ادب میں گروپ بندیاں مافیاں کی صورت اختیار کر گئی ہیں :
معروف صحافی اور قلمکار عارفہ صبح خان سے گفتگو
عارفہ صبح خان ان چند خوش قسمت افراد میں سے ہیں جنہوں نے نہایت قلیل عرصہ میں عزت اور شہرت کی نعمتوں سے اپنا دامن بھرا ہے انہوں نے صحافی کی حیثیت سے بہت جلد اپنے ہم عصروں میں ایک خاص اور نمایاں مقام حاصل کیا اور اس کے بعد وہ مختلف حیثیتوں میں نام کماتی چلی آ رہی ہیں اس وقت تک وہ سات کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں عکس زن، اماں حوا سے اماں کونسلر تک، شٹ اپ، مابدولت، تجاہل عارفانہ، کرکرے کردار، پہلا پیار شامل ہیں ۔ عارفہ صبح خان کسی ایک موضوع یا ایک شعبے تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے ہر موضوع کو چھیڑا ہے پاکستان کے ممتاز قومی اخبارات سے ہمیشہ منسلک رہی ہیں اور بطور صحافی انہوں نے کالم نویس، میگزین ایڈیٹر، لیڈی رپورٹر، انچارج سیاسی تعلیمی ملی خواتین اوور سیز ، ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ ساتھ ادبی ایڈیشن بھی کمال خوبی سے پیش کیا ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ الیکٹرونک میڈیا پر بحیثیت ایگزیکٹو پروڈیوسر اور اینکر پرسن کے فرائض انجام دیتی آ رہی ہیں اور چار خوبصورت پاپولر پروگرامز پیش کر چکی ہیں جن میں ہاٹ ایشوز، پولیٹیکل ٹائم، ون ٹو ون، اور پولیٹیکل ٹمپریچر شامل ہیں عارفہ صبح خان نے پی ٹی وی اور پرائیویٹ پروڈکشن کے لئے چار ڈرامہ سیریلز بھی قلمبند کئے ہیں جن میں آئینہ خ نئے راستے ، کیوں اور لیڈی رپورٹر شامل ہیں ان میں سے کیوں اور لیڈی رپورٹر بہت مشہور ہوئے اور زی ٹی وی نے کیوں کو کاپی بھی کیا عارفہ صبح خان کے کریڈٹ پر چودہ ایوارڈز ہیں مگر ان کا سب سے بڑا ایوارڈ پاکستان کی پہلی مزاح نگار خاتون ہونا اور برصغیر پاک و ہند کے نامور ادباء و شعراء نقادوں سے داد تحسین حاصل کرنا ہے۔ ان سے کی گئی گفتگو نذرِ قارئین ہے۔
س: کسی خاتون کا مزاح کی طرف آنا اور پھر چھا جانا یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے آپ کی یکے بعد دیگرے تین کتابیں مزاح کی آ چکی ہیں کچھ اس حوالے سے بتائیے؟
ج: ابھی تک سبھی کو حیرت ستاتی ہے حالانکہ میں مزاح نگار پہلے ہوں اور صحافی بعد میں میں نے چوتھی جماعت سے لکھنا شروع کیا تھا آٹھویں جماعت تک مربوط اور منظم نثر لکھتی تھی اس وقت تک کے اگرمیرے خطوط کسی طرح دستیاب ہو جائیں تو شاید لوگ حیرت زدہ رہ جائیں کہ میں نے اس میں کافی دلچسپ طریقے سے باتیں کی ہیں ویسے تو مجھے امید نہیں ہے کہ میری طرح میرے عزیز رشتہ دار بھی اتنے سلیقے اور محبت والے ہوں گے کہ ان خطوط کو انہوں نے سنبھال کر رکھا ہو بہر حال میرے خطوط اس قدر دلچسپ ہوتے تھے کہ انڈیا سے ایک بار ہمارے رشتہ داروں کے جاننے والوں میں ایک بنک منیجر تھے وہ میرے کزنز کے نام میرے خطوط اس قدر شوق سے پڑھتے تھے کہ اپنی بہن سمیت رشتہ دار پاکستان آ گئے جبکہ میں اس وقت نویں جماعت میں آئی تھی اور فراک پہن کر سٹاپو کھیل رہی تھی میں نے اس وقت تک غالب کو بھی نہیں پڑھا تھا کہ آدمی سوچے کہ غالب کا اثر تو نہیں آ گیا اس کے بعد جب میں اخبارات میں بھی لکھنے لگی تھی تومیری بچوں کی کہانیاں بھی بہت چٹ پٹی ہوتی تھیں اور پھر انشائیے لکھے باقاعدہ طنز و مزاح لکھنے لگی کیونکہ مجھے بہت نمایاں طور پر شائع کیا جاتا تھا اور رخسانہ نور، فرزانہ ممتاز اور زبیدہ خاتون مجھے اتنی محبت سے چھاپتی تھیں کہ اکثر دوسری قلمکار خواتین سمجھتی تھیں کہ ضرور میں ان کی کزن یا رشتہ دار ہوں جبکہ ان تینوں نے پہلی بار مجھے اس وقت دیکھا جب میں خود صحافی بن گئی۔
س:لیکن ایک خاص مدت تک آپ بہت سنجیدہ مضامین فیچرز کالمز لکھتی رہیں جبکہ مزاح کے لئے آپ کے پاس ایک بہت بڑا پلیٹ فارم بھی موجود تھا؟
ج: آپ بجا فرما رہے ہیں لیکن جرنلزم اور لٹریچر میں زمین و آسمان کا فرق ہے جب میں نے صحافت کو جوائن کیا تو یہاں بڑی تلخ حقیقتیں تھیں میں بنیادی طور پر بہت خوش مزاج، رجائیت پسند اور شوخ و شرارتی تھی لیکن جرنلزم ایک بالکل مختلف نوعیت کی جاب ہے جہاں بھانت بھانت کے لوگوں سے پالا پڑتا ہے اور حقائق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا پڑتی ہیں میں نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ ایک ایسی جاب میں میرے ہنس مکھ ہونے اور شوخیاں شرارتیں کرنے سے بہت مسائل جنم لیں گے میں تو ایک بہت ہی تعلیم یافتہ خاندان کی لڑکی ہوں اور ظاہر ہے کہ کالج یونیورسٹی کی پڑھی ہوئی ہوں مگر میرا پالا کئی پسماندہ اذہان سے تھا اس لئے پہلے ایک دوسال تو کم عمری اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی لیکن میں جلد ہی سیریس ہو گئی اور بہت بارعب جلالی شخصیت اختیار کر لی کیونکہ لڑکیوں کے لئے یہی طریقہ مناسب ہوتا ہے اس طرح مجھے جرنلزم میں دو چیزوں سے تائب ہونا پڑا ایک شاعری اور دوسرے مزاح ، سچ جانئیے تو یہ میری انتہا درجے کی قربانی تھی بس اس لئے دیدہ ودانستہ میں نے ان دونوں صلاحیتوں کو تھپک کر سلا دیا۔
س:اس امر پر بھی بعض لوگ حیران رہ جاتے ہیں کہ آپ شاعرہ ہیں کیونکہ آپ مشاعروں میں بھی کم نظر آتی ہیں ؟
ج:میں نے بتایا ناں کہ جرنلزم کی وجہ سے مجھے شاعری بھی چھوڑنا پڑی کیونکہ جس دن میری نظر یا غزل شائع ہوتی تھی اس دن اتنا رسپانس آتا تھا کہ بس میری نظم اور غزل پر ہی بات ہوتی رہتی تھی اور فون تو اس قدر آتے تھے کہ میرے کولیگزکان پکڑ لیتے تھے کچھ عرصے یہی سلسلہ چلتا رہا پھر میرے ایگزیکٹو ایڈیٹر نے میری شاعری چھاپنا بند کردی اور ادبی ایڈیشن، سنڈے میگزین کے انچارج کو کہہ دیا کہ آئندہ ان کی شاعری چھاپنے کے بجائے مجھے دے دی جائے ایک دن میں نے ان کے پاس جا کر شدید احتجاج کیا کہ آپ مجھے بچی سمجھتے ہیں جو میری نہ شاعری شائع ہونے دیتے اور نہ ہی مجھے سیاسی مضامین لکھنے دیتے ایگزیکٹو ایڈیٹر بولے کہ کچھ باتیں وقت گزرنے کے بعد اور میچورٹی سے آتی ہیں اس لئے فی الحال آپ شاعری کے بجائے رپورٹنگ اور میگزین پر توجہ دیں آپ کا کام شاعری کرنا نہیں بلکہ انٹرویو اور خبریں دینا ہے میں نے اگلے دن پیر پگاڑا کا انٹرویو دیا اور اس پر ہمیں پورے ملک سے فون آئے اس طرح ملکہ ترنم نورجہاں ، جنرل آصف نواز، ناہید اختر، مصطفی کھر وغیرہ کی خبروں پر بہت رسپانس آیا تو میں نے کہا کہ اب فرمائیے، میرے لئے کیا حکم ہے بہرحال مجھے صحافت کے دوران شاعری سے دور ہی رہنا پڑا میں مشاعروں اور فنکشنوں میں بہت سے کم جاتی ہوں کیونکہ ابھی تک ہمارے ہاں خواتین کا یوں بے دھڑک آنا جانا معیوب سمجھا جاتا ہے اور مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں عام عورتوں کی طرح ہر وقت ہر جگہ پھرتی رہوں مجھے یہ بات بہت معیوب لگتی ہے ویسے بھی دو تین ایسی شاعرات ہیں جو خود کہہ کر مشاعروں اور تقاریب میں شرکت کرتی ہیں تاکہ انہیں شہرت ملے میں نے دیکھا ہے کہ لوگ ان کے بارے میں بڑی منفی رائے رکھتے ہیں اس لئے ایسی سستی شہرت سے اللہ بچائے۔
س:آپ کے خیال میں کیا اردو ادب ذرخیز ہے آپ ادب کو کس سطح پر دیکھتی ہیں ؟
ج:اردو ادب اس حوالے سے تو واقعتا زرخیز ہے کہ شاعری کی تمام اصناف میں سبھی نے طبع آزمائی کی ہے اور اس وقت تک شاعری میں ہزاروں کتابیں موجود ہیں اس طرح داستان تذکرے، ناول، سفر نامے، تاریخ، سوانح عمریاں ، خودنوشت افسانے مضامین، انشائیے طنز و مزاح غرضیکہ سبھی کچھ ہے اردو ادب کے دامن میں بعض عالمی سطح کے ادیب اور شعراء کو اس حوالے سے زیادہ خوش فہم نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہمارے ادیب شاعر ایک ڈگر پر چلنا شروع ہو جاتے ہیں تو پھر اسی لکیر کو پیٹتے رہتے ہیں ہجرت کا واقعہ یقیناً بڑا تھا لیکن اس حوالے سے ادب میں رجعت پسندی، سیاست قنوطیت اور تکرار ہے ادب تو متحرک کرتا ہے اور انقلاب کا پیش خیمہ بنتا ہے اس طرح آزاد نظم کا چلنا شروع ہوئی تو سبھی بغیر سوچے سمجھے بھیڑ چال کا شکار ہو گئے اردو ادب میں بہت کام ہو چکا ہے لیکن عالمی اور آفاقی سطح کا ادب تخلیق ہونا باقی ہے اس کے علاوہ میر، غالب، اقبال جیسے شعراء اور شبلی، حالی، غلام عباس منٹو جیسے شعراء اور ادباء کا عظیم کام مغربی دنیا تک صحیح طریقے سے نہیں پہنچا ان ساتوں ادباء و شعراء کا کام اس پائے کا تھا کہ انہیں نوبل پرائز ملتا اور ان کے فن پاروں کے تراجم کر کے دنیا میں متعارف کرائے جاتے۔
س:اس غفلت اور بے توجہی کی کیا وجہ ہے؟
ج:ہم اس لحاظ سے بدقسمت قوم ہیں کہ ہر وقت ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے بلکہ ایک دوسرے کو نوچتے کھسوٹتے رہتے ہیں ایک دوسرے کو لعن طعن اور ڈی گریڈ کر کے خود کو فاتح اعظم سمجھتے ہیں لیکن بھارت میں اس طرح کی کی کوئی روایت نہیں ہے شمس الرحمن فاروقی اور ڈاکٹر گوپی چند نارنگ الگ الگ نظریات اور دبستانوں کے نمائندہ ہیں مگر ان میں کوئی دشمنی، مخاصمت کینہ نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اورایک دوسرے کی صلاحیتوں کا برملا اعتراف کرتے ہیں لیکن یہاں جس قدر گروپ بازی ہے وہ مافیا کی صورت اختیار کر چکی ہے جو ادیب شاعر کسی گروپ کے بینر تلے نہیں ہے تو سمجھیں اس کے سر پر نہ چھت ہے نہ آسمان اس قدر نفرت اور انتقامی رویے ہیں کہ افسوس ہوتا ہے یہ گروپ بازی ہر سطح اور ہر شعبے میں ہے لیکن کم از کم ادب میں نہیں ہونی چاہیے ادب میں صرف مہذب اور وسیع القلب لوگوں کی ضرورت ہے لیکن ادب میں بھی کئی غیر ادبی بلکہ بے ادب گھس آئے ہیں اگر ہمارے ہاں سینئرز اپنے جونیئرز کو راستہ دیں اور جونیئرز اپنے سینئرز کا احترام کریں تو اردو ادب عالمی ادب کی ہمسری کے قابل ہوتا کسی نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اردو ادب کو مغربی دنیا میں احسن طریقے سے متعارف کرایا جائے ہر ادیب شاعر خود کو کیش کرانے پر لگا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ سب کچھ اکیلے اکیلے ہڑپ کر جائے۔
س:ادب میں کون سی صنف بالخصوص پسند ہے اور کیوں ؟
ج:مجھے تقریباً سبھی اصناف پسند ہیں لیکن موثر ، بروقت اور جامع ترسیل کے لئے طنز و مزاح اور افسانہ بہترین ہے اب ناولوں داستانوں کا زمانہ گزر چکا کس کے پاس وقت کہ لمبی کتھا کہانیاں پڑھے اور ہمارے ہاں تو ادب کا شعور ہی کم ہے حکومت نے اداکاراؤں اور کھلاڑیوں پر تو کروڑوں اربوں روپیہ خرچ کیا ہے حالانکہ نہ کھیل کبھی زندہ رہتے ہیں اور نہ ناچ گانے والے کبھی تاریخ کا حصہ بنتے ہیں دنیا میں صرف ادب زندہ رہتا ہے اور سچاادیب شاعر ہمیشہ کے لئے لافانی ہو جاتا ہے جہاں جاہل لوگوں کا راج ہو۔وہاں ادب اور ادیب کی قدر کیا ہو گی اسی لئے آج بھی ان گنت ادیب شاعر سفید پوش ہیں اور نجانے کس طرح زندگی اور تخلیقات کو قائم و دائم رکھتے ہیں میرا کبھی بس چلا تو میں ادیبوں شاعروں کے لئے باقاعدہ ایک وزارت قائم کروں گی جس میں ادیبوں شاعروں کو ان کا جائز مقام اور صلہ مل سکے۔
س:آپ نے ایم فل اردو ادب میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور ایم فل میں آپ کا مقالہ خالصتاً تنقید پر تھا اب آپ نقاد بھی بن گئی ہیں کیا آپ پاکستانی نقادوں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ؟
ج:بالکل نہیں !اپنا مقالہ لکھنے کے دوران میں نے دو سو سے زائد کتابوں کا مطالعہ کیا اور مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری تنقید کو "سچی تنقید" کی سخت ضرورت ہے اردو تنقید میں نظریہ ساز نقادوں کا قحط پڑا ہوا ہے زیادہ تر تنقید مغرب کی جگالی ہے اردو تنقید بیمار مضمحل اور زود رنج اور اصلاح طلب ہے بہت کم نقادوں کے ہاں اعتدال اور توازن ہے تنقید میں بھی دشنام طرازیاں ہیں ایک دوسرے کو مورد الزام قرار دیا گیا ہے یا پھر چاپلوسی خوشامدی اور بے جا تعریفوں کے طومار ہیں ادب میں بھی لوگ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے مقالہ لکھنے اور کتابیں پڑھنے کے دوران کئی بت دھڑام سے گرے اور پاش پاش ہو گئے بہت کم نقادوں کا کام اعلی پائے کا ہے۔
س: آپ کو اردو تنقید میں کس نقاد نے متاثر کیا؟
ج:اگر صحیح پوچھیئے تو حالی ہی بڑا نقاد ہے جس کے پاس کچھ نہیں تھا لیکن اس شخص نے ایک ٹھوس سوچ، نظریہ اور اصول و ضوابط فراہم کئے۔ وہی اردو ادب کا اصلی نقاد ہے۔ وہی بڑا نقاد ہے جبکہ حالی سے عظیم اور برتر نقاد میں غالب کو مانتی ہوں لیکن دنیا غالب کو محض شاعر مانتی ہے۔ غالب کا سارا کلام تنقید پر مبنی ہے مگر چونکہ وہ شاعری ہے اس لئے کسی نے کبھی غالب کی اس حیثیت پر غورنہیں کیا۔ غالب کے زمانے میں نثر کا چلن نہ ہونے کے مترادف تھا۔ اگر بیسویں یا اکیسویں صدی کی طرح غالب کے عہد میں نثر کا رواج ہوتا تو غالب اردو تنقید کے بانی کہلاتے تاہم میرے حساب سے غالب ہی تنقید کی بنیاد رکھنے والے ہیں اور حالی تنقید کے معمار ہیں ۔ ہمارے ہاں کلیم الدین احمد پر بڑی لے دے ہوئی ہے لیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ کلیم الدین احمد بڑی حد تک حق بجانب تھے لیکن افراط و تفریط کا شکار ہوگئے اور توازن قائم نہیں رکھ سکے وگرنہ کلیم الدین احمد کی تنقید میں حقیقت اور بصیرت موجود ہے۔ آج کل کے نقادوں میں ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر سلیم اختر وغیرہ کے ہاں گہرائی ہے۔
س:اردو ادب میں کون سی اصناف زیادہ ذرخیز ہوئی ہیں ؟
ج:غزل اور افسانہ، یہاں کافی اچھا معیاری اور منفرد کام ہوا ہے۔
س:مزاح میں کس سے متاثر ہیں ؟
ج:میں نے بے شمار ادباء و شعراء کو پڑھا ہے لیکن میں نے ابھی تک مزاح نگاروں کو نہیں پڑھا۔ زیادہ سے زیادہ پطرس بخاری، مرزا فرحت اللہ بیگ اور عظیم بیگ چغتائی کو نصاب کی حد تک پڑھا ہے۔ اس میں کچھ شعوری اورکچھ لاشعوری طور پر بھی نہیں پڑھا کہ کس کے اثرات نہ نفوز کر جائیں اور کچھ پڑھنے کا موقع بھی نہیں ملا کیونکہ میں بیک وقت اتنے کاموں میں منہمک رہتی ہوں کہ خود کبھی آج تک اپنا لکھا ہوا نہیں پڑھا۔ میں نے خود جو کچھ لکھا ہے کبھی اس پر نظرثانی نہیں کی۔ اس کی اصلاح نہیں کی۔ میں ہمیشہ عجلت میں رہتی ہوں لیکن جب یہ پڑھتی ہوں کہ غالب نے اپنی غزلوں کی دس دس بار اصلاح کی اور مشتاق یوسفی صاحب بار بار نظرثانی کرتے اور چھان پھٹک کرتے ہیں تو رشک بھی آتا ہے اور حیرت بھی ہوتی ہے کیونکہ میرا آج تک جو بھی کام سامنے آیا ہے وہ ایک ہی بار میں کیا ہوا ہے۔ مزاح میں مجھے پطرس بخاری پسند ہیں ۔ اس کے علاوہ فرحت اللہ بیگ، شوکت تھانوی، مشتاق یوسفی، عطاء الحق قاسمی اچھے مزاح نگار ہیں ۔
س:آپ کی شاعری ابھی تک منظرعام پر نہیں آئی حالانکہ آج کل اکثر خواتین صاحب دیوان کہلاتی ہیں ۔
ج:بس سمجھ لیں کہ اسی لئے ابھی تک میری شاعری منظرعام پر نہیں آئی۔ مجھے ایسی قطار میں کھڑا ہونا پسند نہیں جن پر یہ لیبل لگا ہو کہ نام زمانہ ہے اور اصلی شاعری کسی مرد شاعر کا کارنامہ ہے ویسے بعض بہت اچھی شاعرات بھی ہیں جیسے پروین شاکر مرحومہ، ادا جعفری اور نئی خواتین میں رخشندہ نوید، شہناز مزمل، ثمینہ راجہ وغیرہ ۔ مجھے ابھی شاعری چھپوانے کی جلدی نہیں ہے۔