ادب >> انٹرویوز >> مرزا حامد بیگ سے گفتگو
ادب
فیروز عالم
مرزا حامد بیگ سے گفتگو

ڈاکٹر مرزا حامد بیگ عصر حاضر کے ممتاز ادیب، محقق اور نقاد ہیں۔ آپ کے افسانوی مجموعے: ’’گمشدہ کلمات‘‘ (1931)، ’’تار پر چلنے والی‘‘ (1984)، ’’قصّہ کہانی‘ (1984)، ’’گناہ کی مزدوری‘‘ (1991)، حمیدہ کی کہانی‘‘‘ (1992)، ’’لاکر میں بند آوازیں‘‘(ہندی)(2001)ہیں۔’’افسانے کا منظر نامہ‘‘(1981)، تیسری دنیا کا افسانہ‘‘ (1982)، ’’اردو اور صوفی ازم‘‘ (1986)، ’’مغرب سے نثری تراجم‘‘ (1988)، اطالیہ میں اردو‘‘ (1989)، ’’اردو افسانے کی روایت‘‘ (1991)، ’’اردو کا پہلا افسانہ نگار‘‘ (1992)، مصطفیٰ زیدی کی کہانی‘‘ (1993)، ’’مقالات‘‘ (1994)، ’’نرناری‘‘ (1995)، ’’نسوانی آوازیں‘‘ (1996)، ٹی.ایس. ایلیٹ کا اردو دنیا میں خیر مقدم‘‘(1999)، ’’اردو سفرنامے کی مختصر تاریخ‘‘ (1999)، ’’عالمی کلاسیک‘‘ لیکچرز (2000)۔ تنقیدی کتب ہیں اور ’’عزیز احمد: کتابیات‘‘ (1986)، ’’کتابیات تراجم: علمی کتب‘‘ (1986)، ’’ترجمے کا فن: نظری مباحث‘‘ (1987)، ’’کتابیاتِ تراجم: نثری ادب‘‘ (1987)، ’’باغ و بہار‘‘ نسخۂ کلکتہ (2004) تحقیقی کتب ہیں۔

آپ کو پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ 1984 برائے: ’’قصّہ کہانی‘‘ (پنجابی افسانے)، نیشنل بک کونسل آف پاکستان ایوارڈ 1991 برائے: ’’گناہ کی مزدوری‘‘ (اردو افسانے)، نیشنل بک کونسل آف پاکستان ایوارڈ 1993 برائے: ’’مصطفیٰ زیدی کی کہانی‘‘ (تنقید)مل چکا ہے۔ ڈاکٹر مرزا حامد بیگ سے کی گئی گفتگو کے چند اقتباسات قارئین کی نذر ہے۔


سوال : آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟ خاندان، بچپن اور لڑکپن کا مختصر احوال؟
جواب : میرے پرکھوں کا تعلق ماورا لنہر، ملک ترکستان سے تھا۔ جلال الدین محمد اکبر کے عہد میں افغانستان سے مرزا حکیم کے حملوں کو روکنے کے لیے رجب 989ھ مطابق اگست 1581 میں قلعۂ اٹک کی بنیاد رکھی گئی تو میرے پرکھوں کو قلعۂ اٹک کی حفاظت اور انتظام و انصرام کے لیے ہندوستان بلا لیا گیا۔ ہم لوگ خواجہ زادہ مغل ہیں۔ میرے بزرگوں میں سے ایک مرزا محمد بیگ بہ عہد احمد شاہ (1748-1754) صوبیدار اٹک تھے۔ نواب ضیاء الدین احمد خاں المعروف نیزو رخشاں کے دادا مرزا عارف جاں بھی انھی دنوں اپنے دو بھائیوں قاسم جان اور عالم جان کے ہمراہ اٹک آکر ہمارے مہمان ہوئے اور مرزا محمد بیگ کی دُختر سے شادی کی۔ نیّرو رخشاں دہلوی کے والد احمد بخش خاں کی پیدائش (1765) اٹک کی تھی۔ یوں مالک رام کی تحقیق ’’تلامذۂ غالب‘‘ ہمارا ایک تعلق لوہارو خاندان سے ثابت کرتی ہے۔ ننیہال کی طرف سے میرا نسب غوث الزماں محمد یحییٰ اٹکی سے مل جاتا ہے۔1581
کے بعد سے ہمارا وطن علاقہ چھچھ موضع کُمالہ، تحصیل حضرو، ضلع کیمبل پور (حال: اٹک) ہے۔ عہد احمد شاہی کے صوبیدار اٹک (1750) مرزا محمد بیگ (میرے جداعلیٰ) کی جاگیر کا بچا بچایا قدرے غیر آباد علاقہ، جس میں میری طرح کے ہٹ دھرم اور گنوار بستے ہیں۔ میرا بچپن اور لڑکپن سندھ میں گزرا۔ میری پیدائش 29اگست 1949 کھیم چند بلڈنگ کے ایک فلیٹ، علاقہ صدر کراچی کی ہے۔ وہ یوں کہ میرے والد محترم محمد اکرم بیگ نے جب کیمبل پور سے 1934 میں میٹرک پاس کر لیا تو انگریزوں سے جاگیر اور خطاب یافتہ سرمحمد امین، رئیسِ شمس آباد، علاقہ چھچھ نے پنجاب کی انگریز عملداری میں ان پر سرکاری ملازمت کے تمام دروازے بند کروا دیے اور وہ مسلسل بے روزگاری سے تنگ آکر سندھ پولیس میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہو گئے۔
میری اوّلین یادیں قصبہ تھرڑی محبت، ضلع دادو (اندرونِ سندھ) کی ہیں۔ قریب ہی ایک نہر بہتی تھی اور دور تک آموں کے باغات کا ایک سلسلہ تھا اور میری دوپہریں گھماؤ غلیلوں سے ہریل طوطوں کو اڑانے میں گزرتی تھیں۔ ان دنوں اندرون سندھ ریڈیو کی نشریات پہلی بار بیڑی سے چلنے والے ریڈیو سے سنی جانے لگیں۔1955 میں وہاں سے تبدیل ہوکر میہٹر گئے جہاں سنیما میں پہلی فلم ’’آبِ حیات‘‘ (پریم ناتھ۔ مدھوبالا) دیکھی۔ اس کے بعد بالترتیب دادو، ماتلی، حیدرآباد، ہالہ، میرپور خاص، نواب شاہ اور سکھر میں رہے۔ بچپن میں والدہ سے پنجابی میں ’’جنگ نامۂ زیتون‘‘ اور ’’جنگ امیرحمزہ‘‘ سنتا رہا، جو انھیں زبانی یاد تھے۔موسم گرما کی طویل دوپہروں میں چھت پر پتنگ اڑاتا یا مصوری کرتا۔ مصوری میں میرے استاد شہر دادو کے ماسٹر ورئیل تھے۔ ان کی رہنمائی میں 1961 ہی میں میں نے ویسٹ پاکستان، ڈرائنگ ایگزامینیشن پاس کر لیا۔ یہ اس زمانے کے سندھی اخبارات کی ایک خبر بنی کہ بارہ برس کے لڑکے نے امتحان پاس کر لیا۔

سوال : اوائل جوانی، اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب : ابتدائی دو جماعتیں سندھی میڈیم سے پڑھیں۔ گورنمنٹ ہائی اسکول میرپور خاص میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا، جب وہاں کے دو گلوکار بھائیوں مسعود رانا اور جاوید رانا اور پیرانی منزل چاکی پاڑہ کے رہائشی محمد یوسف جو ہم جماعت بھی تھے، سے قربت رہی اور 1965 کی پاک بھارت جنگ سے قبل ان کے ساتھ مل کر میں نے بیسیوں فلمیں دیکھیں۔ سُہراب مودی کی ’’جیلر‘‘، دلیپ کی ’’آن‘‘، ’’گھر کی عزت‘‘، ’’دیدار‘‘، اشوک کمار کی ’’بھائی بھائی‘‘، پریم ناتھ کی ’’بادل‘‘ اور بہت سی۔ نواب شاہ (سندھ) سے میٹرک کرنے کے بعد سندھ مسلم آرٹس کالج، کراچی کے زمانۂ طالب علمی (1966-67) میں نذیر بیگ (اداکار ندیم) اور انور بیگ (ندیم کے چھوٹے بھائی) جو مصوّر تھے اور اسٹیج کے اداکار محمد ایوّب کا ساتھ رہا۔ ندیم ان دنوں بطور گلوکار فلمی دنیا میں قدم جمانا چاہتے تھے لیکن جب فلم میں آئے تو بطور اداکار ان کی پہلی فلم ’’چکوری‘‘ پلاٹینم جوبلی کر گئی۔
اس زمانے میں، میں نے ایک میوزک اکیڈمی جوائن کی ہوئی تھی، جہاں سے پیانو اور بینجو بجانا سیکھا۔ اس کے بعد آرٹس کونسل کراچی کی مصوری کی کلاسز میں حاضری دی۔ میری، انور بیگ اور لبنیٰ لطیف کی تصویروں پر مشتمل نمائش (1966) بہ اہتمام برماشیل کا افتتاح فیض احمد فیض مرحوم نے کیا تھا۔
8 جنوری 1969 کو ذوالفقار علی بھٹو کے استعفیٰ کے بعد ان پر انٹی کرپشن کا جھوٹا مقدمہ نہ بنانے کی سزا کے طور پر جب ڈی.آئی.جی. سندھ نے میرے والد کی جواب طلبی کی تو انھوں نے ملازمت پر لعنت بھیجی اور بطور ڈی.ایس.پی. قبل از وقت ریٹائر منٹ لے کر بہ عمرچھپن برس اپنے آبائی علاقے میں لوٹ آئے۔ میں نے جب گورنمنٹ کالج کیمبل پور سے بی.اے. کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج، لاہور میں داخلہ لیا تو وہاں پر تخلیقی ذہن رکھنے والے بہت سے لڑکے ملے۔ شاعر شبیر شاہد، افسانہ نگار احمد جاوید، ڈراما نگار یونس جاوید اور شاعر ناصر بلوچ زوال ڈھاکہ کے بعد ادھر کا ایک نوجوان نقاد سراج منیر بھی لاہور آنکلا۔ ہم سب لوگوں نے حلقۂ اربابِ ذوق، لاہور میں اپنی ابتدائی چیزیں پڑھیں۔ 1972 میں ایم.اے. (اردو) درجہ اوّل میں پاس کرنے کے باوجود میں نے فلمی دنیا میں بطور اسسٹنٹ ڈائرکٹر قسمت آزمائی کی۔ رحیم گل کو اسسٹ کرتے ہوئے ایک پشتو فلم ’’موسیٰ خان گل مکئی‘‘ بڑی مشکل سے مکمل کروائی اور دوبارہ لاہور کی سڑکوں اور فٹ پاتھ پر آگیا۔ 1974 میں لیکچرر ہوا اور 1986 میں پی ایچ.ڈی. کی ڈگری حاصل کی۔

سوال : ادبی زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟
جواب: میں کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا تھا پر افسانہ لکھنے کی طرف مجھے ایک سابق بیورو کریٹ لائے۔ 1966 میں ہم لوگ نواب شاہ میں تھے اور میں میٹرک کا طالب علم۔ اسکول کے قریبی پارک میں ہی نورداس چندانی صاحب سے ملاقات ہوئی، اس وقت میں کرشن چندر کا کوئی ناول پڑھ رہا تھا۔ چندانی صاحب نے پوچھا: ٹیگور کو پڑھا ہے؟ تو میں چکرا گیا اس وقت تک میں نے پریم چند، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، بلونت سنگھ، عصمت چغتائی، قاضی عبدالستار اور اے. حمید وغیرہ کو پڑھ رکھا تھا۔ آمنہ لائبریری سے نسیم حجازی، ایم. اسلم اور دت بھارتی کے ناول بھی پڑھ رکھے تھے پر ٹیگور کا نام میرے لیے نیا تھا۔
اگلے روز انھوں نے مجھے "The Hungry Stones" لادی۔ چند افسانے پڑھے اور 1966 میں ٹیگور کے رومانی افسانوں کی طرز پر ’’ریل کا ڈبّہ‘‘ کے عنوان سے ایک افسانہ لکھا۔ اس کے بعد میں نے اپنی تنہائی کو افسانوں کی صورت میں لکھنا شروع کر دیا۔ ٹیگور کے کچھ ترجمے بھی کیے۔

سوال : آپ کس اسکول سے وابستہ ہیں؟
جواب: میں فرانسیسی زوال پسند تخلیق کاروں سے بہت متاثر ہوں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے Huysman نے اپنے ایک تخلیق کردہ افسانوی کردار اسنتی کے ساتھ بٹھا کر میری تربیت کی ہے۔ بنجمن پریٹ کو داد دیتے نہیں تھکتا، جس کی ایک لائین ہے: ’’اپنی ماں کو اس وقت پیٹو جب وہ جوان ہو۔‘‘ ہمارے یہاں یہ صورت صرف محمد علی ردولوی کے ہاں دکھائی دیتی ہے۔

سوال: پاکستان میں اردو سرکاری زبان ہے یا قومی زبان؟
جواب : برائے نام قومی زبان، اردو ہے اور عملی طور پر سرکاری و دفتری زبان انگریزی۔

سوال: آپ پریم چند سیمینار میں شرکت کرنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے بتائیے کہ افسانہ نگار کے لیے مطالعہ، مشاہدہ اور ذاتی تجربات کا ہونا کس تناسب سے ضروری ہے؟
جواب : دیکھیے، کوئی بھی کام کرنا ہو جیسے جوتے گانٹھنا، تو دیکھنا یہ ہوگا کہ ہم سے پہلے کس کس نے اور کیسے جوتے گانٹھے۔ یوں ڈاسن کے کام کا جائزہ بھی لینا پڑے گا اور مسٹر باٹا کے کام کا بھی۔ پھر یہ کہ معاصرین کا کام دیکھنا پڑے گا اور غور کرناپڑے گا کہ اگر ہم ان جیسا ہی کام کرتے ہیں تو وہ ہمارے کرنے کا کام نہیں اور اگر اس سے ذرا بہتر کر سکتے ہیں تو ٹھیک ہے، کوشش کر دیکھیں۔ مطالعے اور مشاہدے کو تو میں رکھتا ہوں اس ذیل میں۔ رہ گیا ذاتی تجربہ، تو وہ ہے ہمارا خاص منطقہ۔ مطالعہ ہمیں اچھے اور خراب کام میں تمیز کرنا سکھاتا ہے۔ مثال کے طور پر پریم چند کا شاہ کار افسانہ ’’کفن‘‘ پڑھ لینے سے ہم پورے پریم چند تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس کے لیے ہمیں پورا پریم چند پڑھنا پڑے گا۔ تب ان کے بہت سے خراب کام میں سے ’’دوبیل‘‘، ’’بڑے گھر کی بیٹی‘‘، ’’دودھ کی قیمت‘‘ اور ’’گلی ڈنڈا‘‘ جیسے لاجواب افسانے بھی ہمیں پڑھنے کو مل جائیں گے۔ مشاہدے کی دو صورتیں ہیں، ایک اجتماعی، دوسرا شخصی۔ پہلی صورت تو یہ ہوئی کہ جیسا کچھ کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، راجندر سنگھ بیدی اور قرۃ العین حیدر نے ہمیں اپنے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر دکھانے کا اہتمام کیا۔ اس کام کے مطالعے کے دوران ہمیں مشاہدے کا اشتراک دکھائی دے گا۔ کم و بیش ویسا کچھ ہم نے پہلے بھی دیکھ رکھا ہوگا لیکن کچھ کونے کھدرے ایسے بھی تو ہوںگے جہاں تک ہماری رسائی ان کے ذریعے ہی ممکن ہوئی۔ اسی طرح ہمیںمحسوس ہوگا کہ کچھ منطقے ان سے ان دیکھے رہ گئے۔ اگر ہم ایسے نا دریافت گوشے دریافت کرنے اور ان کی پیش کش میں کامیاب ہو جائیں تو اس نوع کی رسائی ہم سے مخصوص رہے گی۔ مثال کے طور پر دیہات نگاری میں احمد ندیم قاسمی کے سون سکیسر کے علاقے سے متعلق ’’لارنس آف تھلیبیا‘‘ اور ’’ثواب ’’جیسے افسانے احمد ندیم قاسمی ہی لکھ سکتے تھے۔ اسی طرح ’’گرہن‘‘ جیسا افسانہ راجندر سنگھ بیدی کے سوا کوئی اور نہیں لکھ سکتا تھا۔ افسانہ ’’کارمن‘‘ قرۃ العین حیدر ہی لکھ سکتی تھیں۔
سوال: آپ کے افسانوں کی بابت حقیقت پسندانہ ہونے کا تاثر کہاں تک درست ہے؟
جواب: میرے بہت سے افسانوں میں آپ کو حقیقت پسندانہ اپروچ بھی ملے گی جیسے افسانہ ’’کُنڈ کا محراب ساز‘‘، ’’کاتک کا ادھار‘‘، ’’صیدِ زبوں‘‘، ’’بابے نور محمد لے کا آخری کبت‘‘، ’’جانکی بائی کی عرضی‘‘ اور ’’لالہ جسونت کی حویلی‘‘ میں، لیکن کہیں کہیں ایسا بھی ہوگا کہ حقیقت یکایک تجرید میں ڈھل گئی، جیسے ’’کُندیاں لائن‘‘ اور ’’نیند میں چلنے والا لڑکا‘‘ یا ’’مشکی گھوڑوں والی بگھی کا پھیرا‘‘ میں، پھر کچھ افسانے تجریدی بھی ہیں جیسے ’’دھوپ کا چہرہ‘‘ اور کچھ علامتی بھی جیسے افسانہ ’’زمین جاگتی ہے‘‘ یا افسانوی مجموعہ ’’گناہ کی مزدوری‘‘ کے بیشتر افسانے۔

سوال: بالخصوص ’’گمشدہ کلمات‘‘ کے حوالے سے آپ پر نوسٹلجیا کا شکار ہونے کا الزام کس حد تک درست ہے؟
جواب: بے شک میرے افسانوں میں نوسٹلجیا موجود ہے اور میرے تخلیقی عمل میں پیش قدمی کے وقت وہ، لشکر کے میمنے یا میسرے کے طور پر آگے بڑھتا ہے لیکن میرے تخلیق کردہ کرداروں کے دکھ، ہٹ دھرمی یا غصہ میرا نہیں، میرے پُرکھوں کا ہے۔ جس کا جنم میرے اجتماعی لاشعور سے ہوا۔ میرے افسانوں میں موجود نوسٹلجیا کا دائرہ بہت پھیلا ہوا ہے، محض ایک ہجرت کے تجربے تک محدود نہیں۔ میں اپنے پیچھے رہ گئے گلی محلے یا بزرگوں کے مدفن یاد نہیں کرتا۔ میرے افسانوں کا نوسٹلجیا تہہ در تہہ کئی بیتے زمانوں سے متعلق ہے۔ شاید ماورألنہر سے متعلق بھی جب کہ ملک ترکستان اور حالیہ ازبکستان کا وہ علاقہ میں نے تاحال نہیں دیکھا، جو میرے پُرکھوں کا وطن تھا۔ اور جہاں سے نکلے ہمیں چار سو سال ہو گئے۔

سوال: کیا طویل جملے آپ شعوری طور پر وضع کرتے ہیں؟ آپ کے افسانوں کی یہ ایک الگ پہچان ہے؟
جواب: یہ سوال غور طلب ہے کہ تخلیقی نثر لکھنے کے حوالے سے زبان دانی کا معیار کیا ہے؟ اور وہ کسوٹی کیا ہوگی جس پر کس کر یہ بتایا جا سکتا ہے کہ کون شخص زبان داں ہے اور کون نہیں؟ اس ضمن میں جانچ پرکھ کا معیار جداگانہ ہے۔ شاعری میں الگ اور نثر میں الگ۔ جن میں سے ایک معیار یہ بھی ہے کہ کون ہے جو پوری اسلوبیاتی روایت سے آگاہ ہے اور متواتر زبان کی نزاکتوں پر نظر رکھتے ہوئے اپنے افکار کو مختلف اور گوناگوں انداز سے لفظوں کی معرفت سامنے لانے کی مشق و مزاولت بہم پہنچاتا ہے؟ اس حوالے سے بڑا نثرنگار وہی شمار کیا جائے گا جو طویل اور پیچیدہ جملے لکھنے پر قادر ہو ’’لیکن‘‘ ’’اور‘‘، ’’اگر‘‘ وغیرہ لگا کر نہیں۔ ہمارے ہاں ’’چھوٹے چھوٹے‘‘ اور ’’رواں جملوں‘‘ کی تحسینِ بے جانے بڑے نثر نگار پیدا نہیں ہونے دیے جب کہ عالمی ادب میں اسی خوبی کے پیش نظر فرانسیسی ناول نگار ستاں دال کے ناول’’سرخ و سیاہ‘‘ ("The Scarlet and Black") کے بارے میں ایذرا پاؤنڈ نے کہا تھا کہ اس ناول کی نثر کا مرتبہ شاعری سے بھی بلند ہے۔ بالخصوص طویل جملے وضع کرنے کے ضمن میں ستاں دال سے بھی بہتر امثال ہمیں گستاؤ فلابئیر کے ناول "Madame Bovary" میں مل جاتی ہیں۔ اردو ادب میں اس نوع کا کام کرنے والوں کا شمار ایک ہاتھ کی انگلیوں پر کیا جا سکتا ہے۔ اس خصوص میں ایک نام تو میں اپنے دادا استاد محمد حسن عسکری کا لوںگا۔ ان سے پہلے محمد علی ردولوی نے یہ کام کیا۔ اس خصوص میں قاضی عبدالستار کا نام بھی نمایاں ہے۔ یہ تو ہوئے اردو فکشن کے گریٹ ماسٹرز۔ اس ضمن میں اس فقیر نے بھی کوشش تو کی ہے۔ دیکھا چاہیے کہ اردو فکشن کا ناقد، خوابِ گراں سے کب جاگے اور اس حوالے سے کوئی بات کرے۔

سوال: کیا آپ کی کہانی موضوع کے بجائے بکھرے ہوئے امیجز کا مجموعہ ہے؟
جواب: یہ وہی کہہ سکتا ہے جس نے ’’لالہ جسونت کی حویلی‘‘، ’’جانکی بائی کی عرضی‘‘ ’’کالی زبان‘‘، ’’کاتک کا ادھار‘‘ اور ’’نیند میں چلنے والا لڑکا‘‘ جیسے افسانے نہیں پڑھے۔ بے شک، میرے متعدد افسانوں میں امیجز کا استعمال ہوا ہے جیسے افسانہ ’’دل کے موسم‘‘، ’’دھوپ کا چہرا‘‘ اور ’’سونے کی مُہر‘‘ لیکن ان افسانوں کا زمانۂ تحریر 1974 سے قبل کا ہے جب اس نوع کے افسانے کوئی لکھتا نہیں تھا۔ سریندر پرکاش نے البتہ اسی دور میں افسانہ ’’کاٹی ہوئی لکڑیاں‘‘ لکھا تھا اور ہمارے ناقدین نے اس افسانے کو بھی بکھرے ہوئے امیجز کا افسانہ قرار دیا تھا۔

سوال: کیا آپ کے بارے میں اس رائے کو درست تصور کر لیا جائے کہ آپ تکنیک کے ذریعے ادب میں داخل ہوئے؟ ہمارے قارئین آپ کی تکنیک اور اس کے ماخذ کی بابت جاننا چاہیں گے؟

جواب: بے شک، افسانہ ’’زمین جاگتی ہے‘‘، ’’ایکٹ‘‘ ’’یادگار محفوظ‘‘ اور ناولٹ ’’تار پر چلنے والی‘‘ موضوع کی نہیں تکنیک کی مثالیں ہیں۔ سجّاد باقر رضوی نے ’’گم شدہ کلمات‘‘ میں شامل افسانے پڑھ کر یہ رائے قائم کی تھی، جب کہ اس سے قبل وہ انتظار حسین کی کتاب ’’آخری آدمی‘‘ کا دیباچہ لکھ چکے تھے۔ یہ بات انھوں نے انتظار حسین کے بارے میں نہیں کی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ داستان اور صوفیانہ ملفوظات سے اخذ کردہ تکنیک تو معلومہ تکنیک تھی، جس کے بہترین نمونے ’’باغ و بہار‘‘، ’’توتا کہانی‘‘، ’’آرائش محفل‘‘، ’’قصّۂ گل و صنوبر‘‘ ’’مذہب عشق‘‘اور ’’فسانۂ عجائب‘‘ میں بکھرے پڑے تھے۔ جب کہ ’’گم شدہ کلمات‘‘ میں شامل مغل تہذیبی پس منظر کے حامل افسانوں میں ساٹھ کی دہائی کے افسانہ نگاروں بالخصوص سریندر پرکاش، بلراج مین را، انور سجّاد، خالدہ اصغر اور بلراج کومل کے باہم متحارب تکنیکی تجربات سے حاصل کردہ نتائج کے ساتھ ساتھ میری سنیما بینی اور مصوّری کے دیرینہ تجربے کے ساتھ فلم میکنگ کا عملی تجربہ بھی شامل تھا۔ میرے افسانوں میں یہ ایک طرح سے ردِّ عمل تھا اس بندھے ٹکے فارمولا افسانے کا، جو ہم سے پہلے لکھا گیا اور اس افسانے کی تعریف میں ہمارے بیشتر ناقدین رطب اللسان رہے۔ اس ضمن میں وضاحت کے لیے یہی کہہ سکتا ہوں کہ راجندر سنگھ بیدی کے دو افسانے : ’’جوگیا‘‘ اور ’’سونفیا‘‘ کے ادغام سے اتنی طاقت پیدا ہو سکتی ہے کہ ہم کاغذ پر قلم سے رنگ بکھیر کر پینٹنگ بنا سکتے ہیں اور بیدی ہی کے دو افسانے ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ اور ’’ایک رات افیم چورستے کے پاس کیا ہوا‘‘ کے ادغام سے عبدالرحمٰن چغتائی، شاکر علی اور ایف.حسین کے مقابل کی تصویریں بنائی جا سکتی ہیں۔ میں نے افسانے لکھتے ہوئے قدیم و جدید حقیقت پسند اور تجرید کار پینٹرز بالخصوص شاکر علی، احمد پرویز، انور جلال شمزہ اور منصور راہی کے کام کو بھی اپنی نظر میں رکھا اور کیمرے کی آنکھ کو بھی استعمال کیا۔ پھر یہ کہ ایڈیٹنگ بڑی اہم چیز ہے۔ اپنے لکھے کو بار بار کاٹنا، ایک مشکل کام ہے لیکن اچھے اور خراب کام میں وہی فرق کا باعث بنتا ہے۔


سوال: آپ شہزادہ داراشکوہ کے اتنے مدّاح کیوں ہیں؟
جواب: شہزادہ داراشکوہ مقتول میرا آئیڈیل ہے۔ وہ مذہبی کٹّرپن اور تنگ نظری کے مقابل آزاد خیالی اور علم کا استعارہ ہے۔ بابر سے شاہ جہاں تک مغل فرماں رواؤں نے ہندوستان میں بلا تفریقِ مذہب و ملت ہندوستان میں جو بھائی چارے کی فضا قائم کی تھی، اس کا تسلسل داراشکوہ ہی قائم رکھ سکتا تھا۔ اس خطے کی یہی ضرورت تھی جسے ہم آج محسوس کر سکتے ہیں۔ اسی لیے میں نے اپنا پہلا افسانوی مجموعہ داراشکوہ کے نام کیا۔


سوال: آپ نے کن کن روایات سے کن اسباب کی بنا پر انحراف کیا؟
جواب: روایت سے بغاوت کی بات 1972 میں ہی منیر نیازی نے حلقۂ ارباب ذوق، لاہور کے ایک اجلاس میں میرا ایک افسانہ ’’افسانہ و افسوں کی حشیشی رات‘‘ سن کر کہی تھی۔ میرے خیال میں لفظوں کو ان کے مروج معنی میں برتنا کوئی دانشمندی نہیں۔ کہانی پن کی آرزو میں متقدمین کی پیروی کرنا اور اپنی نفسی کیفیات کو دوسروں کے بنائے ہوئے سانچوں میں تعمیر کرنا انجماد کی علامت ہے۔ ایسا کام کرنے سے بہتر ہے کہ نہ کیا جائے اور جو لوگ محض عادت کے تحت لکھتے ہیں، وہ کتنے دن جی لیتے ہیں؟


سوال: آپ پر مشکل پسندی کا الزام کن لوگوں کی جانب سے لگا اور کیوں لگایا گیا؟
جواب: یہ الزام نہیں حقیقت ہے۔ میں مشکل پسند ہوں اور ابتدا ہی سے تربیت یافتہ قاری کے لیے لکھتا ہوں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سادہ بیانیہ کا عادی قاری میرے لکھے کو مبہم قرار دیتا رہا۔ اس میں قصور معصوم قاری کا نہیں، ہمارے ناقدین کا ہے۔ جنھوں نے قاری کی تربیت کا فریضہ انجام نہیں دیا۔ ہمارے یہاں محمد حسن عسکری کے بعد گنے چنے ناقدین ہی ایسے ہیں جنھوں نے شارح کا فریضہ بھی ادا کیا جیسے گوپی چند نارنگ، شمس الرحمٰن فاروقی، فضیل جعفری، وارث علوی اور مہدی جعفر۔ البتہ ان کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جتنا کیا، وہ کم ہے۔ وہ بہت زیادہ کام کر سکتے تھے۔ سلیم احمد اور شمیم احمد نے ایک آدھ افسانہ نگار کے علاوہ افسانہ پڑھا ہی نہیں۔ وزیر آغا نے سب سے زیادہ نئے پرانے افسانہ نگاروں کو پڑھا لیکن کلیہ سازی کرتے ہوئے اس کا انطباق کم لوگوں پر کیا۔ ریاض احمد اور افتخار جالب زیادہ وقت گوشہ نشیں رہے۔ جمیل جالبی تحقیق کی طرف نکل گئے اور جیلانی کامران لسانی تشکیلات سے باہر نہ نکل سکے۔ مظفر علی سید اس خصوص میں عمدہ کام کر سکتے تھے لیکن مجلسی تنقید زیادہ کی اور لکھا کم۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معصوم قاری محض سادہ بیانیہ افسانے سے جڑا رہا۔ اس کے لیے مرزا حامد بیگ ہی کیا، اس سے پہلے کی نسل کے چیدہ افسانہ نگار جیسے سریندر پرکاش، بلراج مین را اور انور سجّاد بھی مبہم ہی شمار کیے گئے۔ آج جس بیانیہ افسانے کی پیٹھ تھپکی جارہی ہے اس سے بہتر بیانیہ افسانہ کرشن چندر لکھ چکے ہیں۔ اب ہم ان کی تیار کردہ زمین میں کیا بوئیںگے اور کیا کاٹیںگے۔


سوال: کہا جاتا ہے کہ اردو افسانہ عالمی معیار کو چھو رہا ہے جب کہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ آج کا افسانہ زوال کا شکار ہے؟
جواب: عالمی معیار سے ناواقف لوگ ہی کہہ سکتے ہیں کہ اردو افسانہ عالمی معیار کو چھو رہا ہے۔ میں نے عالمی معیار کے افسانوں کی انتھالوجیز دیکھی ہی نہیں پڑھی بھی ہیں اور ان میں سے چند افسانوں کو اردو دنیا سے متعارف بھی کروایا ہے یہ سوچ کر کہ لوگوں کو پتا چلے کہ عالمی معیار ہوتا کیا ہے؟ ایک افسانے کا ترجمہ تو مظفر علی سیّد مرحوم کے اس پروجیکٹ کے لیے کیا تھا جسے ’’افکار‘‘ کراچی کے خاص نمبر کی صورت میں شائع ہونا تھا۔ وہ افسانہ تھا ابیوسے نکول کا ’’زندگی حسین ہے‘‘ اور افسانہ نگار کا تعلق ہے سیرالیون سے۔ اتنے چھوٹے سے پس ماندہ ملک کا اتنا بڑا افسانہ نگار۔ دوسرا افسانہ تھا عالم شاہ خاں کا، جسے میں نے ہندی سے خود ان کی مدد سے ترجمہ کیا۔ عنوان تھا ’’کرائے کی کوکھ‘‘ ان دو افسانوں کو پڑھ کر کون کہے کہ ہم ان جیسا افسانہ لکھ لیتے ہیں۔ اردو افسانہ زوال کا شکار ہے یا نہیں تو اس ضمن میں عرض ہے کہ 1940 تا 1960 کی درمیانی مدت بے شک اردو افسانے کے سنہرے دن تھے جب راجندر سنگھ بیدی، احمد ندیم قاسمی، کرشن چندر، غلام عباس، عصمت چغتائی، بلونت سنگھ، سعادت حسن منٹو اور ممتاز مفتی نے شاہ کار افسانے تخلیق کیے۔ ان سنہرے دنوں کا مقابلہ صرف 1960-1980 کی درمیانی مدت سے کیا جا سکتا ہے۔ جب انتظار حسین، سریندر پرکاش، بلراج مین را، انور سجاد، بلراج کومل، خالدہ حسین، منشایاد، اسد محمد خاں، سلام بن رزاق، انور قمر، نیّر مسعود، احمد داؤد، قمر احسن، غضنفر، علی تنہا، شوکت حیات اور ساجد رشید نے شاہ کار افسانے تخلیق کیے۔


سوال: ستّر کے دہے کے بعد لکھا جانے والا افسانہ ناقدین کی توجہ سے محروم دکھائی دیتا ہے۔ کیوں؟
جواب: اس کی ایک وجہ تو گذشتہ دو دہائیوں میں سامنے آنے والے افسانہ نگاروں کی ناتوانی ہے۔ بہت محتاط ہو کر بھی بات کریں تب بھی یہ کہنا پڑے گا کہ نئے آنے والے، ساٹھ اور ستّر کی دہائی کے افسانہ نگاروں سے کچھ الگ کام کرنے میں ناکامیاب رہے۔ سوائے، سید محمد اشرف اور خالد جاوید کے۔ یوں حق میں لکھا جائے یا خلاف، زندگی کا ثبوت ہوتا ہے۔ اب نہ حق میں لکھا جا رہا ہے نہ خلاف۔ ہم لوگوں نے تو ستّر کے دہے میں خوب گالیاں سمیٹیں۔ بہت کچھ لکھا گیا۔ ہمارے خلاف بھی اور حق میں بھی۔ ہمیں برا بھلا کہنے والوں میں اردو کے اہم نقاد بھی تھے اور احمد ندیم قاسمی، ممتاز مفتی، عصمت چغتائی اور اشفاق احمد جیسے نمایاں افسانہ نگار بھی۔ ممتاز مفتی نے پنڈی گروپ کے افسانہ نگاروں کے افسانوں کے ٹکڑے جوڑ کر ایک افسانہ تیار کیا اور ہم لوگوں کی موجودگی میں حلقۂ ارباب ذوق، اسلام آباد میں ہم سب کا مضحکہ اڑانے کی خاطر پڑھا بھی۔ عصمت چغتائی نے ہمارا مضحکہ ایک مضمون ’’سانپ کے تلوے‘‘ لکھ کر اڑایا۔ اشفاق احمد نے یہ کہہ کر افسانہ نگاری ترک کر دی کہ یہ لوگ جو لکھ رہے ہیں، اب ہم کیا لکھیں۔ اب نئے لوگ، کچھ نیا کرکے دکھائیںگے تو زیرِ بحث بھی آئیںگے۔ اختر انصاری اکبرآبادی نے ’’نئی قدریں‘‘ حیدرآباد سندھ کے خاص نمبر کے لیے مصطفیٰ زیدی سے نیا کلام طلب کیا تو مصطفی زیدی نے انھیں جواب میں لکھا: ’’بھائی، ہمارا تو پرانا ہو گیا۔‘‘ میں بھی یہی کہوںگا۔ اب یہ نئے لوگوں کا مسئلہ ہے کہ ناقدین کو کس طور پر اپنے کام کی جانب متوجہ کرواتے ہیں۔


سوال : آپ کئی بار سیمینار میں شرکت کے لیے انڈیا آئے۔ اگر آپ سے دونوں ملکوں کے تخلیقی ادب کے بارے میں رائے دریافت کی جائے تو آپ کیا کہیں گے؟
جواب: دونوں اطراف میں نمایاں کام کے حامل بزرگ قلم کار بہت کم رہ گئے ہیں۔ جو رہ گئے ہیں، انھوں نے افسانہ لکھنا چھوڑ دیا جیسے ہاجرہ مسرور، شوکت صدیقی، اے.حمید، انور سجاد اور قرۃالعین حیدر، مین را اور قاضی عبدالستار ایک مدّت سے افسانہ نہیں لکھ رہے۔ پاکستان کے متحرک افسانہ نگاروں میں انتظار حسین، حسن منظر، مسعود اشعر، خالدہ حسین، اسد محمد خاں، رشید امجد، منشایاد، احمد جاوید اور علی تنہا ہیں۔ جب کہ بھارت میں جوگندر پال، اقبال مجید، سلام بن رزاق، نیّر مسعود، حسین الحق، شوکت حیات، ساجد رشید، غضنفر، سید محمد اشرف اور خالد جاوید متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ یوں افسانے کی سطح پر تو دونوں اطراف کے پلڑے برابر دکھائی دیتے ہیں۔ ناول کی صنف میں قرۃالعین حیدر کا جواب نہ پاکستان میں پہلے تھا، نہ اب ہے۔ ان کا موازنہ تو خود بھارت ہی کے عالمی شہرت یافتہ ناول نگاروں و کرم سیٹھ اور ارون دھتّی رائے سے بھی نہیں بنتا۔ مجموعہ ’’پیتل کا گھنٹہ‘‘ کے شاہکار افسانوں کے خالق قاضی عبدالستار کو تاریخی ناول کہا گیا۔ کاش وہ ’’شب گزیدہ‘‘ ہی کی لائین پر آگے بڑھتے لیکن تاریخ سے پہلو بچا کر۔ باقی ہندوستان اور پاکستان کے ناول نگار ایک ہی سطح کے ہیں۔ تنقید کے میدان میں بھارت کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے۔ گوپی چند نارنگ، شمس الرحمٰن فاروقی، فضیل جعفری، وارث علوی، شمیم حنفی اور مہدی جعفر کا کام اہمیت کا حامل ہے۔ جب کہ پاکستان میں محمد حسن عسکری، سلیم احمد، سجاد باقر رضوی، جیلانی کامران، مظفر علی سید اور شمیم احمد کے بعد ہم تنقید کے میدان میں بہت پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔ تحقیق کی سطح پر بھارت میں قاضی عبدالودود، مالک رام اور امتیاز علی عرشی کے بعد بھی بہت سے لوگ موجود ہیں۔آپ کے ہاں تنویر احمد علوی جیسے بڑے محقق اب بھی متحرک ہیں جب کہ ہمارے ہاں جمیل جالبی کے عمدہ کام کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ غزل اور نظم کی دو اصناف ایسی ہیں جن میں پاکستان، بلاشبہ ہندوستان سے بہت آگے ہے۔ پاکستان کے منیرنیازی، احمد مشتاق، ظفر اقبال، شہزاد احمد، انور شعور، محمد اظہار الحق، خالد اقبال یاسر، شاہدہ حسن، ابرار احمد، لیاقت علی عاصم، اجمل سراج، اختر عثمان، اقتدار جاوید، اکبر معصوم، احمد نوید، قمر رضا شہزاد اور گیت نگاری میں ناصر شہزاد کا جوڑ ہندوستان میں ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ بھگوان داس اعجاز البتہ مجھے پسند ہیں۔ ہندوستان میں شہریار، محمد علوی اور بشیر بدر کے بعد عرفان صدیقی جیسا صرف ایک اہم شاعر پیدا ہوا اور وہ بھی اٹھ گیا۔ آپ بیتی کی صنف کا انحصار لکھنے والے کی شخصیت کی اہمیت پر ہوتا ہے۔ ہندوستان میں ان دنوں تہاڑ جیل سے متعلق افتخار گیلانی کی آپ بیتی زیر بحث ہے اور ہمارے یہاں احمد بشیر کی آپ بیتی ’’دل بھٹکے گا‘‘ یہ الگ قصّہ ہے کہ احمد بشیر نے ’’دل بھٹکے گا‘‘ کو بطور ناول پیش کیا۔ باقی رہ گئیں سفرنامہ، ہائیکو، ماہیا وغیرہ اصناف تو ان میں بطور ادبی صنف کے دونوں اطراف میں نہ امکانات پہلے تھے، نہ اب ہیں۔ اسے ورزش محال کہہ لیں۔


سوال: ہندوستان اور پاکستان کے درمیان رشتوں کو بہتر بنانے کے لیے دونوں ممالک کے اہلِ قلم کس طرح کا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں؟
جواب: ہندوستان اور پاکستان کے بیچ دشمنی کے طویل سلسلے کو جس طرح اہل قلم دوستی میں تبدیل کر سکتے ہیں، اس طرح دوسرا کوئی نہیں کر سکتا۔ کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کرکے اور لکھے ہوئے لفظ کے ذریعے۔ کتب کا تبادلہ اہم رول ادا کر سکتا ہے۔ نیز ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک اہلِ قلم کو ویزا دینے میں سہولتیں پیدا کریں۔ اس سے دونوں ملکوں کے ادیب اور شاعر وہ کام کر گزریںگے جو ہمارے سیاست دانوں سے ممکن نہ ہوسکا۔


سوال: اپنے تخلیقی سفر کی بابت آپ کے احساسات کیا ہیں؟ نیز مستقبل کی آرزوئیں اور ارادے؟
جواب:
تجھ سے اے دریائے محبت، پار کوئی بھی پا نہ سکا
کیسے کیسے ڈوب گئے، گو گھٹنوں گھٹنوں پانی ہے

میں نے ایک ناول شروع کر رکھا ہے، اگر مکمل کر پایا۔ افسانوں کا پانچواں مجموعہ اشاعت کے مرحلے میں ہے۔ تنقیدی مضامین کے دو مجموعے اسی سال شائع ہو جائیںگے۔ عہدِ عالمگیری کے ایک تصوّف سے متعلق فارسی تذکرہ ’’ظواہر السرائر‘‘ پر کام کر رہا ہوں۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2008. All rights reserved.