تحریر: شاہد ماکلی
شبیر شاہد 70کی دَہائی میں اُبھرنے والے شاعروں میں ایک اہم مگر گمنام شاعر ہے۔گمنام بھی ایسا کہ آج تک اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں کہ اس نے اپنی زندگی کے آخری ایام کہاں گزارے،کب،کیسے اور کہاں فوت ہوا؟زیادہ تر لوگوں کا خیال یہی ہے کہ اس نے خود کشی کر لی تھی مگراس کے وارثوں کو آج تک اس کی لاش کا سراغ تک نہیں مل سکا۔اپنی پراسرار گمشدگی سے پہلے اس نے اپنے دوستوں سے الوداعی ملاقاتیں کیں، قرض اتارے اور اپنا سار اکلام ضائع کر دیا۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی گمشدگی اتفاقی یا حادثاتی نہیں تھی بلکہ شکیب جلالی کی طرح وہ کسی نفسیاتی عارضے کا شکار ہو چکا تھا جس کے بعد موت میں اُسے ایک طلسماتی محسوس ہوئی۔
جس طرح اس کی زندگی اور موت پراسرار تھی، اسی طرح اس کی شاعری بھی پراسرار جہانوں کی شاعری ہے۔
”پانی “اس کی شاعری کا پسندیدہ ترین اور بنیادی استعارہ ہے۔اسی مناسبت سے” سمندر“ اور” ساحل“ کے استعارے بھی اس کی نظموں میں کثرت سے ملتے ہیں۔مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھئے:
سدا رہے گی یہی روانی رواں ہے پانی
بہاؤ اس کا ہے جاودانی رواں ہے پانی
مےٴ فراغت کا آخری دور چل رہا تھا
سبو کنارے وصال کا چاند ڈھل رہا تھا
فضا میں لہرا رہے تھے افسردگی کے سائے
عجب گھڑی تھی کہ وقت بھی ہاتھ مل رہا تھا
ْ
سنو یہ آواز دور کی لہر کی صدا ہے
اٹھاؤ لنگر کہ پھر سمندر بلا رہا ہے
مرنے سے پہلے اس نے اپنا سارا کلام ضائع کر دیا تھا مگر جو کلام مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکا تھا ،اوراورینٹل کالج لاہور کے استاد ضیاء الحسن اس کو جمع کر کے ایک کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔کتاب کا نام”ایک گمشدہ ستارہ“ ہے جس میں شبیر شاہد کی نظم و نثر دونوں شامل ہیں۔