نئی غزل کے سیاق میں منیر نیازی کی غزل کا مطالعہ بہت معنی خیز ہوسکتا ہے لیکن ہنوز اس مطالعے کی کوئی روشن مثال سامنے نہیں آسکی۔ یہ ایک نہایت سنجیدہ موضوع تھا مگر ہماری سنجیدگی کسی اور سمت میں سفر کرتی رہی۔ممکن ہے کچھ لوگوں کے نزدیک نئی غزل کے سیاق میں منیر کی غزل کا مطالعہ اہم نہ ہو اس لیے کہ متن کی آزادانہ قرا ت خود اپناایک جواز رکھتی ہے ۔ منیر نیاز ی کی غزل معاصر اردو غزل سے کتنی مختلف اور مماثل ہے اس کا فیصلہ بھی نئی غزل کے سیاق وسباق میں ہی ممکن ہے ۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ منیر کی شاعری پر اشفاق احمد اور انتظار حسین کے مضامین نہ صرف اولیت کا درجہ رکھتے ہیں بلکہ ان سے منیر شناسی کی راہیں بھی کھلتی ہیں۔ یہ دونوں اردو کے معروف فکشن رائٹر ہیں ۔ منیر کے شعری مجموعے ” ساعت سیار“ کا دیباچہ فیض نے لکھا تھا۔ فیض کا یہ دیباچہ بہت مختصر ہے لیکن فیض نے چند جملوں میں منیر کی شاعرانہ اہمیت کو واضح کردیا ہے ۔ شمیم حنفی کا مضمون ”منیر نیازی ایک آفت زدہ بستی کی دیو مالا“ منیر نیازی کی شاعری کا بہترین محاکمہ ہے ۔ یہ مضمون ان کی کتاب”ہم سفروں کے درمیان“ میں شامل ہے ، ظاہر ہے کہ اس وقت منیر نیازی بقید حیات تھے ۔مضمون کے عنوان سے ہی منیر نیازی کی شاعری کا بنیادی مسئلہ سامنے آجاتا ہے ۔ اشفاق احمد، انتظار حسین اور شمیم حنفی نے منیر نیازی کی تخلیقی حسیت کو سمجھنے اور محسوس کرنے کی جو کوشش کی ہے عام طور پر ہماری تنقید اس تنقیدی رویے سے خالی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تخلیق کارکی درد مندی اور دل سوزی کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور ہماری تمام تر توجہ ہیئت پر مرکوز ہوجاتی ہے منیر کے شعروں میں جولو دینے کی کیفیت ہے اس سے کوئی قاری خود کو بچا نہیں سکتا۔ ”پہچان“ الٰہ آباد نے بھی منیر نیازی پر ایک گوشہ شائع کیا تھا۔ جے این یو میں ڈاکٹر مظہر مہدی کی نگرانی میں منیر نیازی کی شاعری پر علی اصغر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہے ہیں۔ میں نے اپنے اس مطالعہ کو منیز نیازی کی غزل تک محدود رکھا ہے ۔ انتظار حسین کے مضمون کا اختتام ان جملوں پر ہوا ہے جن سے سرسری نہیں گزرا جاسکتا وہ لکھتے ہیں۔
”ہجرت کا تجربہ، لکھنے والوں کی ایک پوری نسل کو اردو ادب کی باقی نسلوں سے الگ کرتا ہے ۔ اس نسل کے مختلف لکھنے والوں کے یہاں اس تجربے نے الگ الگ روپ دکھائے ہیں۔ منیر نیازی کے یہاں اس کے فیض سے ایسا روپ ابھرا ہے جو ایک نئی دیو مالا کا نقشہ پیش کرتا ہے ۔
ہجرت کا تجربہ خود انتظار حسین کے تخلیقی سفر کا بھی ایک بنیادی حوالہ ہے ۔ لہٰذا اگر وہ خود کو اور منیر نیازی کو دوسری نسلوں سے الگ کرکے دیکھتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے اور اس میں کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے ۔ لیکن نئی شاعری کے سلسلے میں یہ کہنا کہ ” وہ تو کسی تجربے کے حوالے کے بغیر خالی ٹی ہاو س میں بیٹھ کر بھی ہوسکتی ہے ۔“ بڑا ہی چونکانے والا ہے ۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ نئی شاعری میں ہجرت کے تجربے کے علاوہ اور جتنی باتیں تھیں یا ہیں ان کا تعلق کسی تجربے سے نہیں تھا اور وہ سب مانگے کا اجالا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ نئی شاعری کا ایک حصہ ایسا ضرورہے جو مایوس کن ہے ۔ ایک اچھا اور سچا فن کار وقت کے ساتھ ساز باز نہیں کرتا۔ آخر منیر نیازی بھی تونئی شاعری کا ایک معتبر نام ہے ۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ منیر کو پڑھتے ہوئے ہم ہجرت کے تجربے سے گزرتے توہیں لیکن یہ تجربہ انسانی زندگی کے مختلف معاملات میں دخیل ہو کر اسے ایک آفاقی تجربہ بھی بناتا ہے ۔اس لے ے کسی تجربے کی اہمیت کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ اس تجربے سے گزرنے والے کا تخلیقی ذہن اور ویڑن کتنابالیدہ اور بلند ہے ۔ نئی شاعری پر بہت لوگ معترض ہوسکتے ہیں اورہیں لیکن نئی شاعری کا ایک قابل لحاظ حصہ اسی عہد کی پیداوار ہے جس پرہم طرح طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ نئی حسیت کا مفہوم کچھ لوگوں نے جس طرح سمجھا اس پر آج سرپیٹا جاسکتا ہے ۔ ایسے میں اگر انتظار حسین یہ کہتے ہیں کہ ”نئی شاعری کا کیا ہے وہ تو خالی ٹی ہاو س میں بیٹھ کر بھی ہوسکتی ہے ۔“ تو کچھ حیرت کی بات نہیں لیکن میں پھر کہوں گا کہ یہ جزوی اور ادھوری صداقت ہے ۔ منیز نیازی نے جس دور میں شاعری کی ہے اس پر نگاہ ڈالئے تو پاکستان اور ہندوستان میں اچھے شاعروں کی ایک ایسی تعداد تھی جس پر فخر کیا جاسکتا ہے ۔ یہ سب ایک ہی دور میں ایک دوسرے سے مختلف بھی تھے ۔
سوال یہ ہے کہ نئی غزل اور نئی شاعری کے بنیادی مسائل کیا تھے اور ہم کن بنیادوں پر کسی شاعری کو نئی شاعری قرار دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سی باتیں خلط ملط ہوگئیں ہیں۔ میری نظر میں شمس الرحمن فاروقی کے دو مضامین ”نئی شاعری ایک امتحان“ اور ”ہندستان میں نئی غزل“ سے نئی شاعری اور نئی غزل کے خدو خال واضح ہوجاتے ہیں۔ یہ دونوں مضامین ان کی کتاب ”لفظ و معنی“ میں شامل ہے ں۔ میں نے اپنی کتاب ”نئی اردو غزل“ میں شمس الرحمن فاروقی کی پیش کردہ بنیادوں سے بحث کی ہے ۔ ان مضامین سے اختلاف کیاجاسکتاہے لے کن اتنی واضح اور منطقی شکل میں یہ مباحث کہیں اور شاید نہ ملیں۔ شمس الرحمن فاروقی کے چند جملے ملاحظہ کیجیے
خالص میکانکی اورزمانی نظر سے شاعری سے میں وہ شاعری مراد لیتا ہوں جو 1955کے بعد تخلیق ہوئی۔1955 کے پہلے کے ادب کو میں نیا نہیں سمجھتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ 1955کے بعد جو کچھ بھی لکھا گیا وہ سب نئی شاعری کے زمرے میں آتا ہے اور یہ بھی نہیں کہ1955کے پہلے کے ادب میں جدیدیت کے عناصر نہیں ملتے ۔ میری اس تعیین زمانی کی حیثیت صرف ایک Refrence سی ہے ۔داخلی اور معنوی حیثیت سے میں اس شاعری کو خرید سکتا ہوں جو ہمارے دور کی مادی خوش حالی، ذہنی کھوکھلے پن، روحانی دیوالیہ پن اور احساس بے چارگی کا عطیہ ہے ۔ جدید ادب گرتی ہوئی چھتوں لڑکھڑاتے ہوئے سہاروں اور لاتعداد بھول بھلیوں کے خوف ناک احساس گم کردہ راہی سے عبارت ہے ۔“ لفظ و معنی ص ۔ 126
منیر کی غزل کا زمانہ بھی وہی ہے جو جدیدیت کے عروج کا ہے ۔ مجھے اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ منیر کی غزل کس حد تک اپنے عہد کے نظریاتی مسائل کا ساتھ دیتی ہے ۔ میری تمام تر دلچسپی منیر کی تخلیقی حسیّت سے ہے اگر منیر کی تخلیقیت کے بعض رشتے جدیدیت سے قائم ہوجاتے ہیں تو اس میں ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے ۔ اب وقت کافی نکل چکا ہے اور منیر بھی ہمارے درمیان نہیں ہے ں اس لیے منیر کی غزل کے بارے میں معروضی انداز اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ منیر کی شاعری اتنی مستحکم اور توانا ہے ، اس کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ ہاں یہ ضر ور ہے کہ منیر کی غزل کی قرات کے جو تقاضے ہیں انھیں ملحوظ رکھاے جائے لیکن قرا ت کے تقاضے کا علم بھی قرا ت ہی سے آتا ہے ۔ منیر کی غزل کو پڑھیے تو اس کا فکری اور لفظیاتی نظام اتنا گھنا گہرا اور پیچیدہ ہے کہ اس کی تفہیم اور تعبیر کا عمل بار بار پڑھنے اور پرکھنے کا تقاضا کرتا ہے ۔ منیر نیازی کی کلیات میں 174 غزلیں شامل ہیں۔ غزلوں کی یہ تعداد بہت زیادہ نہیں کہی جاسکتی لیکن ان کی رو شنی میں منیر کی غزلیہ شاعری کے امتیاز کو نشان زد توکیا ہی جاسکتا ہے ۔ منیر نیازی کے پہلے مجموعے ”تیز ہوا اور تنہا پھول“ میں صرف دس غزلیں شامل ہیں۔ اس مجموعے کا انتساب ”خدا کے نام“ ہے ۔ اور اس کے نیچے قرآن کریم کی ایک آیت درج ہے ۔ ان کے ایک دوسرے مجموعے ”دشمنوں کے درمیان شام“ کا انتساب امام حسین علیہ السلام کے نام ہے اور تیسرے مجموعے ”ماہ منیر“ کا انتساب رسول کریم ﷺ کے نام ہے ۔ ان انتسابات سے بھی منیر نیازی کے فکری رویے اور تخلیقی ذہن کا پتا چلتا ہے ۔ جب عقیدے اور ایمان کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی بات کی جارہی ہو ان حالات میں خدا، نبی اور اما م حسین کی خدمت میں اپنے شعری سرمایے کو پیش کرنا اپنے ایمان اور عقیدے کی عمارت کو مزید مستحکم کرنا بھی ہے اور ساتھ ہی کسی مشکل وقت میں خود کو بکھرنے سے بچانے کا ایک وسیلہ بھی۔ تخلیق کار کے عقیدے کی دنیا اس کی اپنی دنیا ہوتی ہے لے کن ایک قاری چاہے کسی بھی نظریے کا حامل ہو وہ تخلیق کار کی روحانیت اور عقیدت کے تہذیبی اور تاریخی ماخذ سے چشم پوشی نہیں کرسکتا اور لازماً وہ شاعری میں حیات و کائنات کے اس تصور کو تلاش کرتا ہے جس پر تخلیق کار کا ایمان ہے ۔
منیر نیازی کا تخلیقی ذہن تخلیقی سطح پر جو سوچتا اور محسوس کرتا ہے ا س کے رشتے تاریخ اور تہذیب میں بہت دور تک پھیلے ہوئے ہیں اس میں ظلم و زیادتی کی عصری تاریخ ہی نہیں بلکہ اس کی تمام روایات سمٹ آتی ہیں۔ اس لیے منیر نیازی کی غزل گوئی اپنے سماجی اور عصری سیاق سے جو کچھ اخذ کرتی ہے اس کا اسلوب اسے عصریت سے بلند کردیتا ہے ۔ ظلم کی ایک لمبی تاریخ ہے اور ہر ظلم کی تاریخ کسی نہ کسی شکل میں ایک دوسرے سے مماثل ہے ۔ انسان نے انسان پر جتنی زیادتیاں کی ہیں اس کے حوالے تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔ منیر نیازی کی غزل میں ان زیادتیوں کا عصری منظرنامہ خود منیر کا دیکھا ،جھیلا اور محسوس کیا ہوا ہے ۔ اگر وہ ان حالات میں اپنی تاریخی اور تہذیبی روایات کی طرف پلٹ کر دیکھتے ہیں اور ان سے تخلیقی سطح پر کوئی قوت اور توانائی حاصل کرتے ہیں تو یہ منیر کی تخلیقی اور حسی ضرورت ہے ۔ ”دشمنوں کے درمیان شام“ کا انتساب امام حسین علیہ السلام کے نام ہے ۔ اس کتاب کے عنوان کو سامنے رکھیے اور پھر واقعہ کربلا پر غور کیجیے تو یہ دونوں کس قدر باہم مربوط ہوجاتے ہیں”تیز ہوا اور تنہا پھول“ ایک ایسا استعارہ ہے جو ہمارے ذہن کو واقعہ کربلا سے لے کر دنیا کے ان تمام معرکوں کی جانب منتقل کردیتا ہے جو حق و باطل کے مابین ہوئے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور قوم سے ہو۔ منیر نیازی کے یہاں و اقعہ ٴ کربلا بنیادی طور پر حق و صداقت کااعلامیہ بن جاتا ہے ۔ تیز ہوا میں ایک تنہا پھول دراصل منیر نیازی کی تخلیقی حسیت کاایک اظہار ہے جس میں کسی قسم کے نام نہاد نظریے یا خارجی دباؤ کا کوئی دخل نہیں ہے ۔ یہ تو منیر نیازی کے شعری مجموعوں کے انتسابات کے سلسلے میں کچھ باتیں تھیں۔ منیر نیازی کی غزلوں کا مطالعہ تو ان کے تمام سنجیدہ قارئین نے کیا ہے لے کن اگر حافظے پر زور ڈالیے تو گذشتہ کئی برسوں سے منیر نیازی کے چند شعر بار بار مختلف مضامین اور گفتگوؤں میں دہرائے جاتے رہے ہیں ۔ ادب کے بہت سے نئے طالب علموں نے منیر کو ان ہی شعروں کے حوالے سے پہلے پہل پہچانا تھا وہ شعر یہ ہیں
تم نے تو منیر اپنی عادت ہی بنالی ہے
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا
صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھرگیا ہے
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے
ان تینوں اشعار میں کوئی نادر ترکیب یا انوکھے استعارے نہیں ہے ں، پھر ایسی کون سی بات ہے جو ہمیں اپیل کرتی ہے ۔ پہلے شعر میں اکتاہٹ کو عادت سے مشروط کردیا گیا ہے یعنی اکتاہٹ کا سبب کوئی واقعہ نہیں بلکہ عادت ہے لے کن بات صرف اتنی نہیں ہے ۔ اکتاہٹ کا کوئی نہ کوئی سبب تو ہے ہی۔ شعر اصل میں خود پر قابو رکھنے اور جینے کے ایک ایسے ڈھنگ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں اکتاہٹ کے لیے اتنی گنجایش نہ ہو لے کن کیا کیاجائے اگر اکتاہٹ عادت بن جائے ۔ خوف اور زیاں کا احساس کیوں کر پیدا ہوتا ہے اور یہ فن کاروں کے یہاں کن کن صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اس سلسلے میں کوئی ایک بات سب کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتی
صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھرگیا
اس شعرکوپڑھیے تو سماعت میں ’ریل کی سیٹی بجی‘ کے ٹکڑے سے ایک سماعی پیکر ابھرتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی آواز ہے جو کانوں کے ذریعے دل میں درد بن کر اتر رہی ہے ۔ اس شعر کا آہنگ پہلے متاثر کرتا ہے اور پھر بعد کو اس کے معنی و مفہوم پر ہم غور کرتے ہیں۔ صبح کاذب کی ترکیب نے شعر کو ایک خاص سمت عطا کردی ہے ۔ صبح کاذب ایسی صبح کو کہتے ہیں جس پر صبح کا گمان ہوتا ہے لے کن وہ رات ہوتی ہے ۔ اس نظر فریبی پر ایک عام انسان کا تاثر جو بھی ہو لے کن منیر نیازی نے جس طرح اسے تخلیقی سطح پر برتا ہے اس کی کوئی دوسری مثال نئی غزل میں شاید نہ ملے ۔ صبح کاذب کی ہوا میں درد کا ہونا لفظ ”کتنا“درد کی شدت کو اور سوا کردیتا ہے ۔) پھرریل کی سیٹی سے دل کا لہو سے بھرجانا ایک ایسی سراسیمہ فضا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں۔ وہ کون تھا ، کیسا قافلہ تھا کیسے لوگ تھے جن کی بے وقت روانگی اور رخصتی نے متکلم پر ایسی کیفیت طاری کردی۔ گویا مسافر کو تو جانا ہی تھا لے کن یہ سفر غفلت اور دھوکے میں شروع ہوا۔ ظاہر ہے کہ ریل کی سیٹی اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اب مسافر نگاہ سے اوجھل ہے اور دور جانے والا ہے ۔ اس شعر میں بنیادی طور پر وہی ہجرت کا تجربہ شامل ہے جس کا ذکر انتظار حسین نے کیا ہے لے کن اب دیکھیے کہ ہجرت کے تجربے کو کس ہنرمندی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمربھر کا سفر رائیگاں تو ہے
یہاں بھی ایک زیاں کا خوف ہے لے کن ساتھ ہی اپنی سی کوشش کرنے کا جذبہ بھی ہے بظاہرایک عشقیہ شعر معلوم ہوتا ہے لے کن اس شعر کا ”وہ“ جس کردار کو سامنے لاتا ہے وہ نہایت منفرد بھی ہے ۔
منیر نیازی کے ان اشعار کو بنیاد بناکر منیر کی پوری غزلیہ شاعری کے سلسلے میں کوئی فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہوگا لیکن ان شعروں سے منیرکی تخلیقی حسیت کا ایک پہلو تو سامنے ضرور آتا ہے اور کچھ عجب نہیں کہ میں نے جس زیاں اور خوف کی بات کی ہے وہ منیر کا بنیادی مسئلہ بھی ہو۔ ”تیز ہوا اور تنہا پھول“ میں ”ہوا“ کا جو کردار ہے وہ نئی غزل میں ایک نئی حسیت کے ساتھ سامنے آتا ہے ۔ خلیل الرحمن اعظمی نے ہوا کے شورکو یوں باندھا ہے
گذشتہ رات بہت تیز چل رہی تھی ہوا
صدا تو دی پہ کہاں تک تمھیں صدا دیتے
شہریار نے لفظ ”آندھی“ استعمال کیا ہے
ہر شخص مضمحل ہے بکھرنے کے خوف سے
آندھی کا قہر سرو و صنوبر پہ دیکھ کے
ظفر اقبال نے ہوا کی طاقت کو یوں بیان کیا ہے
وہ پارہ پارہ کرے اور یہ اڑالے جائے
جو فرق ہے تو ہوا و ہنر میں اتنا ہے
اب منیر نیازی کا ایک شعر ملاحظہ کیجیے
ازل سے ہے جو سفر میں یہ وہ بلاہی نہ ہو
کواڑ کھول کے دیکھو کہیں ہوا ہی نہ ہو
ازل سے کون سی بلا ہے جو ہم سفر ہے لے کن اس ہم سفر کو کسی نے مجسم شکل میں دیکھا نہیں۔ اس کا خوف بہرحال قائم ہے ۔”کہیں ہوا ہی نہ ہو“ کاٹکڑا خوف کی شدت کو مزید نمایاں اور تیز کرتا ہے ۔ شعر کی ردیف ”ہی نہ ہو“ گمان اور یقین کی کشمکش کو نہایت ہنرمندی اور درد مندی کے ساتھ سامنے لاتی ہے ۔ ”ہوا“ موت کا استعارہ ہوسکتی ہے ۔ پہلے مصرعے میں ”بلا“ کا قافیہ ثانی مصرعے کے ”ہوا“ کو فنا پذیری کی علامت بنادیتا ہے ۔ ورنہ تو ہوا زندگی کی علامت بھی ہے جیسا کہ خود منیر نے ایک شعر میں ہوا کو یوں باندھا ہے
ہے اِرد گرد گھناپن مرے درختوں کا
کھلا ہے در کسی دیوار میں ہوا کے لیے
منیر نیازی کے ان دوشعروں میں ”ہوا“ کا کردار دیکھیے
بس ایک ماہِ جنوں خیز کی ضیا کے سوا
نگر میں کچھ نہیں باقی رہا ہوا کے سوا
گری ہوئی دیواروں میں جکڑے سے ہوئے دروازوں کی
خاکستر سی دہلیزوں پر سرد ہوا سے ڈرنا ہے
منیر نیازی کی غزل میں جہاں بھی خوف اور زیاں کا احساس شعر کا محرک بنا ہے وہاں معنی اور کیفیت کا خو بصورت امتزاج پیدا ہوگیا ہے
اڑا غبار ہوا سے تو راہ خالی تھی
وہ کون شخص تھا اس میں غبار کس کا تھا
میر کا شعر یاد کیجیے
روئے آدم ہی ہے تمام زمیں
پاؤں کو ہم سنبھا ل رکھتے ہیں
میر کی تہذیب کے بارے میں کیا کہا جائے ۔ زیب غوری کہتے ہیں
ایک جھونکا ہوا کا آیا زیب
اور پھر میں غبار بھی نہ رہا
منیر نیازی کے یہاں موت کا خوف چاہے عصری صورت حال سے جتنا بھی متعلق ہو، بالآخر وہ انسانی زندگی کا ایک بنیادی اور دائمی المیہ بن جاتا ہے ۔ منیر نیازی کے تخلیقی تجربے کا بنیادی حوالہ تو ہجرت ہے لے کن یہاں ہجرت ایک وسیع تر انسانی صورت حال کا حصہ بن جاتی ہے ۔ منیر نیازی کے یہاں یہ مضمون بار بار آتا ہے ۔منیر کی بستی اور منیر کا شہر تو سب کو معلوم ہے لے کن جو بستی منیر کے تصو ر میں آباد ہے اس کے بارے میں آسانی سے کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔ ہماری تاریخی و تہذیبی روایت میں وہ سب کچھ شامل ہے جسے ہم مشترکہ تہذیب کا نام دیتے ہیں۔ منیر اپنے ملک اور اپنی بستی کے تلخ ترین تجربے کا ذکر کرتے ہیں لے کن یہ تجربے ملکی اور جغرافیائی حدود سے نکل کر ہر اس ملک کی کہانی بن جاتے ہے ں جو اس تلخ تجربے سے کسی نہ کسی شکل میں گزر رہا ہو۔
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیزتر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
یہ برہنہ گفتاری منیر کی غزلوں میں کم ہے لے کن یہاں بھی شاعر کی آواز بے قابو نہیں ہوتی۔ میں نے منیر کے سلسلے میں خوف اور زیاں کے احساس کا ذکر کیا ہے ۔ یہاں منیر کی دو غزلیں پیش کرتا ہوں جن میں زندگی کی بے معنویت ، اس کی لاحاصلی اور دیگر محرومیاں سمٹ آئی ہیں۔
شانِ ہنر، کلامِ سخنور بھی کچھ نہیں
عجزِ فقیر و کِبرِ تونگر بھی کچھ نہیں
بنیاد کچھ نہیں ہے کسی شے کی اس جگہ
اس شہر میں بہائے سکندر بھی کچھ نہیں
رشتہ روایتوں سے بھی باقی نہیں رہا
آیندہ کے سفر کے افق پر بھی کچھ نہیں
لاحاصلی ہی شہر کی تقدیر ہے منیر
باہر بھی گھر سے کچھ نہیں اندر بھی کچھ نہیں
جس شہر کا قصہ منیر نے ان شعروں میں پیش کیا ہے وہ تاریخ کا ایک نیا یا انوکھا شہر نہیں ہے ، دنیا میں ایسے شہر ہمیشہ آباد ہوتے رہے ہیں۔ ایک تخلیق کار ان حالات میں کیا کچھ محسوس کرتا ہے اور اسے کس طرح فن کا روپ دینا چاہتا ہے یہ معاملہ انفرادی ہے ۔ منیر نیازی کے درج بالا اشعار میں معنی کی جہتیں نہیں ہیں لے کن احساس کی شدت ضرورہے
ایک میں اور اتنے لاکھوں سلسلوں کے سامنے
ایک صوتِ گنگ جیسے گنبدوں کے سامنے
مٹتے جاتے نقش، دودِ دم کی آمد رفت سے
کھلتے جاتے بے صدا لب آئینوں کے سامنے
ہے ہوائے سیراب اور اجنبی سی سر زمیں
اڑ رہی ہے خاک کہنہ ساحلوں کے سامنے
دشمنی رسمِ جہاں ہے دوستی حرفِ غلط
آدمی تنہا کھڑا ہے ظالموں کے سامنے
چار چپ چیزیں ہیں بحر وبر‘ فلک اور کوہسار
دل دہل جاتا ہے ان خالی جگہوں کے سامنے
اپنی اکیلی ذات کو لاکھوں سلسلوں کے مقابلے میں سینہ سپر دیکھنا اور اسے صوتِ گنگ جیسے گبندوں سے تشبیہہ دینا کسی معمولی شاعر کے بس کا نہیں ہے ۔ یہ لاکھوں سلسلے کیا ہیں دراصل یہی وہ اشاروں اور خیالوں کی دنیا ہے جو شعر کے حسن کو دوبالا کرتی ہے اور معنی کے نئے نئے در کھولتی ہے ۔سانس کی آمدو رفت کے دھوئیں سے بے صدا لب کا آئینوں کے سامنے کھلنا بالکل ایک نئی تخلیقی اپج ہے ۔ تیسرے شعر میں ہوائے سیر، اجنبی سی سرزمین اور کہنہ ساحلوں پر خاک کا اڑنا ایک صورت حال کا بیان ہے جس کی معنوی دنیا ان تراکیب کی وجہ سے محدود نہیں ہوتی۔ پانچویں شعر میں جرم آدم کے قصے کو جس طرح سے دیکھا گیا ہے اس کی مثال نئی غزل میں نایاب ہے ۔ پانچویں شعر کا اندازسادہ اور بیانیہ ہے لے کن چھٹا شعر اپنے بیانیہ اسلوب کے باوجود لفظ چپ کے سبب ایک خاموش مگر وحشت ناک فضا قائم کردیتا ہے ۔ خاموشی میں بڑی طاقت ہوتی ہے ۔ منیر نیازی نے چارچپ اشیا کو اکٹھا کرکے خاموشی کی طاقت کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے ۔ منیر نیازی کی غزل میں صدا اور آواز کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ لفظ صدا تو انھوں نے جہاں جس شعر میں بھی استعمال کیا ہے اسے انوکھا اور منفرد بنادیا ہے
ہے باب شہر مردہ گزرگاہِ بادِشام
میں چپ ہوں اس جگہ کی گرانی کو دیکھ کر
بس ایک ہو کا تماشہ تمام سمتوں پر
مری صدا کے سفر میں سراب کیوں آیا
کیا باب تھے یہاں جو صدا سے نہیں کھلے
کیسی دعائیں تھیں جو یہاں بے اثر گئیں
ہے ایک اور بھی صورت کہیں مری ہی طرح
اک اور شہر بھی ہے قریہ ٴ صدا کے سوا
کوکتی تھی ہنسری چاروں دشاؤں میں منیر
پر نگر میں اس صدا کا راز داں کوئی نہ تھا
منیر نیازی کا شہر اور اس کے شب و روز منیر کی شخصیت میں رچ بس گئے ہیں۔ یہ شاعری زندگی کی اس بے معنویت اور لاحاصلی کو بھی پیش کرتی ہے جو نئی شاعری کی ایک شناخت ہے اور ساتھ ہی اس میں وہ غم و غصہ کی وہ تہ نشیں لہریں بھی ہیں جو قاری کے اندر آہستہ آہستہ ظلم و جبر کے خلاف نفرت کا احساس جگاتی ہیں ۔ منیر نیازی کی شاعری ایک امتحان بھی ہے کہ تجربات چاہے جتنے بھی تلخ ہوں انھیں اول و آخر شاعری ہی ہونا چاہیے ۔ منیر نیازی اپنے شہر کے ظالموں کو دیکھتے ہوئے تاریخ میں بہت دور تک نکل جاتے ہیں اور انھیں ظلم و جبر کا ایک سلسلہ دکھائی دیتا ہے ۔ گذشتہ پچاس برسوں کی غزل میں منیر نیازی کی غزل اپنے سماجی سروکار کو جس انفرادی شکل اور توانا اسلوب میں منتقل کرنے میں کامیاب ہوئی، اس میں ان کا کوئی ثانی نظر نہیںآ تا۔ جہاں گفتگو کا انداز سیدھا اور سادہ ہے وہاں ان کی دردمندی اور دل سوزی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ۔ منیرکی غزلوں گوئی کا ایک اہم حصہ ایک ظالم و جابر شہر کے نظام سے وابستہ ہے
سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں
ان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مرگئیں
کر یاد ان دنوں کو، کہ آباد تھیں یہاں
گلیاں، جو خاک و خون کی دہشت سے بھر گئیں
صر صر کی ز دمیں آئے ہوئے بام و در کو دیکھ
کیسی ہوائیں کیسا نگر سرد کر گئیں
میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا
راہبر میرا بنا گمراہ کرنے کے لیے
مجھ کو سیدھے راستے سے دربدر اس نے کیا
شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا
پھرمجھے اس شہر میں نامعتبر اس نے کیا
شہر کو برباد کرکے رکھ دیا اس نے منیر
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اس نے کیا
منیر نیازی کے ان شعروں میں کوئی پیچیدہ بیانی نہیں، لے کن یہ منیر کی غزل کا ایک ایسا رنگ ہے جس کو نظر انداز کرکے منیر کی پیچیدہ بیانی پر اصرار کرنا مناسب نہیں ہے ۔ منیر کی ان سادہ اور مسلسل غزلوں میں جو آگہی سمٹ آئی ہے اس سے بھی منیر کی تخلیقیت کا پتا چلتا ہے ۔
منیر نیازی کے بارے میں یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے اور صحیح بھی ہے کہ ان کے یہاں ہجرت کا تجربہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے او راس تعلق سے وہ آفت زدہ شہر سے اپنی شعری کائنات کو سجاتے ہیں لے کن منیر کی غزل میں ہمیں ایک ایسے شاعر کا تخلیقی ذہن بھی ملتا ہے جوحیات و کائنات کے مسئلے پر سوچتے ہوئے تضاد اور انتشار کا شکار بھی ہوتا ہے اور وہ فطری طور پر وہی انداز اختیار کرتا ہے جو غالب کی اس غزل میں ہے ۔
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
اب منیر نیازی کی غزل دیکھیے
یہ آنکھ کیوں ہے ، یہ ہات کیا ہے
یہ دن ہے کیا چیز، رات کیا ہے
فراقِ خورشید و ماہ کیوں ہے
یہ ان کا اور میرا ساتھ کیا ہے
گماں ہے کیا اس صنم کدے پر
خیالِ مرگ و حیات کیا ہے
فغاں ہے کس کے لیے دلوں میں
خروشِ دریائے ذات کیا ہے
فلک ہے کیوں قیدِ مستقل میں
زمیں پہ حرفِ نجات کیا ہے
ہے لمس کیوں رائیگاں ہمیشہ
فنا میں خوفِ ثبات کیا ہے
منیر اس شہرِ غم زدہ پر
ترا یہ سحرِ نشاط کیا ہے
منیرنیازی کی غزل میں جنگل اور شام کے استعارے خاص طور پر متوجہ کرتے ہیں۔ ان کی غزل میں بے امانی اور خوف کے احساس کی مختلف جہات ہیں لے کن جب وہ شام اور جنگل کو بطور استعارہ استعمال کرتے ہیں تو اس کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے جنگل اور شام میں ایک تعلق بھی ہے ۔ دن کے کسی حصے میں جنگل جائیے شام کا گمان ہوتا ہے جنگل کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں۔ نئے شعراء نے وجود کو جنگل سے بھی تشبیہ دی ہے ۔ جنگل کا بھید اس کی خاموشی میں پوشیدہ ہے لے کن اس خاموش فضا کو جب کوئی آواز توڑتی ہے تو مسافر اس پر کان دھرتا ہے ۔ منیر کا خیال ہے ۔
جنگلوں میں کوئی پیچھے سے بلائے تو منیر
مڑکے رستے میں کبھی اس کی طرف مت دیکھیو
یہاں بھی خوف غالب ہے جس کی تشریح و تفہیم میں کچھ باتیں کی جاسکتی ہیں لے کن اس خوف سے جو مجموعی صورت حال سامنے آتی ہے اسے کسی موضوع یا عنوان کے تحت پیش نہیں کیا جاسکتا اور لازماً ہمارا ذہن جنگلوں میں بھٹکنے لگتا ہے ۔ ”انسانی زندگی کا سفر“ کہنے کو یہ ایک سادہ سا عنوان ہے لے کن ہمارے شاعروں اور ادیبوں نے اس کو کس کس طرح دیکھا، برتا اور محسوس کیا ہے ۔ اس کے لیے ایک دفتر درکار ہے ۔ سفر کی پوری روداد کبھی کبھی دو مصرعوں میں بند ہوجاتی ہے اور اس میں تمام سچائیاں سمٹ آتی ہیں۔ میر کا مشہور شعر ہے
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
منیر نیازی سفر میں اسباب کے لٹنے کا ذکر نہیں کرتے بلکہ ان کے ہاں سفر کا خوف اور زیاں کا احساس غالب ہے ۔
جب سفر سے لوٹ کر آئے تو کتنا دکھ ہوا
اس پرانے بام پر وہ صورت زیبا نہ تھی
یہا ں منیر سفر سے واپسی کا ذکر تو کرتے ہیں لے کن یہ سفر اس سفر سے بہت مختلف ہے جسے ہم انسانی زندگی کے مجموعی سیاق میں دیکھتے ہیں۔ منیر جنگل کے سفر کو جس قدر پیچیدہ بنادیتے ہیں وہ جنگل کا تقاضا بھی ہے ۔ شفق کے لال رنگ سے منیر کی دلچسپی دراصل اسی جنگل کے سفر کی دین ہے ۔ یہ رنگ منیر کو کبھی اچھا لگتا ہے تو کبھی اسے دیکھ کر ان کا دل ڈوبنے لگتا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ شام کی اس فضا کو دوسرے شعراء نے تخلیقی سطح پر نہ برتا ہو لے کن منیر نے اس کے اظہار میں بڑا حسن پیدا کیا ہے ۔
ہوائے شام کے رنگیں دیار جلنے لگے
ہوئی جو شام تو جھکّڑ عجیب چلنے لگے
تھی شام زہر رنگ میں ڈوبی ہوئی کھڑی
پھر اک ذرا سی دیر میں منظر بدل گیا
یاد بھی ہیں اے منیر اس شام کی تنہائیاں
ایک میداں اک درخت اور تو خدا کے سامنے
شفق کا رنگ جھلکتا تھا لال شیشوں میں
تمام اجڑا مکاں شام کی پناہ میں تھا
شام کے رنگوں میں رکھ کر صاف پانی کا گلاس
آبِ سادہ کو حریف رنگِ بادہ کردیا
یہ سارے بیانات ذاتی تجربات و احساسات کا پتا دیتے ہیں۔ ایک وجودی احساس ہی ان شعروں کو تخلیقی قوت عطا کرتا ہے ۔ ان شعروں میں صورت حال کی پیش کش کہیں دھندلی ہے تو کہیں کچھ واضح۔ اگر نئی غزل کے نمایاں رنگوں کو سامنے رکھ کر منیر کی غزل کا مطالعہ کیا جائے تواس میں بہت کچھ ایسا ہے جو صرف منیر کی غزل سے مخصوص ہے ۔ تنہائی ، لاحاصلی، خوف اور زیاں کے احساسات منیر کی غزل میں انسانی زندگی کا مقدر بن جاتے ہیں ۔منیر نیازی کے گھنے اور گہرے تجربے کی طلسماتی دنیا ہمیں نئی غزل کا ایک باذوق اور سنجیدہ قاری بناتی ہے ۔