| ادب
|
فروزندہ مہراد
(عراقی شاعرہ کی نظم ایرانی دوست کے لئے)
شاعرہ:لامیہ عباس عمارہ
میں تریپولی لیبیا میں
ہوٹل شاطی کی لابی میں بیٹھی تھی
جب وہ وہاں سے گزری
لمبے لباس میں بال رومال سے باندھے ہوئے
دو بنڈلز اپنے ہاتھ میں لیے جیسے وہ ابھی ابھی سفر سے لوٹی ہو
اور دو نوجوان لڑکے
دو چاند
یا میرے خیال میں دو فرشتے
اسکے ساتھ ساتھ چل رہے تھے
میرے خیال میں وہ اس کے بیٹے تھے
میں اس عورت کو جانتی تھی
میں اسکی آنکھوں کی جوت کو جانتی تھی
میں اسے بلانے لگی تھی
لیکن میں اس کا نام بھول گئی
میں اسے دیکھ کر ہنسی
اس نے بھی محسوس کیا
اس نے اپنی نظریں مجھ پر لگادیں
وہ بھی یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی
وہ رکی نہیں
اور نہ اپنے بچوں کو رکنے دیا
میں جیسے ہی یادداشت کو آواز دینے لگی
وہ لابی کی طرف جاتی رہی
وہ گم ہوگئی
لیکن اس کی ہر بات میرے پاس واپس آنے لگی
سوائے اس کے نام کے
وہ بغداد میں میرے ساتھ کالج میں ہم جماعت تھی
ایرانی ایمبیسی میں سفارتکار کی بیٹی
وہ ہماری ہی طرح عربی بولتی تھی
پر وہ سالِ اوّل میں فیل ہوگئی تھی
اور اس جماعت سے نکل گئی
جس میں زیادہ تر شاعر تھے
مجھے اس کی حاضر جوابی
اور عجیب انداز آج بھی یاد ہیں
وہ ایک دفعہ اس مال گاڑی پر کود کر چڑھ گئی تھی
جو کالج سے باب المعظم کی طرف جارہی تھی
اور ایک دفعہ
جب انگریزی کااستاد کلاس میں داخل ہوا
تو کچھ طلباء و طالبات گندی تصاویر بلیک بورڈ پر بنارہے تھے
’تم لوگ کیا کررہے ہو؟‘
ٹیچر نے غصے سے پوچھا
وہ بڑی آہستگی سے بولی
’یہ لوگ اپنی تصاویر بنارہے ہیں سر!‘
ایک دفعہ
کلاس میں اسے مرگی کا دورہ پڑا
وہ فرش پر تلملانے لگی تھی
میں نے اسے بازوٴں میں لے کر سہلایا
اور اس کے کپڑے درست کیے
اور جو پہلی بات اس نے کہی وہ تھی:
’تم کتنی اچھی ہو‘
اسکی ہر بات عجیب تھی
یہاں تک کہ اس کا نام بھی جو میں بھول چکی تھی
تیس سال کے بعد اس کے نام کو یاد کرنا کتنا مشکل تھا
اچانک اس کا نام یاد آگیا
فروزندہ مہراد
مجھے اسکی بہن کا بھی نام یاد تھا
درخشندہ مہراد
میں نے یہ بمشکل دہرایا
تاکہ کہیں پھر اسے بھول نہ جاوٴں
فروزندہ، فروزندہ، فروزندہ
لیکن وہ کب کی جا چکی تھی
میں اپنی نشست کی طرف واپس آئی
میں نے سوچا کہ ہوٹل ریسیپشن سے اس کا کمرہ نمبر معلوم کروں
لیکن پھر میں نے اس خیال کو جانے دیا
اور میں نے خود سے پوچھا:
’تیس سال بعد اس سے مل کر میں کس پر بات کروں گی؟‘
روزگار کے بارے میں؟
جس سے اب ہم دونوں ریٹائرڈ ہوچکے ہیں؟
ہماری شادیوں کے بارے میں ؟
جب ہم اس عمر میں ہیں
جس میں ہم یا مطلقہ ہوچکی ہیں یا بیوائیں!
اسکے بعد بس صرف ایک سوال بچتا تھا
ہمارے بیٹے
میں اسے کیا کہوں؟
یا وہ مجھے کیا کہے گی؟
کیا وہ مجھ سے کہے گی
وہ اس لیے لیبیا آئی ہے کہ ا س کے بیٹے لڑائی کیلئے ٹرینڈ ہو سکیں؟
میں اسے کہوں گی کہ میرا بیٹا عراقی فوج میں سپاہی ہے
مسان کے محاذ پر بھیجا گیا ہے
اسکے بعد ہم دونوں خاموش ہوجائیں گے
ہماری آنکھیں اورخاموشی
ہماری گفت و شنید ہوں گی
کون کسے پہلے قتل کرے گا؟
میرا بیٹا اس کے بیٹے کو؟
یا اس کا بیٹا میرے بیٹے کو؟
نوک تلوار پر
دو مائیں تیار ہیں
سوگ منانے کیلئے
اس میں کوئی شک نہیں
تھوڑے تامل بعد
فروزندہ کو میں یاد آ جاوٴں گی
جیسے وہ مجھے یاد آ گئی تھی
میں اس کی ساتھی، خوبصورت شاعرہ
ایک مہربان سی جس نے اسے گلے لگایا تھا
شاید وہ جنگ سے اڑتی دُھول وغبار میں
میرے چہرے کی سختی بھی دیکھ سکے
اور پیار بھرے پستانوں کو پکڑنے کی کوشش میں
اس کے ہاتھ جنگی تمغوں پر جا پڑیں
وہی پیار بھرے پستان
جنہوں نے ایک سپاہی کو محاذ جنگ پر چوکنا کرنے کیلئے بڑا کیا
جس سے اس کے بیٹوں کی زندگی خطرے میں پڑی ہوئی ہے
بالکل ایسے جیسے میرا بیٹا اپنا اور اپنے وطن کا دفاع کر رہا ہے
اور اس کے بیٹے بھی ٹھیک وہی کر رہے ہیں
امیدہے کہ اس نے مجھے نہیں پہچانا ہوگا
شاید میں اسے یاد نہیں
(ترجمہ: حسن مجتبیٰ)
|
|