مغربی ممالک میں رہ کر کلاسیکی شاعری تخلیق کرنیوالے قابل تحسین ہیں
ممتاز ادیب اور محقق، نور احمد میرٹھی نے کہا ہے کہ مغربی ممالک میں رہ کر کلاسیکی شاعری کرنے والے شعرا قابل تحسین ہیں لیکن انہیں وہاں کے طرز زندگی اور معاشرے کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنانا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ فکر نو کراچی کے زیر اہتمام آسٹریلیا میں مقیم اردو کی معروف شاعرہ عندلیب صدیقی کے اعزاز میں منعقدہ محفل مشاعرہ کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عندلیب صدیقی تقریباً 25 برس سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں لیکن ان کی شاعری میں پاکستان کا درد اور وطن سے محبت کا جذبہ موجود ہے۔ یہ حب الوطنی کی روشن مثال ہے۔ مہمان خصوصی ، ممتاز ماہر تعلیم سید جواد حیدر نقوی نے کہا کہ عندلیب صدیقی ایک روشن خیال خاتون ہیں ان کی شاعری میں پاکستان کا سیاسی منظر نامہ اس طرح نمایاں ہے جیسے ان کا قیام یہیں ہے۔ ان کا پڑھنے کا انداز بھی اپنے اندر جاذبیت رکھتا ہے۔ صاحب خانہ، معروف شاعر، ادیب اور صحافی نعیم قریشی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ فکر نو باہر سے آنیوالے شاعروں اور ادیبوں کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہے۔ اس موقع پر مہمان اعزازی کے علاوہ جن شعراء نے کلام سنایا ان میں محسن اسرار، اختر سعیدی، اجمل سراج، شاہد کمال، رشید خان رشید، ڈاکٹر نثار احمد نثار، ضیاء الحسن ضیاء، محمد علی گوہر، نعیم صدیقی اور احمد خیال شامل ہیں۔