”آنے والاکل“ شہزاداحمدکاتازہ مجموعہ کلام
ظفر اقبال
منیرنیازی کی رحلت کے بعدسینئرشعراء میں لے دے کے اب ہمارے پاس احمدفراز اورشہزاد احمدہی رہ گئے ہیں جن کی زندگی کی ہمیں دعائیں مانگتے رہناچاہیے ۔یہ کتاب میرے پاس پچھلے سال سے پڑی تھی۔ ادھرادھرسے جستہ جستہ دیکھی تو مجھ پرکوئی خاص اثر نہ ہواکیونکہ شاعری تواپنے آپ کوخود پڑھواتی ہے اورپڑھنے پرمجبورکرتی ہے ۔چنانچہ عمدہ شاعری کامطالعہ کرتے وقت آپ شاعر پرکوئی احسان نہیں کررہے ہوتے بلکہ الٹااس کے احسان مندہورہے ہوتے ہیں ۔میں کہیں پہلے بھی عرض کرچکاہوں کہ عمدہ شاعری کرنے والاآپ کامحسن ہوتاہے کیونکہ یہی وہ جنس ہے جوروزبروز کمیاب ہوتی ہوئی ،اب بالکل ہی مفقود ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے اورکہیں کوئی چمکدار شعرنظر آجائے تونہال کرجاتاہے ۔
“آنے والاکل”شہزاداحمد کاچودھواں مجموعہ کلام ہے جبکہ پندرھواں”مٹی جیسے لوگ“ کے نام سے زیرترتیب ہے شروع میں کتاب کے ناشر اظہرغوری نے جوخودایک عمدہ اورجدیدنظم گو کی حیثیت سے معروف ہیں شہزاد سے متعلق جملہ کوائف بحسن وخوبی بیان کردیے ہیں دیباچہ ہمارے دوست اورایک اورسینئر شاعراحمدجاوید نے لکھاہے جوکچھ ضرورت سے زیادہ ہی رسمی واقع ہواہے رسمی قسم کے دیباچے اب بھی لکھے جاتے ہیں لیکن اسے اتنارسمی بھی نہیں ہوناچاہیے کہ ایک گونہ اکتاہٹ پیداکرے ۔شاعری کی کتاب کے لیے دیباچہ ضروری نہیں ہوتا اسی خیال سے میں نے”آب رواں ” کواس سعادت سے محروم رکھاتھا البتہ بعد کے ایڈیشنوں میں محمدسلیم الرحمن کادیباچہ شامل تھاجوخود بھی اس کتاب کے ناشرانہ اشتراک میں شامل تھے حتیٰ کہ بعد کے مجموعوں میں بھی جودیباچے شامل ہوئے وہ ناشر ہی کی فرمائش اورضرورت کے تحت آئے تھے چنانچہ یہ دیباچہ بھی ناشر ہی کی ضروریات کاایک حصہ لگتاہے ۔
میں ذاتی طور پراس تفصیل کے ساتھ شاعری کی تحسین اورتفہیم کے حق میں نہیں ہوں بلکہ اس سلسلے میں میرا اپناتھیسس ہے جبکہ تقلیل اظہار کی ضرورت پرمیں اپنے ایک مضمون میں بھی زوردے چکاہوں اس لیے میں سمجھتاہوں کہ جہاں شاعری کورمزیت اوراشاریت وایمائیت کاآئینہ دار ہوناچاہیے وہاں شاعری کے بارے خیال آرائی کوبھی اتنی تفصیل میں نہیں جاناچاہیے اورخودشاعری کی طرح اسے بھی ایمائیت اوراشاریت ہی پرانحصار کرناچاہیے جیسے آدمی اپنے ساتھیوں کی وجہ سے پہچاناجاتاہے اسی طرح شاعر بھی اپنے دیباچہ نگاروں سے پہچانا جاسکتاہے کہ شاعراوراس کے مزاج کوپرکھنے کاایک پیمانہ یہ بھی ہے اندرون سرورق نصف ڈاکٹرخورشید رضوی نے لکھاہے اورجس مزاج اورذائقے کے وہ شاعر اورنقاد ہیں اس کااظہار اس مختصر تحریر سے بھی لگایاجاسکتاہے جبکہ باقی نصف پرناشر کی دیگر مطبوعات کی تفصیل درج ہے ۔
“آنے والاکل” میں ٹائٹل کے اوپرلفظ کل پر باقاعدہ ضرب لگائی گئی ہے شاید اس لیے کہ شہزاد احمد کے ایک گزشتہ مجموعہ کلام “ٹوٹاہواپل” کوعام طورپر ٹوٹا ہواپل، پڑھاجاتاتھا ،حتیٰ کہ اس کتاب کوایوارڈ دینے کی تقریب میں بھی اناوٴنسر نے ٹوٹا ہواپل ہی پڑھا لیکن پل کو توپل پڑھا جاسکتاتھا جبکہ کل کوکسی اورتلفظ سے پڑھناممکن نہیں تھا تاہم یہ احتیاط ٹائٹل بنانے والے نے ازخود یاشاعر کی ہدایت اورفرمائش پر ضرورروا رکھی ہے پس سرورق شہزاد احمد کی رنگین تصویر کے ساتھ جناب عابدحسن منٹو کی تحریرشائع کی گئی ہے یہ کتاب جوغالباًایک اورناشر نیاز احمد(سنگ میل والے ) کے نام منسوب یا معنون ہے حسب معمول نظموں اور غزلوں کا مجموعہ ہے جبکہ بہت اعلیٰ گٹ اپ کے ساتھ شائع ہونے والی 224 صفحات پرمشتمل اس کتاب کی قیمت دوسوروپے رکھی گئی ہے ۔اس کتاب میں کوئی نئی بات اس لیے بھی دستیاب نہیں ہوتی کہ یہی باتیں شہزاد اپنے پہلے مجموعوں میں بھی کہتاچلا آیاہے فلسفہ اورنفسیات اوراس سے متعلقہ موضوعات نے حصہ غزل کوڈل بناکررکھادیاہے کیونکہ ایک ہی طرح کی چودہ کتابوں کابظاہر کوئی جواز نظر نہیں آتااگر وہ ایک ہی انداز میں تخلیق کی گئی ہوں میں نے حال ہی میں ایک جگہ عرض کیاہے کہ میرے سمیت اس عہد کے سینئر(غزل گو) شاعر پیرایہ اظہار کی فرسودگی کاشکارہیں اوراسے اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے اورجس کی وجہ سے اس شاعری میں تازگی کاگزر کہیں بھی ہوتانظرنہیں آتا۔ میں مروت میں یہ سارامجموعہ ،بالخصوص حصہ غزل سارے کاسارا پڑھ گیاہوں اوراس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ معمولی نہ ہونے کے باوجود یہ معمول کی شاعری ہے قاری کی طرف سے تازگی اورتبدیلی کاتقاضا جائز بھی ہے اوراس کاخیال بھی رکھناچاہیے ۔
اصل خرابی یہ بھی ہوئی کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کچھ ضرورت سے زیادہ ہی لحاظ داری برت جاتے ہیں جس سے ہمیں اس صورتحال کاپتا نہیں چلتا جس میں ہم یعنی ہماری شاعری مبتلاہوچکی ہوتی ہے تاہم شہزاد کی یہ کتاب پڑھ کرمیں مایوس اس لیے نہیں ہوا کہ وہ ابھی تواتر کے ساتھ لکھ رہاہے اوراگرایک منجھا ہوابلے باز کوئی سکورکیے بغیر بھی آوٴٹ ہوجائے تواس کی وہ کلاس بہرصورت برقرار رہتی ہے جس سے وہ تعلق رکھتا ہے اورجس کی وجہ سے اسے دوسروں میں ایک شان امتیاز بھی حاصل ہوتی ہے ڈاکٹر وزیرآغا نے حال ہی میں شہزاد کواس عہد کانمائندہ غزل گوقراردیاہے اوراس کمزور کتاب کے باوجود اس دعوے یاسند کے صحیح ہونے کوآسانی سے جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔اس لیے بھی کہ اگرشہزاد احمد نہیں تواس عہد کانمائندہ اورکون ہوسکتاہے جونیئرشعراء میں کچھ لوگ ہاتھ پیر ضرور ماررہے ہیں لیکن ان کیلئے دلی ہنوز بہت دورہے ۔
بیشک اس کتاب میں اپنی ڈھب کامجھے ایک شعر بھی دکھائی نہیں دیا لیکن یہی کیاکم ہے کہ شہزاد ابھی لکھ رہاہے جبکہ منیرنیازی نے اپنے انتقال سے پچیس سال پہلے تک لکھنابالکل ہی ترک کررکھاتھا اورمجھے یقین ہے کہ شہزاد خود بھی اس صورتحال پرفکرمندنہیں ہوگا کہ بقول خالد احمد وہ بہرحال جدیدغزل کاامام ہے اورہم سب کواس کامقتدی ہونے کااعزازحاصل ہے شاعر عمدہ شعرکہتاہے یانہیں یہ اس کی مرضی اورموڈ پرمنحصر ہے اوراگر وہ ایسانہیں بھی کرتاتواس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ عمدہ شعر کہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا بعض اوقات یہ بھی ہوتاہے کہ شاعر کی تازہ کتاب اس کے سابقہ اور آنے والے مجموعہ کلام کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتی ہو اس لیے بھی ہم شاعر کے کسی کم زوردار حصے کونظرانداز نہیں کرسکتے نیزیہ بھی ہے کہ اس امکان کوبھی ردنہیں کیاجاسکتا کہ ایسی کتاب کاآنے والے زمانے میں کوئی جواز نکل سکتاہو اورشہزاد احمدجیسے فیوچرسٹ شاعر کے کسی مجموعے سے اس بات کی توقع رکھناکوئی غیرمعمولی اوران ہونی بات بھی نہیں ہوسکتی۔
شہزاد احمد کی اصل شناخت اس کی غزل ہی بنتی ہے اگرچہ اس نے نظمیں بھی اسی تواتر سے لکھی ہیں حتیٰ کہ اس کانثری نظموں کامجموعہ بھی منظرعام پر آچکاہے اسے اس کاکوئی انفرادی تجربہ اس لیے قرارنہیں دیاجاسکتا کہ اس کے اردگرد پہلے ہی نثری نظم بڑے زوروشور سے لکھی جارہی تھی تاہم اس کی حیثیت بھی ایک مجموعے سے زیادہ کی نہیں بن سکی ۔نظم میں بھی ،غزل ہی کی طرح حیات وکائنات کے موضوعات شہزاد کوزیادہ مرغوب ہیں اسی لیے ان میں کوئی تنوع نظرنہیں آتا بلکہ حق بات تویہ ہے کہ اتنی نظمیں تخلیق کرنے کے باوجود کوئی ایک بھی آوٴٹ سٹینڈنگ نظم شہزاد احمد کے کریڈٹ میں دستیاب نہیں ہوتی جس کابطور خاص کبھی کوئی حوالہ بھی دیاگیا ہوجبکہ اس کے مقابلے میں اس کی غزل میں ایسے شعر مل جاتے ہیں جواس لطف سخن کے حامل ہیں جوشعر کیلئے بنیادی حیثیت رکھتاہے خود مجھے اس کے متعدد اشعار یاد ہیں جومیں لوگوں کوسنایابھی کرتاہوں ۔