"تاریخِ سوہدرہ" کی تقریب رونمائی
مہر خالد مجید سیاسی و سماجی، دینی و ادبی حلقوں میں ایک معتبر نام ہے۔ وہ ایک سچے، کھرے اور ہر دل عزیز معروف شاعر بھی ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے سوہدرہ کے معروف مصنف کامران اعظم کی کتاب "تاریخ سوہدرہ" کی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا۔ جس میں اہلیان سوہدرہ کے علاوہ وزیر آباد کے معروف محققین، دانشوروں اور سوہدرہ کی عہد ساز شخصیات کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ مہر خالد مجید نے تقریب کی نظامت کے فرائض ادا کئے۔ تقریب کے مہمانانِ گرامی سید افتخار حسین شاہ، قاضی آصف جاہ بہادر، عبدالرشید عراقی، ماسٹر محمد یونس بٹ، صوبیدار(ر) ثناء اللہ، حافظ محمد مشتاق کوکب اور استاد طاہر وزیر آبادی تھے۔ سوہدرہ کی تاریخ اور عہد ساز شخصیات کا انسائیکلوپیڈیا "تاریخ سوہدرہ" کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے مہر خالد مجید نے کہا کہ "تاریخ سوہدرہ" نہ صرف سوہدرہ کی تاریخ اور اس کی عہد ساز شخصیات پر مشتمل ہے بلکہ یہ علم و ادب کے فروغ میں بھی ایک گرانقدر اضافہ ہے۔ حافظ مشتاق کوکب نے کہا کہ "تاریخ سوہدرہ" سے یہاں کی شخصیات کے ایسے گوشے منظر عام پر آئے ہیں۔ جن کے متعلق ایک طویل عرصے سے عوام کو آگاہی نہ تھی۔ محمود احمد کاشمیری نے کہا مصنف نے نہایت عرق ریزی، محنت اور لگن کے ساتھ "تاریخ سوہدرہ"کی اہمیت اور صداقت کے تذکروں کو جمع کر کے اور ہر اہم ترین حالات و واقعات کو مختلف کتب، اخبار و رسائل سے تلاش کر کے ایک خوبصورت اور دلکشاء گلدستے کی شکل میں پیش کر دیا ہے۔ اس طرح ایک تاریخی ریکارڈ مرتب ہو کر ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا ہے۔ مہر خالد مجید جیسے بے لوث اور ان کے با صلاحیت اور بلند عزم ٹیم کے ارکان چودھری محمد اشرف سابقہ کونسلر، حاجی محمد سلیم دولہ، حاجی اللہ دتہ کونسلر، ملک شاہد نعیم انور اور فضل میاں نے اپنی شاندار اور تاریخ ساز کارکردگی سے ثابت کر دیا ہے کہ جب کچھ اہل جنون، عزم و یقین کے چراغ ہاتھوں میں لے کر عشق کی بازی میں سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں تو ہر نا ممکن کو ممکن کر کے دکھا دیتے ہیں۔ "تاریخ سوہدرہ" پر اظہار خیال کرنے والوں میں ماسٹر محمد یونس بٹ، سید افتخار حسین، قاضی آصف جاہ بہادر، نعیم قیصر نجمی، نجیب اللہ ملک، خالد بٹ اور حماد ربانی کے نام شامل ہیں۔