نظم لکھی بھی جاتی ہے اور سنی بھی جاتی ہے۔ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو لکھتے تو اچھا ہیں مگر سنانے کے فن سے ناواقف ہوتے ہیں اور اس طرح جو کلام کاغذ پر لبھاتا ہے وہی سامعین کے درمیان آکر تھکا تھکا سا لگتا ہے۔ جو نثار نرم لہجے کے اچھے رومانی شاعر تھے ان کے اکثر اشعار اس زمانے میں نوجوانوں کو پسند آتے تھے، کالج کے لڑکے لڑکیاں اپنے محبت ناموں میں ان کا استعمال بھی کرتے تھے جیسے۔
دور کوئی رات بھر گاتا رہا
ترا ملنا مجھے یاد آتا رہا
چھپ گیا بادلوں میں آدھا چاند روشنی چھن رہی ہے شاخوں سے
جیسے کھڑکی کا ایک پٹ کھولے جھانکتا ہے کوئی سلاخوں سے
لیکن اپنی میمیاتی آواز میں لفظوں کو الاسٹک کی طرح کھینچ کر جب وہ سناتے تو لوگ تالیاں بجانے لگتے تھے۔ جو نثار اپنی دھن میں آنکھیں موندیں پڑھے جاتے تھے اور سامعین اٹھ کر چلے جاتے تھے۔ اس معاملے میں سمن جی کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ صرف سناتے نہیں تھے، آواز کے اتار چڑھاؤ اور آنکھوں اور ہاتھوں کے اشاروں سے وہ سماں باندھتے تھے کہ سننے والے ان کی شاعری سے زیادہ ان کے ڈرامائی انداز پر فدا ہوجاتے تھے۔ سمن جی کی اس ڈرامائی پیشکش کے سامنے اگر کوئی اور نام یاد آتا ہے تو وہ ہے کیفی اعظمی کا۔
کیفی اعظمی بڑے بڑے ترنم باز شاعروں کے ہوتے ہوئے اپنے پڑھنے کے انداز سے مشاعروں پر چھا جاتے تھے۔کیفی اعظمی کو بھی قدرت نے سمن کی طرح شکل و صورت سے کافی پر کشش بنایا تھا۔ لمبا قد اور بھاری صاف آواز کے ساتھ ان دونوں کو سننا، ان دنوں کی میری خوبصورت یادیں، کیفی اعظمی بڑے بڑے ترنم باز شاعروں کے ہوتے ہوئے اپنے پڑھنے کے انداز سے مشاعروں پر چھا جاتے تھے۔ ایک بار گوالیار کے میلہ منچ سے کیفی اعظمی اپنی نظم سنا رہے تھے
تجھ کو پہچان لیا
دور سے آنے، جال بچھانے والے
دوسری لائن میں ' جال بچھانے والے' پڑھتے ہوئے ان کے ہاتھ کا اشارہ گیٹ پر کھڑی پولیس والوں کی طرف تھا۔ وہ بے چارہ سہم گیا۔ اسی وقت گیٹ کریش ہوا اور باہر کھڑی جنتا اندر گھس آئی اور پولیس والا ڈرا ہوا خاموش کھڑا رہا۔
بھیڑ کے اس ہنگامے کو بھی کیفی کی پاٹدار آواز نے خراب نہیں ہونے دیا۔ بزرگوں کی زبانی سنا ہوا گوالیار کا ایک واقعہ یاد آتا ہے، ناراین پرساد مہر اور مضطر خیرابادی گوالیار کے دو استاد شاعر تھے، مہر صاحب داغ کے شاگرد اور ان کے جانشین تھے، مضطر صاحب داغ کے ہم عصر امیر مینائی کے شاگرد تھے۔
دونوں استادوں میں اپنے استاد کو لےکر چپقلش رہا کرتی تھی، دونوں اپنے اپنے شاگردوں کے ساتھ مشاعروں میں آیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی تعریف نہیں کرتے تھے۔۔۔ مضطر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شعر اس طرح سناتے تھے کہ شعر تصویر بن جاتا تھا، مضطر نے شعر سنایا:
زمانہ روٹیوں پر فاتحہ مردوں کی دیتا ہے
ہمارے واسطے لایا ہے وہ شمشیر کے ٹکڑے
مضطر نے شعر اس طرح پیش کیا کہ مہر صاحب ساری رنجشیں بھول کر شعر سنتے ہی لوٹ پوٹ ہو گۓ اور چیخ چیخ کر داد دینے لگے، مشاعرہ ختم ہونے کے بعد جب ان کے شاگردوں نے انہیں وہی شعر پھر سنایا تو وہ بولے کہ شعر واقعی برا ہے لیکن وہ کمبخت اس طرح سنارہا تھا کہ اچانک مجھے اپنی بیوی کی یاد آگئی جو گزشتہ کئی دنوں سے علیل تھی۔ ناراین پرشاد نےاس بحر میں جو غزل سنائی تھی اسکا مطلع یوں تھا:
ملے ہیں مجھکومیرے خواب کی تعبیر کے ٹکڑے
مجھے بھیجے ہیں اس نے میری ہی تصویر کے ٹکڑے
مضطر جانثار اختر کے والد اور نغمہ نگار جاوید اختر کے دادا تھے۔