ادب >> اردو ادب >> حبیب جالب زندہ ہے: اصغر ندیم سید
ادب
حبیب جالب زندہ ہے۔۔۔۔!

تحریر: اصغر ندیم سید

ویسے تو ہر بڑا شاعر اپنی زندگی کے بعد اپنے فن کی زندگی بسر کرتا ہے جو ہزاروں سالوں پر پھیلی ہوئی ہو سکتی ہے۔ غالب، اقبال اور فیض کے حوالے سے تو یہ بات کی جا سکتی ہے کیا حبیب جالب کے متعلق یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس کا فن ہزاروں سالوں تک زندہ رہے گا؟ لیکن حبیب جالب کے ساتھ معاملہ فن کا نہیں ہے کیونکہ انہوں نے خود بھی اپنے فن کو کچھ خاص اہمیت نہیں دی تھی۔ حبیب جالب کو زندہ رکھنے کے لئے وہ مسائل ہی کافی ہیں جن پر وہ لکھتے رہے، لڑتے رہے، کڑھتے رہے، احتجاج کرتے رہے، ڈنڈے کھاتے رہے، گریباں چاک کراتے رہے۔ جب تک وہ مسائل زندہ ہیں حبیب جالب بھی زندہ ہے۔ وہ مسائل نہ صرف زندہ ہیں بلکہ پل پلا کے مشٹنڈے ہو چکے ہیں۔ عوامی رائے کی توہین ہو، مہنگائی ہو، آمریت کی مختلف شکلیں ہوں، غیر جمہوری اور غیرانسانی رویے ہوں، ظلم کے نئے طریقے ہوں، سب کچھ ویسے کا ویسا ہے اس لئے حبیب جالب ہمارے درمیان موجود ہے لیکن اب کے حبیب جالب کی برسی پر جو تقریریں ہوئیں اس میں الطاف قریشی کے انکشاف نے ہمیں چونکا دیا کہ جہانگیر بدر حبیب جالب کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ الطاف قریشی اتنا اہم راز اتنا عرصہ سینے میں چھپائے جہانگیر بدر کے ساتھ کیوں کام کرتے رہے۔ دوسری بات یہ کہ حبیب جالب کو جہانگیر بدر کے خون آشام پنجوں سے بچانے کے لئے وہ کیا کردار ادا کرتے رہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جہانگیر بدر ایسے شخص کو کیوں قتل کرنا چاہتے تھے جو اپنی جان کا خود ہی دشمن ہو۔ جو ہر وقت جان ہتھیلی پر لئے پھرتا ہو۔ جس نے جان کی نقدی حاتم طائی کی طرح لٹا دی ہواسے قتل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئے گی۔ اگرچہ جہانگیر بدر نے الطاف قریشی کو ایک مختصر مگر بہت ہی جامع جواب دے دیا ہے کہ پپو یار تنگ نہ کر، دیہاڑی لگا تے ڈنگ ٹپا۔ دیہاڑی لگانے کا تو سب کو پتہ ہے ، ڈنگ ٹپانے کا مطلب ہے اپنا ٹائم پاس کر یا ضرورت پوری کر۔ حبیب جالب کا پیپلز پارٹی سے محبت اور نفرت کا رشتہ تھا۔ جب انہیں سیاسی نظام اور جاگیرداروں پر غصہ آتا تھا تو اپنی بھڑاس پیپلز پارٹی پر نکال کے ٹھنڈے ہوجاتے تھے۔ جب انہیں زندہ رہنے کے لئے سہاروں کی ضرورت ہوتی تھی وہ پیپلز پارٹی کے جیالوں میں پناہ لیتے تھے۔ اب اتنے سالوں بعد الطاف قریشی نے اس سازش سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جہانگیر بدر نہ تو جاگیردار ہیں نہ وڈیرے اور نہ ہی سرمایہ دار تو حبیب جالب کا ان سے کیا پھڈا ہو سکتا ہے۔ میری معلومات کے مطابق حبیب جالب کے لئے جب بھی جمہوریت پسند سول سوسائٹی نے کوئی تحریک چلائی اس میں جہانگیر بدر کا تعاون شامل ہوتا تھا۔ اب ہو سکتا ہے پارٹی کی ہائی کمان کو جالب صاحب کی کسی بات پر غصہ آ گیا ہو اور انہوں نے جالب صاحب کو راستے سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہو۔ اس کام کے لئے جہانگیر بدر نے ہائی کمان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جالب صاحب کی سپاری لے لی ہو اور انہیں خلاص کرنے کے لئے پاک ٹی ہاؤس کے گرد چکر کاٹنے شروع کر دیئے ہوں تو کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان دنوں جالب صاحب کسی وجہ سے انڈر گراؤنڈ ہو گئے ہوں اور جہانگیر بدر پستول جیب میں رکھے چکر پہ چکر لگا رہے ہوں اور پاک ٹی ہاؤس میں جھانک کر دیکھتے ہوں اور انہیں وہاں سلیم شاہد، الطاف قریشی، نذیر ناجی، اسرار زیدی اور ظہیر کاشمیری بیٹھے نظر آتے ہوں۔ تو ایسے میں انہوں نے پارٹی ہائی کمان سے ضرور رابطہ کیا ہو گا کہ حبیب جالب تو مل نہیں رہے کہیں تو جو بیٹھے ہیں ان میں سے الطاف قریشی کو ٹپکا دوں۔ یقینا ہائی کمان میں سوجھ بوجھ کی کمی تھی ورنہ آج پارٹی کو الطاف قریشی کی وجہ سے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ لیکن ہو سکتا ہے الطاف قریشی کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہو جس کا صرف اسلم گورداسپوری کو علم ہو اور وہ عنقریب اسے منظر عام پر لا کر عوام کو حیران کر دے۔ ویسے جہانگیر بدر نے حبیب جالب کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کی ہو گی۔ شام کے بعد جالب صاحب کو جن ٹھکانوں پہ ہونا چاہئے تھا وہاں ضرور گئے ہوں گے۔ وہاں جاوید شاہین، منو بھائی اور سلیم شاہد تو ہوں گے ہی۔ کہیں پر پھر سے الطاف قریشی اور اسلم گورداسپوری بھی بیٹھے ہوں گے ایسے میں جہانگیر بدر کی پھرکی کا گھومنا حق بجانب ہے۔ انہوں نے ضرور ہائی کمان سے پوچھا ہو گا حبیب جالب تو نہیں ملا اس کی جگہ کسی اور کو ٹپکا دوں۔ خیر حبیب جالب کی جان تو بچ گئی مگر ظالم زمانے کے ہاتھوں تو نہیں بچی۔ گھات میں صرف جہانگیر بدر تو نہیں تھے قسمت بھی تو تھی۔ جالب صاحب اپنے حالات کا شکار ہو گئے اب الزام کس پر دھرنا ہے۔ جہانگیر بدر تو معصوم آدمی ہے جہاں کسی کارکن کے گھر آٹا نہیں ہوتا جہانگیر بدر وہاں موجود ہوتا ہے۔ جہاں کسی کارکن کے شہید جسد خاکی کا کفن نہیں ہوتا جہانگیر بدر موجود ہوتا ہے لیکن پھر وہ اپنے حلقے سے ہار گیا ہے۔ اس کی وجہ پارٹی ہے یا محترم محمد نواز شریف کی مقبولیت ہے۔ کیا پیپلز پارٹی اس سیٹ پر محترم نواز شریف سے سمجھوتہ نہیں کر سکتی تھی۔ خیر ہم اس بحث میں نہیں جاتے لیکن حبیب جالب نے یہ معاملہ صاف کر دیا ہے کہ جہانگیر بدر کیوں نہیں جیتے۔ ان کی پارٹی کے لوگ ان کے ساتھ نہیں تھے۔ کم سے کم الطاف قریشی صاحب تو نہیں تھے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ مخدوم امین فہیم کے وزیر اعظم بننے سے بڑا مسئلہ جہانگیر بدر کے الیکشن کا تھا جس میں ان کو جیتنے کے لئے پارٹی نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ہو سکتا ہے پارٹی نے کردار ادا کیا ہو لیکن پارٹی بے حد مصروف پارٹی ہے کیونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی شہادت کے بعد کسی سیٹ کو جتوانے کے لئے پارٹی کی کوئی حکمت عملی نہیں تھی۔ اب ایسے میں اگر جہانگیر بدر کی سیٹ نواز شریف صاحب کے جیالے کی نذر ہو گئی ہے تو ارمان نہیں ہونا چاہئے۔ آخر کو وہ بھی اپنے بھائی ہیں۔ اس وقت معاملہ یہ ہے کہ کون بھائی ہے ، کون بھائی نہیں ہے۔ کس نے ساتھ نبھانا ہے کس نے نہیں نبھانا۔ البتہ آج اگر حبیب جالب ہوتے تو یہی کہتے کہ یہاں انقلاب نہیں آ سکتا۔ مزدوروں اور غریبوں کی حکومت کبھی نہیں آ سکتی۔ اس کے ساتھ ہی وہ مخدوم امین فہیم کی حمایت کرتے کہ ان کے اس خاندان سے دیرینہ مراسم تھے۔ وہ آج کی اسمبلی کو دیکھ کر کہتے کہ بھٹو صاحب کی 1970ء کی اسمبلی میں مڈل کلاس اور کسی حد تک عام آدمی کی نمائندگی موجود تھی اور ایک سیاسی کارکن سوچ سکتا تھا کہ اگر وہ کام کرے گا تو اسے اسمبلی تک پہنچنے کے مواقع ملتے رہیں گے ۔ لیکن 2008ء کی اسمبلی ظاہر کرتی ہے کہ اب مڈل کلاس اور عام آدمی کی رسائی اسمبلی تک ممکن نہیں رہی۔ اسمبلی کے سامنے ممبران جن قیمتی گاڑیوں سے اترے وہ ثابت کرتی ہیں کہ صرف ایک ہی مراعات یافتہ طبقہ اسمبلی میں بیٹھ کر عوام کی قسمت کے فیصلے کرے گا۔ جس اسمبلی کے ممبران اپنے لئے بلٹ پروف گاڑیوں کی منظوری کے لئے بے چین ہوں وہ اسمبلی عوامی مفاد میں کیا کیا فیصلے کرے گی۔ عوام کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ حکومت مہنگائی کے لئے کیا اقدامات کرتی ہے۔ بے شک ہر ممبر بلٹ پروف ہو جائے کہ ان کی زندگی قیمتی ہے، عام آدمی بم دھماکوں کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے کے لئے سڑکوں پر موجود ہیں۔ بلٹ پروف ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو کیا کیا بلٹ پروف کریں گے۔ ایک ہی دفعہ پورے ملک کو بلٹ پروف کر دیا جائے لیکن اس کے لئے ان طاقتوں کا پتہ لگانا پڑے گا اور پھر ان سے مذاکرات کرنے پڑیں گے جو بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔ خدا کرے یہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے اور عوام کے سامنے جوابدہ ہونے کو اپنے لئے سعادت سمجھے۔ اور یہ بھی جان لے کہ حبیب جالب ابھی زندہ ہے اور ان کے خلاف نظمیں لکھ سکتا ہے کیونکہ وہ مسائل ابھی زندہ ہیں جن کے خلاف حبیب جالب شاعری کرتا تھا۔ حبیب جالب کے خلاف قتل کی سازش تیار کرنے سے پہلے ان مسائل کے خلاف قتل کی سازش تیار کرنی پڑے گی ۔ کیا یہ اسمبلی ایسا کر پائے گی۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2008. All rights reserved.