جمہوری سفر شروع ہو گیا، حکومت کی تبدیلی نیک فال ثابت ہو گی، ادیبوں کے تاثرات
حکومت کی تبدیلی ملک اور قوم کے لیے نیک فال ثابت ہوگی، ہمارا جمہوری سفر شروع ہوچکا ہے، امید کرتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں مہنگائی، بے روزگاری، اور دہشت گردی سے نجات ملے گی، جمہوری حکومت کا فرض ہے کہ افراد کو نہیں اداروں کو مضبوط کیا جائے، ان خیالات کا اظہار ملک کے ممتاز ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اردو ڈکشنری بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے کہا ہے میں ہر تبدیلی اور ہر انقلاب کو خوش گوار اور با برکت سمجھتا ہوں، ٹھہرا ہوا پانی کچھ دن کے بعد بدبو دار ہوجاتا ہے، اور اس سے پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے، ادب زندگی کا ایک طاقت ور حصہ ہے، جو ذہن اور قلب دونوں کو تازگی عطا کرتا ہے، اس لیے جب تک معاشرہ یعنی انسانی ذہن زندہ رہے گا، سوچتا رہے گا، جاگتا رہے گا، اور آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرتا رہے گا، ادب اور شعر بھی زندہ اور توانا رہیں گے اور اس عمل میں لکھنے والے سب سے آگے ہوں گے، ہمارے ملک میں جو سماجی اور سیاسی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، وہ اہل قلم کے لیے بھی کار آمد ثابت ہوں گی، میں ادب اور زندگی کے مستقبل کے بارے میں اچھی رائے رکھتا ہوں، مقتدرہ قومی زبان کے سابق صدر نشیں ڈاکٹر جمیل جالبی نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی ایک خوش آئند عمل ہے، ہمارا جمہوری سفر شروع ہوگیا، مجھے امید ہے کہ ہمارے سیاستدان ہوش و خرم سے کام لیتے ہوئے اب کسی دوسری طاقت کو ایسا موقع فراہم نہیں کریں گے کہ ہم دوبارہ اس راستے پر چلے جائیں جس سے ابھی ہمیں نجات ملی ہے، بزرگ شاعر راغب مراد آبادی نے کہا کہ میں حکومت کی تبدیلی کو ایک فال نیک سمجھتا ہوں، اب ہمارے ملک میں جمہوریت مستحکم ہوگی اور اس کے دورس فوائد بھی ظاہر ہوں گے، ہمارے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا تعلق ملتان سے ہے، جو اولیاء اللہ کا شہر کہلاتا ہے، وہ خود بھی ایک ایسے خانوادے سے وابستہ ہیں، جو ممتاز حیثیت کا مالک ہے، انہوں نے وزیر اعظم بننے کے بعد جو تقرری کی اس پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان کے پیش نظر ملک اور قوم کی بھلائی ہے، مجھے امید ہے کہ ان کے وزارت عظمی کے دور میں انشاء اللہ تعالیٰ ہمیں مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی سے نجات ملے گی، میں اس حکومت کی کامیابی کے لیے دست بہ دعا ہوں، ممتاز شاعر سرشار صدیقی نے کہا کہ ہر تبدیلی کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے، لیکن تبدیلی کے پیچھے جو عوامل ہوتے ہیں، ان پر بھی بہت سنجیدگی سے سوچنا چاہئے، یہ جو اچانک ڈرامائی تبدیلی آئی ہے، اس کے پیچھے بہت سے شکوک و شبہات بھی ہیں، اس کا ازالہ اسی وقت ممکن ہے، جب میرے نقطہ نظر سے صوبہ سندھ کے ساتھ بعض سیاسی رہنماؤں کی بدنیتی شامل نہ ہو، میں بہرحال اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتا ہوں اور کراچی کے بہتر مستقبل کے لیے دعا گو ہوں، ممتاز شاعر اور نقاد، پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ انتخاب کے بعد جمہوری عمل مکمل ہوا، تبدیلی ہمیشہ ایک نئی فضا پیدا کرتی ہے اور آنے والوں سے توقعات وابستہ ہوجاتی ہیں، لیکن حکمراں اپنی ذمے داریاں دوسروں پر ڈالتے رہے اور یہ کہیں کہ ہمارے پاس کوئی ”گیدڑ سنگھی“ نہیں تو اس سے عوامی مسائل حل ہوں گے اور نہ امن و امان کی صورت حال بہتر ہوگی اور لوگ بددل ہوکر منفی رویوں کی طرف مائل ہوجائیں گے، جمہوری حکموتوں کا فرض ہے کہ افراد کو نہیں، اداروں کو مضبوط کریں موجودہ حکومت کو چاہئے کہ وہ تعلیم و صحت کے حوالے سے جو منصوبے ادھورے پڑے ہیں انہیں مکمل کرے پانی، بجلی اور سفری سہولتوں کی طرف خصوصی توجہ دے، کیوں کہ عام آدمی کی زندگی پر یہ براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، ممتاز شاعر اور محقق، پروفیسر آفاق صدیقی نے کہا کہ تغیر و تبدیلی، قانونن فطرت ہے، اس قانون کا اطلاق حکومتوں کے آنے جانے پر بھی ہوتا ہے، مسلمان کے لیے غیبی طاقت پر ایمان لانا ضروری ہے، کوئی انسان چاہے وہ تخت و تاجر کا مالک ہو یا اسے عوامی مینڈینٹ ملا ہو، فرعون بے سامان نہ بن جائے، بلکہ اخوت، رواداری، ہمدردی اور عام انسانوں کو بھلائی کے لیے سوچے، انتظام سے گریز کرے، برسر اقتدار آنے والوں کو باہمی میل جول اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہئے، ممتاز شاعر اور ماہر تعلیم، پروفیسر منظر ایوبی نے کہا ہم اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ جس جمہوری انداز سے حکومت کی منتقلی کا عمل بطریق احسن ہوا ہے، اسے آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا، سیاسی جماعتوں کے درمیان اس وقت صورتحال کا جذبہ کار فرما نظر آرہا ہے، خدا کرے یہ اسی طرح جاری رہے تاکہ قوم سیاسی، معاشی اور اقتصادی بحرانوں سے نجات حاصل کرسکے، امید ہے کہ موجودہ حکومت تمام آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود قومی اور ملکی مفادات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی، معروف محقق، ڈاکٹر وقار احمد رضوی نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی ایک خوش آئند عمل ہے، لیکن اصل مسئلہ پاکستان میں جمہوری استحکام ہے، جمہوریت کے ذریعے ہی پاکستان کو تحفظ حاصل ہوسکتا ہے، پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ قومی یکجہتی کا فروغ ہے، جسے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ نئی حکومت پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے لیے عمل جدوجہد کرے گی، دہشت گردی کی فضا پر قابو پائے گی، اشیائے خورد نوش کی قیمتوں میں اعتدال لائے گی، میں نئے وزیر اعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، مجھے امید واثق ہے کہ وہ کوئی کام ایسا نہیں کریں گے، جس سے پاکستان کی بنیادوں کو نقصان پہنچے۔