ادب >> نیا اضافہ
ادب
دیوانِ غالب : ایک تخلیق نواز ماخذ
تحریر: زبیر رضوی

غالب بطور شاعر عظیم تھا مگر بطور شخص اس میں خوبیاں کم برائیاں کہیں زیادہ تھیں۔ اس کی زندگی متضاد رویوں کی بنا پر لوگوں کو اس لیے اچھی لگتی رہی کہ اس کی شخصیت کی ناہمواریاں اس کی جاہ طلبی اور قرض پر ٹکی ہوئی مے خواری، اپنی تنگ دستی سے مجبور ہوکر گھر پر جوا کھلانا اور دوسروں کو مراعات کا مستحق دیکھ کر مخالفانہ مہم شروع کرنا اور حسب نسب کے حوالے سے اپنے سماجی مرتبے اور حیثیت پر اصرار کرناکچھ لوگوں کو غالب کی ذات میں بشریت کے فطری اْبال لگتے تھے گویا غالب نے اپنی شخصیت پر بغیر کسی لیپاپوتی کے اسے ویسے ہی رہنے دیا تھا جو اس کے حصے میں آئے حالات کا تقاضا تھا۔ غالب کی زندگی کی دھوپ چھاؤں نے بھی غالب پرستوں کو رْک کر سوچنے اور اس کی ذات میں مثالیت تلاش کرنے کا وقفہ ہی نہیں دیا کیونکہ غالب نے اپنی شاعری اور اپنے خطوط میں اپنی زندگی کے اتار چڑھاؤ اپنی زندگی میں در آنے والی کمزوریوں اور برائیوں کا قائل کر دینے والے انداز میں ایسا پرزور جواز پیش کیا کہ ملامتوں کے پتھر ہاتھوں سے پھینک دیے گئے ۔ غالب کو اپنی شاعری کی عظمت اور اپنی شخصیت کی پذیرائی کا ادراک اور عرفان تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ جس نوآبادیاتی نظام کا قصیدہ خواں بنا اور شاہ کا مصاحب بنا دلی شہر میں اتراتا پھرتا ہے ۔ ایک روز اس کی یہی قصیدہ خوانی وقت کی عدالت میں مجرم بنی کھڑی ہوگی اور تاریخ کے پریشان کن سوالوں اور ان میں چھپی نشتریت کا نشانہ بنے گی اور جواب دہ ہوگی۔
غالب مستقبل سے کہیں زیادہ حال اور اس کے ساتھ باندھے ہوئے پیمانِ وفا کا پاسدار تھا اور اس ہنر سے بھی واقف تھا کہ قومی آزمائش اور وطنیت کے بحران سے وہ اپنے شاعر کو کیسے بچا کے لے جائے کہ وقت شاعرانہ عظمت کی جو دستار اس کے سر پر رکھنے جا رہا تھا وہ کسی اور سر کی زینت نہ بن جائے ۔ غالب نے جان لیا تھا کہ آنے والے سو برسوں میں لال قلعے کا مستقبل آخری مغل تاجدار کے بجائے نئے انگریز حکمراں کے فرمانوں کا مرہون منت رہے گا اس لیے غالب نہ دستنبو لکھتے ہوئے سیاسی مورخ کی چھبی کے ساتھ سامنے آیا اور نہ اس نے اپنے زمانے کی انقلابی اور اصلاحی تحریکوں سے اپنی ہم آہنگی کا کوئی اشارہ دیا۔ وہ کہنا چاہتا تھا کہ وہ سیاسی شاعر نہیں ہے وہ تو خالص شاعر ہے ۔ ایسا جو اپنے عہد اور اس کی زندگی کو اپنی شاعری کا اٹوٹ حصہ بنا کر اپنے عہد میں سانس لیتا ہے ۔ کتنے شاعر، افسانہ نگار آج بھی ہیں جو اپنے سیاسی ایقان کا اظہار کیے بغیر ادب لکھ رہے ہیں۔ اگر ہم آج بھی 1947 سے اب تک کے ہندوستان اور اس کی جنگ آزادی پر کسی بڑے اور قابل ذکر ناول کے لکھے جانے کا انتظار کر رہے ہیں تو 1857 کے غالب سے ہم کیوں یہ مطالبہ کریں کہ اس نے اپنے خطوط اور نثر پاروں میں اپنے زمانے کے ہنگامہ خیز سیاسی دور پر اپنے وطنی موقف کے ساتھ مزاحمانہ اور سرکشی والا لہجہ کیوں نہیں اختیار کیا اور اس کی تحریروں میں جسے آج ہم فاشزم کہتے ہیں اس کا چہرہ کیوں دکھائی نہیں دیتا۔
اس تمہید کا آنا اس لیے ضروری تھا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ اپنی ساری انسانی کمزوریوں کے باوجود غالب کا ’دیوان‘ آج بھی اتنا مقبول اور بے حد وحساب پڑھا جانے والا شاعری کا دیوان کیوں ہے ؟ میں نے اپنی کتاب ”غالب اور فنون لطیفہ“ میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی تھی اور یہ ثبوت فراہم کیے تھے کہ غالب کے دیوان میں دوامیت اور ہر دور کے ذہن کو متاثر اور اپنی طرف متوجہ کرنے کی کچھ ایسی شعری طاقت ہے کہ کوئی بھی ذہن اس کی شاعری کے طلسم خانے میں داخل ہوکر باہر آنے کی راہ نہیں ڈھونڈتا۔
یہ کوئی پچاس برس پہلے کی بات ہے کہ نئی دلی میں افروایشین رائٹرس کی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ اس میں فیض بھی تھے اور سجاد ظہیر بھی۔ وہ ہمارا آٹوگراف جمع کرنے کا زمانہ تھا۔ میں نے آٹوگراف بک فیض کے سامنے رکھتے ہوئے فرمائش کی کہ غالب کا کوئی ایک شعر لکھ دیجیے جو آپ کو بے حد پسند ہو فیض بولے یہ تو بڑا مشکل ہے پھر کچھ سوچ کر لکھا:
نامہ کب تلک لکھوں جاؤں ان کو دکھلادوں
انگلیاں فگار اپنی خامہ خوں چکاں اپنا
اس ایک شعر میں فیض کا ڈکشن ان کی شعری لفظیات اور ان کی تخلیقی فکر اور اس کے مزاحمانہ تیور سب ہی کچھ تو آگیا تھا۔ میں نے لکھا تھا کہ غالب ہمارے ادبی منظرنامے میں اکیلا ایسا شاعر ہے جس نے اپنی زبان کے تخلیقی ذہن کو اتنے بڑے پیمانے پر متاثر کیا کہ دیوان حافظ کی طرح دیوان غالب کو بھی کچھ لوگ فال نکالنے کے لیے معتبر ماننے لگے ۔ تفصیلی چھان بین کے بغیر میں نے اپنے دھندلے ہوتے ہوئے حافظے کی مدد سے یہ سوچنے اور مثالیں تلاش کرنے کی کوشش کی کہ اردو شاعری، افسانہ نگاری اور ناول نگاری اور دوسری اصناف میں طبع آزمائی کرنے والوں نے اپنے شعری، افسانوی مجموعوں اور ناولوں کے نام رکھنے کے لیے دیوان غالب سے کتنا اور کیسا استفادہ کیا ہے ؟
اگر فیض ہی سے شروع کریں تو انھوں نے اپنے تین شعری مجموعوں کے نام غالب سے مستعار لیے ”نقشِ فریادی“، ”نسخہ ہائے وفا“ اور ”دستِ تہہ سنگ“ یہ دلچسپ بات ہے کہ دیوان غالب کی پہلی غزل کا مطلع ہی اس معاملے میں بے حد مقبول ہوا۔ فیض کے علاوہ اس پہلے شعر کے دوسرے مصرعے میں عنوان کے لیے بہترین ”کاغذی پیراہن“ والا ٹکڑا تھا جو خلیل الرحمٰن اعظمی نے اپنے پہلے شعری مجموعے اور عصمت چغتائی نے اپنی سوانح عمری کے لیے پسند کیا۔ خلیل نے ”کاغذی پیرہن“ اور عصمت نے ”کاغذی ہے پیرہن“ مستعار لیا۔ میری فہرست کے مطابق دیوان غالب سے شاعروں نے سب سے زیادہ نام اپنے شعری مجموعوں کے لیے مستعار لیے ایسے شاعروں میں ترقی پسند حلقے والے شاعر بھی ہیں جو غالب کے خوشہ چیں ہیں۔ مخدوم کا دوسرا شعری مجموعہ ”گلِ تر“ اور عزیز حامد مدنی کا پہلا مجموعہ ”دشتِ امکاں“ ہے جس کا ایک بے حد فکر انگریز دیباچہ ’دانش حاضر کے سواد میں‘ کے عنوان سے مدنی نے لکھا تھا احمد ندیم قاسمی نے ”دشتِ وفا“ فراق نے ”گلِ نغمہ“ جگر نے ”آتشِ گل“ اور سیف الدین سیف نے اپنے پہلے غزل کے مجموعے کا نام ”خمِ کا کل“ رکھا تھا۔ اختر انصاری نے ”بادہ شبانہ“ اور جمیل ملک کی غزلوں کا مجموعہ ”سروِ چراغاں“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ کرشن موہن نے اپنے ایک مجموعے کا نام ”دلِ ناداں“ رکھا تھا۔ غالب نے خود کو کئی جگہ خراباتی کہا ہے ۔ غالب اپنی اس پہچان کی خاطر قرض کی مئے پینے پر ایک ’ناد ہند رند‘ ہونے کے جرم میں جیل بھی ہو آئے تھے مگر آخر دم تک کہتے رہے ”غالبِ خاک نشیں اہلِ خرابات سے ہے “ عبدالحمید عدم غالب کے ہم مشرب تھے ان کے ایک مقبول شعری مجموعے کا نام ”خرابات“ تھا۔ فضا ابن فیضی نے اپنے شعری مجموعے کا نام ”معنی سبزہ بیگانہ“ رکھا تھا۔ فضیل جعفری کے زیر طبع شعری مجموعے کا نام ”افسوس حاصل کا“ ہے ایک اور شعری مجموعہ یاد آیا ”رگِ جاں“ خورشید الاسلام کا ہے ۔
اور اب دیکھیں کہ اردو فکشن نے غالب سے کیا کیا مستعار لیا۔ میں یہ بھی وضاحت کر دوں کہ میں نے غالب کے وہ شعر نہیں سنائے جن سے نام مستعار لینے کی تحریک ملی۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے حافظوں میں مستعار لیے ناموں کے ساتھ شعر بھی چمک اٹھے ہوں گے ۔ قرة العین حیدر نے خطوط کے مجموعے کا نام ”کفِ گل فروش“ اور خاندانی تصاویر کی کتاب کا نام ”دامانِ باغباں“ رکھا تھا۔ اپنے ایک افسانوی مجموعے کے لیے بانو قدسیہ نے جو نام مستعار لیا وہ تھا ”آتش زیرِپا“ راجندر سنگھ بیدی کے افسانوی مجموعے کا نام ہے ”ہاتھ ہمارے قلم ہوئے “ ایوب مرزا نے اپنے ناول کا ”دامِ موج“ قاضی عبدالستار نے اپنے ایک ناول کا نام ”شکست کی آواز“ اور رضیہ فصیح احمد نے اپنے مشہور ناول کا نام ”آبلہ پا“ رکھا تھا۔ فضل احمد کریم فضلی نے اپنے اکلوتے ناول کا نام ”خون جگر ہونے تک“ دیوان غالب ہی سے لیا تھا۔ اپنے تنقیدی مضامین کے لیے ساجدہ زیدی نے ”گزرگاہ خیال“، کو ترجیح دی۔ طنز و مزاح کے لیے بھی دیوان غالب خاصا زرخیز ثابت ہوا ہے ۔ ”خندہ ہائے بے جا“ رشید احمد صدیقی اور ”حرف مکرر“ یوسف ناظم اور سجاد حیدر یلدرم نے اپنے نثرپاروں کے لیے ”محشر خیال“ نام پسند کیا تھا۔ نثار احمد فاروقی روزنامہ ”سیاست“ میں ایک کالم لکھا کرتے تھے اس کا عنوان تھا ”گویا دبستاں کھل گیا“ دیوان غالب کو فیضان کا خزینہ جان کر اپنی کتابوں کے نام رکھنے کا رجحان بے حد توانا ہے ۔ یہ تو وہ کچھ نام اور عنوانات تھے جو میں نے اپنی بک شیلف پر رکھی کتابوں پر ایک نظر ڈال کر نوٹ کیے تھے ۔ ویسے بھی میرا مقصد ناموں یا عنوانات کی فہرست سازی کرنے سے کہیں زیادہ اس فیضان اور رجحان کا ذکر کرنا تھا جو ناموں کے متلاشی ادیب کو دیوان غالب کی ورق گردانی کرکے اپنی پسند کا نام وہاں سے مستعار لینے کی تحریک دیتا رہا ہے ۔ دیوان غالب کو ایک اہم اور تخلیق نواز ماخذ تسلیم کرنے کا یہ رجحان اور رویہ یہ انکشاف ضرور کرتا ہے کہ غالب کا دیوان اردو والوں کی تخلیق سائیکی اور خمار و خمیر کا حصہ بن چکا ہے ۔ دیوان غالب میں بے شمار عنوان اور نام بکھرے پڑے ہیں جیسے عارض گل، سیر گل، عجب آزاد مرد تھا، رنگِ شکستہ، صدرنگِ گلستاں، انداز بیاں، ورق ناخواندہ، حکایات خوں چکاں، روزنِ دیوار، صریر خامہ، نالہ پابند نے ، موج خرامِ یار، آوارگی کا آشنا، رقصِ شرر، خندہ ہائے گل، اگلے وقتوں کے لوگ، رخشِ عمر، باغبانی صحرا، خندہ زیر لب جیسے عنوان ممکن ہے رکھے جا چکے ہوں۔ یہاں میں نے ان بے شمار افسانوں کا ذکر نہیں کیا جن کے عنوانات دیوان غالب کی دین ہیں۔ اب میں تھوڑا اپنے حوالے سے بھی بات کروں۔
میں نے اپنے سات شعری مجموعوں میں تین نام ”خشت دیوار“، ”انگلیاں فگار اپنی“ اور ”سبزہ ساحل“ دیوان غالب ہی سے لیے تھے ۔ غالب اور ان کے حوالے سے دلی شاید ایک شہر کی صورت میری غزلوں اور نظموں میں سب سے زیادہ ہے صرف تین شعر اسی حوالے سے
شہر غالب سے ہمیں اور تو کیا لینا تھا
اپنی سانسوں کے لیے تازہ ہوا مانگی تھی
سیرِ دنیا سے جو لوٹے تو یہ جانا ہم نے
شہر غالب ترے خوبانِ نظر اچھے تھے
غالب کے خطوں جیسی تہذیب نہیں ملتی
آداب بڑوں کو اور چھوٹوں کو دعا لکھنا
اس بات کو سچ ہی سمجھیے کہ میں کیف پرور اور بے کیف لمحوں میں غالب کے اس خوبصورت چھوٹے سائز کے دیوان کو اٹھا لیتا ہوں جو مجھے ضمیر نیازی نے اپنے محبت بھرے کلمات کے ساتھ پاکستان سے بھیجا تھا۔ ایک دن دیوان کی ورق گردانی کرتے ہوئے میں غزل کے اس شعر پر رک گیا۔
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغرومینا مرے آگے
یہ شعر پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ یہ کسی بوڑھے ہوگئے رندِ خوش باش کی لاچاری اور صحت کے تنزل اور ملبے کا ڈھیر بن جانے کی شعری تفسیر اور تصویر نہیں ہے بلکہ ایک خراباتی تہذیب کے پروردہ ایسے رندِ خوش انجام کا پیکرِ ملال ہے جو سرمستی اور سرشاری کو مہمیز کرنے والی فضا اور ماحول کو آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہتا۔کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد میں نے ایک ہرے بھرے سرمست و شاداب عہدِ زوال اور اس زوال کو ایک تاریخی یاد کے طور پر سینے میں شمع کی صورت فروزاں رکھنے کے المیے پر ایک طویل نظم ”زوال کا منظر“ لکھی تھی۔ نظم شروع ہوتی ہے ”یہ قصہ ہے جب کا کہ آتش جواں تھا“ اور ختم ہوتی ہے
یہ قصہ ہے اب کا کہ
آتش کی پیرانہ سالی کے دن ہیں
”نہ ہاتھوں میں جنبش نہ آنکھوں میں دم ہے “
شکستہ حویلی میں بوڑھی کنیزیں
کبھی جب فلک چاندنی سے بھرا ہو
پرانے انگرکھوں پرانی قبا?ں کو آداب کرتی ہیں
آنکھوں کی جنبش پہ بندِ قبا کھولتی ہیں
کہن سالہ مئے جام میں ڈالتی ہیں
بجھی خاک میں بجلیاں ڈھونڈتی ہیں
غالب کے مذکورہ شعر کی یہ نظمیہ توسیع کہ جو زوال پاچکی تہذیب اور اس کی نشاطیہ تاریخ کی بازیابی کے سودائے خام کو ظاہر کرتی ہے غالب کے گنجینہ معانی کے طلسم کا نظم کی صورت میں ایک اعتراف ہی تو ہے ۔ یہ نظم بیدار بخت کے انگریزی ترجمے کے ساتھ انترا دیوسین نے اپنے انگریزی رسالے ”لٹل میگزین“ میں اہتمام سے شائع کی تھی۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
Quick Mart
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys
Quick Mart Pakistan
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.