حلقہ ارباب ذوق کے زیراہتمام”چوپال“ناصر باغ میں ”پاکستان میں موسیقی کے 60سال“کے موضوع پر خصوصی مذا کرے کا انعقاد کیا گیا۔ معروف کلاسیکل استاد پرویز پارس نے صدارت کی جبکہ محرک بحث پنجاب یونیورسٹی میں فلسفہ کے استاد محمد جواد تھے۔ محمد جواد نے اپنی گفتگو میں گزشتہ 60سال کی پاکستانی موسیقی کا طائرانہ جائزہ پیش کیا۔ ان کی رائے تھی کہ اس وقت پاکستانی موسیقی زوال کا شکار ہے۔ رشید مصباح کا کہنا تھا کہ اس زوال کی جڑیں معاشرے کے مجموعی زوال میں تلاش کی جا سکتی ہیں لیکن کچھ ایسے اشارے بھی ملتے ہیں جن سے بہتری کی امیدوابستہ کی جاسکتی ہے۔ علی اصغر عباس نے نعت خوانی میں موسیقی کے بے جا استعمال کو ہدف تنقید بنایا۔ اشفاق رشید نے موسیقی کے حوالے سے حلقہٴ اربابِ ذوق کی خدمات کو سراہا۔ جنید حیات کا کہنا تھا کہ کلاسیکی موسیقی میں الفاظ کو بنیادی اہمیت نہیں دی جاتی ۔ ارشد شاہین کا موقف تھا کہ موسیقی کے زوال کا بنیادی سبب معاشی مجبوریاں ہیں۔ صاحب صدر نے اپنی اختتامی گفتگو میں موسیقی کے زوال کے اسباب اور کلاسیکی گھرانوں کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ آخر میں خالد علیگ اور قراة العین حیدر کے لئے تعزیتی قرار داد یں منظور کی گئیں اور ان کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی ہوئی۔ حلقے کا آئندہ اجلاس مقبول خان مقبول اور قمر یورش کے فن وشخصیت کے حوالے سے ہو گا۔