نابغہ روز گار،مجدّد نعت حفیظ تائبؼکی یاد میں
کاظِم جعفری
نابغہ روزگار الحاج پروفیسر حفیظ تائبؼ کا نامِ نامی نعت گوئی کا اہم ترین حوالہ ہے۔ اُن کی تخلیقی زندگی کا زیادہ حصہ بھرپور انداز سے نعت گوئی معاصر میں صرف ہوا۔ اُنھوں نے نعت گوئی ٟاُردو اور پنجابی دونوں زبانوں میںٞ اس باکمال اور شائستہ طریقے سے کی کہ اُنھیں اُن کی زندگی میں ہی نعت کے حوالے سے اعلیٰ وکلاسیک درجہ حاصل ہوگیا ۔ اُن کی نعتوں میں جازبیت، اخلاص اور تاثیر بدرجہ اتم موجود ہے۔ جس سے نہ صرف اُن کی نعتیہ شاعری بل کہ بحیثیت مجموعی معاصر اُردو نعت گوئی کو بے حد ترقی ملی، اُنھوں نے خود کو مدحت رسالت مآب ۖ کے لیے وقف کر رکھا تھا۔اُنھوں نے نہ صرف خود نعتیں لکھیں بلکہ معاصر شُعرا کرام کو بھی نعت گوئی کی طرف راغب کیا۔ تائبؼ صاحب کی وفات سے معاصر نعت گوئی کے میدان میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ آج تک پُر نہیں ہوسکا،اُن کی عدم موجودگی آج بھی ایک تشنگی کا احساس دلاتی ہے۔
حفیظ تائبؼ کی گزشتہ روز پانچویں برسی کے موقع پر حفیظ تائبؼ فاونڈیشن کے سر پرست اور اُن کے حقیقی بھائی عبدالمجید منہاس نے نعت کنونشن کا اہتمام کیا۔جس میںمعروف نعت خواں حضرات نے تائب صاحبؼ کی نعتیں پڑھیں اور اُن کی یاد کو تازہ کیا۔ تائبؼ صاحب کی برسی کی مناسبت سے مشاہیر و معاصر ناقدین کی طرف سے اُن کے فن وشخصیت کے حوالے پیش کیا گیا خراج عقیدت نذر قارئین ہےٜ
احمد ندیم قاسمی ٜ نے اپنی زندگی میں حفیظ تائبؼ صاحب کو منفرد انداز میں خراج عقیدت پیش کیا تھا جو آج بھی ایک سندکی حیثیت رکھتا ہے۔ اُنھوں نے کہاٜ ٴٴ مَیں نے فارسی اُردو اور پنجابی کی بے شمار نعتیں پڑھی ہیں، اُن میں آنحضرتػ سے عقیدت اور عشق کا اظہار تو جابجا ملتا ہے مگر حفیظ تائبؼ کے ہاں اِس عقیدت اور عِشق کے پہلو بہ پہلو مَیں نے جو ندرت اظہار دیکھی ہے، اُس کی مثال کم ہی دستیاب ہوگی، الفاظ وہی ہیں جو دیگر نعت گو اصحاب نے استعمال کیے ہیں مگر الفاظ کی ترتیب اور اُن کے استعمال کا جو سلیقہ قدرت کی طرف سے حفیظ تائبؼ کو ودیعت ہوا ہے وہ مفاہیم کی اتنی پرتیں کُھولتا چلا جاتا ہے اور الفاظ جذبے کی اتنی گہرائی میں اُترتے چلے جاتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے شاعر نے اُن الفاظ میں کوئی طلسم پھونک دیا ہےٴٴ۔
ڈاکٹر وحید قریشیٜکا خراج عقیدت بھی حفیظ تائبؼ کے فن نعت گوئی کے ایک دلنشین پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے، وہ کہتے ہیںٜ ٴٴدوسرے نعت نگاروں کے مقابلے میں اُنھوں نے نعتیہ کلام میں محض زور کلام کا اظہار نہیں کیا بل کہ فکرو احساس کی مدد سے نعت کو اعلیٰ درجے کی شاعری کی سطح پر لے گیے ہیں۔ جس سے نعتیہ کلام میں ایک ادبی شان اور تخلیقی حسن پیدا ہوگیا ہے۔ اُنھوں نے عام نعتوں کی پیروی میں رسول پاکػ کے سراپا کو موضوع نہیں بنایا اور نہ ہندی شاعری کی روایت سے اثر لے کر تعریف و توصیف کی ہے۔ بل کہ رسول اکرمػ کی ذات کے احترام کو بھی برقرار رکھا ہے اور محبت کے ساتھ اُسوہ حسنہػ کی تفصیلات بیان کی ہیںٴٴ۔
ڈاکٹر تحسین فراقیٜ ٟصدر شعبہ اُردو اورینٹل کالج پنجاب یونی ورسٹیٞ ٴٴحفیظ تائبؼ کے یہاں غزل اور نعت گوئی کا سلسلہ کچھ عرصہ دوش بدوش چلا، پھر وہ نعت ہی کے لیے وقف ہوگئے۔ اُردو اور فارسی کے کلاسیکی اَدب سے اُن کی فیض اندوزی قابل داد ہے، نعت کے دوش بدوش وہ مدح صحابہۮ، مناقب اہل بیتۮ اور صوفیا کے فضائل کی جانب بھی متوجہ رہے، وہ اُردو اور پنجابی کے نعتیہ اَدب کی پہچان ہیں، حفیظ تائبؼ کے سامنے ایک کٹھن مرحلہ تھا کہ شخصی اور تاریخی حقیقتوں کو شعری پیکر میں کیسے ڈھالا جائے، یہاں اُن کی مہارت شعری کام آئی ہے، بندش کی چستی، تشبیہ کی سادگی مگر تہہ داری، تغزل کی حلاوت اور بیان کی سلاست، یہ سب عناصر حفیظ تائبؼ کے مناقب کو قابل قدر بناتے ہیںٴٴ۔
راجا رشید محمودٜٴٴاَدب کی طرف نعت کا نیا دور بھی حالیؼ سے شروع ہوتا ہے، علامہ اقبالۯ کی نعتیہ شاعری، نعت گوئی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ جس کے اثرات بعد میں بہت کم نظر آئے، ظفرؼ علی خان کا رنگ کچھ عوامی بھی ہے اور خاص بھی۔ حفیظ تائبؼ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اُنھوں نے حضرت حسانۮ سے لے کر ظفرؼ علی خان تک، نعت سے استفادہ کیا ہے۔ اُن کی نعت گوئی قدیم اور جدید کا حسین امتزاج ہے۔ تاریخ پر تائبؼ کی نظر تھی، وہ نعت کے مضامین قرآن، حدیث اور تاریخ سے لاتے تھے، لیکن تمام تر خصوصیات سے بہرہ ور ہونے کے باوجودوہ عاجزی اور انکساری کا مجسمہ تھےٴٴ۔
شہراد احمدٜٴٴجس زمانے میں حفیظ تائبؼ نے شاعری کا آغاز کیا تھا، نعت رسول مقبولػ اس التزام سے نہیں لکھی جاتی تھی جیسی کہ اب لکھی جارہی ہے۔ شُعرا اپنے دیوان کا آغاز حمد اور نعت سے کرتے تھے، اس کے بعد اُن کی شاعری میں کہیں کہیں حرمت رسولػ کی جھلک بھی نظر آجاتی تھی مگر حفیظ تائبؼ نے اس جزو کو کُل بنادیا، دیکھتے ہی دیکھتے سارا منظر تبدیل ہوگیا، اس گئے گزرے دور میں بھی نعت گوئی کے سلسلے میں جو ذوق وشوق پایاجاتا ہے اس میں تائبؼ کا حصہ کسی سے کم نہیں بل کہ نعت گوئی اُن کی پہچان ہے اور اسی لیے حفیظ تائبؼ موجودہ عہدہ میں نعت گوئی کی پہچان ہیں اور نعت گو شعرا کا جو کارواں تیار ہوچکا ہے، وہ اُس کے سرخیل ہیںٴٴ۔
جعفر بلوچٜ ٴٴحفیظ تائبؼ نے نعتیہ شاعری میں، بعض نئی ہیتیں بڑی خوبی اور مجتہدانہ شان کے ساتھ متعارف کرائی ہیں۔ جن سے اُردو نعت ہی نہیں، اُردو شاعری کو بھی شان وشوکت نصیب ہوئی ہے۔اُنھوں نے شعری اصناف اور ہیتیوں کے متنوع تجربات سے بھی خاطر خواہ فائدہ اٹھایا ہےٴٴ۔
ڈاکٹر خورشید رضویٜ ٴٴنیک نامی اللہ تعالیٰ کی عطا ہوتی ہے۔ حفیظ تائبؼ کاذکر بھی اللہ نے جاری وساری کردیا ہے کیوں کہ اُنھوں نے عمر بھر اللہ کے نبیػ کا ذکر جاری رکھا، حفیظ تائبؼ کا کلام، نعت گوئی میں مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے، اُنھیں قدرت کی طرف سے ندرت اور وسعت کلام کا وصف ملاتھا اور یہ ایسی خصوصیت ہے، جسے ہزار کوششوں کے باوجود حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ نعت کا اصل اثاثہ تو سچی عقیدت ہے اور میرے نزدیک حفیظ تائبؼ سر تا پا عشق رسولۖ میں ڈوبے ہوئے تھےٴٴ۔
عطائ الحق قاسمیٜٴٴ حفیظ تائبؼ مرحوم نے نعت کے تقدس کو فروغ دیا، حفیظ تائبؼ صابروشاکر انسان، صبرو رضا کے پیکر عِشق رسول ػمیں ڈوبی ہوئی زندگی اور پھر عاجزی وانکساری سے معمور نمود و نمائش کا نام نہیں، نہ کبھی کسی کو رنج دیا، نہ کسی کا دل دکھایا، اُنھوں نے دنیاوی آرائشوں اور حرص وہوس سے پاک زندگی بسر کی۔ اُن میں اکڑ فوں بالکل نہ تھی اور اپنے نیک یا پارسا ہونے کا زعم بھی نہ تھاٴٴ۔
عبدالمجید منہاسٜ ٴٴحفیظ تائبؼ میرے بڑے بھائی ہی نہیں، میرے مرشد بھی تھے، اُنھوں نے پوری زندگی جس طرح جدوجہد اورپھر عِشق رسولػ میں بسر کی وہ ہم سب کے لیے قابل تقلید ہے، یہ زندگی آنی جانی ہے اور بالکل عارضی اور چند روزہ ہے، لیکن اگر کوئی مقصد حیات اور نصب العین موجود ہو تو انسان مرکے بھی زندہ رہتا ہے، جیسا کہ علامہ اقبالؼ اورحفیظ تائبؼ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوکر بھی زندہ و تابندہ ہیں۔ حفیظ تائبؼ نے گلستان نعت میں ایسے پھول کھلائے کہ امام نعت نگاری قرار پائے۔ اُن کی زندگی کا واحد مقصد رسول مقبولػکی مدحت تھا اور مرتے دم تک اُن کی زندگی عِشق رسولػسے لبریز رہی، وہ 1988ئ میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئے لیکن اُنھیں ہمیشہ اپنے مرض سے زیادہ ادھورے کاموں کی فکر رہی، اُنھیں پہلی بار 1976ئ میں حج کی سعادت نصیب ہوئی جب کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقریباً 13سفر کیے۔ آخری عمر میں بھی شدید بیماری کے باوجود کسی کو ملنے سے انکار نہ کیا بل کہ انتقال سے چند روز قبل ننھے بچے اُنھیں گلدستہ پیش کرنے آئے، طبیعت بے حد خراب ہونے کے باوجود اُنھوں نے بچوں کو ملنے سے مایوس نہ کیا، بچوں کے پیش کیے ہوئے پھول اُن کے انتقال کے بعد بھی گھر میں تروتازگی کی علامت بن کر اُنھیں خراج عقیدت پیش کرنے کا احساس دلاتے رہےٴٴ۔