ادب >> اردو ادب >> حبیب جالب کی برسی
ادب
عوامی امنگوں کے ترجمان شاعر حبیب جالب کی برسی کے موقع پر دانشوروں کا اظہار خیال

پاکستان اپنے قیام کے دس سال بعد ہی آمریت کے قبضے میں چلا گیا۔ 1958ء میں لگنے والے مارشل لاء کے بعد عوام کا حق حکمرانی خواب بن گیا۔ جمہوری قوتوں کو دیوار سے لگانے کیلئے فوجی حکمران ایوب خان نے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں ۔ اخبارات کو بھی حکومت کی جانب سے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کیلئے لائے جانیوالے کالے قوانین کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دور میں جو کوئی بھی آمریت کیخلاف آواز بلند کرتا اسے پابند سلاسل کر دیا جاتا۔ حکمران کسی سمت سے بھی اپنے خلاف کوئی بات سننا نہیں چاہتے تھے۔ حکومت کے منفی ہتھکنڈوں کے باعث کئی ادیبوں شاعروں اور صحافیوں نے چپ سادھ لی۔ اس حقیقت سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے کہ ایوب دور میں کلمہ حق کہنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ اس دور کو "صحافت کش" قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ تاہم ہر دور کے فرعون کیلئے خدا موسیٰ بھی بھیج دیتا ہے۔ ایوب خان کی فرعونیت کے سامنے دو شاعروں فیض احمد فیض اور حبیب جالب نے موسیٰ کی پیروی کرتے ہوئے بغاوت کر دی۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن عوام کے ضمیروں کو حکمرانوں کیخلاف جھنجھوڑتے رہے۔
حبیب جالب 28ء فروری 1928ء کو میں پیدا ہوئے۔ جالب صاحب کو صدر ایوب کے دور میں آمریت کیخلاف نظم "دستور" لکھنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ اس نظم کے چند اشعار :
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لیکر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
عوام نے جان لیا تھا کہ جالب ایوب خان کے اقتدر کو اپنے قلم کے زور سے ہلا کر رکھ دے گا۔ مشرقی پاکستان میں جب فوج کشی کے موقع پر حبیب جالب نے اپنے اشعار کے ذریعے خبردار کر دیا تھا کہ ہم اپنا بازو گنوا دیں گے۔ اس موقع پر ان کی نظم "محبت گولیوں سے بو رہے ہو؟" حقیقت جاننے کے لئے کافی ہے:
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
اس نظم پر بھی یحییٰ خان کے دور حکومت میں جالب صاحب کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ حبیب جالب کی شاعری کی یہ خصوصیت تھی کہ اسے عام خواندہ شخص جو صرف اردو پڑھ یا سمجھ سکتا تھا بآسانی سمجھ جاتا۔ پاکستان کے تیسرے آمر ضیاء الحق کے دور میں بھی جالب کا قلم سچ لکھتا رہا۔ ایک موقع پر انہوں نے شعر کہا کہ:
یہ تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے
یہ اس کا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے
مؤرخ ڈاکٹر مبارک علی نے کہا تھا کہ جالب پاکستان کے قومی شاعر ہیں ۔ حبیب جالب کو عوامی شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ساری زندگی مالی مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب جالب صاحب کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے تو معافی ناموں کے خلاف مشہور نظم "مشروط رہائی" لکھی۔ جس کے ابتدائی اشعار تھے:
دوستو جگ ہنسائی نہ مانگو
موت مانگو رہائی نہ مانگو
عمر بھر سر جھکائے پھرو گے
سب سے نظریں بچائے پھرو گے
اس نظم کے بعد انہیں میانوالی جیل منتقل کر دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید 1986ء میں پاکستان آئیں تو جالب نے کہا۔
"بلوانوں کے پڑے ہیں پالے ایک نہتی لڑکی سے"
حبیب جالب کے بارے عام تاثر یہی ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ نہیں بناتے تھے لیکن یہ تاثر غلط ہے۔ بے نظیر کی جلاوطنی کے بعد ملک واپسی پر جب یہ تاثر عام ہوا کہ ان کی واپسی میں امریکہ نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے تو جالب نے "کڑے" لکھی:
نہ جا امریکہ نال کڑے
ایہہ گل نہ دیویں ٹال کڑے
بے نظیر بھٹوجب حکومت میں آئیں تو بھی حبیب جالب اپنا فرض پورا کرتے رہے۔ اس موقع پر نظم لکھی "دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے"
نظم کے چند اشعار:
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
اپنا حلقہ ہے حلقۂ زنجیر
اور حلقے ہیں سب امیروں کے
میاں محمد نوازشریف کے دوسرے دور حکومت میں 12 اکتوبر 1999ء میں جب جنرل پرویزمشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو حبیب جالب کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔ صدر مشرف کے دور میں کوئی ایسا شاعر نہیں جس نے ان کی کمی کو پورا کیا ہو۔ سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا مقدمہ جب سپریم کورٹ میں جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں زیرسماعت تھا تو رمدے صاحب نے دوران سماعت کہا کہ "حبیب جالب کو تو سونے میں بھی تولا جائے تو کم ہے"
حبیب جالب کی برسی کے موقع پر ہر سال تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ رواں سال لاہور میں اس سلسلے میں دو تقریبات منعقد کی گئیں ۔ پہلی تقریب لاہور پریس کلب میں جبکہ دوسری تقریب کا اہتمام معروف شاعر خواجہ پرویز نے الحمرأ کیا۔ اس تقریب کی صدارت حبیب جالب کی اہلیہ ممتاز حبیب جالب نے کی۔ ممتاز بیگم آجکل لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔ انہیں تقریب میں شرکت کرنے کیلئے خاصی تکلیف برداشت کرنا پڑی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میں خواجہ پرویز کی مشکور ہوں جنہوں نے مجھے بیماری کی حالت میں ہسپتال داخل کروایا جبکہ معروف قانون دان سعادت حسن منٹو اور نامور ادیب افتخار عارف اور عطاء الحق قاسمی نے بھی میرے خاندان کے ساتھ بہت تعاون کیا۔ انہوں نے یہ شعر سنا کر حاضرین کے جذبات کی عکاسی کی کہ:
جانے والے تیری یاد بہت آتی ہے
گھورتی ہے تنہائی بے بسی ستاتی ہے
نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کیلئے جدوجہد کرنے والوں میں حبیب جالب کا نام نمایاں ہے۔ دنیا بھر میں جب بھی آمریت کیخلاف جدوجہد ہوگی تو حبیب جالب اور فیض احمد فیض روشنی کا مینار ثابت ہوں گے۔ جالب نے ایوب خان کیخلاف فاطمہ جناح کا ساتھ دے کر عوام کے دل جیت لئے تھے۔ این پی کے مرکزی رہنما احسان وائیں نے کہا کہ حبیب جالب پسماندہ طبقے کے نمائندہ تھے۔ برصغیر کیلئے ان کی جدوجہد مثالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جالب کا خاندان بھی ان کے راستے پر ہے۔ پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ریما خان نے کہا کہ میرے لئے سعادت کی بات ہے کہ مجھے اس تقریب میں مدعو کیا گیا۔ جالب کے بارے میں اظہار خیال کیلئے ایک صدی چاہئے۔ وہ سچے شاعر تھے۔ ان کو پابند سلاسل کر لیا گیا لیکن ان کے قلم کو حکمران پابند سلاسل نہیں کر سکے۔ فلموں کیلئے بھی ان کی شاعری کی الگ شناخت ہے۔ فلم "نگر" اور "امن" کیلئے ان کے لکھے گیت آج بھی یاد کئے جاتے ہیں ۔ ان کی بلند قامت شخصیت کی شناخت کی وجہ ان کا کلام ہے۔ وہ جہادی اور انقلابی شاعر تھے۔ معروف اداکارہ مصطفی قریشی نے کہا کہ جالب شعر پڑھ کر مشاعرے لوٹ لیا کرتے تھے۔ ان کا کلام ہر دور میں ہوگا۔ انہوں نے بھٹو کی پالیسیوں کیخلاف بھی لکھا۔ جالب عوامی شاعر تھے۔ اقبال کی شاعری سمجھنے کیلئے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے جبکہ جالب انتہائی آسان زبان میں شاعری کرتے تھے۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے

Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian, Site Maps
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Day gifts to Pakistan. Gifts for Eid, gifts for Eid, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz ,Valentine's Day gifts, valentine day, lovely gifts, pakistani love gifts, send gifts to Pakistan

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.