ظفر اقبال موجودہ عہد میں اردو غزل کا ایسا دستخط ہے جس کے بغیر اس عہد کی پہچان ممکن نہیں۔اردو غزل کے منظر نامے پر ظفر اقبال کے ظہور کو تخلیقی آتش فشاں کے پھٹ پڑنے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جس کی شرر افشانی بعد میں بھی جاری رہی۔جب چنگاریاں اڑ رہی ہوں تو تنقید کا دامن جھلس بھی سکتا ہے۔ظفراقبال کے معاملے میں کچھ ایسا ہی ہوا۔غزل کی روایت اردو میں فارسی کے بہت بعد کی ہے لیکن اس کا آسمان کیسے کیسے چاند ستاروں سے سجا ہوا ہے۔گرامچی کا کہنا ہے کہ کسی بھی تخلیق کو اپنی جگہ بنانے کے لیے یا کسی بھی نئی تخلیقی آواز کو اپنی گنجائش پیدا کرنے کے لیے ایک پورے سلسلے کو بے دخل کرنا پڑتا ہے۔ظفر اقبال کی بے پناہ زور بیانی اور خوش کلامی نے کچھ ایسا ہی کارنامہ سرانجام دیا کہ ان سے بیگانے تو ناخوش تھے ہی ، اپنے بھی کچھ زیادہ خوش نہیں۔اگر ماضی میں وہ لسانی تشکیلات کے رطب و یابس کو جھیل گئے ہیں تو معاصرانہ سنسناہٹوں کا خارو خس بھی ان کے آڑے آنے والا نہیں۔شہر کو تو سیلاب لے چکا،اب دیکھنا یہ ہے کہ کلیات کی اشاعت کے بعد نئی کھیتوں پر کیا رنگ آتا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)
تاریخ پیدائش : 27ستمبر1932
مقام پیدائش: بہاول نگر
تعلیم: بی اے، ایل ایل بی
اعزاز: تمغہ حسن کارکردگی1998ء
کتابیں:
۱۔آبِ رواں 1962
۲۔گلافتاب1966
۳۔رطب و یابس 1970
۴۔غبار آلود سمتوں کا سراغ1990
۵۔عیب و ہنر1992
۶۔ہے ہنومان1995
۷۔ہرے ہنیرے(پنجابی)1995
۸۔اطراف1995
۹۔وہم و گماں 1996
۱۰۔خشت زعفران (فکاہی کالموں کا انتخاب)1997
۱۱۔تفاوت2002
۱۲۔اب تک (کلیات جلد اوّل)2003
۱۳۔اب تک ( جلد دوم)2005
۱۴۔اب تک (جلد سوم)2006
۱۵۔کال بولیندی(پنجابی)2005
۱۶۔بکّل(پنجابی) زیرطبع
۱۷۔اب تک(جلد چہارم) زیر طبع
۱۸۔حالا نثر مابشنو (تنقیدی مضامین کا مجموعہ) زیر طبع