Send FREE SMS to Pakistan, Web SMS to Ufone, Warid, Jazz, Mobilink, Telenor, Zong, Paktel, Instaphone, Zem, Zahi, Telenor, Djuice, VPtcl, PTCL, Worldcall Wireless... 100% delivery free
 

ادب >> نیا اضافہ
ادب
ابوالکلام

افسانوی ادب کا ترجمہ

افسانہ ایک ایسی تحریر ہے، جس میں جادوئی خصوصیات پائی جاتی ہوں۔ عرفِ عام میں افسانوی ادب یا افسانہ ایک ایسا فن پارہ ہے جس میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کا کوئی ایک جادوئی پہلو موثر طریقے سے موثر زبان و بیان میں موزوں ترکیب و تکنیک کے ساتھ تخلیق کار کے عرفان و انبساط سے گزر کر قارئین کے لیے معرض وجود میں آیا ہو۔ترجمہ ایک ایسا پیچیدہ اور مشکل عمل ہے جس کے ذریعے کسی تصنیف کو اس کی اصل زبان سے جملہ خصوصیات کے ساتھ کسی دوسری زبان میں کچھ اس طرح سے منتقل کرنے کا نام ہے جس کے باو صف ترجمے کی زبان میں اصل تصنیف دوبارہ اپنی اصل شکل میں آ جائے۔تجارت کی طرح مختلف قوموں اور ملکوں کے درمیان بھی تہذیبی لین دین کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ دنیا کی کوئی تہذیب اس بات کا دعوی نہیں کرسکتی کہ وہ خالص ہے اور اسے کسی دوسری تہذیب میں ایسے عناصر نظر نہیں آتے، جن کی طرف اس نے شوق اور رشک آمیز تجسس کے ساتھ نہ دیکھا ہو۔تہذیب کے دوسرے پہلوﺅں کے مقابلے میں ادب میں یہ بات زیادہ نمایاں ہوتی ہے کیوں کہ رقص، موسیقی اور مصوری کی نقل اتارنے کے مقابلے میں خیالات کو اپنی زبان اور الفاظ میں ڈھال لینا آسان ہوتا ہے۔ اس لیے ایک ادیب دوسرے ادیب سے وہ چیزیں اپنے یہاں منتقل کر لیتا ہے، جنھیں وہ کسی نہ کسی حیثیت سے اپنے ادبی مزاج سے ہم آہنگ پاتا ہے۔

اردو میں دوسری زبانوں سے ترجمے کا کام تو اردو کی ابتدا ہی سے شروع ہو چکا تھا۔ کلاسیکی روایت میں تقلیدی زاویہ ¿ نظر کی اہمیت کے تحت ترجموں کی حیثیت بھی تخلیقی فن پاروں کے برابر تھی۔ تاریخی لحاظ سے دیکھیے تو احیاءالعلوم کی تحریکوں کے پیچھے یا کسی قوم کے فکری اور شعوری ارتقا میں ہمیں ترجموں کا رول بہت نمایاں نظر آتا ہے۔ خلافت عباسیہ کے زمانے میں یونانی علوم کے تراجم،یورپی احیاءالعلوم کی تحریک کے پس منطر میں اسلامی علوم کے تراجم،یہ دونوں صورتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ فکر و شعور کی بلندی اور تہذیبی تحریک میں ترجمے خاص رول ادا کرتے ہیں۔ خود ہماری زبان میں سرسید کے دور کی فکری فضا میں، بعد ازاں رومانوی دور میں، اور پھر ترقی پسند تحریک کے زمانے میں ترجمے ہوئے اور بہت ہوئے۔ ان تراجم کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ پورا عہد تہذیبی اور ثقافتی تحریک کا عہد رہا ہے اگرچہ مغربی ادب سے ترجمے انیسویں صدی میں شروع ہوئے۔ ان ترجموں میں بھی مختصر افسانوں کی نوبت بہت دیر میں آئی۔افسانے کو بعض نقادوں نے ادب اور صحافت کے درمیان کی ایک صنف قرار دیا ہے۔مختصر اردو افسانے پہلے رسالوں ہی کی زینت بنے۔ لاہور سے مخزن، کانپور سے زمانہ، آگرہ سے نگار، دہلی سے صلائے عام جیسے اہم رسائل نکلنے شروع ہوئے تو بعض یورپی افسانوں کے ترجمے بھی ان میں شائع کیے گئے۔ ان ترجموں کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ان کے اثر سے خود اردو کے ادیب افسانہ نگاری کی جانب مائل ہوئے۔ سجاد حیدر یلدرم اور سعادت حسن منٹو نے طبع زاد افسانے لکھنے سے پہلے ترجموں کی طرف توجہ کی اور منٹو نے اپنے ترجموں کا مجموعہ ’روسی افسانے‘ کے عنوان سے لاہور سے شائع کیا۔

اگران رسالوں کی ورق گردانی کی جائے تو ایسے متعدد افسانے ملیں گے جو مغربی زبانوں سے لیے گئے ہیں اور یا تو انھیں جوں کا توں رکھا گیا ہے یا پھر ہندوستانی لباس پہنایا گیا ہے۔ مشکل ہی سے کسی جگہ یہ معلوم ہوگا کہ یہ ترجمہ کس کا ہے اور کس زبان سے لیا گیا ہے۔ شروع میں سر عبدالقادر، ظفر علی خاں، سجاد حیدر یلدرم اور نیاز فتح پوری نے بھی مختلف زبانوں سے ترجمے کیے۔تخلیقی عمل کے لیے مطالعہ، مشاہدہ، تجربہ اور فنی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جذبات و احساسات کی شدت سے متصف تخلیق کار کو ایک تخلیقی کرب سے گزرنا پڑتا ہے، تب جا کر کہیں آمد کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور معیاری ترجمے بالخصوص ادبی ترجمے کو آمد سے چل کر آورد سے ہوتے ہوئے آمد کی شکل وصورت اختیار کرنی پڑتی ہے۔ اسی نوعیت کے ترجمے کو تخلیقی ترجمہ کہا جاتا ہے جس میں زبان و بیان، اسلوب اور فن کی نزاکتوں اور لطافتوں کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔علوم کا ترجمہ کرتے وقت بھی تخیل کی ضرورت ہوتی ہے کیوںکہ تخیل میں پرواز کر کے مماثلات اور بہتر مترادفات تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ افسانوی ادب کے ترجمے کی صورت میں دو مختلف تہذیبیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتی ہیں۔ ایک تہذیبی سانچے کو دوسرے تہذیبی سانچے میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ ہر زبان کا لفظ اپنی اپنی تہذیب کا نمائندہ ہوتا ہے۔ لفظوں کے مرادفات اور مترادفات کے معنوی فرق کی جھلکیوں کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہوتا ہے۔لفظوں کو آپس میں جوڑنے سے جملے کی ساخت بنتی ہے۔ جملے کے الفاظ بعض اوقات ایک دوسرے سے مل کر نئے معنیاتی نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔ ہر جملے کا ایک آہنگ ہوتا ہے۔ پھر جملے آپس میں مل کر اسلوب کی تشکیل کرتے ہیں۔بعدازاں پورے افسانے یا ناول میں ایک فضا کی تعمیر ہوتی ہے۔ لہٰذا افسانوی ادب کے ترجموں میں ترجمہ محض لفظ کا نہیں ہوتا۔ جملوں کی ساخت، معنیاتی نظام اور آہنگ نیز اسلوب کی زیریں لہروں کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ مزید برآں وحدت تاثر کی شدت کو بھی اپنی زبان میں منتقل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ ایک مزید اہم بات یہ کہ ناول یا افسانے کی تہذیبی فضا کے پیش نظر ایسی موزوں لفظیات سے کام لینا پڑتا ہے جو ترجمے میں پوری فضا کو منتقل کر سکے۔

جب آپ کسی افسانوی فن پارے کا ترجمہ کرنے کے لیے سوچیں تو پہلے آپ اس فن پارے کا متعدد بار مختلف زاویوں سے بغور مطالعہ کریں مشکل الفاظ و اصطلاحات کی فہرست بنائیں۔ ان کے موزوں ترین مرادفات اور مترادفات کے لیے لغت اور فرہنگ سے رجوع کریں۔ اس کے بعد اس فن پارے کے موضوعات اور تانے بانے پر گہری نگاہ رکھیں۔ اس کے بعد پلاٹ کی تہوں اور پیچیدگیوں تک رسائی حاصل کریں۔ واقعات کے نشیب و فراز اور ان میں شامل کرداروں کی نفسیات اور ان کی قدروں سے بخوبی واقف ہوں۔ ہر کسی افسانوی فن پارے کے واقعاتی پلاٹ کے علاوہ اس کا ایک جغرافیائی پلاٹ بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا ان مقامات کے تمام پہلوﺅں سے باقاعدہ آگہی ضروری ہے۔ اس لیے کہ مقامات کے بدلتے ہی زبان ، بولی، لہجے اور رہن سہن کے طور طریقے بدل جاتے ہیں۔ مزید برآں ان تمام پہلوﺅں کو برتنے کے لیے جوزبان ، اسلوب اور تکنیک استعمال کی گئی ہے ان کی زیریں لہروں اور رموز کو بڑی تندہی سے سمجھنا اور ترجمے کی زبان میں ان کو ڈھالنا ایک اچھے اور معیاری ترجمے کے لیے لازم ہے، نیز اظہاری جہتوں اور متنی صورتوں اور سیرتوں کے ساتھ ساتھ وحدتِ تاثر کی شدت کی منتقلی کا اہتمام بھی اشد ضروری ہے۔ نہیں تو ترجمے کا مقصدہی فوت ہو جائے گا۔

جب ہم کسی افسانوی فن پارے کا ترجمہ کرتے ہیں تو جس طرزِ اظہار سے وہ متصف ہے اس کے سارے نشیب و فراز سے گزرتے ہیں ۔ انھیں ہم اتنا قریب سے دیکھتے ہیں کہ وہ سب کچھ ہمارے شعور کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ترجمے میں دو تہذیبیںہی نہیں بلکہ دو مختلف اصناف و روایات بھی ایک دوسرے کے مقابل ہوتی ہیں۔دنیا کے بیشتر افسانوی ادب میں مافوق الفطری، اساطیری اور دیومالائی عناصر ضرور پائے جاتے ہیں اور ان کے مطالعے سے انسانی اذہان و قلوب کے آغازو ارتقا کا پتہ چلتا ہے ساتھ ہی تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے قوموںاور ملکوں کے ارتقا کے مدارج سے واقفیت حاصل ہوتی ہے اور یہ آگہی ہر کس و ناکس کو نہیں ہو سکتی کیوں کہ ہر شخص مختلف زبانیں نہیں جان سکتا ہے۔عام طور پر دیکھا جائے تو افسانوی ادب کے ترجمے کی مشکلات بھی کم و بیش وہی ہیں جو کسی بھی غیر زبان کی تحریر کو ترجمے کی زبان میں منتقل کرتے وقت ہوتی ہیں۔تاہم افسانوی ادب کے تراجم مترجمکے لیے خاص صلاحیتوں کا تقاضا کرتے ہیں اور وہ یہ کہ محاورے اور فقرے کی سطح کی ذو زبان دانی کے ساتھ ساتھ اس میں تخلیقی فنکاروں کا سا تخیل بھی ہو۔مرزا یگانہ چنگیزی نے اپنی تصنیف آیاتِ وجدانی میں فراق گورکھپوری کے نام ایک خط میں یہ لکھا ہے کہ آپ سوچتے انگریزی میں اور لکھتے اردو میں ہیں۔ مرزا غالب بھی سوچتے فارسی میں اور لکھتے اردو میں۔ اور آج کے زمانے میں لوگ یہی الزام قرة العین حیدر پر لگاتے ہیں۔ مرزا یگانہ زبان کے سلسلے میں لکھنوی دبستان کی طہارت پسندی کے قائل تھے۔ انھوں نے اس حیاتیاتی اصول پر غور نہیں کیا کہ طاقت اور حسن دونوں نسلی امتزاج سے پیدا ہوتے ہیں۔اور زبانوں پر بھی یہی اصول منطبق ہوتا ہے۔ فراق اور غالب کیا، ہر بڑے شاعر کی بڑائی اس میں ہے کہ وہ اس حیاتیاتی اصول کو اپنی شاعری میں کس حد تک برتتا ہے۔ لہٰذا فراق اور غالب کی جو خاصیت مرزا یگانہ نے بتائی ہے یہی خاصیت مترجم کی بھی ہونی چاہیے۔ یعنی یہ کہ وہ دونوںزبانوں میں سوچ سکے یہی تخلیقی خاصیت مترجم کو اس قابل بناتی ہے کہ افسانوی ادب کا ترجمہ کرتے وقت اپنے تخیل کی مدد سے خود کو دونوں زبانوں میں اسی طرح جذب کر سکے کہ اپنی زبان میں دوسری زبان کی روح اور جسم دونوں کو منتقل کر سکے۔ ظاہر ہے کہ یہاں روح سے مراد معنوی جہتیں اور جسم سے مراد اظہار کی مختلف صورتیں ہیں۔مزید برآں وحدت تاثر کی شدت کا منتقل ہونا بھی اشد ضروری ہے۔ اس سے زبان کی معنوی اور اظہاری جہتوں میں اضافہ ہوگا نیز اس میں تنوع کے ساتھ ساتھ انفرادیت بھی پیدا ہوگی۔ ترجمہ کرتے وقت اپنی زبان کے محاوروں اور روز مرہ کا خیال رکھنا لازمی ہے۔ مگر دوسری زبان سے ترجمہ کرتے وقت اکثر اس زبان کے محاورے اور روز مرہ کے ترجمے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ علاوہ ازیں افسانوی ادب کے ترجمے میں فقروں کے آہنگ اور اسلوب کا ترجمہ بھی ہونا چاہیے اور ناول یا افسانے کی پوری فضا بھی منتقل ہونی چاہیے۔ ایسی ہی صورت میں ترجمہ تخلیقی سطح کا حامل ہو سکتا ہے۔ نتیجتاً ایسے ترجمے میں، کچھ نہ کچھ اجنبیت اور کھردرے پن کا ہونا لازمی امر ہے۔

عسکری صاحب نے فلابیر، استنذال اور میلوِ ل کو ’قرة العین حیدر نے ہنری جیمس کو اور انتظار حسین نے ترگنیف کو اردو میں اس طرح سمویا ہے کہ اردو افسانوی ادب کی فضا ان مختلف رنگوں سے نکھر گئی ہے۔مترجم کے لیے لازمی ہے کہ وہ وسیع مطالعے کا اعلیٰ ذوق رکھتا ہو اور تخیل کی بلند پرواز رکھتا ہوتا کہ وہ ترجمے کے دوران اصل مصنف کی زبان اور اسلوب کے شانہ بشانہ چل سکے۔شاہد احمد دہلوی اور خواجہ منظور حسین کو ہم اسی زمرے میں رکھ سکتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ سعادت حسن منٹو ،محمد حسن عسکری، قرةالعین حیدر اور انتظار حسین جیسے معروف فنکاروں کو ترجمہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بہ الفاظ دیگر افسانوی ادب کا ترجمہ، فن افسانہ نگاری کی کس ضرورت کو پورا کرتا ہے، ایک سامنے کی بات یہ ہے کہ اعلیٰ ادب کے تراجم سے فنکار کی اپنی زبان میں ایسی ادبی فضا پیدا ہوتی ہے جسے خود فنکار قائم کرنا چاہتا ہے۔ لیکن تخلیقی فنکار دوسری زبان کے لفظوں کے جادو کو بھی اپنی لفظیات میں جگانا چاہتا ہے۔ فقروں کی ساخت اور اسلوب کے جوہر کو منتقل کرتے وقت وہ خود اپنی زبان کو نئے معنی و آہنگ ، نئی وسعتوں، اظہار کی نئی صورتوں اور جدید افسانوی فضاﺅں سے آشنا کرتا ہے۔ تراجم کے ذیل میں سب سے بڑا مسئلہ وہ ذہنی رویہ ہے جو ترجموں کو ذہنی اختراع کے مقابلے میں ثانوی حیثیت عطا کرتا ہے اور یہ صورت حال رومانوی تحریک سے پیدا ہوئی جس نے ذہنی اختراع کو تراجم کے مقابلے میں ثانوی درجے کا ذہنی عمل قرار دیا، ہنوز یہ تصور عام ہے کہ ترجمہ نگاری میں اختراعِ ذہن کا کوئی عمل دخل نہیں یہی وجہ ہے کہ ترجمے کی حیثیت تخلیقی فن پاروں کے برابر نہیں ۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2008. All rights reserved.