گا اچھے لوگوں کو ٹھکرا دینا بعد میں زندگی کا پچھتاوہ بھی بن جاتا ہے شاھنواز اپنے فقرے کی بازگشت چھوڈ گیا سندیلا کو آج حد سے زیادہ شرم محسوس ہو رہی تھی اور دل زور زور سے دھڑک رہا تھا شاھنواز اُس کا کلاس فیلو اتنی باتیں کہ گیا جسکا سندیلا تصور نہیں کر سکتی تھی سندیلا کو اپنی خوبصورتی کا پتا ضرور تھا مگر یہ علم نہیں تھا کہ یونیورسٹی کا سب سے ہینڈسم امیر و کبیر شاھنواز اُس کی دوستی کا خواہشمند ہو گا ،
سائیکلوجی کا فائینل سمسٹر شروع ہو چکا تھا ساتھ ہی شاھنواز اور سندیلا کے ریلیشن کے چرچے بھی آجکل زیر بحث تھے سندیلا کے کلاس فیلوز اور سب جاننے والوں کے لیے وہ دن حیرت کا تھا جب سندیلا اور شاھنواز اکٹھے نظر آنے لگ گئے سندیلا کو پتا ہی نہیں چلا وہ کب شاھنواز کی میٹھی میٹھی باتوں میں ا ٓگئی شاید جب جذبات غالب آ جائیں تو عقل اور سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں وقتی طور پر معطل ہو جاتی ہیں امیر و کبیر شاھنواز اور حسن و جمال کی ملکہ سندیلا ایک دوسرے کی جان بن گئے وقت پر لگا کر اُڑنے لگا ۔ سندیلا کی سنجیدگی اور خاموشی کا لبادھا جیسے ہی اُترا تب اُسے احساس ہوا وہ تو کسی کو ٹوٹ کو چاہنے لگی ہے کیا محبت اتنی جلدی اپنی سحر میں جکڑ لیتی ہے یہی سوال سندیلا کے ذہن میں بار بار آرہا تھا ،بہار اپنی رعنائیوں کے ساتھ اپنی واپسی کی تیاریوں میں لگ گئی اور سندیلا کے دل و دماغ پر لطیف جذبات نے اپنا مسکن بنا لیا ،سنجیدگی کے خول کو توڑ کر سندیلا باہر ا ٓگئی باہر آنے پر احساس ہوا کہ زندگی تو بڑی حسین ہے سندیلا کی زندگی کاوہ خوبصورت دن بھی آگیا جب شاھنواز اپنی ممی کو لیکر غلام حسین کے بوسیدہ سے گھر میں داخل ہوا ، مسز نذہت جیلانی نے تنقیدی نظروں سے گھر کو دیکھا اور پھر غصے کی ایک نگاہ اپنے ضدی لاڈلے بیٹے پر ڈالی اور پھر سندیلا کی راہنمائی میں غلام حسین کے کمرے میں داخل ہوئی سندیلا شرم سے سمٹ سمٹ کر مہمانوں کی خوب خاطر مدارات کرنے لگ پڑی ،مسز نذہت جیلانی نے اپنے لاڈلے بیٹے شاھنواز کے لیے غلام حسین سے سندیلا کو مانگ لیا ،غلام حسین نے اپنی بیٹی کے شرم و حیاوالے چہرے پر پھوٹتی خوشی کی کرن کو محسوس کر کے ہاں کہ دی بہار کے جانے کے ساتھ ہی سندیلا بھی پیا گھر سدھار گئی ۔
 کبھی کبھی پکے ہوئے پھل کی طرح خوشیا ں خود بخود جھولی میں ا ٓ کر گر جاتی ہیں سندیلا نے شاھنوار کے گھر جاتے ہی اپنے سگھڑ پن ،شائستگی کردار وعمل سے اپنی انفرادیت قائم کر دی ۔ مگر کبھی خوشیاں چمکتی دمکتی چیزوں کی مانند بھی ہوتی ہیں جو دور سے بہت بھلی لگتی ہیں مگر قریب جانے پر اُن کی چمک دمک سونے کے پانی کی طرح اُتر جاتی ہیں شاہد یہی سندیلا کے ساتھ ہواجب شاھنواز رات کو دیر سے گھر آنے لگا او رشاھنواز ااکشر اپنی فی میل کزنز کے ساتھ باہر سیر سپاٹا کرنے نکل جاتا جب سندیلا نے مسز نذہت جیلانی کو کہا کہ وہ اپنی بھتیجیاں اور بھانجیوں کو یوں اس طرح شاھنواز کے ساتھ گھلنے ملنے سے منع کریں تو مسز نزہت جیلانی نے نخوت اور تکبر کے انداز سے جواب دیا کہ ہمارا ماحول تم جیسے پسماندہ اور گندی نالی کے کیڑوں کی طرح نہیں ہے یہ ہمارا ماحول ہے اگر ایڈجیسٹ کرنا ہے توکر لو ورنہ چلی جاؤیہ تو میں نے اپنے بیٹے کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دئیے تھے ورنہ تم جیسی غریب بستیوں کے مکینوں کو میں انھی کی اوقات پر رکھنا جانتی ہوں ،یہ جواب تھا یا گویا کوئی بم جو سندیلا کے دماغ پر لگا تو محسوس ہوا کہ اُس کے وجود کے چھیتڑے اُڑگئے ہوں سارا دن سندیلا کا روتے ہوئے گزرا رات کو شاھنواز آیا تو سندیلا نے کہا میں تمہاری شریک حیات ہوں مگر میری حیثیت ایک ملازمہ کی طرح رہ گئی ہے کیا یہی دن دکھانے کے لیے تم نے مجھے اپنی جھوٹی محبت کے جال میں پھنسایا تھا،دیکھوں سندیلا مما جو کہتی ہیں ویسا ہی کرو ہاں میں اعتراف کرتا ہوں میں تمہارے حسن سے متاثر ہو گیا تھا مگر ہماری سوسائٹی میں برابر کے رشتے ہوتے ہیں جہاں سے ہمیں مالی مفاد بھی ملتے ہیں اور تمہاری اطلاع کے لیے بتانا چاہوں میں جلد اپنی کز ن کے ساتھ شادی کرنے والا ہوں اب تمہاری مرضی یہاں رہ کر صبر کرو یا۔۔۔۔۔۔اتنا کہتے ہوئے شاھنواز کے ہونٹو ں پر خباثت بھری مسکراہٹ ناچنے لگ پڑی،سندیلا کے لیے یہ صرف لفظ نہیں تھے بلکہ ہٹھوڑے تھے جو سندیلا کے دل و دماغ پر لگ رہے تھے اب سندیلا کے لیے مزید برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا جس انسان کے لیے اُس نے سپنے دیکھے کیا یہ وہی انسان تھا کیا محبت کرنے والے اتنے سفاک بھی ہو جاتے ہیں مگر سندیلا جان گئی کہ وہ محبت صرف ایک ڈرامہ تھا شاھنواز نے یونیورسٹی میں اپنا رعب بٹھانے کے لیے سندیلا کو اپنے جال میں پھنسایا اب سب کچھ کھل کے سامنے آ گیا تھا سندیلا کو شاھنواز کے گھرسے گھٹن محسوس ہونا شروع ہو گئی غم و کرب سے سندیلا کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور کوئی ایسا تھا بھی نہیں جو اُسے حوصلہ دے اُس کی ڈھارس بنے یہاں تو سب اجنبی بے گانا بے حس بے مروتوں کا گھر تھا ،آدھی رات کے بعد سندیلا نے فیصلہ کر لیا ،شاھنواز میں نفسیات کی ڈگری لے کر بھی تمہیں نہیں پہچان سکی مجھے ساری عمر دکھ رہے گا کہ میں نے جانور کے روپ میں انسان کو پایا تم جیسے کاغذی و بناوٹی لوگ معاشرے کا ناسور ہو ،گدھ ہو جو صرف لوگوں کے آرمانوں کو نوچنا کھسوٹنا اور آرزؤں کی چتا جلانا جانتے ہو تم جیسے لوگو ں کا حشر بہت عبرتناک ہوتا ہے آج تک میں نے کسی کو بددعا نہیں دی مگرتمہیں دیتی ہوں خدا ہمیشہ تمہیں بے سکون رکھے یہ کہہ کر اور آنسوؤں کے سیلاب کو اپنے سینے میں دبا کر سندیلا واپس اپنے ابا کے گھر آگئی ۔
###
غلام حسین جاگا تو دیکھا سندیلا اُس کے پاس چارپائی پر بیٹھی ہے اور انتہائی غمزدہ لگ رہی ہے ، میری جان کے ٹکڑے کیا ہوا کب آئی ہو ،غلام حسین نے انتہائی فکر سے سندیلا سے پوچھا، ابا میں شاھنواز کو پہچان نہ سکی ابا مجھے معاف کر دو میں نے بہت بڑی غلطی کر دی ابا یہ کہہ کر سندیلا غلام حسین کے گلے لگ
کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ پڑی بیٹا صبر کر میری جان کے ٹکڑے الله پاک نے صحیح سلامت تمیں مجھ تک پہنچا دیا یہی اُس کا شکر ہے اے پروردگار تیرا شکر ہے تو نے جلد ہی چہروں کو واضح کر دیامیرے جانے کے بعد کرتا تو ناجانے کیا ہوتا ،غلام حسین کی بوڈھی آنکھیں نمناک ہو گئیں ،بیٹی اب تو سب کچھ بھول جا جو کچھ بھی ہوا اگر تم اسی طرح غمزدہ رہی تو یہ تیرا بوڈھا باپ برداشت نہیں کر پائے گا غلام حسین نے سندیلا کے چہرے سے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے گھمبیر سے لہجے میں کہا،ابا میری بھول کی مجھے سزا مل گئی میں نے تو آپ کو بھی سوچنے سمجھنے کا موقعہ نا دیا آپ نے میری خوشی کی خاطر ہتھیار ڈال دئیے اب میں صرف آپ کے پاس ہی رہوں گئی ۔سندیلا نے اپنے غم کو بھلانے کے لیے خود کو مصروف کر لیا دن رات ٹویشن اکیڈمیوں میں پڑھانا شروع کر دیا کچھ عرصے بعد شاھنواز کی طرف سے باقاعدہ طلاق موصول ہو گئی طلاق موصول ہونے پر سندیلا کے احساسات پر کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی کبھی کبھی جب سندیلا گھر جلدی واپس آ جاتی تو غلام حسین کے کمرے میں رضوان کو بیٹھا ہوا پاتی جو سندیلا کے آنے پر گھبرا کر چلا جاتا ایسے ہی ایک دن جب رضوان سندیلا کو دیکھ کر چلا گیا تو غلام حسین نے ایک گہری نظر سندیلا پر ڈالی اور کہا بیٹا آ ج میں نے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے ادھر میرے پاس آ کر بیٹھ جاؤ،سندیلا جلدی سے اپنے ابا کی چارپائی پر بیٹھ گئی بیٹا میری زندگی کا اب کوئی بھروسہ نہیں کوئی پتا نہیں کب سانسوں کی ڈور ٹوٹ جائے میری راحت تیری راحت میں ہے تو نے پتا نہیں اپنا کیا حال بنا رکھا ہے تجھے اس طرح پریشان دیکھ کر میرا دل ڈوبتا ہے تیرے بوڈھے باپ کی آخری خواہش ہے اگر تو پور ا کر سکے تو میں آرام سے مر سکوں گا میں تجھ سے ہی تیری خوشی کی بھیک مانگتا ہوں اگر تو سمجھتی ہے کہ تو مجھے موت سے پہلے خوش کرنا چاہتی ہے تو پھر رضوان سے شادی کر لے بڑا نیک بچا ہے بیٹا وہ منافق نہیں وہ دھوکے باز نہیں وہ جھوٹا نہیں تیری شادی کے بعد بھی وہ میری اُسی طرح خدمت کرتا رہا وہ تجھے بہت خوش رکھے گا ،غلام حسین کی بات سن کر سندیلا نے کہا، ابا میں نے سوچا تھا کہ اب کبھی شادی نہیں کروں گئی جو صدمہ مجھے ملا ہے اب مزید کسی آزمائش میں نہیں پڑنا چاہتی تھی پر آپ کا حکم مجھے دل و جان سے زیادہ عزیز ہے مجھے اپنے رب کے بعد آپ پر بھروسہ ہے میں جانتی ہوں آپ کی سوچ آ پ کا تجربہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا ،غلام حسین نے یہ سن کر سندیلا کو گلے سے لگا لیا اور کہا خدا تجھے خوش رکھے تو ہمیشہ سلامت تا قیامت رہے ۔
آخر ایک طویل عرصے بعد پھر موسم بہار کی آمد آمد ہو گئی ہر اک چیز نکھر گئی سب کچھ واضح ہو گیاتاریک رات صبح کے خوبصورت اُجالے میں ڈوب گئی ، سادگی کے ساتھ غلام حسین کی موجودگی میں سندیلا کے ساتھ رضوان کا نکاح ہوااور سندیلا چپ چاپ اپنے ہی محلے میں دلہن بن کر آئی محلے کی عورتیں سندیلا کو دیکھ کر ماشاء الله سبحان الله کہتے نہ تھکتی سندیلا پھر ایک گھر میں داخل ہوئی مگر یہ گھر ماضی کے اُس گھر کی طرح بڑا تو نہ تھا مگر گھر کے مکین محبت کی تصویر بنے سندیلا کے آگے بچھ بچھ جا رہے تھے ،رضوان نے چپکے سے سندیلا کا گھونگٹ اُٹھایا اور دیکھتے ہی کہا ماشاء الله آپ کو دیکھ کر تو چاند بھی شرما جائے ،رضوان کے دھیمے سے لہجے میں اپنی تعریف سن کر سندیلا نے جو نظر اُٹھا کر دیکھا گھنی خوبصورت داڑھی سجائے آنکھوں میں محبت و اُلفت کے جذبات سے لبریز رضوان اسے اتنا اچھا لگا کہ سندیلا کا دل کیا کے وہ رضوان کو اپنی آنکھوں میں ہی بسا لے ،محبت اور پاکیزہ جذبات سے لبریز رات تمام ہوئی ،صبح کی آذان کے ساتھ ہی رضوان اُٹھا ،پہلے دو نفل شکرانے کے ادا کیے اور پھر دعا مانگتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ پڑا اور کہنے لگا اے میرے پروردگار تو کتنا رحیم ہے تو کتنا شفیق ہے،تونے اپنے ایک حقیر سے بندے کی ایسی خواہش کو تکمیل کی سرحدوں تک پہنچا دیا جسکا اس ناچیز نے تصور بھی نہ کیا تھا میں تو سمجھا تھا کہ میری آرزو لاحاصل رہ جائی گئی زمین اور آسمان کا کیا مقابلہ مگر تو کریم ہے تو مسببّ لاسباب ہے بے شک تو میری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے تو نے بن مانگے
ہی مجھ کو عطا کر دیا اے میرے رب بس میری شریک حیات کو کبھی مجھ سے جدا مت کرنا رقت آمیز دعا سندیلا سن چکی تھی موتیوں جیسے لفظ سندیلا کے وجود میں اُترتے چلے گئے خوشی کے زار قطار آنسو سندیلا کے گلابی گالوں پر بہنے لگ پڑے ساتھ ہی یہ سوچ بھی آ نے لگی کہ وہ کتنی نادان تھی کہ ایک ہیرے کو چھوڈ کر دھوکے باز کے نرغے میں ا ٓگئی ،ظاہری چمک و دمک بناوٹی و کاغذی چہرے اندر سے کتنے کھوکھلے ہوتے ہیں اور سادہ سے لوگ دنیا کے کتنے عظیم لوگ ہوتے ہیں،رضوان کی بے پناہ محبت نے سندیلا کے ماضی کے سب غم مٹا دیے ،سندیلا کو لگا کی وہ نفسیات کی ڈگری لیکر بھی انسان شناس نہ بن سکی اور اُس کا
ان پڑھ ابا حقیقت میں انسان شناس تھا تبھی سندیلا نے روٹھ جانے والی خوشیا ں کو دوبارہ سے پا لیا۔۔۔۔۔

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان

Unknown column 'nk.adab_writer_id' in 'where clause'