مجاز کا شمار جدید اردو شاعری کے بہتر شاعروں میں ہوتا ہے
اردو ادب کے کیٹس کہے جانے والے شاعر اسرار الحق مجاز کی یاد میں دلی میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔
مجاز کی یاد میں ڈاک ٹکٹ جاری کرتے ہوئے ہندوستان کے نائب صدر حامد انصاری نے کہا کہ مجاز کا کردار رنگین تھا اور ان کی شاعری کی گونج اپنے زمانے میں سب سے بلند تھی۔
مجاز کو لکھنؤ بےحد پسند تھا اس لیے ان کے نام پر جاری کیے گئے ڈاک ٹکٹ پر لکھنؤ کی اسکائی لائن بنائی گئی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ان کا لکھا ترانہ آج بھی گایا جاتا ہے اس لیے ٹکٹ پر علی گڑھ یونیورسٹی کی تصویر بھی بنی ہے۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شکیل احمد نے کہا کہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ایک ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ان سے پوچھا کہ مجاز پر جاری کیے جانے والے ٹکٹ کا کیا ہوا؟ ’مجاز کے نام پر ٹکٹ میں وزیر اعظم کی دلچسپی دیکھنے کے بعد یہ کام جلد از جلد کیا گیا‘۔
مجاز 19 اکتوبر 1911 میں اترپردیش کے بارہ بنکی ضلع کے رودولی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی یاد میں منعقدہ تقریب میں اسرار الحق مجاز کی بہن حمیدہ سلیم بھی موجود تھیں۔ انہوں نے مجاز کے بچپن، سگریٹ نوشی کے ان کے شوق، بچوں سے ان کے لگاؤ کی باتیں بتائیں۔ بھائی کے نام پر ٹکٹ جاری ہونے پر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر مجاز کے بھانجے اور مشہور نغمہ نگار جاوید اختر نے مجاز کی شاعری اور ان کے لکھنے کے انداز پر تذکرہ کیا۔