شناور اسحاق کا مجموعہ کلام ادھورا نروان شائع ہو گیا ہے۔اس سے قبل ان کا مجموعہ کلام التباس ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ادھورا نروان کو کمال پبلی کیشنز ایبٹ روڈ نے شائع کیا ہے۔قیمت 100 روپے۔
شناور اسحاق نئی نسل کا ایک عمدہ شاعر ہے۔اس کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
اب تو وہ نسل بھی معدوم ہوئی جاتی ہے
جو بتاتی تھی فسادات سے پہلے کیا تھا؟
ہم بھی دعائے ابر و ہوا میں شریک تھے
بارش ہوئی تو لوگ ہمیں ڈھونڈتے رہے
ہمیں انکار کی توفیق ورثے میں ملی ہے
ہمارے سامنے نمرود کا رنگ اور ہو گا
اپنی گمراہی کی چادر اوڑھ کے ہم
اپنے اپنے غار میں زندہ رہتے ہیں
عمر کا سونا چاہے مٹی ہو جائے
ہم اپنے انکار میں زندہ رہتے ہیں