ادب >> اردو ادب >> قاری کی بازیافت
ادب
قاری کی بازیافت

تحریر : شمبھو ناتھ
تلخیص و ترجمہ : احمد کفیل

کتابیں ذہنی کشمکش اور شک سے وجود میں آتی ہیں۔ اس لیے کتابوں کی ضرورت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک سماج کے افراد میں شک کرنے کی قوت قائم رہے گی۔ گذشتہ کچھ دہائیوں سے انسانی خواہشات پر بازاری اشیا کا غلبہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے ۔ پہلی نظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض دوسری چیزوں کی طرح کتابوں کی بھی حدبندی ہو جائے گی۔ انسانیت، انسان کی فیصلہ لینے کی صلاحیت اور اس کا تنقیدی نقطہ نظر حاشیے پر چلا جائے گا تو کتابیں بھی بے معنی ہو جائیں گی۔
آج جب یہ کہا جاتا ہے کہ ادب کا بیشتر ذخیرہ کتابوں اور رسائل سے پرے انٹرنیٹ کی دنیا میں موجود ہے تو اس پر غور کرنا چاہیے کہ اس دنیا میں بہت کچھ ”غیر موجود“ بھی ہے ۔ بلکہ وہاں ہر ”موجود“ کے پس پشت سیکڑوں چیزیں ”غیر موجود“ ہیں۔
بازار کے باہر ایک بڑی دنیا ہے جس میں شہری ہے ں، ایسے افراد ہیں جو سوچتے ہیں اور مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ سامانِ فروخت نہیں ہیں۔ آج بھی سماج میں ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جن میں یہ اعتماد سانس لے رہا ہے کہ ادب میں سچائی ملتی ہے اور کچھ ”مختلف“ ملتا ہے ۔ دراصل یہی بات تاریخ، سائنس یا اقتصادیات کی کتابوں کو بھی ”ادب“ بناتی ہے ۔ حالیہ اچھی کتابوں میں ان موضوعات کی خالص شکل نایاب ہے ۔ اگر ملتی بھی ہے تو مشترکہ شکل میں۔
ہر زمانے میں ادب کو جدت اور روایت دونوں نظریوں سے دیکھا گیا ہے ۔ آج یہ طے کرنا لازمی ہے کہ کیا ادب محض ادب برائے ادب کا معاملہ ہے ، یہ ذاتی تفریح کی چیز ہے ، ایک منافع کی تجارت ہے یا حقیقی معنوں میں سماجی معاملہ۔ ادب ہر زمانے میں ماحول کا مرکز ثقل رہا ہے ۔ عوامی کاروبار کے معاملے میں نج کاری بھلے ہی تازہ معاملہ ہو، ادب کی نج کاری کئی دہائی پہلے شروع ہو چکی تھی۔ ادب کا بہت سارا کاروبار نجی کمپنیوں کی طرح چلنے لگا تھا۔ اسی طرح ایک دوسرا مسئلہ بھی رہا ہے ، وہ ہے حکمراں حلقے کا دبا۔ادب کسی بھی دور میں ”نجی“ اور ”سیاسی“ میں اتنی بری طرح منقسم نہیں تھا جس طرح پچھلی کچھ دہائیوں میں ہوا ہے ۔ اس سے عام لوگوں میں ادب کے تئیں اعتقادات میں کمی آئی ہے ۔ ادب کے چاہنے والے بھی کم ہونے لگے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ادب کو سماج کا ترجمان بنانے کی جو شعوری کوششیں انیسویں صدی میں شروع کی گئی تھیں وہ تھم سی گئی ہیں۔
پوری دنیا میں ادب صدیوں سے عوامی معاملہ رہا ہے ، عام لوگ اس میں شریک تھے ۔ سائنس اور ترسیلی تحریک کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے سوچنا چاہیے کہ خود کتاب، دنیا کی ادبی شخصیات کو عام لوگوں سے منقطع کرنے کی کتنی ذمہ دار ہے ۔
عوام کو اب بھی بڑے پیمانے پر کتابوں کی ضرورت ہے ۔ برقی ذرائع کے باوجود کتابوں کا کوئی بدل نہیں ہے جس طرح مختلف مشروبات کے باوجود پانی کا بدل نہیں ہے ۔ ہر زمانے میں ادب ایک تہذیبی عمل رہا ہے اور اس طرح اس کی زندگی تغیر پذیر ہے ۔ یہ سچ ہے کہ ایک تہذیبی عمل کے روپ میں ادب کچھ خاص قسم کی سرگرمیاں چاہتا ہے ۔ سماج میں بری چیزیں پٹرول کی آگ کی طرح پھیلتی ہیں جب کہ اچھی چیزوں کو پھیلانے میں انتہائی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ کہنا بے جا نہیں کہ ”ادبیت“ تبھی قائم رہ سکتی ہے جب ”سماجیات“ باقی ہوگی۔
سارتر اور کامو کے درمیان ادب، آزادی اور جمہوریت کے باہمی تعلق کو لے کر ایک بحث چھڑی تھی۔ اس میں ایک بات یہ سامنے آئی تھی کہ ادب سیاسی طور پر خود کتنا زیادہ اہم ہے ۔ اسی حوالے سے تصور کیا جا سکتا ہے کہ سماج میں قاری کا ہونا کتنا اہم ہے ۔ یہ خود سماج کے سماج بنے رہنے کے لیے ضروری ہے ۔ ادب کا قاری ہونا ہنگامے سے باہر نکلنا ہے ۔ جھنڈ سے باہر آنا ہے ۔ کتاب کا کام ہے ناظر کو منفی سے مثبت کرنا، اسے منجمد سے حرکی بنانا،اس پر عمل کی اہمیت واضح کرنا۔ ناظر کا قاری بننا، کچھ سوچنا شروع کرنا ہے ، فکر مند بننا ہے ۔ قاری کو محض ناظر بنا دینا یا مغربی موسیقی کا سامع بنا دینا اس کی اندرونی کائنات کو مسمار کر دینا ہے ۔ ادب کی سیاسی وابستگی کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی کو سوچنے اور فکر کرنے والا انسان بناتا ہے ۔ کیونکہ ایسے افراد کے بغیر سماج کا تصور ممکن نہیں۔
ادب کا قاری کسی خاص نقطہ نظر کی نمائندگی نہیں کرتا۔ وہ کسی خاص نقطہ نظر کا آدمی ہوتا ہی نہیں ہے ۔ بھلے ہی تخلیق کار ایسا ہو لیکن قاری ایسا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ تخلیق کار کسی اجنبی گوشے سے دبا جھیلتا ہے کہ اس کا مشاہدہ کسی نکتے پر ایسی جگہ بھی پہنچے جہاں دوسرے نقطہ نظر کے لوگ بھی اس کے مشاہدات کو محسوس کر سکیں۔ ایک اچھے تخلیق کار سے یہ امید لازمی ہے کہ وہ ”انفرادیت“ کے ساتھ ساتھ ”آفاقیت“ کو بھی اپنے دائرہ تحریر میں سمیٹ لے ۔
ہر زندہ سماج میں قاری ہوتا ہے بھلے ہی اس کی شکل و صورت غیر واضح ہو۔ ایک خطیب کو یہ اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس سے مخاطب ہے ۔ ایک تخلیق کار کے مخاطب یعنی اس کے قارئین اس کے سامنے نہیں ہوتے ، وہ واضح نہیں ہوتے ۔ وہ میلے ٹھیلوں، تعلیمی اداروں اور شہر کے چوراہوں پر چہل قدمی کرتے نظر آکر بھی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ہم جتنا گمان کر سکتے ہیں قارئین اس سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں صارفیت کے تئیں نفرت میں اضافہ ہوا ہے ۔ آزادی اور اپنے وجود کی شناخت کے لیے بے چینی پیدا ہوئی ہے اور ذہنی الجھنیں اب وہاں بھی موجود ہیں جو جگہیں پرسکون تھیں۔ تعلیمی بیداری کے سبب قارئین کے نئے نئے گروہ بن رہے ہیں۔ قارئین اپنی آزادی کے لیے بے چین ہیں۔ اب ہر فرد ایسا محسوس کرنے لگا ہے کہ محض خبر رسانی کے ماحول میں ہم نے بہت کچھ گنوا دیا ہے ۔ ہر معاشرے میں ایک مقام کے بعد گھٹن محسوس ہونے لگتی ہے ، فرد اپنی بے چہرگی سے ایک دن گھبرا اٹھتا ہے ۔ انسانی قوتِ تخلیق محدودیت کے حصار میں بے دم ہو جاتی ہے ۔ یہی وہ حالات ہیں جن میں قاری کی بازیافت لازمی ہوجاتی ہے۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.