ادب >> مضمون >> احساس__دنیا پر کھلنے والا دریچہ
ادب
احساس__دنیا پر کھلنے والا دریچہ
آئیے دیکھیں کہ استدراک کا عمل کس طرح وقوع پذیر ہوتا ہے۔استدراک شروع ہوتا ہے بلاوسطہ جیالے دھیان (غورو فکر)، احساسی تاثرات (تمثیلات) سے (ان کی جن کے بارے میں ہم غور فکر کر رہے ہیں)۔ہم دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، سونگھتے ہیں، چھوتے ہیں اور ان کے لئے ہم احساس کے اعضاء سے مددلیتے ہیں۔ انسان کی آنکھیں، کان، ناک، منہ اور جلد اسے موقع دیتے ہیں کہ وہ چیز وں کے ساتھ رابطہ قائم کرے۔ اس خیال کا اظہار قدیم چینی فلسفی سیون تسز#ی نے کیا ہے۔ ہم رنگ دیکھتے ہیں (سرخ، نیلا)، شکل، ناپ (دائرہ، مثلث، پیڑ) کا امتیاز کرتے ہیں، آوازیں سنتے ہیں(پتوں کی سرسراہٹ، چڑیوں کی چہچہاہٹ)، ثقل کو محسوس کرتے ہیں (سخت، ہموار، کھردری)، درجہ حرارت (گرم، ٹھنڈا) محسوس کرتے ہیں اور مزہ (کڑوا، میٹھا، کھٹا)۔
احساس ہمارے علم کے ماخذ ہیں، وہ ہمیں اطلاعات دیتے ہیں اور الگ الگ خواص، کیفیت اور اشیا کی علامات کی عکاسی کرتے ہیں۔ لیکن درحقیقت ہمیں اشیا اور مظہروں کے الگ الگ پہلوؤں سے نہیں بلکہ پوری اشیا سے سروکار ہوتا ہے۔ ہم ہرا کھیت، نیلا آسمان، اونچے درخت، روشن اور اور دور ستارے، مکان دیکھتے ہیں․․․․بارش کا شور اور بجلی کی کڑک سنتے ہیں ․․․․تشخص پوری شے کا احساسی تاثر ہوتا ہے جوشے کی شکل اور ناپ، مکان میں اس کے محل وقوع وغیرہ کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن اعضائے حواس اپنے کامل ہونے کے باوجود محدود ہیں اور ہم پر اشیا کے سارے خواص کو عیاں نہیں کرتے۔ ہم چیزوں کو ماورائے بنفشی اور تحت سرخ شعاعوں میں نہیں دیکھتے، ایٹموں اور سالموں کو نہیں دیکھتے، ماورائے صوت آواز کو نہیں سنتے(حالانکہ پتنگے رات کو تحت سرخ شعاعوں میں دیکھتے ہیں، چمگاڈریں مکان میں تعین سمت کے لئے ماورائے صوت کو استعمال کرتے ہیں، دیمک کو زمین کا مقناطیسی میدان محسوس ہوتا ہے)۔ ارسطو کے زمانے سے یہ معلوم ہے کہ انسان پانچ نظاموں کا مالک ہے جو دنیا سے رابطے کے پانچ وسیلہٴ احساس ہیں __باصرہ، سامعہ، شامہ، لامسہ اور ذائقہ۔ ہیگل نے دیکھا کہ یہی پانچ احساس ہیں جو انسان کے لئے معقول طو ر ضروری ہیں۔ بصارت کا میلان روشنی کی طرف ہے جو ہیگل کے مطابق جسمانی مکان ہو گئی او ر سماعت کا میلان آواز کی طرف جو جسمانی زمان ہو گئی۔ معاصرانہ سائنسی درجہ بندی زیادہ تفصیلی، تفریقی اور تمیزی ہے مثلاًبھوک، پیاس، درد، گرمی ٹھنڈ، توازن، مکان میں نقل مقام وغیرہ کے احساس۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ارسطو کی شمار کردہ پانچ حسیں آج تک بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔سائنس توثیق کرتی ہے کہ جاندار نظام جسمانی کو اپنے وجود کے ماحول کے ساتھ مسلسل احساسی ربط میں رہنا چاہئے۔ روشنیوں اور آوازوں کے اور دوسرے سگنلوں کا بند کر دیا جانا تباہ کن نتائج کا موجب ہو سکتا ہے۔ مثلاً انسان کو اگر روشنی اور آواز کے اثرات سے پوری طرح الگ تھلگ کر دیا جائے تو اس میں نفسیاتی بدنظمی کی علامتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ مشاہدوں سے طے ہو چکا ہے اور تجربوں سے اس کی تصدیق کی جا چکی ہے اور نظری طور پر اس کی توضیح کرنا بہت آسان ہے۔ انسان فطرت کی پیداوار اور اس کا جز ہے، اردگرد کی دنیا سے اٹوٹ تعلق نیز ادراکی تعلق کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ احساس ہی وہ شے ہے جو دنیا کے ساتھ ہمارا تعلق قائم کرتی ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اعضائے احساس کی محدودیت بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ ان کی انتخابی نوعیت کا سبب کیا ہے؟ اس کا انحصار جاندار نظام جسمانی کے اور ظاہر ہے کہ انسان کے کردار پر اور زندگی بسر کرنے کے طریقے پر ہوتا ہے۔ اعضائے حواس انہیں چیزوں کا تشخص کرتے ہیں جو زندگی کے لئے اہم اور دنیا میں تعین سمت کے لئے ضروری ہیں۔ مثلاً شہد کی مکھی ان شکلوں کا تشخص بڑی صحت کے ساتھ کرتی ہے جو پھول سے ملتی جلتی ہیں اور جیو میٹری کی شکلوں، مثلث، مربع اور مستطیل میں اچھی طرح تمیز نہیں کر سکتی۔ انسان کے اعضائے حواس کا نظام تاریخی طور پر پیچیدہ بنا ہے۔ مادیت پسند فلسفی لوڈ ویگ فائر باخ نے کہا کہ انسان کے پاس اتنے ہی حواس ہیں جتنے دنیا کے صحیح تشخص کے لئے ضروری ہیں۔ احساسی تاثر انسان کو دنیا کے بارے ابتدائی علم دیتا ہے جو زندگی اور عملی سرگرمی کے لئے ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ تاثرات دنیا کے ساتھ انسان کے رشتے کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ رنگ، مہک، ذائقہ، آواز اس میں ایک معین جذبہ پیدا کرتے ہیں حو حیوانی احساس کا خاصہ نہیں ہے۔ بصری تاثر فعال سرگرمی کے لئے اور دنیا میں تعین سمت کے لئے بنیاد کا کام دیتا ہے اور ہو سکتا ہے اس کا تعلق خوبصورتی کے، منظر، مصوری کے نمونے، سنگتراشی کے نمونے، فن تعمیر وغیرہ کے جمالیاتی لطف سے بھی ہو۔
احساسی ادراک میں لامسہ ایک خاص رول ادا کرتا ہے۔ اس کی طرف فرانسیسی مادیت فلسفی ایتیان بوننودی کوند یلیاک نے توجہ کی جس نے ایک ایسے مجسمے کی تمثیل تخلیق کی جو مختلف حواس کا مالک تھا۔ ان میں انسان کی سادہ ترین حس، شامہ توجہ کی تشکیل کرتی ہے، خوشی اور دکھ دیتی ہے، اس کے بعد ذائقہ، سامعہ اور باصرہ کا ارتقا ہوتا ہے۔ کوندیلیاک لامسہ کو سارے حواس کا ”معلم“ سمجھتا تھا اس لئے کہ وہ دوسرے حواس کے عمل میں واسطہ قائم کرتا ہے، تاثرات کو تمثیل کا کردار عطا کرتا ہے، انسان کو دنیا کے بارے میں علم دیتا ہے۔ بعد کو تحقیق نے کوند یلیاک کے اس خیال کی تصدیق کر دی۔ جب کوئی شخص آپریشن کے بعد پھر سے دیکھنے لگتا ہے تو اسے اشیا نہیں دکھائی دیتیں، وہ صرف مختلف رنگوں کے دھبوں کا تشخص کر پاتا ہے۔ جب باصرہ کا تاثر لامسہ کے تاثر کے ساتھ ملتا ہے، جب ہاتھ شے کو ٹٹولتا ہے، آنکھوں کو ”سکھاتا“ اور تربیت دیتا ہے تبھی انسان میں یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ شے کو دیکھ سکے۔
ہمارے احساسی تاثرات احساس اور تشخص تفکر کے ساتھ وابستہ ہیں اور شعوری کردار رکھتے ہیں۔ مثلاًزمانہ قدیم کے فلسفیوں نے ایٹموں سے بنی ہوئی دنیا کا تصور کیا جس کا تشخص بذریعہ احساس کسی نے نہ کیا تھا۔ ایٹموں کی تمثیل مختلف طریقوں سے پیش کی گئی __چھوٹی چھوٹی بھانت بھانت کی شکلیں جن میں کانٹے اور آنکڑے ہیں تا کہ وہ ایک دوسرے سے جڑے رہ سکیں، بلیئرڈ کی گیندوں سے مشابہ یا چھوٹے سے نظام شمسی کی طرح۔ ایٹم کی بصری تمثیل میں تبدیلی ظاہر ہے کہ اس کے بارے میں علم پر منحصر تھی۔ چنانچہ اس کے نمونے کا استدراک، مثلاً سیار گانی نظام کی تمثیل میں معاصرانہ طبیعیات کے ارتقاکا نتیجہ تھا۔ تاروں بھرے آسمان کو دیکھتے ہوئے لوگ روشن نقطے دیکھتے تھے جو آسمانی پہنائی میں حرکت کرتے ہوتے تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ زمین بھی چپٹی روٹی کی طرح سمندر میں تیررہی ہے اور ستارے آسمانی وسعت میں جھرو کے ہیں۔ احساسی تجربے پر تکیہ کر کے اور اس کی تعمیم کر کے لوگوں نے دنیا کی ایک تصویر بنانے کی کوشش کی۔
احساسی استدراک کی زیادہ پیچیدہ صورت تصور ہے یعنی شے کے بارے میں تاثر، جو ہم پر براہ راست اثراندازنہ ہو۔ مثلاً ہمارے شعور میں ان لوگوں کی تمثیلیں نمودار ہوتی ہیں جن سے ہم واقف تھے، شہروں کی جہاں ہم پہلے رہ چکے ہیں یا جا چکے ہیں۔ یہ تصورات ہیں جو حافظے کے عمل کی بدولت نمودار ہوتے ہیں۔مختلف لوگوں میں ایک ہی جیسی اشیا کا تصور یکساں نہیں ہوتا۔ تصور پرا نسان کا علم، اس کا زندگی کا تجربہ، سرگرمی، مطالبات اور احساسات کی نوعیت کا اثر پڑتا ہے۔ تصور ہمیں اشیایا مظہروں کے عام خواص کے بارے میں اطلاع دیتا ہے۔ٹھوس اشیاء اور مظہروں کے تصور میں ان کی ساری علامتیں برقرار نہیں رہتیں، ان میں سے بہتوں سے انسان بے تعلق ہوجاتاہے۔وہ احساسات وتاثرات کے مقابلے میں زیادہ گہری اور عام اطلاعات دیتے ہیں اور بڑی حد تک تفکر سے وابستہ ہوتے ہیں۔ تفکر تخیلی تمثیلوں کی تشکیل کرنے کا موقع دیتا ہے، جن میں سائنسی، تخیلی تصور بھی شامل ہے۔ سیار گانی نمونے پر ایٹم کی تمثیل کی طرح کی تمثیلیں معاصرانہ سائنس میں بڑا رول ادا کرتی ہیں۔ تخیلی تصور کا استعمال فن میں بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے جن میں سے بہت سی تمثیلیں مثلاً جل پری، نیم انسان نیم حیوان اور ابوالہول کی تمثیلیں دوراز قیاس نوعیت کی ہیں۔
ہم کہہ چکے ہیں کہ احساس دنیا پر کھلنے والا دریچہ ہے لیکن کیا احساسی تاثر ہمیں دنیا کے بارے میں ہمیشہ صحیح اطلاع دیتا ہے؟ اس سوال پر زمانہ قدیم کے فلسفی بھی غور کر چکے ہیں۔ ان میں سے بعض سمجھتے تھے کہ احساس ہمیں صحیح اطلاع اور صحیح علم دیتا ہے، دنیا ویسی ہی ہے جیسا ہم اس کا تشخص کرتے ہیں، جیسی وہ ہمیں لگتی ہے۔ دوسروں کو اس میں شک تھا۔ درحقیقت اعضائے حواس کبھی کبھی ہمیں دنیا کے بارے میں ”گویا“ غیر صحیح تصور دیتے ہیں۔ ہم مزاجی کیفیت اور ذہنی حالت کے مطابق ایک ہی اشیا کا تشخص مختلف طور پر کر سکتے ہیں۔ محسوس کردہ تمثیل کا مافیہ ناقابل تغیر ہے۔ فریب نظر کا انحصار بھی ان حالات پر ہوتا ہے جن میں تشخص کردہ مظہر واقع ہے۔ چنانچہ شے کی ناپ ناقابل تغیر ہے لیکن ہم اسے جس فاصلے سے دیکھ رہے ہیں اس کے مطابق وہ ہمیں چھوٹی یا بڑی لگ سکتی ہے۔ فریب نظر میں صرف منفی پہلو دیکھنا غلط ہو گا۔ کبھی کبھی وہ ہمیں دنیا کے کچھ خواص کو صحت کے ساتھ جاننے میں مدد دیتے ہیں۔ چنانچہ پانی میں ڈوبی ہوئی چھڑی ٹوٹی ہوئی لگتی ہے لیکن یہ اثر ہمیں پانی اور ہوا میں روشنی کے مختلف کسری انعکاس سے باخبر کرتا ہے۔ اور خواص کا یہ فرق ہمارے تشخص پر نقش ہو جا تا ہے۔ اسی طرح تشخص کی معین محدودیت بھی مثبت رکھتی ہے۔
لوگ ایک معین دائرے میں دیکھتے، سنتے اور بالعموم محسوس کرتے ہیں جو دنیا میں صحیح تعین سمت کے لئے کافی ہوتا ہے۔ جب اعضائے حواس کی محدودیت رکاوٹ بن جاتی ہے تو ان کی مدد کے لئے اپنی قسم کے ”مکبر“ آلات آجاتے ہیں۔ انسان اپنی سرگرمی میں مختلف آلات بناتا اور استعمال کرتا ہے، آسمان کا مشاہدہ دور بین سے کرتا ہے جو سیاروں کو ہم سے ”قریب“ کر دیتے ہیں، الیکٹرونک خردبین نظر نہ آنے والی دنیا کو بے نقاب کر دیتی ہیں، لیزر شعاعوں سے پیچیدہ آپریشن کرنے میں مدد ملتی ہے۔ آلات کے واسطے سے وہ سنائی نہ دینے والی اور نظر نہ آنے والی چیزوں کا تشخص کرتا ہے __ماورائے صوت، تحت سرخ اور ماورائے بنفشیٴ شعاعیں۔
صلاحیت احساس کی حدوں کو بہت زیادہ بڑھانے میں انسان کی سرگرمی بھی بہت اہم رول ادا کرتی ہے__فنکارر نگوں کے بہت سے ہلکے گہرے اندازوں میں تمیز کرلیتے ہیں، موسیقار میں سامعہ کا ارتقا بہت ہی اچھا ہوتا ہے، کھانے اور شراب چکھنے والوں میں ذائقہ اور شامہ․․․․ ظاہر ہے کہ انسان میں اعضائے حواس کی صلاحیت احساس کے ارتقا کا امکان محدود ہے، کم سے کم سرگرمی کے ایک تاریخی اعتبار سے معین مرحلے پر تو محدود ہوتا ہی ہے۔ لیکن اس سے دنیا کے استدراک میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا ہوتی ۔ آخر احساسات کے علاوہ انسان صاحب فکر بھی تو ہے۔ اس کے اعضائے حواس کی تشکیل تاریخی طور پر فطرت کے اور انسان کے عمل کے طویل ارتقا کے نتیجے کے طور پر ہوئی ہے۔
انسان کی احساسی تمثیلیں (احساسات، تشخص، تصور) آخری تجزیے میں ادراک کے سر چشمے کا رول ادا کرتی ہیں۔ انہیں سے دنیا کے استدراک کی ابتدا ہوتی ہے اور انہیں کی بنیا د پر دنیا کے استدراک کی بلند تر صورت یعنی تفکر کی تشکیل ہوتی ہے۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2008. All rights reserved.