تونسہ شریف کے نوجوان اور جدید لہجے کے اردو شاعر شبیر ناقد کا پہلا شعری مجموعہ صلیب شعور کے نام سے شائع ہو گیا ہے۔مجموعے کا پیش لفظ تونسہ شریف کے معروف استاد شاعر جناب ظہور احمد فاتح نے لکھا ہے۔ان کے مطابق :
شبیر ناقد کو اگر فطری شاعر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔تھوڑے سے وقت میں جس ریاض اور ہونہاری سے ان کا ہنر ارتقا پذیر ہوا ہے وہ یقینا باعث طمانیت ہے۔اگرچہ جواں فکر اور جواں شوق ہونے کے ناطے ان کی شاعری زیادہ تر جوانوں کے روایتی موضوع یعنی محبت کے گرد گھومنی چاہیے تھی لیکن یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ انہوں نے زیادہ تر دیگر موضوعات کو بھی ساتھ ہی ساتھ بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا ہے۔جن کے باعث شبیر ناقد کا شعری کینوس بہت وسیع ہو جاتا ہے۔ان کی زیر نظر کتاب غزلیات و منظومات پر مشتمل ہے جسے ہم ایک خوبصورت گلدستہ قرار دے سکتے ہیں۔
کتاب کے مطالعہ سے مطلع ذہن پر خوبصورت اشعار کی قوس قزح ابھرتی ہے ۔
چلا تو تھا بہشت کو مگر چنا کنشت کو
وہ کشتیاں ڈبو گیا ہے بے حسی کو اوڑھ کر
کیا مرے پاس کام پت جھڑ کا
دل میں سر سبز باغ رکھتا ہوں
حیات اپنی کٹ گئی اکیلے پن کے سوز میں
بنا نہ کوئی مہرباں شعور کی صلیب پر
پڑھا نہ پھر بھی کسی نے مجھ کو
اگرچہ دلکش کتاب ہوں میں
میں دیکھ پاوں گا کیسے ناقد
کہ جب ورائے حجاب ہوں میں
مرے حزن کو استقامت ملے
غزل میر کی اک سنا دیجیے
ناقد کون اسے روکے گا
دل پر پاوں دھر سکتا ہے
جومیں نے چھیڑاہےراگ ناقد وہ راگ بے وقت کا نہیں ہے
سحر کو چھیڑی ہے بھیروی تو بسنت رت میں ملار گایا
شبیر ناقد کے اس شعری مجموعہ صلیب شعور کو فاتح پبلی کیشنز تونسہ شریف نے شائع کیا ہے۔تزئین محمد شاہد دھریجہ نے کی ہے جبکہ کتاب کا بیک ٹائٹل فلیپ ظہور احمد دھریجہ نے لکھا ہے۔قیمت 200 روپے۔
کتاب منگوانے کا پتہ :
p/o ہیرو شرقی تحصیل تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان۔