ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر سید اظفر رضوی نے کہا ہے کہ ادب کے فروغ و ارتقاء میں تعلیمی اداروں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بزم اتحاد ادب کراچی کی جانب سے منعقدہ مقابلہ بیت بازی کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں کیا، انہوں نے کہا کہ ایک وہ زمانہ تھا جب ہر تعلیمی ادارے میں بزم ادب ہوا کرتی تھی، جس کے تحت مذاکرے اور مباحثے ہوتے تھے، مشاعروں کا اہتمام کیا جاتا تھا، طلبا و طالبات مقابلہ بیت بازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، جن سے ان کی ذہنی اور فکری تربیت بھی ہوتی تھی، ادب کے میدان میں آج کے کئی بڑے نام اسی خوش گواروں کی پیدوار ہیں، لیکن پھر اچانک یہ سلسلہ منقطع ہوگیا تھا، لیکن اب دوبارہ تعلیمی اداروں میں ادب داخل ہوگیا ہے، یہ ایک خوش آئند بات ہے، نئی نسل کو ادب کی طرف راغب کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ میں نو منتخب وزیر اعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی اور ان کی حکومت کا خیر مقدم کرتا ہوں، توقع ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ادب و ثقافت کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں گی، یہ بھی امید ہے کہ موجودہ حکومت اردو زبان کے نفاذ کو یقینی بنائے گی، قبل ازیں بزم کے جنرل سیکرٹری نعیم الحق صدیقی، نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، مقابلہ بیت بازی کے منصفین میں صابر نظامی، سید آصف علی فاروقی اور قاضی اختر جمال شامل تھے، اس مقابلہ بیت بازی کے انعام یافتگان میں نسیم الرحمان (اول) شاہد رضا (دوم) آنسہ حنا رئیس (سوم) اور کومل ریاض (خصوصی انعام) شامل ہیں، بعد ازاں شعری نشست ہوئی، جس میں شعراء نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔