ارشاد قمر کی شاعری میں مغربی اور مشرقی تہذیب کا امتزاج جھلکتا ہے
پروفیسر سحر انصاری نے کہا ہے کہ ارشاد قمر کی شاعری میں وہ حالات اور نفسیاتی و جمالیاتی کیفیت نمایاں ہے۔ جس سے وہ ابتدائی عمر میں گزرے اور روپ سے آگہی حاصل کی۔ ان کے تجربات میں عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں بھی نمایاں ہیں اور معاشرہ پر اس کا براہ راست اثر بھی واضح ہے۔ ارشاد قمر اپنی زمین اور رشتوں سے ہٹ کر نہیں جاتے۔ یہ بات انہوں نے ایمسٹرڈیم سے آئے شاعر ارشاد قمر کے چوتھے شعری مجموعہ ”صدائیں ساتھ رہتی ہیں“ کی تقریب اجراء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب کا اہتمام پاکستان سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن نے عالمی ادبی فورم کے تحت کیا۔ مقررین میں آسٹریلیا سے آئی ہوئی شاعرہ عندلیب صدیقی، مہمان اعزازی ڈاکٹر نثار ترابی، صابر نظامی، جاوید منظر، سید عبدالباسط اور زیڈ ایچ خرم نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر ترابی نے کہا کہ ارشاد قمر شعر کے بنیادی رویّے کو سامنے رکھ کر شاعری کرتے ہیں۔ تہذیبی رکھ رکھاؤ اور جمالیات ان کی نمایاں خوبی ہیں وہ ایمسٹرڈیم میں مقیم واحد شاعر ہیں جو اردو، فارسی اور عربی میں شعر کہہ رہے ہیں۔ جاوید منظر نے ”روشنی باٹنے والا شاعر کے عنوان سے اپنے مضمون میں کہا کہ ارشاد قمر کی شاعری میں مغربی اور مغربی تہذیب کا امتزاج جھلکتا ہے۔ ادب میں پہچانے جانے والے شاعر ہیں وہ کل وقتی شاعر ہیں۔ عندلیب صدیقی نے کہا کہ ارشاد قمر کے یہاں تہذیبوں کا امتزاج نمایاں ہے محبت ان کی شاعری کا بنیادی موضوع ہے۔پروفیسر صابر نظامی نے کہا یورپ میں رہ کر اردو زبان میں شاعری کو اپنائے ہوئے ہیں۔