اطلاعاتی ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک طوفان کی طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اسی طرح انگریزی زبان بھی طوفان بن کر دنیا پر چھا گئی ہے ۔بلکہ انگریزی زبان صحیح معنوں میں دنیا (بقول شخصے عالمی گاوٴں یا گلوبل ولیج بن چکی ہے ) کی مشترکہ زبان یا لنگوا فرینکا(lingua franca)ہے ۔ انگریزی سیکھنا ہر شخص کے لیے خواہی نخواہی ضروری ہو گیا ہے بالخصوص ایک مختلف ثقافت یا مختلف زبان کے حامل خطے کے لوگوں سے ابلاغ و ارتباط کے لیے انگریزی نا گزیر بن چکی ہے ۔چونکہ آج کی دنیا میں تمام جدید علوم و فنون کے خزانے انگریزی زبان میں موجود ہیں اور کسی بھی موضوع پر ہونے والی جدید تحقیق اور اس کے مصادر و منابع اس زبان میں دست یاب ہیں اور انٹرنیٹ نے ان تک رسائی اور ان کا حصول بھی نہایت آسان اور کم خرچ بنا دیا ہے لہٰذا آج کی دنیا میں انگریزی سے نا واقفیت گویا بیک وقت اندھا، گونگا اور بہرا ہونے کے مترادف ہے ۔ انگریزی کی اہمیت سے انکار نا ممکن ہے ۔
لیکن انگریزی زبان کی ان فتوحات کو دیکھتے ہوئے ان لوگوں کے ذہن میں چند سوالات ضرور ابھرتے ہیں جنھیں اپنی زبان اور اپنی تہذیب و ثقافت سے واقعی محبت ہے ۔ مثلاً یہ کہ کیا کسی قوم نے اپنی زبان یا اپنے رسم الخط کو انگریزی زبان یا رومن رسم الخط کی خاطر اترن کی طرح اتار پھینکا ہے ؟ کیا کسی قوم نے کمپیوٹر (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انٹرنیٹ) کے استعمال میں سہولت کی خاطر اپنے رسم الخط کو ترک کر کے ثقافتی خود کشی کی ہے ؟ جب بھی میں کہیں یہ بحث سنتا یا پڑھتا ہوں کہ اردو کو رومن حروف میں لکھا جانا چاہیے ، یہ سو الات میرے ذہن میں سر ابھارنے لگتے ہیں۔
جو لوگ اردو کے رسم الخط میں تبدیلی کی وکالت کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ اگر اردو کو رومن رسم الخط کے پلے باندھ دیا جائے تو اردو اور اس کے نئے رسم الخط دونوں کی زندگی ۔ ۔ ۔ اور ہماری بھی۔ ۔ ۔ چین اور آرام سے گزر جائے گی۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ٹکنالوجی کے اس دور میں کوئی زبان اس وقت اپنا وجود بر قرار نہیں رکھ سکتی جب تک وہ سائنس اور ٹکنالوجی کے نو ساختہ مذہب پر ایمان نہ لے آئے ۔یہ اور اسی قسم کی دیگر بظاہر معقول مگر در حقیقت بے سر و پا باتیں اس ضمن میں کی جاتی ہیں۔ اردو کے یہ خود ساختہ دوست ہمیں یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ جیسے ہی اردو رومن حروف تہجی کو اختیار کرے گی کسی جادو کے زورپر وہ جدت اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے دور میں داخل ہو جائے گی، یہ انٹرنیٹ پر چھا جائے گی اور ساری دنیا میں اس کا چلن عام ہو جائے گا اور نجانے کیا کیا ہو جائے گا۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ بے اصولے اور من کے کھوٹے لوگ کسی کے اشارے پر اور سر پرستی میں ایک ایسی باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ قوم کی کچھ ایسی ذہنی تطہیر کی جائے کہ یہ اردو اس کی زندگی بھر کے شریک حیات۔ ۔ ۔ یعنی اس کے عربی رسم الخط سے علیحدگی پر آمادہ ہو جائے ۔ آج سے چالیس پچاس سال قبل چلائی جانے والی بد نیتی پر مبنی اس مہم کے اس نئے جنم پر حیرت ہوتی ہے کیونکہ اس مہم کی تجہیز و تکفین کو بھی کوئی نصف صدی گزر چکی ہے اور لوگ اسے بھول بھال گئے ہیں۔ ایسے موقعے پر یہ شبہات پیدا ہونا فطری امر ہے کہ اب یہ مہم کیوں اور کس کے اشارے پر چلائی جا رہی ہے ۔
جدید دور میں، سوائے ترکی کے ، ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کوئی قوم اتنی نا معقول ہو کہ اس نے اپنے رسم الخط کو ترک کر کے اپنے ماضی، اپنی ثقافت اور اپنے ادب سے تمام رشتے یک بیک منقطع کر لیے ہوں۔ ۔ ۔ وہی رسم الخط جس میں وہ قوم صدیوں سے لکھتی اور اپنے ہم زبانوں سے اپنے دل کی بات کہتی چلی آ رہی ہو۔
مصطفی کمال پاشا نے 1928میں ترکی کا رسم الخط عربی سے رومن کر دیا تھا (1) اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے عربوں اور عربی سے نفرت تھی اور اسے یہ باور کرایا گیا تھا کہ اپنے رسم الخط کو یعنی اپنی تاریخ، ثقافت اور مذہب کو بھلا دینے سے ترکی فوراً ہی ترقی اور یورپ کے ساتھ بھائی چارے کے دور میں داخل ہو جائے گا۔ لیکن واحسر تاکہ یورپ کے ساتھ برابری رسم الخط کی تبدیلی کے پچھتر (75) سال بعد بھی ترکی سے گریزاں ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ترکی کو ہنوز یورپی یونین کا مکمل رکن نہیں بنایا گیا خواہ ترکی یورپیوں سے زیادہ یورپی بننے کی کتنی ہی کوششیں کیوں نہ کرتا رہے (بر سبیل تذکرہ ، یورپ کے سابقہ اشتراکی ملکوں کو ترکی پر ترجیح دیتے ہوئے رکن بنا لیا گیا ہے اگرچہ ترکی نے ان سے بہت پہلے درخواست دے رکھی ہے )۔ در اصل بات یہ ہے کہ خود کو دوسروں کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے اپنی شناخت اور اپنی اصلیت کو چھوڑنا ایسی ہی حماقت آمیز بات ہے جیسے کوئی اپنی کھال بدلوا کر نیا اور بہتر انسان بننے کا دعویٰ کرے ۔
جہاں تک سائنس اور ٹکنالوجی کے استعمال اور اس میں مہارت اور ترقی کی بات ہے تو چند ہی قومیں ہوں گی جو اس میدان میں جاپانیوں کی ہم پلہ ہوں۔ جاپان نے ٹکنالوجی کے استعمال کے علاوہ اس کی ایجاد میں بھی تقریباً ہر قوم کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ تو کیا انھوں نے اپنے رسم الخط کو ترک کر دیا ہے ؟ معروف ماہر لسانیات ماریوپی (Mario Pie) اپنی معروف کتاب The Story of Languageمیں لکھتے ہیں کہ انیس سو پچاس (1950) کے لگ بھگ چند امریکی ماہرین تعلیم نے جاپانیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے رسم الخط سے ”چھٹکارا“ پالیں اور اس کی بجائے رومن حروف اختیار کر لیں(2)۔ جاپانیوں نے ان کا مشورہ ماننے سے انکار کر دیا اور دلیل دی کہ اس طرح تو اس وقت تک موجود تمام کتابیں ردی ہو جائیں گی اور ان سب کو پھینک کر انھیں نئے سرے سے یعنی نئے رسم الخط میں چھاپنا پڑے گا(3)۔ اور یاد رہے کہ جاپانی رسم الخط اس لحاظ سے مشکل ترین خیال کیا جاتا ہے کہ چینی زبان کی طرح یہ بھی تصویری خط (ideogram)ہے اور یہ غیر صوتی ہے ، اس میں حروف تہجی نہیں ہوتے بلکہ یہ تلفظ کو ظاہر کرنے والے نشانات یا علامات یعنی syllabic charactersپر مشتمل ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ جاپانیوں کے پاس رسم الخط کو ترک کرنے کے لیے اس کے بہت مشکل اور پیچیدہ ہونے کا بہانہ بھی موجود تھا لیکن وہ اسے ترک کرنے پر آمادہ نہ ہوئے ۔
اب ذرا ان دیگر ”ترقی یافتہ“اقوام کے رسم الخط پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے جوٹیکنالوجی اور سائنس میں بہت آگے ہیں او ران کا رسم الخط رومن نہیں ہے یعنی روس، چین، کوریا اور اس میں ملائشیا کو بھی شامل کر لیجیے ۔ کیا وہ بھی رسم الخط میں تبدیلی کے کسی منصوبے پر غور کر رہے ہیں یا رومن حروف کو اپنائے بغیر ہی سائنس اور ٹکنالوجی میں آگے بڑھ جانے اور ترقی کر لینے کے اہل ثابت ہوئے ہیں۔کسی زبان کا رسم الخط تشکیل پانے میں صدیاں لگتی ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ اور یہ ان تمام پیچیدگیوں، نزاکتوں، لسانیاتی مجبوریوں، صوتیاتی ضرورتوں اور کتابت کی الجھنوں کے حل کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتا ہے جو اس زبان میں در پیش ہوتی ہیں۔فطری طریقے سے تشکیل اور قدرتی طور پر ارتقا پایا ہوا رسم الخط ہی کسی زبان کی خوب صورتی اور اس کی قوت نمو کو صحیح طرح ظاہر کر سکتا ہے ۔ کسی زبان میں پائی جانے والی تمام آوازیں اور الفاظ کے درست تلفظ کو اس زبان کے اپنے رسم الخط ہی میں درست طور پر ظاہر اور ادا کیا جا سکتا ہے ۔لہٰذا کسی زبان کا اپنا رسم الخط ہی اس کے لیے موزوں ترین ہوتا ہے ۔ کسی اجنبی اور بیگانے رسم الخط میں لکھی گئی زبان ایک ایسے مقید پرندے کی مانند ہوتی ہے جس کے پر کاٹ دیے گئے ہوں،جس کی روح کو کچل دیا گیا ہو اور اسے ایک بے شناخت غلام بنا دیا گیا ہو۔
اردو کا رسم الخط بنیادی طور پر اس سامی رسم الخط کی ترمیم شدہ شکل ہے جو عربی لکھنے میں استعمال ہوتا ہے ۔ یہ رسم الخط پہلے ایران پہنچا اور وہاں سے بر عظیم پاک و ہند۔ فارسی زبان میں بعض ایسی آوا زیں ہیں جن کو ظاہر کرنے کے لیے عربی میں حروف نہیں تھے ، مثلاً ”چ“، ”گ“ اور ”پ“۔ فارسی کی صوتیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اہل ایران نے عربی حروف میں ترمیم و اضافے کے ذریعے ، مثلاً ”ب“ اور ”ج“ کے نقطوں کی تعداد میں اضافہ کر کے یا کاف کی کشش کو دہرا کر کے ، عربی رسم الخط کو اپنی ضروریات کے مطابق بنا لیا۔ جب مسلمان اس رسم الخط کو ہندوستان لے کر آئے تو اس طرح کی ترمیم و اضافے سے اسی رسم الخط میں سنسکرت اور دراوٴڑی زبانوں کی ان آوازوں کو کو لکھا جانے لگا جو عربی اور فارسی میں وجود نہیں رکھتی تھیں، مثلاً ”ٹ“، ”ڈ“ اور ”ڑ“۔
دنیا کی کئی دیگر زبانوں کی طرح اردو کا اپنا رسم الخط ہی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے ان ساری آوازوں کو بتمام و کمال لکھا اور ادا کیا جا سکتا ہے جو اردو میں وجود رکھتی ہیں۔
کسی بھی زبان کے رسم الخط میں تبدیلی کرنا کوئی معمولی بات نہیں اور یہ مشکل کام اس صورت میں مشکل تر ہو جاتا ہے جب نئے یعنی مانگے کے رسم الخط میں وہ ساری آوازیں نہیں ہوتیں جو اس مخصوص زبان میں وجود رکھتی ہیں جس کا رسم الخط بدلنا مقصود ہے ۔اردو میں ایسی کئی آوازیں موجود ہیں جو رومن رسم الخط میں لکھی جانے والی۔ اکثر زبانوں میں وجود نہیں رکھتیں، مثلا ”ق“ یا ”غ“ ”یا “ ”ڑ“ یا ”چھ“۔ اور جہاں تک آوازوں کا معاملہ ہے تو اردو کو یہ فخر حاصل ہے کہ حروف تہجی کی تعداد کے لحاظ سے وہ ایک اتنی ثروت مند زبان ہے کہ تقریباً ہر آواز کو ادا کر سکتی ہے ، چاہے وہ عربی کا ”ق“ ہو یا ”غ“، فارسی کا ”ڑ“ ہو یا سنسکرت !دراوٴڑی کا ”ڑ“ اور ”گھ“ اردو میں ان آوازوں کو اسی طرح بولا اور اردو کے اپنے رسم الخط کے ذریعے بالکل ٹھیک ٹھیک لکھ کر بالکل ٹھیک ٹھیک پڑھا بھی جا سکتا ہے ۔ بالفاظِ دیگر، اردو کا اپنا رسم الخط رومن رسم الخط کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور برتر ہے ۔ رومن رسم الخط تو اردو کی نصف آوازیں بھی ٹھیک طور پر ادا نہیں کر سکتا۔
رومن رسم الخط میں اردو لکھنے سے صرف آوازوں کی درست ادائی ہی کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس سے ایک اور پریشانی بھی اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ رومن رسم الخط میں اردو لکھتے ہوئے اضافی حروف علت یا مصوتہ یعنی واولِ (vowel) استعمال کرنا پڑتا ہے کیونکہ عربی یعنی اردو رسم الخط میں مصوتوں کا استعمال بہت کم ہوتا ہے اور خفیف مصوتوں کے لیے کوئی الگ حرف نہیں ہوتا بلکہ ان کی قدر (value)(یعنی صوت کا دورانیہ یا کیفیت) حروف کے اوپر یا نیچے اعراب لگا کر ظاہر کی جاتی ہے ۔یوں کہیے کہ جس حرف کی جس حرکت کو ہم اردو میں زیر، زبر یا پیش سے ظاہر کر دیتے ہیں اس کے لیے رومن میں حرف علت یا مصوتہ (vowel) استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر ہم لفظ ”مستقبل“ رومن حروف میں لکھنے کی کوشش کریں (mustaqbil) تو اس میں تین حروف علت ”یو “ ، ”اے “ اور ”آئی“ لکھنے ہوں گے جب کہ ان کے اردو تلفظ میں کسی مصوتے کی کوئی آواز شامل نہیں اور اسی طرح بعض لفظوں میں اردو میں جہاں ایک حرف علت ہے اسے رومن میں لکھتے ہوئے بسا اوقات دو حروف علت لانے پڑتے ہیں اوراس کے نتیجے میں حرف علت دہرے صوتیے (diphthong)میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ گویا رومن رسم الخط اردو کے انفرادی اوصاف اور رنگ ڈھنگ ہی کو بدل دے گا۔
انگریزی جو رسم الخط استعمال کرتی ہے اس کے بارے میں بھی لب کشائی کی اجازت چاہتا ہوں۔اس حقیقت سے سب آگاہ ہیں کہ جب انگریزی نے لا طینی حروف اپنائے تو اس بات کا ابتدا ہی میں احساس ہو گیا کہ یہ حروف نہ صرف یہ کہ انگریزی لکھنے کے لیے نا کافی ہیں کیونکہ ان میں انگریزی کی تمام آوازوں کو آسانی سے اور ایک حرف کو ایک علامت سے ظاہر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان میں سے کچھ حروف اضافی ہیں اور یہ جن آوازوں کو لاطینی میں ظاہر کرتے ہیں ان کا انگریزی میں وجود ہی نہیں ہے ۔ رومن رسم الخط رومنوں کی لسانی ضروریات کو مد نظر رکھ کر ایجاد کیا گیا تھا اور اسے بعد میں دیگر اقوام نے اختیار کر لیا(4)۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگریزی الفاظ کے ہجے ان کے تلفظ سے اتنے مختلف ہوتے ہیں کہ کئی ماہرین لسانیات نے انگریزی میں املا کے قوانین کو الل ٹپ اور من مانا (arbitrary)قرار دیا ہے ۔
انگریزی کے معروف ڈرا ما نگار جارج برنارڈ شا (George Bernard Shaw) (1950-1956) نے تو انگریزی کے ہجے کے قوانین کا مذاق اڑاتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ انگریزی میں لفظ ”گہوٹی“ (ghoti) کو ”فش“ (fish) پڑھا جا سکتا ہے ۔ اس کی دلیل انھوں نے یہ دی کہ انگریزی میں بعض اوقات جی ایچ (gh) کو ایف (f) بھی پڑھا جاتا ہے مثلاً لفظ لاف (laugh)میں۔ اسی طرح او (o)کاتلفظ کبھی آئی (i) کی طرح بھی کیا جاتا ہے جیسے ویمن (women) میں ۔ اور ٹی آئی (ti) کبھی ش (sh) کی آواز بھی دیتا ہے مثلاً نیشن (nation)میں۔ اس طرح انگریزی میں ghotiلکھ کر fishپڑھنا عین ممکن ہے ۔ برنارڈ شا نے انگریزی کے ہجے کے قوانین بدل کر انھیں عقل و منطق کے مطابق بنانے والے کے لیے ایک بڑی رقم کے نقد انعام کا بھی اعلان کیا (5) (افسوس کہ یہ انعام آج تک کوئی حاصل نہیں کر سکا، شاید اس لیے کہ یہ ممکن ہی نہیں)۔
املا اور ہجے کے اصولوں میں تبدیلی کرنا کوئی مذاق نہیں ہے اور انگریزی جیسی زبان کے لیے تویہ تقریباً نا ممکن ہے جس میں چوالیس (44) صوتی اکائیاں یا صوتیے یعنی فونیم (phoneme) ہیں ( 6) اور ان کو ظاہر کرنے کے لیے صرف چھبیس (26) حروف تہجی ہیں لہٰذا ان چوالیس آوازوں کو ”ایک آواز ایک علامت“ کی بنیاد پر لکھ کر ظاہر کرنا ممکن نہیں۔ گویا رومن رسم الخط میں صرف یہی خرابی نہیں کہ اس میں بہت سی آوازوں کو لکھ کر ظاہر ہی نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس میں یہ بھی نقص ہے کہ اس میں ایک آواز کو ایک حرف سے ظاہر کرنا بھی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر ”ش “ کی یا ”چ“ کی آواز کو اردو اور کئی دوسری زبانوں میں ایک حرف تہجی سے ظاہر کیا جاتا ہے لیکن رومن رسم الخط میں ان آوازوں کو ظاہر کرنے کے لیے دو دو حروف یعنی ایس ایچ (sh) اور سی ایچ (ch) لکھنے پڑتے ہیں۔
جو لوگ اردو کے لیے رومن رسم الخط کی وکالت کرتے ہیں وہ رسم الخط کی اہمیت کو شاید پوری طرح نہیں سمجھتے ۔ وہ غالباً زبان اور رسم الخط کو دو الگ الگ وجود خیال کرتے ہیں۔ جب کہ حقیقت میں رسم الخط ہی زبان ہے ۔ کیونکہ حروف تہجی تو وہ علامات ہیں جو زبان میں استعمال ہونے والی بنیادی آوازوں کو ظاہر کرتے ہیں اور کسی زبان کا اپنا فطری رسم الخط ہی اس میں موجود تمام دقائق و لطائف، تلفظ میں معمولی تبدیلیوں اور کسی لفظ کے کسی خاص جزو پر زور یا تاکید کو صحیح طور پر ظاہر کر سکتا ہے ۔ اس دعوے کی تصدیق کے لیے انگریزی کو اردو رسم الخط میں لکھ کر دیکھیے ، اگرچہ اردو میں موجود متنوع آوازیں اور اس کے اعراب کا نظام انگریزی آوازوں اور تلفظ کی درست ادائی میں معاون ہوگا لیکن نتائج اطمینان بخش نہیں ہوں گے ۔
اردو کا رسم الخط رومن کرنے کا ایک نقصان یہ ہوگا کہ مشرق وسطیٰ سے ہمارے لسانی اور ثقافتی روابط اچانک منقطع ہو جائیں گے ۔ ایک مشترک رسم الخط نے انھیں ایک رشتے میں باندھ رکھا ہے ۔ ایک رسم الخط کی وجہ سے اس شخص کے لیے عربی اور فارسی سیکھنا بہت آسان ہو جاتا ہے جو اردو سے واقف ہے ۔ ایران اور عرب ممالک میں سفر کے دوران ہوائی اڈے یا سڑک یا کسی بھی جگہ پر چھوٹے موٹے بورڈ یا ہدایات کو پڑھنا آسان ہوتا ہے اور اسی طرح ان ملکوں کے باشندے پاکستان میں اتنی اجنبیت محسوس نہیں کرتے ۔ اگر یہ چیزیں اردو میں لکھی ہوں۔ اور پھر ذرا ہماری آنے والی نسلوں کا تو سوچیے ! موجودہ رسم الخط سے محروم ہو کر وہ اردو (اور عربی، فارسی) کے ان شاہکاروں کو پڑھنے اور سمجھنے سے محروم ہو جائیں گی جو صدیوں سے ہمارا قابل فخر سرمایہ چلے آ رہے ہیں۔ ہر شاہکار کوپہلے نئے رسم الخط میں لکھ کر شائع کرنا پڑے گا تاکہ وہ ان خزانوں سے محظوظ ہو سکیں۔ اور یہ محرومی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ سب سے بڑا نقصان جو ایک مسلمان کے تصور میں آ سکتا ہے وہ قرآن پاک کی تلاوت سے محروم ہو جانا ہے اوریہ محرومی ایسی ہے کہ اس کے آگے تمام نقصانات ہیچ ہیں۔
اردو کے رسم الخط کو بدلنے اور رومن حروف کو اپنانے کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس سے اردو کمپیوٹر کی دنیا میں داخل ہو جائے گی۔یہ دلیل دینے والوں کے علم میں یہ بات غالباً نہیں ہے کہ اب اردو کے مختلف سوفٹ ویر آسانی سے دست یاب ہیں اور کمپیوٹر سے دل چسپی رکھنے والوں کی ایک کثیر تعداد انھیں استعمال بھی کر رہی ہے ۔ اردو میں برقی مکتوب (ای میل) اب کوئی نئی چیز نہیں رہی۔ دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ مقتدرہ قومی زبان نے بھی اردو کو ”سائبر“ بنانے کے سلسلے میں بڑا کام کیا ہے ۔ مقتدرہ قومی زبان کی ایک بڑی حالیہ کام یابی مائیکرو سوفٹ کے اشتراک سے ”مقتدرہ اردو آفس 2003“کا اجرا ہے (7)۔ اردو کو اس وقت ایک نئی اور سائنسی جہت ملی جب مائیکرو سوفٹ کے کمپیوٹر پروگرام ”ونڈوز ایکس پی“ کو اردو میں بھی متعارف کرایا گیا اور اس طرح اردو ای میل (e-mail) یعنی اردو برقی مکتوب بہت آسان ہو گیا(8)۔ اردو ویب سائٹوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے اور انٹر نیٹ پر اردو کے لکھے ہوئے صفحات اپنا وجود رکھتے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے ۔ اردو میں ”چیٹنگ“ یعنی کمپیوٹر کے ذریعے بات چیت کو متعارف ہوئے اب تین چار سال ہونے کو آ رہے ہیں اور یہ کوئی عجوبہ یا نئی چیز نہیں رہی۔ غرض اردو اس سائنسی دور میں کمپیوٹر کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے لہٰذا اردو کے رسم الخط کو رومن کرنے کا مطالبہ کرنے والے کم از کم کمپیوٹر یا انٹر نیٹ کے استعمال کو جواز نہ بنائیں اور اس کے لیے کوئی اور معقول بہانہ تراشیں(بہا نے تو انھیں بہت مل جائیں گے مگر معقول ان میں سے کوئی بھی نہ ہوگا)۔ اردو کے رسم الخط میں تبدیلی (9) کا مطالبہ کرنے والے اردو کے دوست ہرگز نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو بقول غالب:
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
حواشی
پی،ماریو،(Pei, Mario)،"The story of language" نیو امریکن لائبریری، نیو یارک، 1966،ص 101 .1
ایضاً، ص 102 .2
ایضاً، ص 102 .3
ایضاً، ص 101؛ نیز کرسٹل، ڈیوڈ "the Penguin (Crystal, David)،dictionary of language"(دوسرا ایڈیشن) 1999 ص 12،291۔ .4
پی، ماریو، "The story of Pei,، language Mario،ص101، 102 .5
سائمن پوٹر Simeon Potterنے اپنی کتاب Our language میں لکھا ہے کہ انگریزی میں چوالیس (44) آوازیں ہیں جن میں سے بارہ (12) حروف علت یا مصوتے (Vowels)، نو (9) دہرے صوتیے (dipthong)اور 23مصمتے یا حروف صحیح (consonants) ہیں۔ (پینگون بکس، 1973،ص62) البتہ بعض ماہرین کے خیال میں انگریزی میں پینتالس (45) صوتیے ہیں۔بعض کا خیال ہے کہ انگریزی میں مصوتوں کی تعداد تیرہ (13)ہے ، مثلاً Edward Finegan اپنی کتاب Lanugage: its structure and useمیں لکھتے ہیں کہ فرانسیسی میں پندرہ (15) اور انگریزی میں تیرہ (13) مصوتے ہیں۔ ( ہار کورٹ بریس کالج پبلشرز، فورٹ ورت، 1999، ص 234)۔ جب کہ اس کے مقابلے میں اردو میں ایک رائے کے مطابق اٹھاون (58) صوتیے یا فونیم ہیں (ملاحظہ ہو: ”اردو ساخت کے بنیادی عناصر“ از نصیر احمد خاں، اردو محل پبلی کیشنز، نئی دہلی، 1990-91) .6
تفصیلات کے لیے ملاحظ ہو محمد اکبر سجاد کا مضمون مشمولہ ”اخبار اردو“، فروری 2006، ص 19-31۔ .7
تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو محمد نعمان کا مضمون مشمولہ ”اخبار اردو“، فروری 2006، ص 32-33 .8
اس موضوع پر درج ذیل کتابوں کا مطالعہ بھی مفید ہوگا: ” اردو زبان اور اس کا رسم الخط“ از پروفیسر سید مسعود حسن رضوی ادیب، مطبوعہ کتاب نگر، لکھنوٴ، (دوسرا ایڈیشن) 1961۔
” رومن رسم الخط اور پاکستان: ایک علمی جائزہ“، از سید عبد القدوس ہاشمی، مطبوعہ آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس، کراچی، (دوسرا ایڈیشن) 1965” اردو رسم الخط اور اس کی اہمیت“، از محمد امین عباسی، مطبوعہ ایشیاٹک لٹریری سوسائٹی، لکھنوٴ 1959، ”اردو رسم الخط اور ٹائپ“، از ڈاکٹر طارق عزیز، مطبوعہ مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد 1987
”اردو رسم الخط“، مرتبہ شیما مجید، مطبوعہ مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، 1989۔