اردو کے بہترین شخصی خاکے
مرتبہ: مبین مرزا
ادب پڑھنے والوں کی بنیادی دلچسپی یوں تو ان فن پاروں سے ہوتی ہے جو ان کی توجہ کے طالب ادیب اور شاعران کے پڑھنے کے لیے تخلیق کرتے ہیں، لیکن پڑھنے کا یہ عمل ان میں رفتہ رفتہ اپنے پسندیدہ ادیبوں کی شخصیت سے بھی گہری دلچسپی پیدا کر دیتا ہے ۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ادب تخلیق کرنے اور پڑھنے سے جوجمالیاتی اور انسانی اقدار ترویج پاتی ہیں، پڑھنے والے اپنے محبوب تخلیق کاروں کی زندگی کی تفصیلات میں ان اقدار کی کارفرمائی دیکھنے کا تجسس رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادیبوں اور پڑھنے والوں نے شخصی خاکوں میں بہت دلچسپی دکھائی ہے اور ایسی تحریروں کا ایک بڑا ذخیرہ جدید اردو ادب میں جمع ہو گیا ہے جن میں ادیبوں کی شخصی زندگی کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ اس سے پہلے شاعروں کے تذکرے تو لکھے جاتے تھے لیکن شاعروں کی شخصیات کے دلآویز قلمی خاکے کھینچنے کا سلسلہ محمد حسین آزاد کی عہدساز کتاب ’ آب حیات‘ ہی سے شروع ہوا۔
بعد میں جدید نثر کا رواج بڑھنے پر اس قسم کی اور تحریرں سامنے آئیں۔ ان میں مرزا فرحت الله بیگ کے طویل خاکے ’ نذیراحمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ اپنی زبانی‘ کو اپنے بے مثال اسلوب کے باعث کلاسیک کا درجہ حاصل ہو چکا ہے ۔ ’توبتہ النصوح‘ اور ’فسانہٴ مبتلا‘ کے مصنف کی جو تصویر اردو پڑھنے والوں کے ذہن میں ہے ، وہ بڑی حد تک اسی تحریر کی بنائی ہوئی ہے ۔
اس کے بعد لکھے جانے والے یادگار شخصی خاکوں میں عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ ’دوزخی‘ تھا جسے ان کی بہن عصمت چغتائی نے لکھا جو خود جدید ادب کی ایک عظیم شخصیت تھیں۔ لیکن شخصی خاکے صرف ادیبوں تک محدود نہیں رہے ۔ دوسرے میدانوں میں نمایاں ہونے والی شخصیات کے علاوہ بعض گمنام اور بے نوا ہستیوں کو بھی خاکہ نگاری نے امر کر دیا۔ ان میں مالی نام دیوبھی ہے جس کا خاکہ مولوی عبدالحق نے کھینچا اورزندگی بھر کالج کا گھنٹہ بجانے والا کندن بھی جس کا نقش رشید احمد صدیقی نے بنایا ۔
اسلام آباد کے اشاعتی ادارے الحمرا نے اردو میں شخصی خاکوں کے اس وسیع اور رنگا رنگ ذخیرے سے ایک انتخاب تین جلدوں میں شائع کیا جواب بھی دستیاب ہے ۔ کراچی کے ادبی جریدے ’مکالمہ‘ کے مدیر مبین مرزا کے ترتیب دیے ہوئے اس انتخاب سے اسی طرح اختلاف کیا جا سکتا ہے جیسے کسی بھی اور انتخاب سے ، لیکن اس میں اردو کے بیشتر معروف اور عمدہ خاکے پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔ ایک بات البتہ سمجھ میں نہیں آئی: عصمت چغتائی کے ’دوزخی‘ کو ادھورا شائع کرنے کا فیصلہ آخر کیوں کیا گیا؟