میں جناب امجد اسلام امجد کی کتاب ”چشم تماشہ“ پڑھ رہا تھا اس میں سے ایک دلچسپ انتخاب قارئین کے لئے پیش کرتا ہوں ”کل پاکستان مشاعرے میں ایک فوجی جرنیل صدر مشاعرہ بنا دیئے گئے ان کے ارد گرد رعب اور طنطنے کا کچھ ایسا عالم تھا کہ دس پندرہ منٹ تک سامعین کو کھل کر داد دینے کی ہمت نہیں پڑی۔ اتفاق سے ایک شاعر نے بہت ہی اچھا شعر پڑھا، سامعین کی جانب سے ایک نوجوان تڑپ کر اٹھا اور بولا، مکرر ارشاد فرمائیے“ اس کی دیکھا دیکھی کچھ اور لوگوں نے بھی مکرر مکرر کے نعرے بلند کئے صاحب صدر نے اسٹیج سیکرٹری سے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں اسٹیج سیکرٹری نے بڑے ادب سے کہا کہ جناب یہ شاعر سے کہہ رہے ہیں کہ یہی شعر دوبارہ سناؤ اس پر جرنیل صاحب نے اپنے سامنے رکھا ہوا مائک اٹھایا اور یوں گویا ہوئے۔ ”کوئی مکرر وکرر نہیں ہوگا، شاعر صاحب کوئی آپ کے والد کے نوکر نہیں ہیں سننا ہے تو پہلی بار دھیان سے سنو“ ہم نے اسی کو موضوع سخن بناتے ہوئے کچھ حالات کے مطابق ڈھالتے ہوئے کالم لکھنے کی جسارت کی ہے۔ کہنے کو تو یہ ایک عام سی بات لگتی ہے لیکن غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہماری تاریخی سیاسی روایت کچھ ایسی رہی ہے کہ سول حکومت کی بجائے زیادہ تر فوجی حکمرانی کا رواج رہا ہے اور جو بھی آیا اس نے سیاست سے نفرت اور سیاست سے دور رہنے کا ارادہ ظاہرکیا اور پھر اپنے ارادوں سے وہ کر دکھایا جو اس کی دسترس میں نہ تھا، ساتھ دینے والوں نے ساتھ دیا اور کچھ نے ناراضی کی وجہ سے تعلقات کشیدہ رکھے۔ آخر کار سب نے اپنی صدارت کی میعاد حلیفوں کی مدد سے پوری کر لی کیونکہ ان کا کہنا یہ ہوتا تھا کہ صاحب صدر آپ سے اچھا کون ہے اگرآپ نہ رہے تو ہمارا کیا بنے گا ہم اگر زندہ بھی ہیں تو آپ کی حکمرانی میں زندہ ہیں ورنہ قوم تو ہمیں زندہ درگور کر دے گی کیونکہ ہم تو آپ کے ہر ارشاد پر مکرر ارشاد کہتے رہے اور صدر مشاعرہ کی طرح سارا کچھ آپ نے لوٹ لیا یعنی مشاعرہ۔ صدر نے ان کی سنی ان سنی کردی لیکن جب ان کی باری آئی تو صدر مشاعرہ کو بھی یہ موقع میسر آگیا کہ وہ بھی کچھ اپنے جذبات کا اظہار کر ڈالیں۔ انہوں نے شاعری کی بجائے اپنی سیاسی تاریخ اور کارنامے گنوانے شروع کر دیئے لیکن صدر یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کہیں سے مکرر مکرر کی صدا نہیں آرہی ہے انہوں نے اپنی خفگی کا اظہار یوں کیا کہ جوکچھ میں نے کیا اور کہا ہے سمجھ نہیں آئی۔ اب کسی میں مجال نہیں تھی کہ وہ صدر کی بات سنی اَن سنی کر دیتا اس میں سے کسی نے کہا لوگ باگ کہہ رہے ہیں ”گو مشرف گو“ کیونکہ آپ کی سیاسی تقریر میں کہیں اس کا ذکر نہیں تھا اسی لئے ہم نے بھی انہیں مکرر ارشاد کی دعوت نہیں دی کیونکہ جناب ہم یہ نہیں چاہتے کہ اپوزیشن کے اس ارشاد کی بھنک بھی آپ کے کانوں میں پڑے صدر مشاعرہ اگر کسی کے کہنے پرعمل کرے تو ضروری نہیں کہ وہ اپنی مہمان خصوصی کی صدارت سے دستبردار ہو جائے۔ اللہ اللہ کر کے جمہوریت کی بحالی میں جس کردار نے اہم رول ادا کیا وہ جناب صدر ہی تو ہیں انہوں نے اپنے وعدے پورے کر دیئے ہیں اب کسی کو مکرر ارشاد کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب سیاسی بندر بانٹ میں صدر کی نہیں سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے صدر اپنا وعدہ مکرر کرتے رہے اب سنجیدگی کی ضرورت ہے ہم پہلے ہی بہت کچھ گنوا چکے ہیں افہام وتفہیم کے ساتھ معاملات کو چلانا ہوگا سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا کیونکہ عوام سیاست سے تنگ آچکے ہیں اس نفسا نفسی کے دور میں مہنگائی اور بے روزگاری کے مارے عوام سکون و چین چاہتے ہیں بنیادی حقوق کی بحالی چاہتے ہیں کیونکہ اس کابراہ راست تعلق ان ووٹوں سے منسوب ہے جو انہیں اسمبلیوں تک لائے ہیں نو منتخب عہدیداروں کا کام یہ ہے کہ حسب وعدہ غریبوں کے چہروں پر چھائی اداسی کو مسکراہٹوں میں تبدیل کر دیں، کسی کو سر چھپانے کی جگہ فراہم کر دیں اور کسی مظلوم کی داد رسی کر دیں، کسی کو واقعی انصاف دلائیں اب اس سیاسی مشاعرے میں صرف داد کی خواہش نہ رکھیں بلکہ ان کی داد رسی اور دلجوئی کریں جنہوں نے آپ کو یہ منزل بخشی ہے جنہوں نے سرفرازی دی ہے آپ کامیاب ہو چکے ہیں مبارک ہو، صرف ایک بات دھیان سے سنو اور اسے گرہ میں باندھ لو۔ بقول کسی شاعر حلف وفا کا اٹھانے والو یہ تاج سر پہ سجانے والو وفا سے تم نے وفا نہ کی تب تمہارا بھی احتساب ہوگا کیونکہ حساب تو اپنے اعمال کا سب کو دینا ہے تو پھر کیوں نہ ایسے کام کر جائیں کہ رہتی دنیا تک آپ کا نام سنہری حرفوں سے لکھا جائے کہ اراکین اسمبلی بھی خوش اور عوام بھی خوش کہ ان کی محنت رائیگاں نہیں گئی۔ میں تو پھر یہی کہوں گا کہ ”دیکھ رہی ہیں میری آنکھیں پھولتا پھلتا پاکستان“۔