ادب کی غرض و غایت
انجمن ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس 1936 کا مکمل خطبہٴ صدارت
تحریر: پریم چند
حضرات! یہ جلسہ ہمارے ادب کی تاریخ میں ایک یادگار واقعہ ہے۔ ہمارے سمبیلنوں اور انجمنوں میں اب تک عام طورپر زبان اور اس کی اشاعت سے بحث کی جاتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ اُردو اور ہندی کا جو لٹریچر موجود ہے اس کا منشا خیالات اور جذبات پر اثر ڈالنا نہیں، بلکہ محض زبان کی تعمیر تھا۔ وہ بھی نہایت اہم کام تھا۔ جب تک زبان ایک مستقل صورت نہ اختیار کر لے اس میں خیالات وجذبات ادا کرنے کی طاقت ہی کہاں سے آئے۔ ہماری زبان کے بانیوں نے ہندوستانی زبان کی تعمیر کر کے قوم پر جو احسان کیا ہے اور اس کے لئے ہم ان کے مشکور نہ ہوں تو یہ ہماری احسان فروشی ہو گی ۔ لیکن زبان ذریعہ ہے منزل نہیں۔ اب ہماری زبان نے وہ حیثیت اختیار کر لی ہے کہ ہم زبان سے گزر کر اس کے معنی کی طرف بھی متوجہ ہوں اور اس پر غور کریں کہ جس منشا سے یہ تعمیر شروع کی گئی تھی وہ کیوں کر پورا ہو ۔وہی زبان جس میں ابتدا باغ وبہار اور بے تال پچیسی کی تصنیف ہی معراج کمال تھی، اب اس قابل ہو گئی ہے کہ علم وحکمت کے مسائل بھی ادا کرے۔
اور یہ جلسہ اس حقیقت کا کھلا ہوا اعتراف ہے۔ زبان بول چال کی بھی ہوتی ہے۔ اور تحریر کی بھی۔ بول چال کی زبان تو میرا من اور للّو لال کے زمانے میں بھی موجود تھی۔ انہوں نے جس زبان کی داغ بیل ڈالی وہ تحریر کی زبان تھی اور وہی اب ادب ہے۔ ہم بول چال سے اپنے قریب کے لوگوں سے اپنے خیالات ظاہر کرتے ہیں۔ اپنی خوشی یا رنج کے جذبات کا نقشہ کھینچتے ہیں ۔ ادیب وہی کام تحریر سے کرتا ہے۔ ہاں اس کے سننے والوں کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے اور اگر اس کے بیان میں حقیقت اور سچائی ہے تو صدیوں اور قرنوں تک اس کی تحریریں دلوں پر اثر کرتی رہتی ہیں۔ میرا یہ منشا نہیں کہ جو کچھ سپردقلم ہو جائے، وہ سب کا سب ادب ہے۔ادب اس تحریر کو کہتے ہیں جس میں حقیقت کا اظہار ہو جس کی زبان پختہ،شستہ اور لطیف ہوا ور جس میں دل اور دماغ پر اثر ڈالنے کی صفت ہو اور ادب میں یہ صفت کامل طورپر اسی حالت میں پیدا ہوتی ہے جب اس میں زندگی کی حیثیتیں اور تجربے بیان کئے گئے ہوں۔ طلسماتی حکایتوں یا بھوت پریت کے قصوں یا شہزادوں کے حسن وعشق کی داستانوں سے ہم کسی زمانے میں متاثر ہوئے ہوں، لیکن اب ان میں ہمارے لئے بہت کم دلچسپی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فطرت انسانی کا ماہر ادیب شہزادوں کے حسن وعشق اور طلسماتی حکایتوں میں بھی زندگی کی حقیقتیں بیان کر سکتاہے اور اس میں حسن کی تخلیق کر سکتاہے۔لیکن اس سے بھی اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ لٹریچر میں تاثیر پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ زندگی کی حقیقتوں کا آئینہ دار ہو پھر آپ اسے جس پس منظرمیں چاہے رکھ سکتے ہیں۔چڑے کی حکایت یاگل وبلبل کی داستان بھی اس کے لئے موزوں ثابت ہو سکتی ہے۔
ادب کی بہت سی تعریفیں کی گئی ہیں لیکن میرے خیال میں اس کی بہتریں تعریف تنقیدِ حیات ہے۔ چاہے وہ مثالوں کی شکل میں ہو یا افسانوں کی یا شعر کی، اسے ہماری حیات کا تبصرہ کرنا چاہیئے۔ ہم جس دور سے گزرے ہیں اس میں حیات سے کوئی بحث نہ تھی۔ ہمارے ادیب تخلیقات کی ایک دنیا بنا کر اس میں من مانے طلسم باندھا کرتے تھے۔ کہیں فسانہ عجائب کی داستان تھی، کہیں بوستان خیال کی اور کہیں چندرکانتا سنتی کی۔ ان داستانوں کا منشا محض دل بہلاؤ تھا اور ہمارے جذبہ حیرت کی تسکین، لٹریچر کا زندگی سے کوئی تعلق ہے۔ اس میں کلام ہی نہ تھا بلکہ وہ مسلّم تھا۔ قصہ قصہ ہے، زندگی زندگی، دونوں متضاد چیزیں سمجھی جاتی تھیں۔ شعراء پر بھی انفرادیت کا رنگ غالب تھا۔ عشق کا معیار نفس پروری تھا اور حسن کا دیدہ زیبی۔ انہی جنسی جذبات کے اظہار میں شعرا اپنی جدّت اور جولانی کے معجزے دکھاتے تھے۔ شعر میں کسی نئی بندش یا نئی تشبیہہ یا نئی پرواز کا ہونا داد پانے کے لئے کافی تھا، چاہے وہ حقیقت سے کتنی ہی بعید کیوں نہ ہو۔ یاس اور درد کی کیفیتیں ، آشیانہ اور قفس، برق اور خرمن کے تخیل میں اس خوبی سے دکھائی جاتی تھیں کہ سننے والے دل تھام لیتے تھے اور آج بھی وہ شاعری کس قدر مقبول ہے۔ اسے ہم اور آپ خوب جانتے ہیں۔ بے شک شعر اور ادب کا منشا ہمارے احساس کی شدت کو تیز کرنا ہے لیکن انسان کی زندگی محض جنس نہیں ہے۔ کیا وہ ادب جس کا موضوع جنسی جذبات او ر ان سے پیدا ہونے والے درد ویاس تک محدود ہو ، اس میں دنیا اور دنیا کی مشکلات سے کنارہ کش ہونا ہی زندگی کاماحصل سمجھا گیا ہو، ہماری ذہنی اور جذباتی ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے؟ جنسیت انسان کا ایک جز ہے اور جس ادب کا بیش تر حصہ اسی سے متعلق ہو وہ اس قوم اوراس زمانے کے لئے فخر کا باعث نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے صحیح مذاق ہی کی شہادت دے سکتا ہے۔ کیا ہندی اور کیا شاعری، دونوں کی ایک ہی کیفیت ہے۔ اس وقت ادب وشاعری کا جو مذاق تھا اس کے اثر سے بے نیاز ہونا آسان نہ تھا۔ تحسین اور قدر دانی کی ہوس تو ہر ایک کو ہوتی ہے۔ شعرا کے لئے اپنا کلام ہی ذریعہ معاش تھا اور کلام کی قدر دانی، رُوسا اور امراء کے علاوہ اور کون کر سکتا۔ ہمارے شعرا کو عام زندگی کا سامنا کرنے اور اس کی حقیقتوں سے متاثر ہونے کے لئے یا تو موقع ہی نہ تھا یا ہر خاص وعام پر ایسی ذہنی پستی چھائی ہوئی تھی کہ ذہنی اور شعوری زندگی رہ ہی گئی تھی۔ ہم اس وقت کے ادیبوں پر اس کا الزام نہیں رکھ سکتے۔ ادب اپنے زمانے کا عکس ہوتا ہے، جو جذبات اور خیالات لوگوں کے دلوں میں ہلچل پیدا کرتے ہیں، وہی ادب میں بھی اپنا سایہ ڈالتے ہیں۔ ایسی پستی کے زمانے میں یا تو لوگ عاشقی کرتے ہیں یا تصوف اور دیراگ میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اس دور کی شاعری اور ادب دونوں اس قسم کے ہیں جب ادب پر دنیا کی بے ثباتی غالب ہو اور ایک ایک لفظ یاس اور شکوہ روز گار اور معاشقے میں ڈوبا ہوا ہو تو سمجھ لیجئے کہ قوم جمود اور انحطاط کا شکار ہو چکی اور اس میں سعی اور اجتہاد کی قوت باقی نہیں رہی اور اس نے درجات عالیہ کی طرف سے آنکھیں بند کر لی ہیں اور مشاہدے کی قوت غائب ہو گئی ہے۔
مگر ہمارا ادبی مذاق بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ادب محض دل بہلاؤ کی چیز نہیں ہے۔ دل بہلاؤ کے سوا اس کا کچھ اور بھی مقصد ہے۔ وہ اب محض عشق وعاشقی کے راگ نہیں الاپتا بلکہ حیات کے مسائل پر غور کرتا ہے، ان کا محاکمہ کرتا ہے اور ان کو حل کرتا ہے۔ وہ اب تحریک یا ایہام کے لئے حیرت انگیز واقعات تلاش نہیں کرتا یا قافیہ کے الفاظ کی طرف نہیں جاتا بلکہ اس کو ان مسائل سے دلچسپی ہے جن سے سوسائٹی کے افراد متاثر ہوتے ہیں۔ اس کی فضیلت کا موجودمعیار جذبات کی وہ شدت ہے جس سے وہ ہمارے اور خیالات میں حرکت پیدا کرتا ہے۔ اخلاقیات اور ادبیات کی منزل مقصود ایک ہے، صرف ان کے طرزِ خطاب میں فرق ہے۔ اخلاقیات، دلیلوں اور نصیحتوں سے عقل اور ذہن کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ادب نے اپنے لئے کیفیات اور جذبات کا دائرہ چن لیا ہے۔ ہم زندگی میں جو کچھ دیکھتے ہیں یا ہم پر جو کچھ گزرتی ہے وہی تجربات اور وہی چوٹیں تخیل میں جا کر تحقیقِ ادب کی تحریک کرتی ہیں۔ شاعر یا ادیب میں جذبات کی جتنی شدت احساس ہوتی ہے اتنا ہی اس کا کلام دل کش اور بلند ہوتا ہے۔ جس ادب سے ہمارا ذوق صحیح نہ بیدا ر ہو، روحانی اور ذہنی تسکین نہ ملے، ہم میں قوت وحرکت نہ پیدا ہو، ہمارا جذبہ حسن نہ جاگے، جو ہم میں سچا ارادہ اور مشکلات پر فتح پانے کے لئے سچا استقلال نہ پیدا کرے، وہ آج ہمارے لئے بے کار ہے۔ اس پر ادب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔زمانہ قدیم میں مذہب کے ہاتھوں میں سوسائیٹی کی لگام تھی۔ ان کی روحانی اور اخلاقی تہذیب مذہبی احکام پر مبنی تھی اور وہ تخویف یا تحریص سے کام لیتا تھا، عذاب وثواب کے مسائل اس کے آلہ کار تھے۔ اب ادب نے یہ خدمت اپنے ذمہ لے لی ہے اور اس کا آلہٴ کار ذوقِ حسن ہے۔ وہ انسان میں اس ذوق حسن کو جگانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسا کوئی انسان نہیں جس میں حُسن کا احساس نہ ہو، کوئی ادیب نہیں جس میں یہ احساس نہ ہو۔ ادیب میں یہ احساس جتنا ہی بیدار اورپُر عمل ہوتا ہے، اتنی ہی اس کے کلام میں تاثیر ہوتی ہے۔ فطرت کے مشاہدے اور اپنی ذکاوت احساس کے ذریعے اس میں جذبہ حسن کی اتنی تیزی ہو جاتی ہے کہ جوکچھ قبیح ہے غیر مستحسن ہے۔ انسانیت سے خالی ہے وہ اس کے لئے نا قابل برداشت بن جاتا ہے۔ نیز وہ بیان اور جذبات کی ساری قوت سے وار کرتا ہے۔ یوں کہئیے وہ انسانیت کا، علویت کا ، شرافت کا علم بردار ہے۔جوپا مال ہیں، مظلوم ہیں، محروم ہیں، چاہے دہ فردہوں یا جماعت، ان کی حمایت اوروکالت اس کا فرض ہے۔ اس کی عدالت، سوسائٹی ہے۔ اسی عدالت کے سامنے وہ اپنے استغاثہ پیش کرتا ہے اور عدالت اس کے احساس حق اورانصاف اور جذبہ حسن کی تالیف کر کے اپنی کوشش کو کامیاب سمجھتا ہے۔مگر عام وکلا کی طرح وہ اپنے موکل کی جانب سے جاوبے جاد عویٰ نہیں پیش کرتا۔ مبالغے سے کام نہیں لیتا، اختراع نہیں کرتا ۔وہ جانتا ہے کہ ان ترکیبوں سے وہ سوسائٹی کی عدالت کو متاثر نہیں کر سکتا۔ اس عدالت کی تالیف جبھی ممکن ہے جب آپ حقیقت سے ذرا بھی منحرف نہ ہوں،ورنہ عدالت آپ سے بدطن ہو جائے گی اور آپ کے خلاف فیصلہ سنا دے گی۔ وہ افسانہ لکھتا ہے مگر واقعیت کے ساتھ، وہ مجسمہ بناتا ہے مگر اس طرح کہ اس میں حرکت بھی ہوا ور قوت اظہار بھی ہو، وہ فطرت انسانی کا باریک نظروں سے مشاہدہ کرتا ہے، وہ نفسیات کا مطالعہ کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کے کیر کٹر ہر حالت میں اور ہر موقع پر اس طرح برتاؤ کریں کہ جیسے گوشت وپوست کے انسان کرتے ہیں۔ وہ اپنی طبعی ہمدردی اور حسن پسندی سے زندگی کے ان نکات پر پہنچتا ہے جہاں انسان اپنی انسانیت سے معذور ہو جاتا ہے او رواقعہ نگاری کا رجحان یہاں تک روبہ ترقی ہے کہ آج کا افسانہ ممکن حدتک مشاہدے سے باہر نہیں جاتا۔ ہم محض اس خیال سے تسکین نہیں پاتے کہ نفسیاتی اعتبار سے یہ سبھی کیرکٹر انسانوں سے ملتے جلتے ہیں، بلکہ ہم یہ اطمینان چاہتے ہیں کہ وہ واقعی انسان ہیں اور مصنف نے حتی الامکان ان کی سوانح عمری لکھی ہے، کیونکہ تخیل کے انسان میں ہمارا عقیدہ نہیں ہے۔ ہم اس کے فعلوں اور خیالوں سے متاثر نہیں ہوتے، ہمیں یہ تحقیق ہونا چاہیئے کہ مصنف نے جو تخلیق کی ہے وہ مشاہدات کی بنا پر ہے یا وہ خود اپنے کیرکٹر وں کی زبان سے بول رہا ہے۔ اسی لئے ادب کو بعض نقادوں نے مصنف کی نفسیاتی سوانح عمری کہا ہے۔ ایک ہی واقعہ یا کیفیت سے سبھی انسان یکساں طور پر متاثر نہیں ہوتے۔ ہر شخص کی ذہنیت او رزاویہٴ نظر الگ ہے۔ مصنف کا کمال اسی میں ہے کہ وہ جس ذہنیت یا زاویے سے کسی امر کو دیکھے، اس میں اس کا پڑھنے والا بھی اس کا ہم خیال ہو جائے، یہی اس کی کامیابی ہے۔ اسی کے ساتھ ہم ادیب سے یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ وہ اپنی بیدار مغزی، اپنی وسعت خیال سے ہمیں بیدار کرے، ہم میں وسعت پیدا کرے۔ اس کی نگاہ اتنی باریک، اتنی گہری اور وسیع ہو کہ ہمیں اس کے کلام سے روحانی سرور اور تقویت حاصل ہو ۔
بہتر بننے کی تحریک ہر انسان میں موجود ہوتی ہے۔ ہم میں جو کمزوریاں ہیں وہ کسی مرض کی طرح چمٹی ہوئی ہیں، جیسے جسمانی تندرستی ایک فطری امر ہے اور بیماری بالکل غیر فطری، اسی طرح اخلاقی اور ذہنی صحت بھی فطری بات ہے اور ہم ذہنی اور اخلاقی پستی سے اسی طرح مطمئن نہیں ہوتے جیسے کوئی مریض اپنے مرض سے مطمئن نہیں ہوتا، جیسے وہ ہمیشہ کسی طبیب کی تلاش میں رہتا ہے۔ اسی طرح ہم بھی اس فکر میں رہتے ہیں کہ کسی طرح اپنی کمزوریوں کی پرے پھینک کر بہتر انسان بن جائیں۔ اسی لئے ہم سادھو اور فقیروں کی جستجو کرتے ہیں، پوجا پاٹ کرتے ہیں، بزرگوں کی صحت میں بیٹھتے ہیں، علماء کی تقریریں سنتے ہیں اور ادب کا مطالعہ کرتے ہیں اور ہماری ساری کمزوریوں کی ذمہ دار ہماری بد مذاتی اور محبت کے جذبے سے محرومی ہوتی ہے۔
جس میں صحیح ذوق حسن ہے، جس میں محبت کی وسعت ہے، وہاں کمزوریاں کیسے رہ سکتی ہیں۔ محبت ہی تو روحانی غذا ہے اور ساری کمزوریاں اسی روحانی غذا کے نہ ملنے سے یا مضر غذا کے استعمال سے پیدا ہوتی ہیں۔ آرٹسٹ ہم میں حسن کا احساس پیدا کر دیتا ہے اور محبت کی گرمی اس کا یک فقرہ، ایک لفظ، ایک کنایہ ہمارے اندر ایسے جا بیٹھتا ہے کہ ہماری روح روشن ہو جاتی ہے مگر جب تک آرٹسٹ خود جذبہ حسن سے سر شار نہ ہو اور اس کی روح خود اس نور سے منور نہ ہو تو ہمیں یہ روشنی کیوں عطا کر سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ حسن کیا شے ہے؟ بظاہر یہ ایک مہمل سا سوال معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ حسن کے متعلق ہمیں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے۔ ہم نے آفتاب کا طلوع وغروب دیکھا ہے۔ شفق کی سرخی دیکھی ہے، خوشنما اور خوشبودار پھول دیکھے ہیں خوش نو اچڑیاں دیکھی ہیں۔ نغمہ خواں ندیاں دیکھی ہیں، ناچتے ہوئے آبشار دیکھے ہیں۔ ان نظاروں میں ہماری روح کیوں کھل اٹھتی ہے؟ اس لئے کہ ان میں رنگ یا آواز کی ہم آہنگی ہے۔ سازوں کی ہم آہنگی ہے، سنگیت دلکشی کا باعث ہے۔ ہماری ترکیب ہی عناصر کے توازن سے ہوتی ہے اور ہماری روح ہمیشہ اسی توازن اور ہم آہنگی کی تلاش کرتی ہے۔ ادب آرٹسٹ کے روحانی توازن کی ظاہری صورت ہے اور ہم آہنگی حسن کی تخلیق کرتی ہے۔ تحزیب نہیں، وہ ہم میں وفا اور خلوص اور ہمدردی اور انصاف اور مساوات کے جذبات کی نشوونما کرتی ہے۔ جہاں یہ جذبات ہیں وہیں استحکام ہے زندگی ہے، جہاں ان کا فقدان ہے، وہیں افتراق، خود پروری ہے اورنفرت اور دشمنی ہے اور موت ہے۔ یہ افتراق غیر فطری زندگی کی علامتیں ہیں۔ جیسے ہماری غیر فطری زندگی کی، جہاں فطرت سے مناسبت اور توازن ہے وہاں تنگ خیالیوں اور خود غرضیوں کاوجود کیسے ہو گا۔ جب ہماری روح فطرت کی کھلی فضا میں نشوونما پاتی ہے تو خباثتِ نفس کے جراثیم خود بخود ہوا اور روشنی سے مر جاتے ہیں۔ فطرت سے الگ ہو کر اپنے کو محدود کرنے سے ہی یہ ساری ذہنی اور جذباتی بیماریوں پیدا ہوتی ہیں۔ ادب ہماری زندگی کی فطری اور آزاد بناتا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں اسی کی بدلت نفس کی تہذیب ہوتی ہے۔ یہ اس کا مقصد اولیٰ ہے۔
ترقی پسند مصنفین کا عنوان میرے خیال میں ناقص ہے۔ ادیب یا آرٹسٹ طبعاً اور خلقاً ترقی پسند ہوتا ہے۔ اگر یہ اس کی فطرت نہ ہوتی تو وہ شاید ادیب نہ ہوتا۔ وہ آئیڈ یلسٹ ہوتا ہے۔ اسے اپنے اندر بھی ایک کمی محسوس ہوتی ہے او رباہر بھی اس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے اس کی روح بے قرار رہتی ہے۔ وہ اپنے تخیل میں فرد اور جماعت کو مسرت اور آزادی کی جس حالت میں دیکھنا چاہتا ہے وہ اسے نظر نہیں آتی۔ اس لئے موجودہ ذہنی اور اجتماعی حالتوں سے اس کا دل بیزار ہوتا ہے۔ وہ ان ناخو شگوار حالات کا خاتمہ کر دینا چاہتا ہے۔ تا کہ دنیا جینے اور مرنے کے لئے بہتر جگہ ہو جائے، یہی درد اور یہی جذبہ اس کے دل ودماغ کو سرگرم کار رکھتا ہے۔ اس کا حساس دل یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ایک جماعت کیوں معاشرت و رسوم کی قیود میں پڑ کر اذیت پاتی رہے۔ کیوں نہ وہ اسباب مہیا کئے جائیں کہ وہ غلامی اور عسرت سے آزاد ہو۔ وہ اس درد کو جتنی بے تابی کے ساتھ محسوس کرتا ہے اتنا ہی اس کے کلام میں زور اور خلوص پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے احساسات کو جس تناسب سے ادا کرتا ہے وہی اس کے کمال کا راز ہے، مگر شاید اس تخصیص کی ضرورت اس لئے پڑتی ہے کہ ترقی کا مفہوم ہر مصنف کے ذہن میں یکساں نہیں ہے۔ جن حالات کو ایک جماعت ترقی سمجھتی ہے، انہیں کو دوسری جماعت عین زوال سمجھتی ہے۔ اس لئے ادیب اپنے آرٹ کو کسی مقصد کے تابع نہیں کرنا چاہتا۔ ا س کے خیال میں آرٹ صرف جذبات کے اظہار کا نام ہے۔ ان جذبات سے فرد یا جماعت پر خواہ کیساہی اثر پڑے، ترقی کا ہمارا مفہوم وہ صورت حالات ہے جس سے ہم میں استحکام اور قوت عمل پیدا ہو۔ جس سے ہمیں اپنی خستہ حالی کا احساس ہو۔ ہم دیکھیں کہ کن داخلی اور خارجی اسباب کے زیر اثر اس جمود وانحطاط کی حالت کو پہنچ گئے ہیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ ہمارے لئے وہ شاعرانہ جذبات بے معنی ہیں جن سے دنیا کی بے ثباتی ہمارے دل پر اور زیادہ مسلط ہو جائے۔ وہ حسن وعشق کی داستانیں جن سے ہمارے رسائل بھرے ہوتے ہیں۔ ہمارے لئے بے معنی ہیں۔ اگر وہ ہم میں حرکت اور حرارت نہیں پیدا کرتے۔ اگر ہم نے دو جوانوں کے حسن وعشق کی داستان کہہ ڈالی مگر اس سے ہمارے ذوق حسن پر کوئی اثر نہیں پڑا، اور پڑا بھی تو صرف اتنا کہ ہم اُن کی ہجر کی تکلیفوں پر روئے تو اس سے ہم میں کون سی ذہنی یاذوقی حرکت پیدا ہوئی۔ ان باتوں سے ہمیں کسی زمانے میں وجد آیا ہو مگر آج کے لئے وہ بے کار ہیں اس جذباتی آرٹ کا اب زمانہ نہیں رہا۔ اب تو ہمیں اُس آرٹ کی ضرورت ہے۔ جس میں عمل کا پیغام ہو۔ اب تو حضرت اقبال کے ساتھ ہم بھی کہتے ہیں #
رمزِحیات جوئی؟ جز در تپش نیابی
در قلزم آر میدن ننگ است آب جُورا
بہ آشیاں نہ نشینم ز لذّت پرواز
گہے بشاخِ گلم گاہ برلبِ جویم
چنانچہ ہمارے مشرب میں داخلیت وہ شے ہے جو جمود، پستی، سہل انگاری کی طرف لے جاتی ہے اور ایسا آرٹ ہمارے لئے نہ انفرادی حیثیت سے مفید ہے نہ اجتماعی حیثیت سے۔ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں ہے کہ میں اور چیزوں کی طرح آرٹ کو بھی افادیت کی میزان میں تولتا ہوں بے شک آرٹ کا مقصد ذوق حسن کی تقویت ہے اور وہ ہماری روحانی مسرت کی کنجی ہے۔ لیکن ایسی کوئی ذوقی معنوی یا روحانی مسرت نہیں ہے جو اپنا افادی پہلو نہ رکھتی ہو۔ مسّرت خود ایک افادی شے ہے اورایک ہی چیز سے ہمیں افادیت کے اعتبار سے مسرت بھی ہے اور غم بھی آسمان پر چھائی ہوئی شفق بیشک ایک خوش نما نظارہ ہے، کہیں اساڑھ میں اگر آسمان پر شفق چھا جائے تو وہ ہمارے لئے خوش کا باعث نہیں ہو سکتی، کیونکہ وہ اکال کی خبر دیتی ہے۔ اس وقت تو ہم آسمان پر کالی گھٹائیں دیکھ کر ہی مسرور ہوتے ہیں۔ پھولوں کو دیکھ کر ہم اس لئے محفوظ ہوتے ہیں کہ ان سے پھل کی اُمید ہوتی ہے، فطرت سے ہم آہنگی اسی لئے ہماری روحانی مسرت کا باعث ہے کہ اس سے ہمیں زندگی میں نمو اور تقویت ملتی ہے۔ فطرت کا قانون نمو اور ارتقا ہے اور جن جذبات، کیفیات یا خیالات سے ہمیں مسرت ہوتی ہے وہ اس نمو کے معاون ہیں۔ آرٹسٹ اپنے آرٹ سے حسن کی تخلیق کر کے اسباب اور حالات کو بالیدگی کے لئے ساز گار بناتا ہے مگر حسن بھی اور چیزوں کی طرح مطلق نہیں۔ اس کی حیثیت بھی اضافی ہے۔ ایک رئیس کے لئے جو چیز مسرت کا باعث ہے۔ وہی دوسرے کے لئے رنج کا سبب ہو سکتی ہے۔ ایک رئیس اپنے شگفتہ وشاداب با غیچے میں بیٹھ کر چڑیوں کے نغمے سنتا ہے تو اُسے جنت کی مسرت حاصل ہوتی ہے لیکن ایک نادار، مگر با خبر انسان ا س امارت کے لوازمے کو مکروہ ترین سمجھتا ہے جو غریبوں اور مزدوروں کے خون سے داغدار ہو رہی ہے۔اخوت اور مساوات تہذیب اور معاشرت کی ابتدا سے آئیڈیلسٹوں کا زریں خواب رہی ہے۔ پیشوا یان دین نے مذہبی، اخلاقی اور روحانی بندشوں سے اس خواب کو حقیقت بنانے کی متواتر کوششیں کی ہیں۔ مہاتمابدھ، حضرت عیسیٰ، حضرت محمد سبھی نبیوں نے اخلاقی بنیادوں پر مساوات کی یہ بنیاد کھڑی کرنی چاہی، مگر کسی کو پوری کامیابی نہ ہوئی اور آج اعلیٰ اور ادنیٰ کی تفادت جتنی بے دردی سے نمایاں ہو رہی ہے۔ شاید کبھی بھی نہ ہوئی تھی۔
آزمودہ را آزمودن جہل است کے مصداق اب بھی دھرم اوراخلاق کا دامن پکڑ کر ہم اس مساوات کی منزل پر پہنچناچاہیں تو ہمیں ناکامی ہی ہوگی ۔ کیا ہم اس خواب کو پریشان دماغ کی خلآقی سمجھ کر بھول جائیں؟ تب تو انسان کی ترقی وتکمیل کے لئے کوئی آئیڈیل ہی باقی نہ رہ جائے گا۔ اس سے تو کہیں بہتر ہے انسان کا وجود ہی مٹ جائے۔ جس آئیڈیل کو ہم نے تہذیب کے آغاز سے پالا ہے، جس کے لئے انسان نے خدا جانے کتنی قربانیں کی ہیں، جس کی تکمیل کے لئے مذاہب کا ظہور ہوا، انسانی معاشرت کی تاریخ اس آئیڈیل کی تاریخ ہے۔ اسے مسلمہ سمجھ کر، ایک نہ مٹنے والی حقیقت سمجھ کر ہمیں ترقی کے میدان میں قدم رکھنا ہے۔ ایک نئے نظام کی تکمیل کرنی ہے۔ جہاں وہ مساوات محض اخلاقی بندشوں پرنہ رہ کر قوانین کی صورت اختیار کرے۔
ہمارے لٹریچر کو اسی آئیڈیل کے پیش نظر رکھنا ہے۔ ہمیں حسن کا معیار تبدیل کرنا ہوگا۔ ابھی تک اس کا معیار امیرانہ اور عیش پر ورانہ تھا۔ ہمارا آرٹسٹ امرا کے دامن سے وابستہ رہنا چاہتا تھا۔ انہیں کی قدر دانی پر اس کی ہستی قائم تھی اور انہیں کی خوشیوں اور رنجوں ، حسرتوں اور تمناؤں، چشکموں اوررقابتوں کی تشریح وتفسیرآرٹ کا مقصد تھا، اس کی نگا ہیں محل سراؤں اور بنگلوں کی طرف اٹھتی تھیں، جھونپڑے اور کھنڈر اس کے التفات کے قابل نہ تھے۔ انہیں وہ انسانیت کے دامن سے خارج سمجھتا تھا اگر کبھی وہ ان کا ذکر بھی کرتا تھا تو مضحکہ اڑانے کے لئے اس کی دہقانی وضع او رمعاشرت پر ہنسنے کے لئے، اس کا شین“ ”قاف“ درست نہ ہونا یا محاوروں کا غلط استعمال ظرافت کا ازلی سامان تھا۔وہ بھی انسان ہے، ا س کے بھی دل ہے، اس میں بھی آرزوئیں ہیں، یہ آرٹسٹ کے ذہن سے بعید تھا۔
آرٹ نام تھا اور اب بھی ہے، محدود صورت پرستی کا، الفاظ کی ترکیبوں کا، خیالات کی بندشوں کا، اس کے لئے کوئی آئیڈیل نہیں ہے۔ زندگی کا کوئی اونچا مقصد نہیں ہے۔ بھگتی اور دیراگ تصور اور دنیا سے کنارہ کشی اس کے بلند ترین تخیلات ہیں۔ اس کے لئے یہی معراج زندگی ہے اس کی نگاہ ابھی اتنی وسیع نہیں ہوئی ہے کہ وہ کشمکش حیات میں حسن کی معراج دیکھے، فاقہ اور عریانی میں بھی حسن کا وجود ہو سکتا ہے۔ اسے وہ شاید تسلیم نہیں کرتا اس کے لئے حسن حسین عورت میں ہے۔ غریب بے حسن عورت میں نہیں جو بچے کو کھیت کی مینڈ پر سُلائے پسینہ بہارہی ہے ا س نے طے کر لیا ہے کہ رنگے ہونٹوں اور رخساروں اور ابرووٴں میں فی الواقعی حسن کا باس ہے، الجھے ہوئے بالوں، پیٹریاں پڑے ہوئے ہونٹوں اور کملائے ہوئے رخساروں میں حسن کا گزر کہاں۔ لیکن یہ اس کی تنگ نظری کا قصور ہے۔ اگر اس کی نگاہ حسن میں وسعت آجائے تو وہ دیکھے گا کہ رنگے ہونٹوں اور رخساروں کی آڑمیں اگر نخوت، اور خود آرائی اور بے حسی ہے تو مرجھائے ہونٹوں اورکملائے ہوئے رخساروں کی آڑ میں ایثار، اور عقیدت اور مشکل پسندی ہے۔ ہاں اس میں نفاست نہیں، نمو نہیں، لطافت نہیں، ہمارا آرٹ شبابیات کا شیدائی ہے اور نہیں جانتا کہ شباب سینے پر ہاتھ رکھ کر شعر پڑھنے اور صنف نازک کی کج ادائیوں کے شکوے کرنے یا اُس کی خود پسندیوں اور چونچلوں پر سر دُھننے میں نہیں ہے۔ شباب نام ہے، آئیڈیلزم کا، ہمت کا مشکل پسندی کا، قربانی کا، اسے تو اقبال کے ساتھ کہنا ہوگا#
در دستِ جنون من جبریل زبوں صیدے
یرذاں بکمند آور، اے ہمت مردانہ
یا
چو موج ساز د جو دم زمیل بے پرداست
گماں مبر کر دریں بحر ساحلے جویم!
اور یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوگی جب ہماری نگاہِ حسن عالم گیر ہو جائے گی، جب ساری خلقت اس کے دائرے میں آجائے گی۔ وہ کسی خاص طبقے تک محدود نہ ہوگا۔ اس کی پروازکے لئے محض باغ کی چار دیواری نہ ہوگی۔ بلکہ وہ فضا جو سارے عالم گھیرے ہوئے ہے۔ تب ہم بد مذاقی کے متحمل نہ ہوں گے، تب ہم اس کی جڑ کھودنے کے لئے سینہ سپر ہو جائیں گے۔ تب ہم اس معاشرت کو برداشت نہ کر سکیں گے کہ ہزاروں انسان ایک جابر کی غلامی کریں تب ہماری خود دار انسانیت اس سرمایہ داری اور عسکریت اورملوکیت کے خلاف علم بغاوت بلند کرے گے۔تبھی ہم صرف صفحہ کا غذ پر تخلیق کرکے خاموش نہ ہو جائیں گے بلکہ اس نظام کی تخلیق کریں گے جو حسن اور مذاق اورخود داری اور انسانیت کے منافی نہیں ہے۔ ادیب کامشن محض نشاط اور محفل آرائی اور تفریح نہیں ہے اس کا مرتبہ اتنا نہ گرائیے وہ وطنیت اور سیاسیات کے پیچھے چلنے والی حقیقت نہیں، بلکہ ان کے آگے مشعل دکھاتی ہوئی چلنے والی حقیقت ہے۔
ہمیں اکثریہ شکایت ہوتی ہے کہ ادیبوں کے لئے سوسائٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے، یعنی ہندوستان کے ادیبوں کو مہذب ملکوں میں تو ادیب سوسائٹی کا معزز رکن ہے۔ اور وزراء اور امرا اس سے ملنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں مگر ہندو ستان تو ابھی تک قرونِ وسطیٰ کی حالت میں پڑا ہوا ہے، مگر ادب نے جب امرا کی دریوزہ گری کو ذریعہ حیات بنا لیا ہو اور ان تحریکوں اورہلچلوں اورانقلابوں سے بے خبر ہو جو سوسائٹی میں ہو رہے ہیں، اپنی ہی دنیا بناکر اس میں روتا اور ہنستا ہو تو اس دنیامیں اس کے لئے جگہ نہ ہونا انصاف سے بعید نہیں ہے۔ جب ادیب کے موزوں طبیعت کے سوا کوئی قید نہیں رہی یا اسی طرح جیسے مہاتماپن کے لئے کسی قسم کی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے ان کی روحانی بلندی ہی کافی ہے تو جیسے مہماتما لوگ دردر پھر نے لگے، اسی طرح ادیب بھی لاکھوں کی تعداد میں نکل آئے۔ا س میں شک نہیں کہ ادیب پیدا ہوتا ہے، بنایا نہیں جاتا۔ لیکن ہم اگر تعلیم اورطلب سے اس فطری عطیے میں اضافہ اوروسعت پیدا کر سکیں تو یقینا ہم ادب کی زیادہ خدمت کر سکیں گے۔ ارسطو نے بھی اور دوسرے حکمانے بھی ادیبوں کے لئے سخت شرطیں عاید کی ہیں اور ان کی ذہنی، اخلاقی، روحانی، جذباتی تہذیب وتربیت کے لئے اصول اور طریقے مقرر کر دیئے گئے ہیں، مگر آج تو ادیب کیلئے محض ایک رجحان کافی سمجھا جاتا ہے اور بس، اورکسی قسم کی تیاری کی اس کے لئے ضرورت نہیں۔ وہ سیاسیات، معاشیات یا نفسیات وغیرہ علوم سے بالکل بیگانہ ہو۔ پھر بھی وہ ادیب ہے حالانکہ ادب کے سامنے آج کل جو آئیڈیل رکھا گیا ہے اس کے مطابق یہ سبھی علوم اس کے جزد خاص بن گئے ہیں اور اس کا رجحان داخلیت اور انفرادیت تک محدود نہیں رہا۔ وہ نفسیاتی اور معاشی ہوتا جاتا ہے۔ وہ اب فرد کو جماعت سے الگ نہیں دیکھتا بلکہ فرد کو جماعت کے ایک حصّے کی شکل میں دیکھتا ہے اس لئے نہیں کہ وہ جماعت پر حکومت کرے اسے اپنی غرض کا آلہ بنائے گویا جماعت میں اور اس میں ازلی دشمنی ہے بلکہ اس لئے کہ جماعت کی ہستی بھی قایم ہے اور جماعت سے الگ وہ صفر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم میں جنہیں بہترین تعلیم اور بہترین ذہنی قویٰ ملے ہیں ان کے اوپر سماج کی اتنی ذمہ داریاں بھی عاید ہوتی ہیں۔ جس طرح سرمایہ دار کو ہم غاصب اور جابر کہتے ہیں اس لئے کہ وہ عوام کی محنت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے اسی طرح ہم اس ذہنی سرمایہ دار کو بھی پرستش کے قابل نہ سمجھیں گے۔ جو سماج کے پیسے سے اور اونچی سے اونچی تعلیم پاکر اسے اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ سماج سے ذاتی نفع حاصل کرنا ایسا فعل ہے جسے کوئی ادیب کبھی پسند نہ کرے گا۔
اسی سرمایہ دار کا فرض ہے کہ وہ جماعت کے فائدے کواپنی ذات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے۔ وہ ادب کی کسی صنف میں بھی قدیم کیوں نہ رکھے اسے اس صنف پر خصوصاً اور عام حالات سے عموماً واقف ہونا چاہئیے۔ اگر ہم بین الاقوامی ادیبوں کی کانفرنسوں کی رپورٹیں پڑھیں تو ہم دیکھیں گے کہ ایسا کوئی علمی معاشی تاریخی اور نفسیاتی مسئلہ نہیں ہے جس پر ان سے تبادلہ خیالات نہ ہوتا ہو۔اس کے برعکس ہم اپنے مبلغِ علم کودیکھتے ہیں تو ہمیں اپنی بے علمی پر شرم آتی ہے۔ہم نے سمجھ رکھا ہے کہ حاضر طبیعت اور رواں قلم ہی ادیب کے لئے کافی ہے۔ ہماری ادبی پستی کا باعث یہی خیال ہے۔ ہمیں اپنے ادب کا علمی معیار اونچا کرنا پڑے گا تاکہ وہ جماعت کی زیادہ قابل قدر خدمت کر سکے، تاکہ جماعت میں اسے وہ درجہ ملے جو اس کا حق ہے۔ تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبے سے بحث کر سکے اور ہم دوسری زبانوں اور ادیبوں کے دسترخوان کے جھوٹے نوالے ہی کھانے پر قناعت نہ کریں بلکہ اس میں خود بھی اضافہ کریں۔ ہمیں اپنے مذاق اور طبعی میلان کے مطابق موضوع کا انتخاب کر لینا چاہیئے اور اس موضوع پرعالمانہ عبور حاصل کرنا چاہیئے۔ ہم جس اقتصادی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں، اس میں یہ کام مشکل ضرور ہے، لیکن ہمارا معیار اونچا رہناچاہیئے۔ اگر ہم پہاڑ ی چوٹی تک نہ پہنچ سکے توکمر تک پہنچ ہی جائیں گے جو سطح زمین پر پڑے رہنے سے بدرجہا بہتر ہے۔ اگر ہمارا باطن محبت سے منور ہو اور خدمت کا معیار ہمارے پیش نظر ہو جو اسی محبت کی ظاہری صورت ہے توایسی کوئی مشکل نہیں جس پر ہم فتح نہ پا سکیں، جنہیں دولت اور ثروت پیاری ہے، ان کے لئے ادب کے مندرمیں جگہ نہیں ہے۔ یہاں ان اُپاسکوں کی ضرورت ہے جنہوں نے خدمت کو زندگی کا حاصل سمجھ لیا ہے۔ جن کی دل میں تڑپ ہواور محبت کا جوش ہو۔ اپنی عزت تواپنے ہاتھ ہے اگر ہم سچے دل سے جماعت کی خدمت کریں گے تو اعزاز وامتیاز اور شہرت بھی ہمارے قدم چومے گی۔ پھر اعزاز وامتیاز کی فکر ہمیں کیوں ستائے اوراس کے نہ ملنے سے ہم مایوس کیوں ہوں۔ خدمت میں جوروحانی مسرت ہے وہی ہمارا صلہ ہے ہمیں جماعت پراپنی حقیقت جتانے کی، اس پر رعب جمانے کی ہوس کیوں ہو۔دوسروں سے زیادہ آرام وآسائش سے رہنے کی خواہش ہمیں کیوں ستائے۔ ہم امراء کے طبقے میں اپنا شمار کیوں کرائیں ہم توجماعت کے علم بردار ہیں اور سادہ زندگی کے ساتھ اونچی نگاہ ہماری زندگی کا نصب العین ہے، جو شخص سچا آرٹسٹ ہے وہ خود پروری کی زندگی کاعاشق نہیں ہو سکتا۔ اسے اپنے قلب کے اطمینان کے لئے نمائش کی ضرورت نہیں۔ اس سے تو اسے نفرت ہوتی ہے۔ وہ تو اقبال کے ساتھ کہتا ہے#
مردے آزا دم وآں گونہ غیورم کہ مرا!
می توآں کُشت بہ یک جام زلال دگراں
ہماری انجمن نے کچھ اسی طرح کے اصولوں کے ساتھ میدانِ عمل میں قدم رکھا ہے وہ ادب کو خمریات اور شبابیات کا دستِ نگر نہیں دیکھنا چاہتی۔ وہ ادب کو سعی اور عمل کاپیغام اور ترانہ بنانے کی مدعی ہے اور اسے زبان سے بحث نہیں۔ آئیڈیل کی وسعت کے ساتھ زبان خود بخود سلیس ہو جاتی ہے۔ حسن معنی آرائش سے بے نیاز رہ سکتا ہے۔ جو ادیب امرا کا ہے وہ امرا کا طرزِ بیان اختیار کرتا ہے، جو عوام الناس کا ہے وہ عوام کی زبان لکھتا ہے۔ ہمارا مدعا ملک میں ایسی فضا پیدا کرنا ہے جس میں مطلوبہ ادب پیدا ہو سکے اور نشو و نما پا سکے۔۔ ہم چاہتے ہیں کہ ادب کے مرکزوں میں ہماری انجمنیں قائم ہوں اور وہاں ادب کے تعمیری رجحانات پر باقاعدہ چرچے ہوں۔ مضامین پڑھے جائیں، مباحثے ہوں، تنقیدیں ہوں، جبھی وہ فضا تیار ہو گی، جبھی ادب کی نشاة ژانیہ کا ظہور ہو گا۔ ہم ہر ایک زبان میں ایسی انجمنیں کھولنا چاہتے ہیں تاکہ اپنا پیغام ہر ایک زبان میں پہنچائیں۔ یہ سمجھنا غلطی ہو گی کہ یہ ہماری ایجاد ہے۔ ملک میں اجتماعی جذبات ادیبوں کے دلوں میں موج زن ہیں۔ ہندوستان کی ہر ایک زبان میں اس خیال کی تخم ریزی فطرت نے اور حالات نے پہلے ہی سے کر رکھی ہے ۔ اس کے انکھوے بھی نکلنے لگے ہیں۔ اس کی آبیاری کرنا اس آئیڈیل کو تقویت پہنچانا ہمارا مدعا ہے۔ ہم ادیبوں میں قوتِ عمل کا فقدان ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے، مگر ہم اس کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ ابھی تک ہم نے ادب کا جو معیار اپنے سامنے رکھا تھا، اس کے لئے عمل کی ضرورت نہ تھی۔ فقدان عمل ہی اس کا جوہر تھا کیوکہ بسا اوقات عمل اپنے ساتھ تنگ نظری اور تعصب بھی لاتا ہے۔ اگر کوئی شخص پارسا ہو کر اپنی پارسائی پر غرّا کرے، اس سے کہیں اچھا ہے کہ وہ پارسا نہ ہو، رند ہو۔ رند کی شفاعت کی تو گنجائش ہے،پارسائی کے غرور کی تو کہیں شفاعت نہیں، بہر حال جب تک ادب کا کام تفریح کا سامان پیدا رکنا ، محض لوریاں گا گا کر سلانا، محض آنسو بہا کر غم غلط کرنا تھا، اس وقت تک ادیب کے لئے عمل کی ضرورت نہ تھی وہ دیوانہ تھا جس کا گم دوسرے کھاتے تھے مگر ہم ادب کو محض تفریح اور تعیش کی چیز نہیں سمجھتے۔ ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اترے گا ، جس میں تفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو جو ہم میں حرکت اور ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے، سلائے نہیں کیونکہ اب اور زیادہ سونا موت کی علامت ہو گی۔
___________________________________________________
انجمن ترقی پسند مصنفین ہند کا اعلان نامہ
(جو ۱۹۳۶ میں منظور ہوا تھا)
ہمارے ملک میں بڑی بڑی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ پستی اور رجعت پسندی کو اگرچہ موت کا پروانہ مل چکا ہے لیکن وہ ابھی تک بے بس اور معدوم نہیں ہوی ہے۔ نت نئے روپ بدل کر یہ مہلک زہر ہمارے تمدن کے ہر شعبہ میں سرائیت کرتا جا رہا ہے۔
اس لئے ہندوستانی مصنفوں کا فرض ہے کہ جو نئے ترقی پذیر رجحانات ابھر رہے ہیں ان کی ترجمانی کریں اور ان کی نشو نما میں پورا حصہ لیں۔
ہندوستانی ادب کی نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ وہ زندگی کی بیّن اور حقیقتی کیفیتوں سے جی چرانا چاہتا ہے۔ حقیقت اور اصلیت سے بھاگ کر ہمارے ادب نے بے بنیاد روحانیت اور تصور پرستی کی آڑ میں پناہ لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے عناصر قوےٰ مضمحل ہو گئے ہیں۔ اس کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ ہمارے ادب میں عقلیت مشکل سے پائی جاتی ہے۔
ہماری انجمن کا مقصد یہ ہے کہ ادبیات اور فنونِ لطیفہ کو قدامت پرستوں کی مہلک گرفت سے نجات دلائے اور ان کو عوام کے سکھ دکھ اور جد وہ جہد کا ترجمان بنا کر روشن مستقبل کی راہ دکھائے کہ جس کے لئے انسانیت اس دور میں کوشاں ہے۔
ہم ہندوستان کی اعلیٰ ترین روایتوں کے وارث ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس لئے زندگی کے جس شعبے میں ردِ عمل کے آثار پائیں گے، انہیں اختیار کریں گے۔ ہم اس انجمن کے ذریعے سے ہر ایسے جذبہ کی ترجمانی کریں گے جو ہمارے وطن کو ایک نئی اور بہتر زندگی کی راہ دکھائے۔
اس کام میں ہم اپنے اور غیر ملکوں کے تہذیب و تمدن سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان کا نیا ادب ہماری زندگی کے بنیادی مسائل کو اپنا موضوع بنائیے۔ یہ بھوک افلاس، سماجی پستی اور غلامی کے مسائل ہیں۔ ہم ان تمام آثار کی مخالفت کریں گے جو ہمیں لاچاری، پستی اور تواہم پراستی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
ہم ان تمام باتوں کو جو ہماری قوتِ تنقید کر ابھارتی ہیں اور رسموں اور اداروں کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتی ہیں، تغیر اور ترقی کا ذریعہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔
انجمن کے مقاصد یہ ہوں گے:
(۱) تمام ہندوستان کے ترقی پسند مصنفین کی امداد سے مشاورتی جلسے منعقد کر کے اور لٹریچر شائع کر کے اپنے مقاصد کی تبلیغ کرنا۔
(۲) ترقی پذیر مضامیں لکھنے اور ترجمہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا۔
(۳) ترقی پذیر مصنفین کی مدد کرنا۔
(۴) آزادیٴِ رائے اور آزادیٴِ خیال کی حفاظت کی کوشش کرنا۔