ادب >> انٹرویوز >> فہمیدہ ریاض
ادب
ملاقات: انور سن رائے

سوال: فہمیدہ کیا آپ ہمیں بتائیں گی: فہمیدہ ریاض کون ہے؟
فہمیدہ ریاض: یہ تو آپ مشکل سوال کر رہے ہیں۔ میں فہمیدہ ریاض سے بلکل واقف نہیں اور میں ان کے بارے بہت کم سوچتی ہوں۔اس لیے میں انہیں نہیں جانتی زیادہ۔ (قہقہہ) میرٹھ میں کہتے ہیں کہ پیدا ہوئی تھی۔ نائنٹین فورٹی فائیو جولائی ٹوئنٹی ایٹ۔ (اٹھائیس جولائی انیس سو پینتالیس) یہ ہے ڈیٹ آف برتھ۔ والدین آزادی سے پہلے ہی آ گئے تھے، سندھ میں رہتے تھے۔ تو یہیں پر پڑھی تمام تعلیم یہیں پر حاصل کی۔ تمام تو کیا ایک حد تک۔ کالج میں یہاں پڑھی۔ یونیورسٹی میں یہاں تھی، پھر سکسٹی سیون میں میں انگلینڈ چلی گئی۔ وہاں کچھ عرصے بعد میں نے بی بی سی میں کام کیا تھا۔ وہاں میں رہی ہوں سیونٹی ٹو کے آخر تک۔ اس زمانے میں وہاں لندن سکول آف فلم ٹیکنیک ہوتا تھا، اس میں فلم ٹیکنیک کا کورس کیا تھا۔ اس وقت وہ بڑا پرسٹیجس ادارہ تھا۔ سیونٹی تھری میں میں پھر واپس آ گئی۔ میری بڑی بیٹی وہاں پیدا ہوئی سارہ۔ یہاں آنے کے بعد پاکستان کے حالات میں مصروف و مشغول ہوگئے۔ یہاں سے ایک رسالہ پبلش کرنا شروع کیا جس کا نام تھا: ’آواز‘۔ ضیاالحق کے زمانے میں، اس پر بڑے مقدمات وغیرہ قائم کیے گئے تھے۔ اس وقت بہت سے (لوگ) ملک چھوڑ کر جا رہے تھے میں بھی چلی گئی۔ ہندوستان رہی۔ مارچ ایٹی ون میں گئی تھی ایٹی سیون دسمبر میں واپس آئی۔ سات برس ہندوستان میں رہی۔ پہلے وہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’پوئٹ ان ریذیڈنس‘ تھی۔ پھر سینئر ریسرچ فیلو رہی ’آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف سوشل ریسرچ‘ کی اور آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل ریسرچ کی۔ اس کے بعد پاکستان میں تھی۔ پاکستان میں جب تبدیلی آئی تھی تو اسلام آباد میں تھی میں چئر پرسن نیشنل بک کونسل آف پاکستان۔ اس کے بعد منسٹری آف کلچر کی کنسلٹنٹ رہی کچھ عرصے۔ پھر نائنٹی سکس، نائنٹی سیون میں اپنی ایک این جی او رجسٹرڈ کروائی۔ ’وعدہ‘ اس کا نام تھا۔ ویمن اینڈ ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن۔ بنیادی طور پر تو میں یہ چاہتی تھی کہ یہ ایک پبلشنگ ہاؤس بنے جو بچوں اور عورتوں کے لیے کتابیں چھاپے۔ مگر ساتھ ساتھ پھر دوسری چیزیں بھی تھیں، کانفرنسیں کروانا۔ سیمینار منعقد کرنا۔ یعنی کتابیں بنانے کے سلسلے میں دوسری بھی بہت ساری سرگرمیاں تھیں، وہ جاری رہیں۔ وہ ادارہ ہے اپنی جگہ۔

سوال: کب شروع کیا آپ نے لکھنا؟
ف ر: سمجھیے شروع کیا سکول کے زمانے سے۔ پہلی نظم تو تبھی لکھی تھی۔

س: یاد ہے پہلی نظم کیا تھی؟ کیسے اس کی تحریک ہوئی؟
ف ر: پہلی نظم کیوں ہوئی؟ کیسے ہوئی مجھے بالکل یاد ہے۔ حالانکہ وہ نظم اب مجھے نہیں یاد ہے۔ ایسا تھا کہ سندھ یونیورسٹی کی ڈیبیٹ تھی، اس میں لڑکے اور لڑکیں بھی لے جائے گئے تھے۔ یہ دکھانے کے لیے کہ انٹر کالجیٹ ڈیبیٹ کیسی ہوتی ہیں۔ تو بس وہاں پر ایک مجمع تھا لوگوں کا جو ہنس رہے تھے۔ اسی نے مجھ پر بڑا گہرا اثر چھوڑا۔ وہی میں نے پہلی نظم میں لکھا تھا۔ سب لوگوں کا اکٹھا مل کر ہنسنا۔ یہ اس کا موضوع تھا شاید۔

س: آپ کے بہن بھائی، والدین، دادا، دادی۔ کیا نام تھے کیسے رہتے تھے؟ کچھ ان کی یادیں؟
ف ر: انور، مجھے اپنے باپ اور ماں کا نام تو بے شک یاد ہے کافی مشکل ہوتا ہے بھولنا۔ میرے والد کا نام تھا ریاض الدین۔ جن کی وجہ سے میرا نام فہمیدہ ریاض ہے۔ میری والدہ کے دو نام تھے۔ ہمارے گھر میں سب کے دو نام رکھے جاتے تھے۔ان کا نام تھا حسنہ بیگم۔ جب میں پانچ سال کی تھی تو میرے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔میری والدہ نے ہم بہنوں کی پرورش کی۔ میرے والد جب یہاں آئے سندھ تو نور محمد ہائی سکول بنا تھا اس وقت۔ وہ تو تھرٹیز میں آ گئے تھے۔ تو وہ اس میں پڑھاتے تھے۔ اب مجھے ٹھیک سال تو یاد نہیں۔ اس وقت چھوٹے گیج کی ٹرین چلا کرتی تھی جسے اب یہ دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اجمیر سے ہوتی ہوئی یو پی تک چلی جاتی تھی۔ دہلی سے شاید بدلتے تھے اور پھر میرٹھ چلے جاتے تھے۔ مگر اس زمانے میں بھی یہ بہت ہی دور سمجھا جاتا تھا۔ باقاعدہ پردیس۔ تو وہ پڑھاتے تھے پہلے سکول میں پھر وارڈن تھے اور آخری زمانے میں اپنے انتقال سے کچھ عرصے پہلے وہ ٹریننگ کالج میں پڑھانے لگے تھے۔ انہوں نے بہت لمبا عرصہ گزارا تھا یہاں۔

س: بچن کی کوئی خاص بات کوئی خاص واقع جو آپ کو بہت ہانٹ کرتا ہو؟
ف ر: میری بچپن ہی سے تنہائی پسندی کی عادت تھی اور اکیلے کھیلنے کا شوق تھا اور کتابیں پڑھتی رہتی تھی۔ میرے والد کیونکہ ایجوکیشن میں تھے تو انہوں نے بڑی توجہ سے مجھے اردو پڑھنا سکھائی تھی۔ جب میں پانچ سال کی تھی تو ان کا انتقال ہو گیا تھا لیکن تب تک میں اردو پڑھ سکتی تھی۔ پھر ایک ٹیچر کے گھر میں ہوتا ہی کیا ہے سوائے کتابوں کے۔ تو ہمارے لیے کتابیں ہی چھوڑ کر گئے تھے۔ ان کتابوں میں ادب بھی تھا اور سوشیالوجی وغیرہ پر بھی کتابیں تھیں، ہر قسم کی کتابیں تھیں۔

سوال: پھر باقاعدہ شاعری کب سے شروع کی؟
ف ر: وہ تو کالج کے زمانے ہی میں۔ زبیدہ گورنمنٹ کالج حیدرآباد۔ سب کو نیشنلائیز کر لیا گیا تھا لیکن وہ تو شاید تھا ہی سرکاری کالج۔ بڑی اچھی جگہ تھا اور بڑا سا آسمان تھا اس پر۔ خاصا کھلا ہوا تھا اب تو نا جانے کیسا ہو گیا ہو؟ کالج کے زمانے میں نظمیں لکھنے لگی تھی۔ کبھی کبھی کسی کو سنا بھی دیں۔ کسی نے مجھ سے کہا کہ آپ بھیج دیں۔ اس زمانے میں ’فنون‘ شروع ہوا تھا یہ سکسٹی تھری کی بات ہے یا سکسٹی فور ہو گا۔ تو میں نے نظمیں بھیجیں اور وہ شائع ہو گئیں بس اس طرح آغاز ہوا۔

سوال: پہلی نظم کون سی شائع ہوئی؟
ف ر: یہ تو مجھے اب یاد نہیں ہے ’پتھر کی زباں‘ پہلے مجموعے کا نام تھا۔ سکسٹی سیون میں شائع ہوا۔ اس میں وہ نظم ہے۔ فنون میں وہ ایک نہیں تین چار نظمیں اکٹھی شائع ہوئی تھیں۔ اس کے بعد میں فنون میں ہی لکھتی رہی۔ اب تو کچھ عرصے سے میں نثر زیادہ لکھ رہی ہوں۔ سات آٹھ سال سے۔

سوال: بنیادی تشخص آپ کا شاعرہ کا ہے۔ اور اتنے عرصے سے شعر کہہ رہی ہیں آپ کو کیا لگتا ہے کیا بنیادی بات آپ نے کہنے کی کوشش کی؟

ف ر: دیکھیے کبھی کبھار تو آپ کچھ کہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن زیادہ تر تو آپ وہ لکھتے ہیں جو آپ کے دل پر گزر رہی ہوتی ہے۔ یا تو کوئی چیز جو آپ کو بہت اچھی لگے یا کسی چیز سے آپ کو بہت گہرا دکھ ہو۔ تو رسمی طریقے سے وہ ایک شعر بن جاتا ہے اور آپ اسے لکھ ڈالتے ہیں۔

سوال: کیسے آتی ہے نظم اور کیسے پھر وہ صفحے تک جاتی ہے؟

ف ر: یہ بڑا ہی مسٹیریس عمل ہے۔ بعض اوقات تو کوئی صورتِ حال ہے اور ایک لفظ آپ کے دماغ میں آتا ہے، اور بعض اوقات تو ایک لفظ کے گرد ایک نظم بن جاتی ہے۔ ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے کہ کچھ الفاظ ہوتے ہیں جو آتے ہیں آپ ان کے گرد بناتے ہیں سارا تانا بانا۔

سوال: کچھ نظمیں آپ کی سیاسی ہیں۔ کچھ واقعاتی بھی ہیں؟

ف ر: سیاست ایسا نہیں ہے کہ آپ کی ذاتی زندگی سے الگ کوئی چیز ہو۔ خود میری نسل جس دور میں پلی بڑھی، آپ ساٹھ کی دہائی لے لیجیے، تو وہ دور خود پاکستان میں ایک تبدیلی کا دور تھا۔ وہ ایوب خان کا دور تھا۔ ایوب خان کے خلاف ایک سٹوڈنٹ موومنٹ شروع ہوئی تھی۔ کراچی سے شروع ہوئی تھی اور اس وقت ہم سٹوڈنٹ تھے اور ہم بھی اس میں شامل تھے ایک نئی دنیا بنانے کا ولولہ سا تھا جو صرف پاکستان ہی میں نہیں تھا۔ ساری دنیا ہی میں تھا۔ لوگوں کی جدوجہد کا ایک دور۔ نظام تبدیل ہو رہے تھے، حکومتوں کے تختے الٹے جا رہے تھے۔ خصوصاً ان ملکوں میں پوسٹ کالونیل جنہیں آپ کہہ سکتے ہیں۔ چاہے وہ فرانس، چاہے جرمنی اور چاہے وہ انگلینڈ ہو انہوں نے اپنی کالونیز (نوآبادیات) چھوڑی تھیں اور ان کے معاشروں میں ایک اتھل پتھل تھی ایک ایسی تبدیلی کی خواہش جو آ رہی تھی اور آنا چاہتی تھی۔ نوآبادیاتی نظام سے نکلنے والی دنیا میں ایک نئے نظام کا خواب تھا۔ جو سماجی برابری کا اور انصاف کا اور وہ قابلِ حصول لگ رہا تھا اس وقت کیونکہ چند ایک ممالک تھے جن میں تبدیلیاں آئی تھیں اور یہ ایک بڑی انسپریشن تھی، تو ان حالات میں بہت سوچ سمجھ رکھنے والا پڑھا لکھا شخص کوئی نہ کوئی سٹینڈ لے رہا تھا۔ گو کہ اس وقت یہ تحریکیں اتنی مضبوط نہیں تھیں لیکن ان میں ایسے بھی تھے جو مذہبی تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارا مطمعِ نظر ہونا چاہیے۔ اس میں جو نمایاں فکری عنصر تھا وہ سوشلسٹ معاشرہ قائم کرنا چاہتا تھا۔ میں بھی اس میں شامل تھی یقیناً، اور صرف میں ہی کیوں، بلاشبہ میں نے سیاسی نظمیں لکھی ہیں، جیسے کہ میں تمہیں بتایا ہے کہ میری جو پہلی نظم تھی وہ بھی کوئی ایسی رومان پرور نہیں تھی۔ حالانکہ عشق بہت بڑا محرک ہوتا ہے شاعری کے لیے، آپ سے شعر کہلوانا شروع کر دیتا ہے عشق لیکن اس وقت ہمارے پس منظر میں آپ دیکھیں تو فیض صاحب تھے۔قاسمی صاحب کی شاعری تھی، مجاز کی بھی شاعری تھی۔ مجروح سلطان پوری کی شاعری تھی، ساحر لدھیانوی کی شاعری تھی۔ یہ تھا وہ پس منظر جس میں ہم نے لکھنا شروع کیا۔ تو اس میں گہری سیاسی وابستگی تھی اور اب بھی رہتی ہے۔

سوال: ایک تو یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی آپ کے ارد گرد ہو رہا ہوتا ہے چاہے وہ سیاسی ہو غیر سیاسی ہو، سماجی نوعیت کا ہو، ذاتی نوعیت کا ہو، اجتماعی ہو انفرادی ہو، آپ کو متاثر کرتا ہے لیکن کچھ ایسے سیاسی واقعات بھی ہوتے ہیں، آپ ایک ملک میں رہ رہے ہوتے ہیں اس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ دنیا کے دوسرے واقعات سے زیادہ آپ کو متاثر کرتا ہے اور یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے لیکن جیسے آپ نے بھٹو صاحب کے دور میں بلوچستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بارے میں ایک نظم لکھی تھی، حلقے میں پڑھی تھی، تو ایسے واقعات آپ کے ہاں شعری شکل کیسے اختیار کرتے ہیں؟

ف ر: سیاسی واقعات میں ایسا ہوتا ہے کہ وہ آپ کو بہت گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں۔ ایک بے چینی پیدا کرتے ہیں اور آپ ٹہلنے لگتے ہیں اور لکھنے لگتے ہیں جب تک پورا تصور بن کر سامنے نہ آ جائے اور پھر آپ اسے تھوڑا بہت سجا سنوار نہ لیں۔ یعنی یہ دوسرا مرحلہ کہ آپ اس کی تراش خراش کرتے ہیں۔ لیکن پہلا تو بہت ہی پُراسرار ہے اور سچ تو یہ ہے کہ شاعر اس کے بارے میں بہت کم جانتا ہے۔ اور ہر بار یہ ایک طرح سے ہوتا بھی نہیں ہے۔ ہر مرتبہ کوئی نئی ہی چیز ہوتی ہے لیکن یہ درست ہے کہ مجھے نظم لکھنے کےلیے کبھی اس طرح کی چیزوں کی ضرورت نہیں ہوئی۔ میں نے ایک دو نظمیں تو رکشہ میں بھی بیٹھ کر لکھی ہیں کیونکہ وہ اسی وقت خیال آ رہے تھے اور اسی وقت لکھیں۔ یہ میں نے محسوس کیا ہے کہ جو پہلا پہلا امپیکٹ ہوتا ہے آپ کے ذہن پر آپ کے دل پر وہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اسے اگر اسی وقت نہ لکھ نہ لیا جائے نہ تو بعد میں آپ اسے پکڑ نہیں پاتے۔ ایسے ہی ہے کوئی وقت ہوتا ہے، کوئی آن، کوئی پل جو آپ کےساتھ کچھ کر رہا ہے، کچھ الفاظ ہیں جو آپ کے ذہن میں آ رہے ہیں اور ایک طرح سے آ رہے ہیں۔ کچھ امیجز ہیں جو آ رہے ہیں، آپ اس وقت انہیں لکھ نہیں دیں گے تو پھر وہ بھاگ جائیں گے۔ آپ کے ہاتھ پھر نہیں آنے والے۔

سوال: ساری نظمیں آپ نے ایک نشست میں لکھیں؟


ف ر: میں نے اکثر نظمیں ایک نشست میں لکھیں، نہیں، پھر میں بعد میں ان پر کام بھی کرتی ہوں۔ تم جانتے ہو کہ میں پابند نظمیں لکھتی ہوں۔ آزاد نظمیں بھی ایک طرح کی پابند ہوتی ہیں۔ کیونکہ ہماری جو اردو میں روایت ہے جیسے فیض نے یا راشد نے لکھی ہیں تو ان میں ایک بحر ہوتی ہے لیکن وہ مختلف ٹکڑوں اور لائنوں میں آتی ہے یعنی جیسے آپ دیکھیں: یہ رات اس درد کا شجر ہے، فیض کی نظم ہے:
’یہ رات اس درد کا شجر ہے
جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے
تو آپ دیکھیں گے کہ: فعول فعلن فعول فعلن، پھر اگلی لائن بہت لمبی ہے:
عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں میں لاکھ مشعل بکف ستاروں کے کارواں گھر کے کھو گئے ہیں‘
لیکن یہ سب کچھ ’فعول فعلن‘ ہی میں ہے۔ تو یہ بھی پابند ہوتی ہے تو میں اس طرح کی نظمیں لکھتی ہوں۔ تو اس میں جو نظم بنی اس کو بحر میں لانے کے لیے بعد میں اس پر کام کرتا ہے آدمی۔ تو اس میں نشست الفاظ کی ادھر اُدھر کر سکتا ہے ہے وہ اور بھی بہت کچھ کرتا ہے۔

سوال: یہ آپ ہر نظم کے ساتھ کرتی ہیں آپ یا کچھ نظمیں ایسی ہوتی ہیں جو ایسے آ جاتی ہیں کہ ان میں کچھ نہ کرنا پڑے؟


ف ر: بالکل ہر نظم کی ایڈٹنگ ضرور کرتی ہوں کیونکہ کوشش تو انسان کی ہوتی ہے نا، پھر یہ آپ کی ذمہ داری بھی ہے، اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے کہ آپ انہیں ایک سب سٹینڈرڈ یاناقص چیز نہ دیں۔ ان کی توقعات کو بہت زیادہ مجروح نہ کریں لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ بہت ساری ایڈٹنگ کے بعد آدمی کہتا ہے کہ پہلا والا مصرع ہی بہتر تھا۔ تو میرے لکھنے میں یہ ہے کہ میرا جو پہلا ڈرافٹ ہوتا ہے میں اس کی طرف کافی لوٹتی ہوں۔ بہت سی ترکیبوں کے بعد پہلے ڈرافٹ کو ہی ترجیح دیتی ہوں۔

سوال: آپ بہت عرصے تک لندن میں بھی رہی ہیں، تو کیا محسوس کرتی ہیں کہ وہاں رہنے کا آپ کی سوچ اور شاعری پر کیا اثر پڑا جو یہاں رہنے سے مختلف تھا؟


ف ر: میں نے وہاں بہت سے نظمیں لکھی تھیں ’بدن دریدہ‘ کی بہت سے نظمیں تو وہاں ہی لکھی تھیں۔ دیکھیے نا باسٹھ میں چلی گئی تھی باہتر کے آخر میں واپس آئی تہتر میں ’بدن دریدہ‘ شائع ہوئی تو اس کی زیادہ تر نظمیں وہیں لکھی گئی تھیں۔ تو یہ کہ ایک نیا ملک تھا اور ایسا نہیں ہوتا کہ آپ مغرب میں چلے گئے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم پاکستان کے ایک گھر سے اٹھ دوسرے گھر میں چلے گئے۔ ہمارا انٹریکشن بہت کم ہوتا ہے ویسٹ سے، میرا تو ہوا کیونکہ میں وہاں فلم سکول میں ایڈمیشن لیا تو وہاں ہندوستان کے لوگوں سے مجھے پہلی بار ملنے کا موقع ملا، اس سے پہلے میں ہندوستان نہیں گئی تھی بلکہ میرا پہلا امپریشن جو لندن ائرپورٹ پر تھا ہیتھرو پر، وہ یہ تھا کہ میں نے ایک سکھ کو دیکھا، جو میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ وہ حیرت انگیز تھا گوروں کو تو میں بھول گئی تھی میں تو اس سکھ کو دیکھ رہی تھی۔کیونکہ اردو ادب کی وجہ سے ان لوگوں کے بارہ میں پڑھا تو بہت کچھ تھا، آپ کو پتہ ہے ہمارے، مہندر سنگھ اور راجندر سنگھ بیدی اور بلونت سنگھ جن کے بغیر تو اردو ادب کچھ بھی نہیں، تو ہندو اور سکھ معاشرے کے بارے میں پڑھ تو رکھا تھا لیکن اسے دیکھنے کا فرسٹ ہینڈ ایکسپیرئنس نہیں تھا۔ پھر دوسرے ملکوں کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ عرب لوگوں سے، ایرانیوں سے، مصریوں سے، لندن سکول آف فلم ٹیکنیک ایک بہت ہی کاسمو پولیٹن جگہ تھی، ایک تو کامن ویلتھ ممالک سے آتے تھے اور یورپ سے بھی آتے تھے، لاطینی امریکہ سے آتے تھے۔ یہ ایک بہت ہی اچھا ایکسپوژر تھا پھر میں نے بی بی سی میں کام کیا۔ اس کے علاوہ ذاتی اور میرڈ زندگی کا آغاز لندن سے ہوا تھا۔ لندن میں میری پہلی بیٹی ہوئی تو ایک طرح یہ بہت بھرپور تجربہ تھا جو مجھے حاصل ہوا۔ لیکن چھ سات برس میں آدمی کوئی ایسا تبدیل نہیں ہو جاتا ہے اور میں نے کبھی بھی لندن میں ہمیشہ رہنے یا سیٹل ہونے کا خیال نہیں کیا تھا۔ ہمیشہ میں واپس ہی آنا چاہتی تھی۔ ہم اپنے ملک کو مختلف بنانا چاہتے تھے۔ لہٰذا یہاں پہ آنے کا فیصلہ ایک بہت ہی شعوری اور عزم کے ساتھ کیا ہوا فیصلہ تھا۔

سوال: جو کچھ یہاں آ کر ہوا اس سے آپ کو خوشی ہوئی، مایوسی ہوئی، اطمینان ہوا؟


ف ر: دیکھو، انور! انسان کی ذات بہت عجیب ہے۔وہ اگر اپنی مرضی سے تکلیفوں سے گذرتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ یہاں آنے کے بعد میرے ذہن سے قریب جو تحریکیں اور جدوجہد تھی میں ان میں شامل رہی اور وہ زندگی کا ایک بہت ہی ثمردار حصہ ہے۔ مشکلیں تو پڑتی ہیں لیکن بہت سی چیزوں کو آپ فار گو کرتے ہیں اور یہ آپ کی اپنی چوائس ہے یعنی ایک خاص طرح کی زندگی جو ہو سکتی تھی اس کے بارے میں آپ نے کہا کہ نہیں یہ نہیں ہے آپ کا راستہ۔

سوال: انگلینڈ جانا اور پھر یہاں سے ہندوستان جانا ان دونوں کو آپ کن لفظوں میں بیان کریں گی؟


ف ر: ہندوستان تو ایک مجبوری تھی۔ میں مارچ اکیاسی میں گئی ہوں اس وقت ضیاالحق کا مارشل لا بہت ہی سخت تھا۔ اس حد تک کہ انہوں نے یہاں گلیوں تک میں ٹینک لا کر کھڑے کیے ہوئے تھے، لوگوں کو سرِ عام کوڑے مارے جا رہے تھے، جسے دیکھو اٹھا کر جیل میں ٹھونس دیا۔ مجھ پر مقدمات، اس لیے کہ میں ایک رسالہ ’آواز‘ شائع کرتی تھی، تو پبلشر اور ایڈیٹر کی حیثیت سے چودہ مقدمات تھے بلکہ ان میں سے ایک تو ہم جیت بھی گئے تھے۔ فخرالدین جی ابراہیم تھے اس وقت جج، ایک مقدمہ ان میں سے ون ٹوئنٹی فور اے کے تحت تھا ایک سڈیشن کے تحت مقدمہ تھا۔ جس کی سزا پھانسی یا عمر قید بھی ہو سکتی تھی۔ میں ضمانت پر رہا تھی۔ بچے چھوٹے چھوٹے تھے، جیل جانے کا نہ مجھے پہلے شوق تھا نہ اب ہے۔ مثلاً بہت لوگ کہتے ہیں آپ جیل کیوں نہیں چلی گئیں ’بھئی مجھے نہیں اچھا لگتا ہے بند جگہ پر رہنا، میں کھلی جگہ پر رہنا پسند کرتی ہوں‘۔ یہی وجوہ تھیں جن کی وجہ سے ہم نکل گئے تھے اور ہندوستان ہی پہنچ سکے تھے۔ لیکن ہندوستان جا کر رہنا، اس کے لوگوں کو دیکھنا اور اس کے بے حد پُر فسوں تنوع اور ڈائیورسٹی کو دیکھنا۔ یہ سب بہت اچھا لگا۔ بہر حال ہندوستان کوئی اتنا غیر ملک تو ہے نہیں۔ اردو ادب کا آغاز وہیں سے ہوا جیسے میں جب بمبئی گئی تو میں تو یہی سوچ رہی تھی کہ یہیں کرشن چندر رہتے تھے، عصمت رہتی تھیں، یہیں جذبی ہوتے تھے، مجروح سلطان پوری، ساحر لدھیانوی اور ان سب کو پناہ ملی تھی بمبئی میں یا منٹو بمبئی میں رہے۔ تو ہمارے ذہنوں میں یہ ہندوستان ہمیشہ سے تھا۔

سوال: کتنا مختلف پایا آپ نے ہندوستان کو پاکستان سے، جیسا کہ آپ نے کہا کہ واحد راستہ بچا تھا لیکن پھر بھی زندگی یہاں کے مقابلے میں کیسی لگی؟


ف ر: بہت بڑا فرق تھا، کیونکہ انیس سو اکیاسی سے انیس سو ستاسی تک وہاں تھی۔ وہاں جاکر، دلی پہنچتے ہی دلی جاکر مجھے سب سے پہلے یہ ہی خیال آیا تھا کہ یہ جو آل انڈیا ریڈیو ہے اردو کے کتنے ادیب وابستہ رہے ہیں اس سے، کتنی چیزیں ان کی لکھی ہوئی تھیں جو کہ ریڈیو کے ذریعے لوگوں تک پہنچتی تھیں۔ ایک تو لگتا ہے کہ آدمی تاریخ کے اچانک روبرو آ گیا ہے۔ وہاں جاکر احساس ہوتا ہے کہ انگریز کو گئے ہوئے اتنا عرصہ نہیں گذرا یہ احساس پاکستان میں ہوتے ہوئے نہیں تھا۔ کیوں نہیں تھا؟ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے انگریز کی جو سیٹ آف پاور (مرکزی علاقۂ اقتدار) اس علاقے میں نہیں تھی جن میں پاکستان بنا۔ پھر ان کی بنائی ہو سب چیزیں سامنے آجاتی ہیں۔ انہوں نے جو پورا سسٹم قائم کیا تھا کالونیل سسٹم، ایڈ منسٹریشن کا سسٹم وہ سب کچھ جوں کا توں تو نہیں ہے مگر تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ آپ ابھی تک دیکھ سکتے ہیں (ہنستے ہوئے) یہاں تو وہ سسٹم تھا ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کوئی سسٹم رہا ہی نہیں ہے۔ لہذا اس کا یہاں احساس نہیں ہوتا تھا، وہاں پر سب سے بڑا احساس ایک تو یہ ہوا، دوسرا اکثریت دوسرے مذہب کی تھی جو یہاں پر تو نہیں ہے۔یہاں تو آپ ایک پتھر بھی اٹھائیں گے تو پتہ چلے گا کہ نیچے سے کئی مسلمان نکل آئے ہیں۔ یہاں پر تو صرف مسلمانوں سے ہی واسطہ پڑتا تھا، وہاں بالکل یہ نئی چیز تھی یہ ایک طرح سے مختلف بھی تھا۔ مگر یہ سچی بات ہے وہاں مارشل لا نہیں لگتے رہے ہیں۔ ایک کھلا ہوا ماحول ہے۔ لوگ ریلیکس نظر آتے ہیں۔ سڑک پر آپ کسی چہرے کو دیکھتے تو ریلیکس نظر آتا تھا۔ پاکستان کے مقابلے میں ایک تو یہ بڑا فرق تھا اور دوسرا یہ کہ بہت سے چیزوں کا آپ کو اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کو یہ اندازہ وہاں جاکر اور رہ کر ہوتا ہے کہ خود پاکستان کی تحریک کیوں چلی ہوگی۔ دیکھیں ہندو اور مسلمان وہاں بڑے تواتر کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر لیکن کافی تواتر کے ساتھ چھوٹے موٹے کمیونل فسادات تو ہوتے رہتے تھے۔ نزدیک یا دور، آپ سوچتے ہیں کہ بھئی یہ مسئلہ اس وقت بھی ہوگا، اس کے لیے لوگوں نے کیا سوچا کیا نہیں سوچا، کیا محسوس کیا، کیا نہیں محسوس کیا۔ یہ سب چیزیں پتہ چلتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہاں ہم گرفتار ہونے والے تھے۔ (مسکراتے ہوئے) اس طرح سے سوچیں آپ کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے کہیں گئے لیکن ذہنی اور جذباتی طور پر جس تحریک کا آپ حصہ ہوتے ہیں، آپ اس سے جڑے ہی رہتے ہیں۔ اس کے بارے میں سوچتے ہی رہتے ہیں۔ اسی کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھتے ہی رہتے ہیں۔اول دن ہی سے وہاں سے واپس آنے کا ارادہ تھا۔ بھئی واپس آئیں گے، جب بھی موقعہ ملا۔

سوال : پہلی ملازمت آپ نے کب کی؟


ف ر : پہلی ملازمت میں نے ریڈیو پر کی تھی اور فوجی بھائیوں کے لیے پروگرام پیش کیا کرتی تھی حیدرآباد میں۔

سوال: پریزینٹر کے طور پر؟


ف ر : ہاں پریزینٹر کے طور پر، لکھتی بھی تھی ریڈیو کے لیے۔

سوال : اسٹاف آرٹسٹ کے طور ؟


ف ر: حقیقت میں ہوتی تو وہ تنخواہ ہی تھی، مگر کنٹریکٹ تھا۔ آرٹسٹ کی حیثیت سے تو نہیں شاید ابھی اسے آؤٹ سائیڈ کنٹری بیوٹر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن وہ ایک تنخواہ والی ملازمت تھی تب میں شاید انٹر میں پڑھتی تھی۔

سوال : یہ تو ایک طرح کا جزوی کام تھا شاید، پہلی ملازمت کہاں اختیار کی؟


ف ر : پہلی ملازمت میں نے لندن میں کی تھی، ایک میرین انشورنس کمپنی میں ایک کلیریکل جاب تھی، بینک کے ایریا میں۔ پاکستان آنے کے بعد میں نے آر لنٹاس میں کام کیا۔ وہاں فلمیں بناتی تھی اور ہیڈ آف کریٹیو ڈیپارٹمنٹ تھی۔ یہ تھا میرا عہدہ وہاں پر۔ کیوں کہ میں فلم ٹیکنیک کا کورس کرکے آئی تھی لندن سے۔ یہ ایک سینئر انتظامی عہدہ تھا۔ یہاں اس قابلیت کا اور کوئی شخص ہی نہیں تھا۔ سوائے ایک کے، وہ تھے مشتاق گزدر۔ انہوں نے اسی سکول سے پڑھا تھا لندن سکول آف فلم ٹیکنیک سے۔

سوال : آپ نے آر لناٹس کے علاوہ کیا ملازمت کی؟


ف ر : لنٹاس کے بعد میں نے دوسری اور کوئی ملازمت نہیں کی تھی اور وہ چھوڑ دی تھی۔ کیوں کہ ہم نے سوچا تھا کہ ہم سرمایہ داروں کی خدمت تو نہیں کریں گے۔ مگر بہرالحال نوکری تو کہیں کرنی تھی، تو پھر میں ایس کے این ایف جو فارماسیوٹیکل کمپنی ہے، وہاں میں نے کچھ عرصے کام کیا تھا۔
سوال : آپ رسالہ نکالنا چاہتی تھیں، وہ تجربہ کیسا رہا، ’آواز‘ کا خیال کیسے آیا؟


ف ر : ایسے آیا کہ ایک فورم بنایا جائے۔ کیا کریں بھئی ہیں تو ہم لکھنے والے، اس طرح کی نوکری کرنا نہیں چاہتے جس میں اپنے نظریات پر کمپرومائز کرنا پڑے، لہٰذا کیا کیا جاسکتا ہے۔ تو یہ صورت نظر آئی تھی کہ ایک رسالا نکالا جائے اور جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اس میں کہا جائے۔ ساتھ ساتھ یہ ہے کہ گھر بھی چلائیں اپنا۔

سوال : اس کے بعد اب صورتحال کیسے نظر آتی ہے؟


ف ر : یہ تو بہت لمبی چھلانگ لگا رہے ہیں ہم، اس کے بعد تو بہت کچھ ہوا، ضیاالحق صاحب کا دور آیا پھروہ دور تقریباً ختم ہوگیا، ضیاالحق صاحب نہیں رہے۔ پھر بینظیر صاحبہ کی حکومت آئی، پھر وہ ختم ہوئی۔ جس میں میں نے نیشنل بک کونسل میں کام کیا تو پتہ چلا کہ سرکاری ادراوں کی کتنی بڑی پہنچ ہے۔ وہاں ہرگز کچھ نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہماری بیورو کریسی کو تربیت ہی اس طرح سے دی گئی ہے کہ کچھ بھی نہ کیا جائے۔ ایک افسوسناک قسم کی صورتحال ہے۔ اس کا فرق مجھے ہندوستان میں بھی لگا تھا مجھے لگا تھا کہ ہندوستان کی بیورو کریسی میں اس حد تک چیزیں نہ ہونے دینے کا مادہ کم ہے، لیکن وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں، ایک طرح کی آئیڈیل ازم ان لوگوں میں موجود ہے۔ کہیں نہ کہیں یہ بات محسوس ہوتی تھی وہاں پر۔ لیکن یہاں پر تو اس طرح کی کوئی چیز نہیں۔ اس کے بعد پھر نواز شریف کا دور آیا جس میں انہوں نے مجھے ’را ‘ کی ایجنٹ ڈکلیئر کیا تھا۔ میرا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا تھا۔ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں اٹھا تھا، بینظیر پر جو سات الزامات لگائے گئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا، کہ آپ نے فہمیدہ ریاض کو ایک اہم عہدہ دے دیا حالانکہ وہ کوئی خاص اہم عہدہ نہیں تھا۔ لیکن ان پر یہ ایک الزام تھا۔ وہ دور بھی ختم ہوا اور ایک دن پتہ لگا کہ پرویز مشرف صاحب آ گئے ہیں۔ تو تب سے اب تک فرق تو آیا نہ کافی۔ رسالے کے حوالے سے جو تم پوچھ رہے تو، تب سے اب تک فرق تو آیا ہے نا۔ اب جو انفارمیشن میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے تبدیلیاں آئی ہیں اور اس کا جو ایک ریولوشن بڑا زبردست آیا ہے۔ اس نے دنیا ہی کو نہیں پاکستان کو بھی بدل دیا ہے بہت کچھ۔ اب یہ دیکھیں بہت سے ٹیلی ویژن آ گئے ہیں۔

سوال: ستاسی میں ایک تبدیلی آئی، سنسر شپ وغیرہ ختم ہوئی، اخباروں کے لیے ڈیکلیئریشن وغیرہ ملنے لگے۔ اس کے بعد اب یہ دور آیا ہے، کیا لگتا ہے، اس میں کچھ آزادی ہے یا یہ بھی لگتا ہے کہ یہ بھی صرف دیکھنے ہی ۔ ۔ ۔ ؟


ف ر: میرے خیال میں یہ بڑی ہی زیادتی ہوگی اگر ہم یہ کہیں کہ فریڈم نہیں ہے بالکل فریڈم ہے۔اب آپ کوئی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں مثلاً جنرل پرویز مشرف پر جتنے اعتراضات کیے جاتے ہیں اور جتنا ہمارا پریس ان کو برا بھلا کہتا ہے۔ کسی بھی اور شخصیت کو اتنا نشانہ نہیں بناتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے۔دیکھیے مجھے بھٹو صاحب کادور یاد آتا ہے۔ دیکھیے یہ ایک مائنڈ سیٹ ہوتا ہے ایک جاگیرداری مائنڈ سیٹ اور شہری مڈل کلاس کا۔ بھٹو صاحب کہتے تھے کہ تم کسی کو بھی کچھ لکھ دو سوائے میرے۔ مجھے کچھ نہیں کہنا۔ یہ ایک تھنکنگ تھی یہاں پر معاملہ اس کے برعکس ہے۔ کسی دوسرے منسٹر، کسی دوسرے وزیر کسی کے لیے کچھ نہیں لکھا جاتا۔ سوائے پرویز مشرف کے یہ ہے فرق۔ ابھی چند روز قبل میں سکھر میں ہونے والی کاروکاری کی ایک کانفرنس میں گئی تھی ایک بڑا حال تھا جو عورتوں، مردوں، لڑکیوں اور لڑکوں سے بھرا ہوا تھا، اس میں آئی جی پولیس بھی آئے تھے اور وہاں کے ناظم بھی آئے تھے۔ میں یہ دیکھ رہی کہ وہاں جو پیپرز پڑھے جا رہے تھے۔ تو اس میں لوگوں نے اٹھ کر کہا کہ آپ کیا باتیں کر رہے ہیں اس طرح کے قتل تو پولیس خود کراتی ہے۔ اس کے بعد پولیس والوں نے بھی اپنا دفاع کیا لیکن یہ بات پہلے کہاں تھی۔ ایوب خان کے مارشل میں ہم چھوٹے تھے لیکن ان کا مارشل لا شروع میں سخت تھا بعد میں بیسک ڈیموکریسی آگئی لیکن بھٹو صاحب کے دور میں ایک عام جلسے میں کھل کر اس طرح بات نہیں کہی جا سکتی تھی حالانکہ وہ ایک الیکٹڈ پرائم منسٹر تھے۔ شاید واحد ایسے انتخابات میں عوام کی حمایت کے ساتھ منتخب ہو کر آنے والے لیکن ان کے دور میں بھی یہ باتیں نہیں کہی جا سکتی تھیں۔ اس کے بعد ضیا الحق کے دورمیں تو سوال ہی پیدانہیں ہوتا تھا کہ کوئی بات کرسکے لوگ مزاحمت خفیہ طور پر ہی کرتے تھے۔ لیکن ان بہت سارے ٹیلی ویژن چینلوں سے شعور بہت بڑھا ہے پھر ان میں این جی اوز کا بھی بہت ہاتھ ہے حالانکہ یہ اس سلسلے میں بدنامِ زمانہ ادارے بن گئے ہیں کہ یہ تو بس پیسے کھانے کی چیز ہیں۔لیکن ان کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ان کی وجہ سے مزید شعور پیداہوا ہے۔ لیکن ان کی وجہ سے لوگوں میں ہمت اور جرات آئی ہے بات کہنے کی لیکن جیسے وہاں بات کرنے والوں کو یہ یقین تھا کہ اس بات کی بنا پر انہیں گھر پہنچنے پر گرفتار نہیں کر لیا جائے گا لیکن دوسری طرف یہ ہے کہ کرپشن ہے۔ کیاؤس ہے اور اس حد تک ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ کرپشن تو کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔

سوال: ایک عرصے تک شاعری کے بعد آپ نثر کی طرف آئی ہیں اس کی کوئی خاص وجہ ہے، ایسی باتیں جو آپ کو لگا کہ شاعری میں نہیں آ سکتیں؟


ف ر: میں شروع سے بھی کہانیاں لکھتی رہی ہوں۔ ایک چوٹا سا مجموعہ چھپا ہے: ’خطِ مرموز‘ اس میں تو فنون میں شائع ہونے والی کالج کے زمانے کی شارٹ سٹوریز بھی ہیں۔ تو میں لکھتی تھی، ایرک فرام کی ایک کتاب تھی ’فئرآف فریڈم‘ جو فاشزم کی سماجی بنیادوں کے بارے میں ہے۔ تو اس کا میں نے ایک ایڈاپٹیشن کیا تھا یعنی اس کے اصولوں سے پاکستانی معاشرے کو دیکھنے کی کوشش کی تھی۔ تو نثر میں لکھتی ہی رہی تھی لیکن اتنی جم کر نہیں لکھی تھی۔ پھر بعض ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو اتنی پھیلی ہوئی ہوتی ہیں جن کے ساتھ ایک نظم میں شاید آپ انصاف نہ کر سکیں یا یہ ہے کہ وہ ایک نظم بن کر آپ تک نہیں پہنچتیں۔ تو پاکستان ٹوٹنے کے بعد میں جو لکھا تھا وہ تھا: ’زندہ بہار‘ جو بنگلہ دیش کے ان تجربات پر مشتمل تھے جو بہت متاثر کرنے والے تھے۔ جو نظم میں نہیں آ پا رہے تھے یا نظم بن کرآئے نہیں۔ پھر ’گوداوری‘ جو ہندوستان کے تجربات پر مشتمل تھی اور اس کے بعد پھر’ کراچی‘ کے حالات ہی ایسے تھے۔ تو یہ تین کہانیاں ہیں جو تین حصوں کے بارے میں ہیں۔

سوال: آپ درمیان میں ہیں۔ ایک طرف آپ غزل کے حق میں نہیں ہیں دوسری طرف آپ نثری شاعری کے حق میں نہیں ہیں اس طرح سے۔ ۔ ۔


ف ر: نہیں نہیں یہ سچ نہیں ہے۔ میں تو نثری شاعری کو بہت پسند کرتی ہوں۔ میں ایک پوری کتاب تم دیکھو گے نثری نظم میں ہی لکھی ہے ’کیا تم پورا چاند نہیں دیکھو گے‘۔ اس کے سات چیپٹر ہیں۔ وہ نثری نطم میں ہی ہیں لیکن ہاں اس کے بعد نہیں لکھی۔ عادت کی بات ہے۔ ہماری نسل نے، ہم نے شروع ہی سے اس طرح سے لکھا۔ نثری نظم کو میں بہت پسند کرتی رہی ہوں اس کو ڈیفنڈ کرتی رہی ہوں۔ ہر وقت ہر جگہ۔

سوال: اتنا کچھ کرنے کے بعد اب فہمیدہ ریاض اپنے بارے میں کیا سوچتی ہے، کیا کرنے کی کوشش کی کتنا ہو پایا نہیں ہو پایا؟


ف ر: میرے خیال میں اچھا خاصا ہو گیا۔ اگر میں آج صبح نہ اٹھتی یا ’سخی حسن‘ (کراچی کا ایک قبرستان) کا رخ ہوتا تو کوئی افسوس نہیں تھا اس لحاظ سے۔ جو کرنا تھا بہت کچھ کر دیا۔ زمین آسمان ہلا دیے اپنے دور کے۔ اس لحاظ سے تو اطمینان ہے لیکن کیا کریں زندہ تو ہیں نا ابھی۔ اور زندگی ختم نہیں ہو رہی تو کچھ نہ کچھ اور کرنا ہے۔

سوال: یہ اردو میں ہی نہیں ہے دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی ہے کہ گاڑی میں کچھ ڈبے خواتین کے لیے مخصوص کر دیے جاتے ہیں اور خواتین بھی اس پر اصرار کرتی ہیں یہ کہاں تک درست ہے اور کیوں ہے؟


ف ر: دیکھیں اس سے تو آپ بھی اتفاق کریں گے کہ تاریخی طور پر خواتین ایک ایسا طبقہ ہیں جس کو برابر کا تو نہیں سمجھا جاتا نا۔ اس کے ساتھ کافی نا انصافیاں ہوئی ہیں۔ اسی طرح جیسے بلیکس (کالوں) کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ مثلاً جیسے ہندوستان میں اچھوتوں کے ساتھ نہیں ہوا۔ تو جب یہ طبقات جن کے ساتھ تاریخ میں انصاف نہیں ہوا ہے برابر آنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے لیے (یہ ڈبے) بنائے جاتے ہیں۔ لیکن کیا کالے انسان نہیں ہیں؟ امریکہ میں بلیکس کے حوالے سے ایک پوری موومنٹ بنی اور اسے اس حوالے سے شناخت کیا گیا کہ یہ بلیکس ہیں۔ دوسرے ان کی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہے وہ خود کہہ رہے ہیں تو اسے دیکھا جائے۔ دلت ادب انڈیا میں ایسے ہی بنا ورنہ تو کیا دلت انسان نہیں ہیں۔ اس کا علیحدہ سے کوئی ڈبہ کیوں بنایا جائے لیکن تاریخ کے ایک موڑ پر اس کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہ اپنی آواز کو دوسری آوازوں سے الگ اور واضح کر کے سامنے لائیں تاکہ دوسرے دیکھ سکیں کے وہ بھی ویسے ہی انسان ہیں۔اسے علیحدہ بنانے کا آغاز بھی ویسٹ سے ہی ہوا۔ ورجینا وولف سے کہہ سکتے ہیں ادب میں کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ خواتین کی چیزوں کو نمبر ایک یا تو توجہ ہی نہیں دینی یا اس کا بالکل غلط مطلب نکال سکتے ہیں۔ مثلاً ’بدن دریدہ‘ کے چھپنے کے بعد خود میرے بارے میں جو باتیں کہی گئیں، انور! اگر میں مرد ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔ بہت سی چیزیں جو مردوں کے قلم سے نکلیں وہ نہ نکلتیں، خود عذرا عباس ہی کو دیکھ لیں، اس پر جو اعتراضات کی بوجھاڑ ہوتی ہے یہی اگر کسی مرد نے لکھی ہوتیں تو ایسا نہ ہوتا۔ لیکن ہوتا کیا ہے ایک لائن پر ٹینک دوڑا دیے جاتے ہیں تو باقی سب کو نظرانداز کر دیا جائے اور توجہ ہی نہ کریں۔ کیونکہ عورتین ابھی تک اس چیز کا شکار ہیں اور ویسے ہر تحریک جب وہ کامیاب ہو جائے تو اس کی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ ختم ہو جائے۔ تحریک کا مقصد ہوتا ہے کہ وہ ختم ہو جائے۔ آج اگر عورتیں یہ کہتی ہیں کہ انہیں الگ سے دیکھا جائے تو اس کا مطب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ دن آجائے جب انہیں یہ نہ کہنا پڑے۔ اردو ادب کی تاریخ جو لوگ لکھتے ہیں اس میں عورتیں کہاں ہیں اور کیوں نہیں ہیں؟ جس دن خالدہ حسین کو اس کی صنف کو بھلا کر وہ مقام دیا جاسکےگا جس کی وہ مستحق ہیں۔ وہ اس کی پیش رو ہیں نیر مسعود جو آج لکھ رہے ہیں۔ شمش الرحمٰن نے ایک دو چیزیں جو آج لکھی، روحانی جہت سے وہ پہلے خالدہ نے لکھی تھیں۔ ان کا سکول آف تھاٹ یا مکتبۂ فکر آپ کو کہا نظر آ رہا ہے، اس کا ذکر کہاں ہو رہا ہے۔ اسی لیے ایک الگ ڈبہ بنایا جاتا ہے ورنہ تو رومی کے الفاظ میں ’یہ تو ان کے ظاہری لباس ہیں اندر سے تو ایک ہیں‘۔

سوال: بلیکس کی بات کی آپ نے ابھی یا دلتوں کی بات کی تو اس کااصرار یہ ہے کہ انہیں بلیکس کے طور پر یا دلت کے طور پر مت دیکھو۔ ہماری شاعری ہمارے ادب کو ایک الگ مہر لگا کر مت دیکھو، اس کا الگ سے ایک مقام مرتب کرنے کی کوشش مت کرو، برابر کے انسان کے طور پر دیکھو ۔ ۔ ۔


ف ر: نہیں کالوں کا یہ اصرار ہوتا ہے کہ آپ ہماری چیز کو جب پرکھتے ہیں تو آپ ہمیشہ اسے کم تر درجے پر کیوں رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ ہم بلیکس ہیں، ایسا نہ کیجیے۔ عورت کا بھی یہی اصرار ہے۔ اور بلیکس بطور بلیکس بھی بات کرتے ہیں۔ وہ اپنی شرمندگی کی بات کرتے ہیں اپنی زندگی کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے دکھ یہ ہیں اور آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ یہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک پولیس والا گورے کو گرفتار کرے گا اس کا رویہ اور ہوجائے گا وہی ایک بلیک کو گرفتار کرے گا تو اس کا رویہ اور ہو جائے گا۔ دلتوں کا بھی یہی کہنا ہے: ہمارے ساتھ ہوا کیا ایک تو اس کو تسلیم کیجیے اور پھر اپنے اس احساسِ تفاخر کو الگ رکھ کر کہ آپ تو ہیں ہی اعلیٰ اسے ختم کیجیے۔ عورتوں کے بھی مطالبات اسی سے ملتے جلتے ہیں اور یہی ہیں بنیادی طور پر۔ عورتوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ عورتیں یہ محسوس کرتی ہیں لیکن عورت جب کہے وہ کیسا محسوس کرتی ہے تو آپ کو برا لگتا ہے۔ اب سیکسچوّیلٹی کو ہی لے لیجیے ایک مرد لکھتا رہے گا کہ عورت یوں ہے، عورت یوں ہے لیکن اگر کوئی عورت خود اپنی سیکسچوّیلٹی کا اظہار کرے تو قیامت آجاتی ہے، آپ دیکھیں تو صحیح۔ کیا زمین لرزنے لگتی ہے کیا آسمان ٹوٹ پڑتا ہے۔ کیوں؟ یہ ایک طرح سے اس کی بنیادی انسانیت کو تسلیم کرنے سے انکار ہے کہ: ’تم ہماری جیسی انسان نہیں ہو کہ کسی موضوع پر کچھ بھی کہہ دو۔ تمہاری یہ حد ہے بس اس کے آگے نہیں جاؤ گی یہیں تک خود کو محدود رکھو۔ آپ کون ہوتے ہیں یہ کہنے والے؟ آپ بلیکس کو کہہ رہے کہ بس یہ مت لکھنا۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔

سوال: لیکن منٹو اور عصمت کو تو، دونوں کو اور منٹو کو تو شاید قدرے زیادہ فیس کرنا پڑا۔ تو کیا آپ کی بات کا اطلاق اس پر کیا جا سکتا ہے؟


ف ر: عصمت چغتائی کے زمانے کا پورا ماحول شاید ہم سے بہتر تھا، ایک پوری تحریک تھی بڑی طاقتور، عصمت کا ساتھ دینے والے زیادہ تھے۔ اور یہ درست ہے کے عصمت اور منٹو دونوں پر ہی مقدمے چلے۔ ایسا نہیں تھا کہ صرف عصمت پر چلے منٹو پر بھی چلے لیکن اس وقت کے تمام لکھنے والے ان کے ساتھ تھے بعد میں وہ ماحول بھی بدل گیا۔ لکھنے والی تنہاہوگئیں، بالکل تنہا ہوگئیں۔اچھا یہ جو آپ نے مثال دی، تو میں تو کہوں گی کہ قراۃ العین کو جو مقام دیا گیا، وہ بلاشبہ اس مقام کی حقدار تھیں۔ وہ ایک عظیم ناول نگار کے طور پر ابھریں۔ لیکن یہ ایک دو ایکسیپشنز (استثنا) ہیں جو اس عام صورتِ حال کو تبدیل نہیں کرتیں کہ باقی جو لکھنے والیاں ہیں انہیں کافی برا بھلا بھی کہا گیا یا نظر انداز کیا گیا دیکھیں نا میں نے آپ کو خالدہ حسین کی ایک مثال دی۔ مجھے ہی جو برا بھلا کہا گیا اس کا تو کسی کو حق نہیں پہنچتا تھا۔اس کا مطلب (ہمارے لکھے ہوئے کا) کچھ اور کیوں نکالا گیا اور بعض تو شعبے ایسے ہیں جن میں گھسنے کی اجازت ہی نہیں سمجھی جاتی۔ مثلاً فلسفہ ہے۔ آپ کچھ لکھیں تو کہا جائے گا: او ہو! یہ تو آپ کا شعبہ ہی نہیں ہے، یہ تو اس کے ساتھ آپ انصاف ہی نہیں کر رہی ہیں یا یہ کہ اس کا بالکل دوسرا مطلب نکال لیا جاتا ہے۔

سوال: آپ نے ترقی پسند تحریک کی بات کی، کیا ادب کو نظریے کا پابند ہونا چاہیے؟


ف ر: یہ بات اکثر کی جاتی ہے پروگریسو ازم کے خلاف۔ اس میں بھی جانے کی ضرورت ہے۔ اب آپ دیکھیں، ٹالسٹائی، ان کا بھی ایک پورا نظریہ تھا کہ اس طرح عیسائیت کے اصولوں پر چلنے کے بعد ہم نجات حاصل کر سکیں گے، ٹھیک ہے نا، انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا کیوں نہیں کہتا؟ اب جو صدی ختم ہوئی ہے اس پر جو نظریہ چھایا رہا ہے اس نے بڑے بڑے لوگ پیدا کیے ہیں۔ اب کون کہہ سکتا ہے کہ فیض صاحب اچھے شاعر نہیں تھے۔ ان کے مقابلے کا شاعر ملنا مشکل ہے، اتنی تاثیر ان کے کلام میں تھی۔ یعنی دل پر اثر کرنے والی، اس طرح کیا ہم ناظم حکمت کو ہم کہیں گے کہ وہ اچھے شاعر نہیں تھے؟ پال نیزان کو کہیں گے، ژاں پال سارتر کو کہیں گے، وہ بے حد نظریاتی تھے اور ہمیشہ کمیونسٹ نظریے کے ارد گرد ہی گھومتے رہے۔

سوال: کمیونسٹ تو انہیں کیمونسٹ نہیں مانتے تھے اور وہ خود کو مارکسسٹ کہتے تھے؟


ف ر: ان کا کہنا ہے کہ مارکسسزم کے وسط میں ایک خلاء ہے جہاں فرد کو ہونا چاہیے تھا اور میں اس خلاء کو بھرنے کی کوشش کر رہا ہوں، وہ کتنے سیاست سے نتھی رہتے تھے۔ عالمی عدالتیں بنانے کے لیے وہ تیار، الجزائر کی تحریک میں وہ سرگرم رہے، سڑک پر جا کر رسالے تک بیچے۔ جو بھی توقع کی جا سکتی ہے جیسا حبیب جالب نے کیا ہو گا وہ انہوں نے بھی کیا۔ لیکن کسی بھی ادبی تحریک میں چند ہی لوگ ہوتے ہیں جو بہت ہی سربرآوردہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بھی جو یہ کہتے ہیں کہ وہ کسی نظریے کے تحت نہیں لکھتے وہ بھی کسی نہ کسی نظریے کے تحت ہی لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو پروگریسو رائٹر نہیں تھے وہ تو کچھ بھی نہیں دے سکے۔ چند ایک زبان کے تجربے انہوں نے کیے جو اچھے خاصے ناکام ہوئے اور کوئی بڑی چیز نہیں دی انہوں نے ادب کو۔
سوال: اب کیا ہے؟ ادب معکوس رخ پر جا رہا ہے یا کچھ امکانات نظر آتے ہیں؟


ف ر: دیکھیں، دنیا کے ادب میں، خاص طور پر تیسری دنیا سے بڑی بڑی اچھی چیزیں آ رہی ہیں۔ اردو میں دو کتابیں لکھی گئی۔ ایک تو شمس الرحمٰن کی ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘۔ اردو میں اس سے پہلے اس طرح کی کتاب موجود نہیں تھی۔ بہت ہی ماڈرن سینس ایبلیٹی کے ساتھ لکھی ہوئی ایک تاریخی کتاب، ناول، پھر نیر مسعود صاحب ایک اہم ادیب کے طور پر ابھرے ہیں۔ پاکستان میں کچھ لوگ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہاں عمومی طور پر تو معیار اتنا اچھا نہیں ہے۔

سوال: یہ تو دونوں آپ سے بھی سینئر ہی ہیں؟ (سوال کے درمیان، ف ر: جی ہاں۔) میں میں آپ کے بعد آنے والوں کی بات کر رہا تھا؟


ف ر: یہ جو نئے لکھنے والے ہیں؟ عجیب بات ہے کہ ہندوستان میں اردو کی جگہ ہندی کا سکرپٹ آ گیا اور یہ تھا کہ اب اردو کا کیا ہو گا سوائے فلموں کے؟ لیکن وہاں سے بعض اچھے لکھنے والے نکل رہے ہیں۔ بڑی اچھی چیزیں لکھی جا رہی ہیں: سلام بن رزاق، وہ اچھا لکھ رہے ہیں۔ ایک خالد کر کے نام ہے اب مجھے یاد نہیں آ رہا یہاں پاکستان میں بھی ان کی چیزیں شائع ہوئی ہیں اور یہاں پر بھی جو کوشش کر رہے ہیں اور اچھا خاصا لکھ بھی رہے ہیں جیسے کہ عاصم بٹ ہیں اسلام آباد میں رہتے ہیں اور بہت اچھا لکھنے والے ہیں۔ رفیق حیات ہیں یہاں کے وہ بھی اچھا خاصا لکھ رہے ہیں۔ آصف ، میں انہیں بھی اپنے بعد کی نسل سمجھتی ہوں وہ بھی اچھا لکھتے ہیں، عذرا عباس ہیں۔ فاطمہ حسن ہے۔ ان کی کہانیاں۔ ’کہانیاں گم ہو جاتی ہیں‘ کے نام سے۔ ہمارے پاس سب سے بڑا کال جو ہے وہ اچھے فورم کے نہ ہونے کا ہے جہاں چیزیں چھپیں۔

سوال: آپ کی اتنی کتابیں چھپی ہیں اور چھپتی رہتی ہیں پاکستان میں تو یہاں جو رائلٹی ملنے کی صورتِ حال ہے اس سے آپ کس حد تک مطمئن میں؟

ف ر: بالکل نہیں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ مجھے تو آج تک ایک پیسہ بھی نہیں ملا ہے کبھی۔ ماسوا احمد فراز کے جو مقدمے کرنے کے لیے مشہور ہیں، کسی کو بھی ایک پیسہ نہیں ملتا۔ اگر ہندوستان میں جیسا کہ آثار لگ رہے، اگر کتابیں آنے جانے کا سلسلہ ہو جاتا ہے تو پاکستان کے اردو ادیبوں کا بھی بڑا فائدہ ہو سکتا ہے اور یہ وہ چیزیں ہیں جو ہم انڈیا سے سیکھ سکتے ہیں۔

پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2008. All rights reserved.