ریحانہ قمر نے اپنے احساسات کو اپنی زمین سے وابستہ رکھا، سحر انصاری
ممتاز شاعر اور نقاد پروفیسر سحر انصاری نے کہا ہے کہ ریحانہ قمر نے اپنے احسات کو اپنی زمین سے وابستہ رکھا ہے یہ کوئی معمولی بات نہیں اس سے ان کے شعری رویّے کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ظہوریہ اکیڈمی کراچی کے زیر اہتمام امریکا میں مقیم اردو کی ممتاز شاعرہ، ریحانہ قمر کے اعزاز میں منعقدہ محفل مشاعرہ کے موقع پر صدارتی خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریحانہ قمر کا اسلوب دوسروں سے بہت مختلف نظر آتا ہے ان کی شاعری میں نسائی شعور بھی نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریحانہ قمر کی شاعری میں ایک خاص قسم کی ادا ہے لیکن اس میں بھی ایک آہنگ ہے۔ ناظم مشاعرہ راشد نور نے تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریحانہ قمر، انجمن ترقی اردو (کیلی فورنیا) کی روح رواں کی حیثیت سے اردو زبان و ادب کیلئے جو خدمات انجام دے رہی ہیں انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ریحانہ قمر کو پاکستان اور پاکستانیوں سے بے پناہ محبت ہے اس کا اظہار انہوں نے اپنی شاعری میں بھی کیا ہے۔ قبل ازیں میزبان مشاعرہ، ممتاز شاعر، غوث متھراوی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ اس موقع پر صاحب صدر اور مہمان اعزازی کے علاوہ جن شعراء نے کلام سنایا ان میں قمر زیدی ، غوث متھراوی، سعدیہ حریم، راشد نور، ریحانہ روحی، اختر سعیدی، ڈاکٹر نثار احمد نثار، سلمان صدیقی، طیبہ روحی ظفر، عنرین حسیب عنبر، تبسم صدیقی، حمیرا راحت، سحر علی، عاطف توقیر، روحانہ رومی، شوکت علی عنقا اور زہرا جنید زارا شامل ہیں۔