زبان کے مسئلے پر فساد نہیں کرانا چاہیے، جسٹس وجیہہ الدین
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا ہے کہ اردو قومی زبان ہے اور اسے آسانی سے دبایا نہیں جا سکتا، زبان کا جھگڑا انگریز نے پیدا کیا۔ تقسیم سے قبل اردو زبان کو اہمیت حاصل تھی جبکہ ہندو ہندی زبان کو فوقیت دیتے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اردو زبان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے جو اردو بولنے اور سمجھنے والوں کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحریک نفاذ اردو کے زیراہتمام اجتماع سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سید مبین اختر، مظفر ہاشمی، ڈاکٹر پروفیسر نظر کامرانی، عبدالوحید ایڈووکیٹ، سید صلاح الدین اور رفیق الدین بابر نے خطاب کیا۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ دنیا کے جتنے ممالک نے اپنی زبانیں رائج کر کے ترقی کی ہے انہوں نے اپنی زبان پر جھگڑا نہیں کیا بلکہ انہوں نے دنیا کے علوم کو اپنی زبان میں منتقل کر کے ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو رابطے کی زبان ہے ہمیں زبانوں کے مسئلے پر فساد برپا نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں زبان کا پیغام محبت سے پھیلانا ہوگا، اردو کا نفاذ آئین کے مطابق ملک کے عوام کا حق ہے اور اسے ضرور نافذ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ججز کی بحالی کے بعد سپریم کورٹ کو چاہیے کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز کو سپریم جوڈیشل کونسل میں طلب کرے اور ان سے آئین توڑنے اور غاصب کا ساتھ دینے کے حوالے سے وضاحت طلب کی جائے۔ تحریک کے سرپرست ڈاکٹر سید مبین اختر نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک نے اپنی زبان رائج کر کے ترقی کی۔ یورپ کے تمام ممالک میں انگریزی رائج نہیں ہے بلکہ اپنی زبان رائج ہے۔