ادب >> اردو ادب >> داستان گوئی کا فن
ادب
داستان گوئی کا فن
تحریر: شمسہ عارف

داستان گوئی سے متعلق مرزا اسد اللہ خاں غالب کا خیال ہے کہ ”داستان طرازی من جملہ فنون سخن ہے ، سچ ہے کہ دل بہلانے کے لیے اچھا فن ہے ۔“ بقول کلیم الدین احمد ”داستان کہانی کی طویل پیچیدہ اور بھاری بھرکم صورت ہے ۔“ گیان چند جین کے مطابق ”داستان کے لغوی معنی قصہ۔ کہانی اور افسانہ کے ہیں۔ خواہ وہ منظوم ہو یا منثور۔ جس کا تعلق زمانہ گذشتہ سے ضرور ہو اور جس میں فطری اور حقیقی زندگی بھی ہو سکتی ہے اور اس کے علاوہ غیر فطری، اکتسابی اور فوق العادت شاذ و نادر فوق العجائب بھی ہو سکتے ہیں۔ افسانوں کی قسموں میں داستان ایک مخصوص صنف کا نام ہو گیا تھا۔“
یورپ میں جو عاشقانہ داستانیں تصنیف کی جاتی تھیں اور ان میں کچھ کہانیاں ہیجان انگیز اور پْرکشش ہوتی تھیں وہ ہاتھوں ہاتھ لی جاتی تھیں۔ ان تخیلی عاشقانہ داستانوں کو ”رومان“ کہا جاتا تھا۔ رومان کی کئی قسمیں ہوتی تھیں۔ وہ داستان جس میں مصنف نے کسی تاریخی واقعے سے مواد حاصل کیا ہو اس کو تاریخی رومان کہا جاتا ہے ۔ رومان کی دوسری قسم جو گاوٴں کے سادہ لوگوں کے جذبات، احساسات اور ان کی زندگی کی ترجمانی کرتی ہے ”دیہاتی رومان“ کے نام سے مشہور ہے ۔ ایک اور قسم کے رومان میں مصنف قاری کو علمی اور معنوی نکات کی تعلیم دینا چاہتا ہے ۔ اس کو تعلیمی رومان کہتے ہیں۔ ان داستانوں میں تخیل اور منظرنگاری کم ہے اور مصنف پڑھنے والے کو اپنے ہیرو کے جملہ واقعات کا مشاہدہ کرا دیتا ہے ۔ داستانوں کی ایک قسم فابل ہے ۔ جس کا پلاٹ بے حقیقت اوہام و تصورات سے وجود میں آتا ہے ۔ دنیا کی ادبیات میں فابلوں کا ایک حصہ وہ رزمیہ تخیلات ہیں جن کے نمونے یونان، ایران اور ہندوستان کی قدیم کہانیوں میں نظرآتے ہیں۔ مثال کے طور پرکیخسروکا ”جام جہاں نما“ یا سکندر کا ”آئینہ نامہ“ بہادرانہ فابل ہیں۔ یہ ان دونوں ہیرووٴں کی بے انتہا قوت کو بتانے کے لیے وجود میں آئے ہیں۔ ایران، ہندوستان اور دیگر ممالک کی مذہبی روایات میں بھی اس طرح کے فابل ملتے ہیں۔ ایران میں شاہنامہ اور ہندوستان میں ”مہابھارت“ قابل ذکر ہیں۔ فابلوں کی ایک دوسری قسم وہ چھوٹی۔ چھوٹی کہانیاں ہیں جن کی بنیاد کسی اخلاقی موضوع پر ہوتی ہے ۔ ان اخلاقی فابلوں میں سے بہت سے فابلوں کے ہیرو انسان نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر ”کلیلہ و دمنہ“ میں اس کے مجموعی خاکے کے علاوہ چھوٹی۔ چھوٹی کہانیاں بھی اس میں شامل ہیں جن کے سبھی کردار شیر، گیدڑ، لومڑی، خرگوش، گائے اور گدھے وغیرہ ہیں۔ یہ سب کے سب اخلاقی فابل ہیں۔ ”کونت“ بھی مختصر یوروپی کہانی کی ایک قسم ہے جو فابل سے مشابہت رکھتی ہے ۔ یہ تخیل کی پیداوار ہوتی ہے اس میں کوئی معاشرتی موضوع نہیں ہوتا۔ زیادہ تر اس میں ایسی گھریلو زندگی کے گوشے اجاگر کیے جاتے ہیں جہاں حیرت انگیز واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور پڑھنے والوں کو ان سے کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوتا، اس کی رنگین بیانی سے ان نصیحتوں کی چھاپ بلاواسطہ انسانی ذہنوں پر پڑتی ہے ۔ ”فانتزی“ ایک ایسی تحریر کو کہتے ہیں جس میں لکھنے والے نے اپنا مقصد بیان کرنے کے لیے کوئی موضوع تراشا ہو۔ اور وہ اپنے حقیقی ہیرو کو تبدیل شدہ نام و مقامات کے ساتھ نمایاں کرے اور اپنے اظہار خیال کا ذریعہ بنائے ۔ خواجہ امان نے ”بوستانِ خیال“ کے دیباچہ میں اچھی داستانوں کے لیے چند ضروری شرطیں قرار دی ہیں۔ ”اول مطول خوشنما جس کی تمہید و بندش میں توارد مضمون و تکرار بیان نہ ہو، مدت دراز تک اختتام کے سامعین مشتاق رہیں۔ داستان گوئی کی اصطلاح میں اسے داستان روکنا کہتے ہیں۔ مشاق استاد کا کمال اس بات میں تھا کہ وہ کیسے نازک موڑ پر اور کتنے دلچسپ طریقے سے قصے کے عمل میں ٹھہراوٴ لے آتا ہے ۔ اور اس کے باوجود داستان گو کا طولانی بیان سننے والوں پہ بار خاطر نہیں ہوتا۔ سننے والے انجام کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں، یہ فن زبانی داستانوں میں دیکھنے میں نہیں آتا، تحریری داستانوں کے واقعات کو بھی خوامخواہ طول دے کر انجام کو کچھ دیر کے لیے ٹالا جاتا ہے ۔ داستانوں کو طول دینے کے لیے ضمنی کہانیوں اور قصہ در قصہ سے کام لیا جاتا ہے ۔ طول پیدا کرنے کی ایک غیرفنکارانہ ترکیب مہم کے بعد مہم اور حادثے کے بعد حادثے کا بیان ہے ۔ قصے کے سب مسائل سلجھ جاتے ہیں۔ خاتمے کا نقطہ نظر آنے لگتا ہے کہ پھر کوئی نئی مصیبت کھڑی کر دی جاتی ہے ۔ طلسم کے بعد طلسم، رن کے بعد رن، ایک جزو دوسرے سے منطقی طور پر خود ماخوذ نہیں ہوتا بلکہ مصنف کی مطلق العنانی کی فریاد کرتا ہے ۔ داستانوں کا ایک اور حربہ غیبی امداد و اتفاقات کا سہارا ہے ۔ جو ہر آڑے وقت پر کام آتا ہے ۔
داستانی واقعات بالعموم دو طرح کے ہوتے ہیں۔ بزمیہ اور رزمیہ۔ بزمیہ بیانات عشق و محبت، صلح و آشتی، دوستی اور ہمدردی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان میں معاشقے کو نمایاں حیثیت حاصل ہے ۔ رزمیہ بیانات میں دشمنوں کی جنگیں، عیاریاں اور فریب کاریاں شامل ہوتی ہیں جن کو زیادہ تر مذہب اور تبلیغ مذہب سے تحریک ملتی ہے ۔ معاشقے کی رقابت اور چشمک بھی تصادم کا سبب بن جاتی ہے ۔
داستان گو کی کوشش یہ رہتی ہے کہ جو واقعات بیان کیے جائیں ان کو سن کر لوگ مبہوت ہو جائیں، قصے میں دلکشی کے اضافے کی غرض سے کچھ ایسی گتھیاں پڑ جاتی ہیں اور پھر کچھ ایسے انداز سے سلجھ بھی جاتی ہیں کہ پڑھنے والا ہکّا۔ بکّا رہ جاتا ہے ۔ سحر و ساحری طلسم بندی اور طلسم کشائی و اسراریت کے ساتھ ساتھ جنسی لگاوٴ کے واقعات بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔ تعلیم، اخلاق اور تہذیب نفس پر بھی زور دیا جاتا ہے ۔ اسلوب بیان میں سنجیدگی کے پہلو بہ پہلو مزاح سے بھی کام لیا جاتا ہے ۔ غرض داستان ہمارے دل میں ہمدردی، خوف، نفرت، محبت، جنسی حیرت اور استہزاء کے جذبات کو بیدار کرتی ہے ۔ داستان اپنے قدیمی رنگ کے ساتھ ساتھ شعوری یا مقصد ادب سے ہٹ کر ایک ایسا فنکارانہ نظام تخلیق کرتی ہے جس میں اتحاد عمل اور اتحاد اثر کی کوئی خصوصی ضرورت کا لحاظ نہیں ہوتا۔
داستانوں میں تسلسل اور طوالت پیدا کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثلاً کہیں ایک جنگ کے بعد دوسری جنگ اور ایک حادثے کے بعد دوسرا حادثہ پیش کرتے ہوئے داستان گو ان تمام مصائب پر ہیرو کے ذریعہ ان کو کامیابی کے ساتھ انجام دینے کے عمل کو پورا کرتا ہے اور پھر کوئی ایسا پہلو روشن کرتے ہوئے اس میں کوئی دوسرا مسئلہ کھڑا کر دیتا ہے ۔ اس لیے یہ تمام چھوٹے چھوٹے مکمل قصے اس داستان کا جزو بنتے چلتے جاتے ہیں۔ کہیں ہیرو کے لیے غیبی امداد مہیا ہو جاتی ہے ، کہیں اتفاقات اس کو سہارا دیتے ہیں، کہیں کوئی شریف مرد ہیرو کی مشکل کشائی کر دیتا ہے اور اس طرح کے بہت سے سہاروں پر داستان آگے بڑھتی رہتی ہے جس سے سامعین کے عقائد میں ایک خاص طرح کی پختگی اور دلچسپی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ داستان کے موضوعات میں حمایت دین بھی ایک اہم موضوع ہے ۔ ہیرو محض صدق و ایمان کی خاطر باطل قوتوں سے ٹکر لیتا ہے ۔ اس خیروشر کے جہاد میں ہیرو کی فتح ہوتی ہے جو خیر کا نمائندہ ہے ۔ اس طرح داستانوں کا انجام ہمیشہ طربیہ ہوتا ہے ۔ داستان میں انسانی خصوصیات کی نمائندگی اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ داستان کا موضوع کچھ بھی ہو اس میں حسن و عشق کی چاشنی ضرور ملتی ہے ۔ اور سہیل بخاری کے بقول
دراصل پورے ایشیائی ادب کا مزاج عاشقانہ ہے اس لیے داستان بھی محبت کے جذبے سے مستثنیٰ نہیں رہ سکتی تھی۔ داستان کے ہیرو کے لیے ضروری ہے کہ اس کے لیے کسی ایسی ہستی کا انتخاب کیا جائے جو مافوق الفطرت عناصر اور کم سے کم عمال، وزراء اور امراء کی شکل میں پیش کیے جائیں کیوں کہ ہیرو کو عوام سے بالاتر اور محکم تر پیش کیے جانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ہیرو میں چند انتہائی صفات ہوتی ہیں۔ وہ بے پناہ حسن کے ساتھ ساتھ وفا کا پتلا بھی ہوتا ہے ۔ ہیروئن عاشق کے لیے یہاں تک ایثار کرتی ہے کہ والدین کو چھوڑ کر اس کے ساتھ فرار ہو جاتی ہے ۔ داستان ”بیثرن و منیثرہ“ میں منیثرہ کی جرأت مندانہ صلاحیتوں کی بنا پر روایتی اقدار کے باوجود اپنے عاشق کے لیے ہمت و جرأت کا اظہار ملتا ہے ۔ دیو، دیونی اور بھوت پریت کا ذکر تقریباً کسی نہ کسی صورت میں کم و بیش ہر داستان میں ہوتا ہے ۔ یہ ایک ایسی آتشی خلقت ہے جو عموماً مشاہدے میں نہیں آتی مگر ان کا وجود تحریر و تقریر میں موجودہوتا ہے ۔ گویا آنکھوں سے نہیں دیکھا کانوں سے سنا ہے ، ذہنوں میں ان کا وجود جاگزیں ہے اور انھیں غیر معمولی قوتوں کا حامل سمجھا جاتا ہے ۔"۔
داستانوں کے پلاٹ میں زیادہ تنوع نہیں ہوتا۔ تمام قصے کچھ ان خطوط پر چلتے ہیں کہ ہیرو کسی مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ اسے راہ میں بہت سے حوادث، دشواریوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ تمام مصائب کا وہ مردانہ وار مقابلہ کرتا ہے اور فتح یاب ہوتا ہے ۔ جہاں تک داستان کی اصل غایت کا تعلق ہے وہ کہانی کی غایت سے مختلف نہیں۔ زیادہ تر داستانوں کے موضوعات ہلکے پھلکے عشقیہ و تفریحی ہوتے ہیں۔ کچھ داستانیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں اخلاق آموزی، تہذیب نفس، عالمانہ دقیقہ سنجی، مذہب اور تخلیق پر زور دیا جاتا ہے ۔ لیکن یہ تمام باتیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں اور داستان کی اصل غایت میں ان کا شمار نہیں ہوتا۔ داستانی تکنیک کو کلچرل، اخلاقی اور دیگر مسائل کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے تاکہ سننے والے یا پڑھنے والے ان داستانوں کو درس آموز کلیات کے طور پر شعوری یا لاشعوری طور پر ذہن نشیں کر سکیں۔ داستانوں میں اخلاقی تعلیم یا مذہبی عناصر بھی موجود ہوتے ہیں یعنی معلمین اخلاق اور علمبرداران مذہب نے بھی داستان کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا ہے ۔ ان کے ایسا کرنے کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ اخلاق و مذہب کے مبادیات تفریحی مطالعہ کے طور پر آسانی سے سمجھائے جا سکتے ہیں۔ تفریح اور عشق کا التزام کسی نہ کسی داستان میں ضرور ملتا ہے ۔ اس کے علاوہ عجائب نگاری کی بہت زیادہ کوشش ہوتی ہے ۔ طلسم و سحر، نیرنگ و فسوں پر دفتر کے دفتر سیاہ کر دیے جاتے ہیں۔ بقول صغیر افراہیم
داستان دراصل زندگی اور اس کی حقیقتوں سے فرار کا دوسرا نام ہے ۔ خواہشات کی تکمیل جب حقیقی عنوان سے نہ ہو پاتی تو تخیل کے سہارے ان کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی اس لیے انسان جب اپنے حالات سے فرار حاصل کرتا تو عموماً داستانوں کی دنیا میں پہنچ کر ذہنی و قلبی سکون حاصل کرتا۔
بہ اعتبار مجموعی داستان کی اصل اور اہم ترین غایت تفریح طبع ہے اور داستان کی سبق آموز کی حیثیت ثانوی ہے ۔

مآخذ
ہماری داستانیں۔ سیدوقار عظیم، مکتبہ عالیہ زیارت خرمہ والی۔ راج دوارہ، رامپور، یو.پی.، طبع اول نومبر1968
اردو زبان اور فنِ داستان گوئی۔ کلیم الدین احمد، ادارہ فروغ اردو امین آباد، پارک لکھنوٴ اتر پردیش اردو اکادمی لکھنوٴ
اردو کی نثری داستانیں۔ ڈاکٹر گیان چند جین، اتر پردیش اردو اکادمی لکھنوٴ
فارسی زبان میں داستان نویسی کا آغاز و ارتقا۔ ڈاکٹر محمد استعلامی کناڈا، ترجمہ رئیس احمد نعمانی
داستانوں کی تکنیک۔ ڈاکٹر گیان چند جین، رسالہ آج کل، دہلی جولائی 1955، ص8-9
اردو داستان تنقید و تحقیق۔ سہیل بخاری، پاکستان، ص۔47-50
نثری داستانوں کا سفر۔ ڈاکٹر صغیر افراہیم، ایجوکیشنل بک ہاوٴس، علی گڑھ یو.پی. ص۔22
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2008. All rights reserved.