صبا اکبر آبادی عہد حاضر کے سب سے بڑے مرثیہ نگار ہیں‘ ان کی شاعری محبت اور اعلیٰ دائمی اصولوں سے عبارت ہے‘ انہوں نے اس عظیم صنف سخن سے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے نزدیک لانے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا۔ان خیالات کا اظہار ممتاز ماہر تعلیم مسرت خان نیازی نے بزم صبائے ادب پاکستان اور ینگ کلچرل ویلفیئر سوسائٹی کے اشتراک سے محمود آباد میں ”صبا اکبر آبادی کی مرثیہ نگاری اور اتحاد بین المسلمین“ کے موضوع پر منعقدہ ادبی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدارت عارف شیخ عارف نے کی۔ پروفیسر ارشاد محمد‘ پروفیسر عزیزالرحمن صادق‘ ڈاکٹر محمد ایوب عباسی‘ پروفیسر اسماء عباسی اور قاری محمدادریس خان نے بھی موضوع پر گفتگو کی۔ عارف شیخ عارف نے کہا کہ صبا اکبر آبادی کی مرثیہ نگاری پر ہونے والا یہ ادبی اجتماع اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ ہم سب سچائی کے پرستار ہیں اور یہی پیغام صبا صاحب کے مرثیوں میں جگمگاتا نظر آتا ہے۔ پروفیسر اسماء عباسی نے کہا کہ صبا صاحب کا مرثیہ تین اجزاء سے عبارت ہے‘ ظلم کے خلاف اعلان جنگ‘ معاشرے میں قیام عدل کی سعی اور فرد کی زندگی میں ایثار و قربانی کا رویہ۔انہوں نے کہا کہ نعتیہ شاعری بھرپور انداز میں ان کے مرثیوں میں نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر ایوب عباسی نے کہا کہ صبا اکبر آبادی کا مرثیہ ذات سرکار دو عالم ﷺ سے ان کے عشق کا آئینہ دار ہے۔ قاری محمدادریس خان نے کہا کہ صبا اکبر آبادی اتحاد بین المسلمین کے لئے مرثیہ نگاری کو ایک موثر ذریعہ سمجھتے تھے۔ شرکاء کو صبا اکبر آبادی کا مرثیہ ان کے صاحبزادے ممتاز شاعر تاجدار عادل کی آواز میں ریکارڈ کردہ سنوایا گیا۔