انشاکولکاتا کی طرف سے انتظار حسین کے اعزاز میں استقبالی تقریب
اپنی کہانیوں کے بارے میں کچھ بولنا کہانی کار کا کام نہیں ، یہ کام انٹیلیکچوئل اور نقادوں کا ہے۔کہانی کار کا کام بس لکھنا ہے۔اسے پڑھنا اور اس کے معنی نکالنا قاری کا کام ہے۔یہ الفاظ پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ افسانہ و ناول نگار انتظار حسین کے ہیں۔انتظار حسین نے کہا کہ انہوں نے پریم چند کی بازیافت کی ہے۔کیونکہ برسوں پہلے انہوں نے ترقی پسندوں کے مقابلے میں مسترد کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پہلے اپنے سینیئر سے بغاوت ہونی چاہیے۔لیکن بعد میں جسیے جیسے انسان علم حاصل کرتا ہے، وہ اپنے سینیئر کے مرتبے کو سمجھ لیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے جب پریم چند کے افسانوں کادوبارہ مطالعہ کیا تو انہیں ایسا لگا کہ اس افسانہ نگار کو انہوں نے دوبارہ دریافت کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جب ادب کی قدر و قیمت نہیں رہی تو ہمیں بھی اپنی کہانیوں کو لے کر جنگل کی طرف جانا ہو گا۔لیکن ہمارے پاس مصیبت یہ ہے کہ جنگل بھی تیزی سے کٹتے جا رہے ہیں۔آج کا انسان بہت آگے بڑھ گیا ہے اور نیچر بہت پیچھے رہ گیا ہے۔