ادب >> تبصرہ کتب >> ”بے درودیوار“ سید احمد شمیم کا تازہ کلام
ادب
”بے درودیوار“ سید احمد شمیم کا تازہ کلام
تحریر: شمس الرحمن فاروقی

سید احمد شمیم کے کمالات شاعری کو دیکھتے ہوئے یہ بات ذرا ناقابل یقین لگتی ہے کہ ان کی اہمیت اور خوبیوں کا وہ اعتراف ابھی تک نہیں ہوا ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔ اس کی کم سے کم تین وجہیں سمجھ میں آتی ہیں۔ اول تو نام و نمود کے اسباب وسائل سے ان کی بے نیازی اور ادبی حلقوں میں تعلقات پیدا کرنے ، یا انھیں وسیع تر اور عمیق تر کرنے سے اجتناب، رسالوں اور محفلوں میں شرکت سے عام طور پر گریز، یہ باتیں ایسی نہیں جو فی زمانہ کسی کو شہرت یا مقبولیت کے زینے پر بلند کرسکیں۔ دوسری وجہ ان کی ترقی پسندی ہے ۔ میں نے ”ان کی ترقی پسندی“ اس لیے کہا کہ سید احمد شمیم کی ترقی پسندی بھی انھیں کی طرح غیر پنچایتی ہے اور سکہ بند ترقی پسند شاعری کے دائرے میں نہیں آتی۔ ان کے عقائد تو ترقی پسند رہے لیکن شعری طریق عمل میں وہ انفرادیت پسند رہے ۔ دنیا کو انھوں نے اجنبی کی آنکھ سے دیکھا، اس اجتماعی آنکھ سے نہیں جو ترقی پسند بوطیقا نے اپنے ہر مقلد کی فطری آنکھ پر عینک کی طرح چڑھا رکھی تھی۔ لہٰذا بااثر ترقی پسند حلقوں میں وہ کم و بیش غیریت کی نگاہ سے دیکھے گئے ۔ ترقی پسند زعمامیں سردار جعفری نے ان کی پذیرائی ضرور کی، لیکن دیر میں، اور اتنی پھر بھی نہیں جتنی آوٴبھگت کے وہ مستحق تھے ۔سیداحمد شمیم کی تخلیقی زندگی کے ان خم و پیچ میں ایک نیا پیچ جدیدیت نے پیدا کیا۔ ان کی علیحدگی پسندی تو جدیدیت کے گوں کا پار تھی، لیکن وہ جدیدیت کے ابہام پرست، داخلیت میں شرابور محاورے کو قبول کرنے سے کتراتے بھی تھے ۔ چنانچہ اچھی خاصی ذہنی ہم آہنگی کے باوجود نہ جدیدیت انھیں قبول کرسکی اور نہ ہی انھوں نے جدیدیت کے دروازے پر دستک دی۔ انھوں نے یہ تو دیکھ لیا تھا کہ ادب کے میدان میں ایک نئی ہوا بہہ رہی ہے اور یہ ہوا بہت سی پرانی چھتوں، پناہ گاہوں، اور حتیٰ کہ مزعومات کے بہت سے قلعوں کو اڑا لے جانے کے درپے ہے ۔ اگر پرانے حصار ٹوٹے نہیں تو بھی ان میں اتنے شگاف پڑ جائیں گے کہ اب ان میں داخلے کے لیے سیاسی یا سماجی اجارہ داروں کے اجازت نامے کی ضرورت نہ ہوگی۔ لیکن سید احمد شمیم نے جدیدیت کی شعریات کو قبول نہ کرکے وفاداری بشرط استواری کو اصل ایمان قرار دیتے ہوئے بدلتی ہوئی ہوا سے منھ موڑ لیا۔ اس طرح اپنے کلام کی تازگی اور اپنے مزاج کی مفکرانہ انفرادیت کے باوجود سید احمد شمیم ترقی پسندی اور جدیدیت دونوں کے لیے اجنبی ہی رہ گئے ۔ستمبر 1970 میں سید احمد شمیم نے شمس فریدی کے ساتھ مل کرنئی شاعری کا ایک انتخاب ”گلوب“ کے نام سے شائع کیا۔ ایک طرح سے یہ انتخاب ”نئے نام“، اور سید سجاد کے مرتب کردہ انتخاب ”نئی نظمیں“ کے جواب میں تھا۔ حسن اتفاق سے ”نئے نام“ اور ”نئی نظمیں“ دونوں کی اشاعت 1967 میں عمل میں آئی تھی، اول الذکر کی الہٰ آباد سے اور موخر الذکر کی لاہور سے ۔دونوں ہی انتخابات میں ایسی شاعری وافر تھی جسے ادب دوست لوگوں نے پسند کیا اور عام پڑھنے والے کو راحت اور فرحت کا احساس ہوا کہ ان کتابوں کے کسی بھی مصرعے ، کسی بھی سطر میں شور، گھن گرج اور نعرہ نہ تھا، اور نہ ہی عمل اور انقلاب اور رجائیت کے بارے میں تعمیمی اور ”محفوظ“ (یا آج کی زبان میں ”سیاسی درستی کی حامل“) باتیں تھیں۔ لیکن ان کتابوں کو منفی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ کچھ تو انگور کھٹے ہیں والا ردعمل تھا، اور کچھ ردعمل واقعی سرگرانی اور پریشانی اور اس الجھن پر مبنی تھے کہ یہ کس طرح کی شاعری ہے ؟ اسے سمجھنے کے طریقے کیا ہیں؟ اس کے مخاطب کون ہیں؟ سید احمد شمیم اور شمس فریدی نے ”گلوب“ میں ان سوالوں کے جواب دینے کی کوشش تو نہ کی لیکن اپنے دیباچے میں یہ ضرور لکھا: ”جدید شاعری میں کئی رنگ بیک وقت کارفرما ہیں، لہٰذا اس کی جامع و مانع تعریف ممکن نہیں ہے ۔“ یعنی وہ نئی شاعری کی اس تعریف کو رائج کرنے کے حق میں نہ تھے جس کا تقاضا جدیدت کی شعریات میں تھا، لیکن وہ اس بات کو بھی تسلیم کرتے تھے کہ جدید شاعری میں بوقلمونی ہے ، اور ترقی پسند محاورہ شاعری کا واحد محاورہ نہیں۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ اس انتخاب میں ”کثیف اور بھدے رنگوں“ کی نمائندگی سے گریز کیا گیا ہے ، لیکن ”ن.م.راشد سے لے کر وحیدالحسن تک کی بہترین نظمیں، جو 1960سے لے کر اب تک لکھی گئی ہیں، منتخب ہوجائیں۔“ ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ بہت بڑا دعویٰ تھا، اور اس کو عمل میں لانے کی کوئی بھی کوشش تمام پڑھنے والوں کو تو کیا، پڑھنے والوں کی بیش قرار تعداد کو بھی مطمئن نہ کرسکتی تھی۔ یہی سید احمد شمیم اور ”گلوب“ کا المیہ تھا۔
”گلوب“ میں ایک طرف تو ایسے شعرا تھے جو کسی ترقی پسند انتخاب میں بار نہ پاسکتے تھے ، مثلاً بلراج کومل، جیلانی کامران، ساقی فاروقی، عادل منصوری، عباس اطہر، عمیق حنفی، فہمیدہ ریاض، اور محمد علوی، منیر نیازی وغیرہ، تو بہت سے ایسے شعرا تھے جدید نقاد جنھیں مسترد کرتے تھے ، یا اگر مسترد نہ بھی کرتے ہوں تو انھیں ”اپنوں“ میں شمار کرنے سے قاصر تھے ۔ (مثال کے طور پر فیض، مخدوم، منیب الرحمن، اور یوسف ظفر کے نام لیے جاسکتے ہیں۔) پھر یہاں کچھ ایسے بھی لوگ تھے جن کا تشخص نہ جدیدیت کے حوالے سے طے ہوسکتا تھا نہ ترقی پسندی کے حوالے سے ، مثلاً حرمت الاکرام، ادیب سہیل، جمیل ملک، کرامت علی کرامت، عرش صدیقی، اور بہت سے دوسرے ۔ اس طرح انفرادی مشمولات کی ممکن خوبی کے باوجود ”گلوب“ میں ایک گومگو کی سی کیفیت تھی اور اس نے معاصر شعر کے منظر میں سید احمد شمیم کے پیکر کو متاثر کیا۔
یہ سب ہوتے ہوئے بھی بات بڑی حد تک اپنی جگہ قائم رہتی ہے کہ سید احمد شمیم کا مقام و مرتبہ آج اکیسویں صدی میں کہاں اور کس طرح متعین کیا جائے ؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ان کے مجموعے
”بے درودیوار“ کی ورق گردانی کریں تو بعض باتیں کچھ ان مل نظر آتی ہیں۔ اس مجموعے کا شاعر سماجی نابرابری اور سیاسی بے انصافی کے خلاف احتجاج کرتا ہے لیکن اس احتجاج میں ایک تھکن ہے ، بلکہ یوں کہیں کہ مایوسی ہے ، کہ اب کچھ ہو نہیں سکتا:
میں جانتا ہوں
تو صرف یہ جانتا ہوں
کہ آنے والی صدی کا
بالمیکی
اپنی رامائن لکھے گا
تو یہ ضرور لکھے گا
کہ پچھلی صدی کے
لوگوں نے
رام کو محجوب کیا تا
رام سر جھکائے
حیران کھڑے تھے
راون بھیانک قہقہے لگا رہا تھا۔۔!! (دکھی دل لوگو)
ظاہر ہے کہ احتجاج میں تعمیم اس قدر ہے کہ اسے کسی بھی سیاق و سباق میں درست قرار دے سکتے ہیں، اور اس عمومیت کی بنا پر کلام میں نظم کی جگہ نثر کا انداز آگیا ہے ۔ اس نظم کو سردار جعفری بمشکل قبول کرتے ، کہ انھوں نے فیض کی نظم ”صبح آزادی“ کو اس کی عمومیت ہی کی بنا پر مسترد کیا تھا، لیکن اس نظم کو آج کے وہ نقاد بھی قبول کرتے ہوئے شرمائیں گے جو ادب میں ترقی پسندی کو کمیونزم کا مترادف قرار دیتے تھے اور آج اپنا موقف بدلتے بدلتے اس تقاضے تک آگئے ہیں کہ ادب میں کچھ نہ کچھ ”نظریہ“ ضرور ہونا چاہیے ، بلکہ وہ تو ہوتا ہی ہے ۔ اس نظم میں کسی نظریے کا وجود ثابت کرنا مشکل ہے ۔ دوسری طرف یہی سید احمد شمیم ایسی بھی نظم لکھتے ہیں جس میں ان کی آواز بالکل مختلف سنائی دیتی ہے :

ہوا تیز ہے
بادباں کو نہ کھولو
یہ کشتی یوں ہی تیز
چلتی رہی تو
چٹانوں سے ٹکرا کے
انجام کیا ہو
نہ میں جانتا ہوں
نہ تم جانتی ہو
ہوا تیز ہے
بادباں کو نہ کھولو (بادباں کو نہ کھولو)
یہ نظم جس ہستی سے مخاطب ہوکر کہی گئی ہے وہ ”مجلسی“ یا ”عوامی‘’ دونوں ہی دنیاوٴں کی مخلوق نہیں، وہ کسی داخلی یا خیالی عالم سے ہے ۔ اس کو اپنے وجود کے لیے کسی ”حقیقی“ حوالے کی ضرورت نہیں۔ متکلم اور اس کے درمیان کا رشتہ استوار ہے بھی اور نہیں بھی ہے ۔ ان کے درمیان یہاں جو کچھ ہورہا ہے وہ ان باتوں سے زیادہ اہم ہے جو ہوسکتی تھیں لیکن نہیں ہوئیں، یاجنھیں ہونے سے روکنے کی سعی ہورہی ہے ۔ معلوم نہیں یہ سعی کامیاب ہوگی کہ نہیں۔ ناکامیابی کی صورت میں جو روابط بنیں گے وہ شاید ٹوٹ بھی جائیں، لیکن کامیابی کی صورت میں وہ روابط اٹوٹ ہوں گے ۔ اسی طرح ایک اور نظم میں روابط کی داستان ہم یوں سنتے ہیں:
اب انھیں چھوڑ کر
تم کہاں جاوٴگی؟
پھول
رنگِ شفق
چاندنی
تن بدن میں سمائی ہوئی
گھر کی آسودگی
نرم بستر کی سب
بولتی سلوٹیں
تم جہاں بھی رہوگی
پکڑ لائیں گی
اب انھیں چھوڑ کر
تم کہاں جاوٴگی؟؟ (تم کہاں جاوٴگی؟)

یہاں خسرو کا شعر یا دآتا ہے

گفتی کہ برو،جاں ببرازمن، چہ روم چوں
ہر جا کہ روم بستہ بہ یک موے تو آیم

لیکن خسر وکے متکلم اور مخاطب دونوں ہی کو شاید ابھی ہوا کی تیزی کا اندازہ نہیں ہے ۔ یا شاید بادبانوں کے کھل جانے کے بعد اب وہ کسی ایسی منزل پر ہیں جب آندھی تھم چکی ہے اور مطلوب کی روح کی ناوٴ پر طالب کے بدن کا بوجھ بھاری ہوگیا ہے ۔ خسرو کے شعر میں عشق کی مابعد الطبیعیات ہے ۔ یہاں مطلوب اپنے طالب سے بہت بلند ہوگیا ہے لیکن مرتب? مطلوبی سے گرا نہیں ہے ، بلکہ اب وہ وہاں ہے جہاں سے افتاد کا امکان ہی نہیں۔ سید احمد شمیم کی نظم میں گھریلو فضاوٴں کی خوشبو ہے ، لیکن اس خوشبو میں تلخی کا بھی شائبہ ہے ۔ یہاں عشق کو روزمرہ زندگی کی طرح جینے کے معاملات ہیں۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ جس ہستی کو اس نظم میں مخاطب کیا گیا ہے وہ گھر چھوڑ کر جاچکی ہے اور متکلم اپنے دل میں یہ باتیں کہہ رہا ہے ۔ یعنی یہ نظم تمنا بھری خود کلامی ہوسکتی ہے ۔ لیکن نظم کے امکانات یہاں ختم نہیں ہوتے ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ہستی گھر نہیں بلکہ دنیا ہی چھوڑ چکی ہو اورمتکلم یا تو ہوش و حواس کھو چکا ہے یا خود کو بہلا رہا ہے ۔
طالب و مطلوب کے روابط کے یہ گوشے جدیدیت میں نظر نہیں آتے ، کیوں کہ جدیدیت کی شاعری بنیادی طور پر غیر عشقیہ شاعری ہے ۔ لیکن یہ پیچیدگیاں اور نزاکتیں ترقی پسند شاعری کی بھی دسترس سے کوسوں دور ہیں۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2008. All rights reserved.