فن اور سوزِ دروں اگر انگلیوں کی پوروں میں آن بسے تو رنگوں کے خوبصورت تال میل سے شاہکار اُبھرتے ہیں ۔ سات سروں کی بہتی نیا کانوں میں رَس گھولتی ہے اور اگر یہ ہی فن خیالات پہ لفظوں کی صورت اُبھرنے لگے تو شعر و سخن کی دنیا آباد ہونے لگتی ہے۔ صوفیہ بیدار بھی ایسی ہی خوش بخت خاتون ہیں جنہیں خدا نے فن شاعری کی دولت سے نوازا۔ انہیں نہ صرف شاعری بلکہ مصوری، کالم نگاری اور کمپیئرنگ میں بھی کمال حاصل ہے۔ فن کی اہمیت سے آشنائی انہیں آرٹ کے شعبے کی آبیاری کی جانب لے آئی اور وہ اس فرض کو بخوبی نبھا رہی ہیں ۔ اس باصلاحیت شاعرہ اور ادیب سے کی گئی گفتگو نذرِ قارئین ہے۔
س: ادب اور آرٹ کی جانب رجحان کيسے ہوا؟
ج: يوں تو فن و ادب ہميشہ سے ہی مانندِلہو ميری رگوں ميں روا ں رہاليکن اس ميں گھر کے ادبی ماحول کا بھی خاصا عمل دخل تھا۔ميرے والد شاعر و صحافی تھے اور والدہ کو بھی پڑھنے لکھنے سے شغف تھا۔ گھر ميں سرکردہ ادبی شخصيات کا آنا جانا بھی لگا رہتا۔آغاز تو ميں نے پی ٹی وی سے بطورِ اناؤنسر اور نيوز کاسٹر کيا پھر پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ڈی جی پی آر ميں سليکشن ہو گئی۔مگر بعد ازاں افسران نے ميرا رجحان ديکھتے ہوئے پنجاب آرٹ کونسل کے شعبے کو ميرے ليے احسن خيال کيا۔ اور يوں ميں گزشتہ پانچ سال سے اس شعبے سے منسلک ہوں ۔
س: شعری آمد کا ادراک کب ہوا؟
ج: ميں نے بہت چھوٹی عمر ميں شاعری شروع کی،امتحانات ميں بھی اپنے شعر لکھ ديتی وطن کی محبت پر بھی کئی نظميں کہیں بہت دفعہ تختہ سیاہ پر شعر لکھنے کے جرم ميں سزا بھی ہوئی کہ آئندہ شاعری نہیں کرو گی مگر ميں باز نہیں آئی اور اگلے ہی دن يہ شعر لکھ دیا
کہنا مانا نہیں کسی کا کبھی
دل نے جو بھی کیا سو ٹھیک کیا
س:کون سی کيفیات شعری آمد کا باعث بنتی ہيں ؟
ج:شاعری از خود ايک کيفیت اور سرور ہے جو باقی ضرورتوں کو پور ا کرتی ہے،شاعری پریوں کی طرح اترتی ہے اور ہمہ وقت ميرے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ ان پریوں کو اگر فوری پکڑ کر قلم وقرطاس کے رشتے ميں باندھ دیا جائے تو ٹھیک ورنہ يہ روٹھ جاتی ہيں ۔اس کيفیت کے زيرِ اثر بس مکمل تنہائی کی خواہش ہوتی ہے۔
س: اب تک کتنے شعری مجموعے منظرعام پر آ چکے ہيں ؟
ج: ميرا ايک ہی شعری مجموعہ "خاموشیاں " کے نام سے شائع ہوا ،علاوہ ازیں افسانوں کا ايک مجموعہ بھی زيرطبع ہے۔ يوں تو ميری کالموں اور مقالوں پر مبنی بیسیوں کتابيں چھپ سکتی ہيں مگر ايک تو وقت نہیں ملتا دوسرا ميں مقدار کی بجائے معيار کو ترجیح ديتی ہوں ۔
س: شاعری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری بھی کی؟
ج: بالکل!اور ميرے پہلے ہی افسانے کو "بیاض "ايوارڈ بھی ملاتھا۔اب بھی افسانوں کا مجموعہ چھپنے کے مراحل ميں ہے۔دراصل بہت سی کہانیاں ميرے اندر گھات لگائيں بيٹھی ہيں مگر جس تکلیف سے گزر کر لکھنا پڑتا ہے ا س سے خائف ہوں ،دنیا بغير کيفیت کے دھڑا دھڑ کتابيں لکھ رہی ہے مگر اس ميں وہ تاثیر اور سوز نہیں جو تکلیف سے گزر کر لکھنے ميں ہے۔ تحریر کے ساتھ انصاف کرنابہت ضروری ہے ورنہ وہ بے اثر لفاظی کے سوا کچھ نہیں اپنی ذات کو خرچ کر کے اور اپنوں سے کٹ کر لکھنے کو وقت دينا پڑتا ہے پھر ہی کوئی شاہکار تخلیق سامنے آتی ہے۔
س: کیا ادبی، شعری اور فکری نشستوں ميں کمی ادب کی ترقی کی راہ ميں حائل نہیں ؟
ج: ادبی و فکری نشستوں ميں کمی ادب کی ترقی کی رفتار کو کم تو کرتی ہے مگر رکاوٹ نہیں بن سکتی ،لاہور کو ہی ديکھا جائے تو يہاں بے پناہ ادبی تقریبات منعقد کی جاتی ہيں ۔ادبی بيٹھکيں ،محافل وغيرہ ميں تو آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔يہ لوگوں کے ذہنی معيار کو بلند کرنے ميں بہت کارگر ثابت ہوتی ہيں ۔
س: آپ کے نزدیک غزل کہنا زیادہ مشکل ہے يا نظم تراشنے کا ہنر گراں بار ہے؟
ج: غزل ہی شاعری کا اصل معيار ہے۔نظموں کے سہارے آگے آنے والے شاعر درحقیقت شاعر ہی نہیں ۔اگر فکر بھی شاعرانہ ہو اور فارميٹ بھی غزل کا ہو تو ہی شاعری کے لوازمات پورے ہوتے ہيں ،نظم تو کوئی بھی کہہ سکتا ہے۔
س: فنکار اور فنونِ لطیفہ کی پسماندگی کی کیا وجوہات ہيں ؟
ج: فنونِ لطیفہ يا تو مزاحمت کو طور پر مزاحمتی ادوار ميں زیادہ پنپتے ہيں يا ريليکس زمانے ميں اس کا زیادہ اظہار ہوتا ہے۔يہ کمپیوٹرائزڈ دور ہے اور تعلیم معروضہ ہو چکی ہے،تخلیقی رجحان ميں کمی کی وجہ سے آرٹ کو دیمک لگ چکا ہے۔موجودہ دور ميں آرٹسٹ مشکل ميں ضرور ہے مگر آرٹ کبھی مرتا نہیں جدوجہد جاری رہتی ہے۔آرٹ اور سائنس کو متصادم کی بجائے متوازن سمجھ کر چليں تو يہ قضیہ بھی ختم ہو سکتا ہے۔
س: ادب کی دیگر اصناف کے مقابلے ميں تنقید کو اتنی پزیرائی کیوں نہیں ؟
ج: ديکھا جائے تو مغرب ميں جتنے بڑے شاعر اور ادیب ہيں اتنے اچھے تنقید نگار بھی ہيں ۔مگر يہاں معاملہ الٹ ہے ،يہاں تنقید نگاروں کو خوامخوا ہ نشانہ بنايا جاتا ہے حالانکہ اچھے لکھاری کو ايک نقاد بھی ہونا چاہیے۔يہ تنقید نہ ہونے کا سبب ہی ہے کہ ہمارے ہاں ہر دوسرا شخص شاعريا ادیب بننے کے چکر ميں ہے۔اگر تنقید کی چھاننی سے تمام نگارشات کو چھانا جائے تو چند لوگ ہی معيار پرپورے اتريں گے۔ انور سدید ہمارے دور کے بہت اچھے نقا د ہيں اور ہميشہ غير جانبدارانہ رائے ديتے ہيں علاوہ ازیں ڈاکٹر سلیم اختر بھی اچھے ناقدین ميں سے ہيں ۔ سب سے اہم بات يہ ہے کہ انسان کواپنا سب سے بڑا نقاد خود ہی ہونا چاہيے وہ اپنی تحریروں کو ايک کڑے ناقد کے طور پر پرکھے اگر اس ميں صلاحيت اور انفراديت نہ پائے تو لفظوں کے ڈھير لگانے کی بجائے چھوڑ دے۔
س:غير معياری شاعری يا تحریر کے باوجود لوگ لکھنے کا پیچھا کيوں نہیں چھوڑتے؟
ج: اس ليے کہ شہرت اور پذیرائی کا سب سے آسان طریقہ انہيں يہی نظر آتا ہے شہرت کے ساتھ انہيں پروٹوکول بھی ملتا ہے اور زيادہ محنت بھی نہیں کرنا پڑتی حالانکہ صحیح شاعر بيرونی تلخيوں کے علاوہ درونِ ذات بھی بہت دُکھ اُٹھاتا ہے۔اسے نا مساعد حالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
س: بحيثيت کالم نگار کيا کالم کو ادب کا حصہ سمجھتی ہيں ؟
ج: کالم نگاری پہ اعتراض ہوتا ہے کہ يہ ادب کا حصہ نہیں ليکن ادبی کالم ،ادب کا حصہ ہی ہوتے ہيں ميں تو کہتی ہوں کہ کالم نگاری صحافت اور ادب کا حجلۂ عروسی ہے۔ اگرغمِ دوراں کو غمِ جاناں ميں شامل کر کے ايک خوبصورت امتزاج اور پُر اثر اسلوبِ نگارش سامنے لايا جائے تو اس کو ادب کا حصہ کيسے نہیں مانا جائے گا۔
س:کيا نووارد تخلیق کار شعروادب کے معيار کو برقرار رکھے ہوئے ہيں ؟
ج: نئے آنے والوں ميں ادب کا شوق ہے۔ حسن عباسی اور عرفان صادق سميت بہت سے لوگ بہت اچھا لکھ رہے ہيں ۔ہر دور کو اپنے شاعر اور ادیب کی تلاش ہوتی ہے ہم ہميشہ نئے اور دورِ حاضر کے عکاس کو ڈھونڈتے ہيں صرف پرانے پر تکيہ نہیں کر سکتے۔
س: شعروادب اور آرٹ سے جڑے لوگوں کو سنکی کيوں سمجھا جاتا ہے؟
ج:عام اور نارمل لوگ اینٹوں پتھروں کے سودے کرتے ہيں ،عمارتيں بناتے ہيں مگر ہم رگِ سنگ ديکھتے ہيں پتھر کو بھی دھڑکتے ہوئے محسوس کرتے ہيں تو يہ مخبوط الحواسی ہی ہوئی نا؟ لوگ کاروبارِحيات کرتے ہيں اور ہم زیست کی حقیقت جاننے کے پیچھے لگے ہيں ۔ ہم ورثہ چھوڑ کر جائيں گے علم کا اور وہ دولت کو وراثت ميں چھوڑيں گے يہ عرصہ جاں ايک خوف سے دوسرے خوف ميں منتقلی کا نام ہے۔ اس عرصے ميں فکر و روح کی جلا کريں يا پھر اینٹ روڑے کے سودے کريں ۔خواہشات کو قابو نہ کيا جائے تو پھر شعلہ صفت بدن وجود ميں آتے ہيں جو آن واحد ميں اپنے ساتھ ہزاروں لوگوں کی موت کا سبب بنتے ہيں خواہشات کا تسلسل تو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔
س: آرٹ کونسل اور ادبی سرگرميوں کے ساتھ گھريلوامور ميں کس طرح توازن رکھتی ہيں ؟
ج: ميں دیگر لوگو ں کی طرح يہ نہیں کہوں گی کہ ميں سب کر ليتی ہوں اگر سچ کہوں تو ايک کام نمٹانے کے چکر ميں دوسرا رہ جاتا ہے اگر آفس کا کام پورا ہوجائے تو شاعری رہ جاتی ہے تو کبھی گھر کوتاہيوں کی نظر ہو جاتا ہے۔بچوں اور عزیزواحباب کے فرائض بھی صحیح طرح سے نبھاہ نہیں پاتی۔
س: آپ کی تخلیقات ميں داخلی کيفيات کو فوقيت حاصل ہے يا پھر خارجی واقعات کا اثر نماياں ہے؟
ج: يہ تخلیق کی صنف پر منحصر ہے۔شاعری اندر کی دنيا کی طرف لے جاتی ہے۔جب کہ کالم نگاری ہجوم ميں گُم ہونے کا نام ہے ميں خود کو ان لوگوں کی جگہ اور ان کے ساتھ محسوس کرتی ہوں جنہوں نے ظلم سہے ، بم دھماکوں کا لقمہ بنے اسی تکلیف سے گزر کر احساسات کو تحریر کا روپ ديتی ہوں ۔
س: اردو ادب کا بہترین افسانہ نگار کسے مانتی ہيں ؟
ج: مجھے کرشن چندر اور راجندر سنگھ بيدی بہت پسند ہيں ۔ قراۃالعين حيدر اور واجدہ تبسم نے بھی بہت اچھا لکھا مگر انہوں نے معمول کو تاریخ کے ساتھ پيش کيا۔ منٹو نے بھی الگ زاويے سے نفسيات کے مشاہدے کو قرطاسِ ابيض کا حصہ بنايا۔ اور خوبصور ت طرزِتحریر پيش کيا۔
س: ہمارے ادب کا بيشتر حصہ قنوطيت اور مايوسی کا پرچارک ہی کيوں ہے؟
ج: دراصل اُداسی اور ڈپريشن ميں بہت فرق ہوتا ہے اداسی ايک خوبصورت کيفيت ہے جو انسان کی تخلیقی صلاحيتوں کو اُجاگر کرتی ہے مگر ڈپريشن صلاحيتوں کو زنگ لگا ديتا ہے۔ ادیب کو ڈپريشن نہیں پھيلانا چاہيے کيونکہ ماحول ميں پہلے ہی بہت ڈپريشن ہے اچھی تحریر ميں اُداسی کا عنصر ہی وہ کيف انگيز تاثر چھوڑتی ہے جو قاری کو کئی دن اپنے سحر ميں جکڑے رکھتا ہے مگر ڈپريشن قوم کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس ليے ميں بھی ڈپريشن پھيلانے والی تحریروں کے خلاف ہوں