انارکلی ایک کنیز تھی جس کی وجہ سے شہزادہ سلیم کا اخلاق خراب ہونےکا اندیشہ تھا،اکبر نے اسے دیوار میں چنوا دیا، ایک مصلحت اس میں یہ تھی کہ سید امتیاز علی تاج اپنا معرکہ آرا ڈرامہ لکھ سکیں اور اردو ادب کے ذخیرے میں ایک قیمتی اضافہ ہوسکے، درباری شاعری نظیری نیشا پوری نے ایک بار کہا کہ میں نے لاکھ روپے کا ڈھیر بھی نہیں دیکھا، بادشاہ نے ایک لاکھ خزانے سے نکلوا کر ڈھیر لگا دیا، جب نظیر اچھی طرح دیکھ چکا توروپے واپس خزانے میں بھجوا دئیے، نظیری دیکھتے کا دیکھتا رہ گیا، اصل میں نظیری یہ حرکت خانخاناں کے ساتھ پہلے بھی کر چکا تھا، خانخاناں نے شاعر کی نیت کو بھانپ کر کہہ دیا تھا کہ اچھااب یہ ڈھیر تم اپنے گھر لے جائو، لیکن اکبر ایسا کچا آدمی نہ تھا۔
اکبر کی حکمت عملی
اکبر میں تعصب بالکل نہ تھا خصوصا شادیوں کے معاملہ میں کچھ ریاستیں فوجوں سے فتح کیں، باقی راجائوں کی بیٹیوں کواپنے حرم میں اور ان کے علاقوں کو اپنے سلطنت میں شامل کر لیا، آج کل کے سیٹھ اور مل مالک جو ایسا کرتے ہیں، تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ برکات حکومت غیر انگلشیہ عزیزو بہت دن پہلے اس ملک میں انگریزوں کی حکومت ہوتی تھی اور درسی کتابوں میں ایک مضمون برکات حکومت انگلیشہ کے عنوان سے شامل رہتا تھا، اب ہم آزاد ہیں، اس زمانے کے مصنف حکومت کی تعریف کیا کرتے تھے، کیونکہ کے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا، ہم اپنے عہد کی آزادی اور قومی حکومتوں کی تعریف کریں گے، اس کی وجہ بھی ظاہر ہے۔ عزیزو انگریزوں نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں، لیکن ان کے زمانے میں خرابیاں بہت تھیں، کوئی حکومت کے خلاف بولتا تھا یا لکھتا تھا تو اس کو جیل بھیج دیتے تھے، اب نہیں بھیجتے، رشوت ستانی عام تھی، آج کل نہیں ہے، دکاندار چیزیں مہنگی بیچتے اور ملاوٹ بھی کرتے تھے، آج کل کوئی مہنگی چیزیں نہیں بیچتا، ملاوٹ بھی نہیں کرتا، انگریزوں کے زمانے میں امیر اور جاگیردار عیش کرتے تھے، غریبوں کو کوئی پوچھتا نہیں تھا اب پوچھتے ہیں تو وہ تنگ آجاتے ہیں، خصوصا حق رائے دہندگی بالغاں کے بعد سے ۔ تعلیم اورصنعت و حرفت کو لیجئے، ربع صدی کے مختصر عرصے میں ہماری شرح خواندگی اٹھارہ فی صد ہوگئی، غیر ملکی حکومت کے زمانے میں ایسا ہوسکتا تھا؟ انگریز شروع شروع میں ہمارے دستکاروں کے انگوٹھے کاٹ دیتے تھے، اب کارخانوں کے مالک ہمارے اپنےلوگ ہیں، دستکاروں کے انگھوٹے نہیں کاٹتے ہاں کبھی کبھی پورے دستکار کو کاٹ دیتے ہیں، آزادی سے پہلےہندو بنئیے اور سرمایہ دار ہمیں لوٹا کرتے تھے، ہماری خواہش تھی، کہ یہ سلسلہ ختم ہو اور ہمیں مسلمان بنئے اور سیٹھ لوٹیں،الحمد اللہ کہ یہ آرزو پوری ہوئی۔ جب سے حکومت ہمارے ہاتھ میں آئی ہے ہم نے خاصی ترقی کی ہے۔ خاص برآمدات دو ہیں، وفود اور زرمبادلہ، درآمدات ہم گھٹاتے جارہے ہیں، ایک زمانہ میں تو خارجہ پالیسی تک باہر سے درآمد کرتے تھے ، اب یہاں بننے لگی ہے۔
خانخاناں
خانخاناں کا خطاب ذولفقار الدولہ کا تھا، اکبر کا سب سے کم عمر وزیر تھا، ذہین اور خوش تقریر، اکبر اسے بہت عزیز رکھنے لگا اور باہر کی ولایتوں سے ہر طرح کے معاملت اس کے سپرد کر رکھی تھی، ٹوڈر مل کو یہ بات پسندنہ آئی کیونکہ خانخاناں کامیلان مہاراجہ سام گڑھ کے بجائے فغفور چین کی طرف زیادہ تھا، آخر نورتنوں کے حلقے سے نکلوا کر دم لیا، کہتے ہیں کہ پانی پت کی دوسری لڑائی کے سلسلے میں بھی بادشاہ سے خانخاناں کے اختلافات ہو گئے تھے، اکبر ہمیوں بقال سے صلح پر آمادہ تھا، خانخاناں اس کا مخالف تھا، خانخاناں کو یہ بھی پسند نہ تھا کہ امراء بڑی بڑی جاگیروں پر قابض ہوں، یا علما جائدادیں بنائیں، اس لئےدربار کے علما بھی اس سےناراض ہوگئے تھے، اور اس کے عقائد میں نقص نکالنے لگے تھے۔ خانخانان نے بد دل ہو کر پرچم بغاوت بلند کیا تو لاکھوں لوگ اس سے آملے لیکن ان میں روساء اور خاندانی امیر بہت کم تھے، زیادہ تر عام طبقے کے آدمی تھے، خانخاناں اپنا دربار پیپل کے ایک درخت کے نیچے لگاتا تھا، اس لئے اس کے حامی بھی پیپل والے مشہور ہوئے۔
رامائن
رامائن رامچندر جی کی کہانی ہے، یہ راجہ وسرتھ کے پرنس آف ویلز تھے،لیکن ان کی سوتیلی ماں کیکی اپنے بیٹےبھرت کو راجا بنانا چاھتی تھی اس کے بہکانے پر راجا وسرتھ نےرامچندر جی کوچودہ برس کے لئے گھر سے نکال دیا، ان کی رانی سیتا کو بھی ان کے بھائی لچھمن بھی ساتھ ہو لئیے بن باس کے لئے نکلتے وقت رامچندر جی کے پاس کچہ نہ تھا، بس ایک کھڑاواں تھی، وہ بھی بھرت نے رکھوائی کہ آپ کی نشانی ہمارے پاس رہنی چاہئیے، اس کھٹراواں کو بھرت تخت کے پاس بلکہ اوپر رکھتا تھا تاکہ رامچندر جی کا کوئی آدمی چرا کے نہ لے جائے۔ جنگل میں رہنے کی وجہ سے ان کو گزارے میں چنداں تکلیف نہ ھوتی تھی رام جی تو آخر رام جی جی تھے، زیادہ کام ان کا لکشمن یعنی برادر خود کیا کرتے تھے۔ یہ لوگ گن گن کر دن گزار رہےتھے، کہ کب بارہ برس پورے ہوں اور کب یہ واپس جاکر راج پاٹ سنبھالیں اور رعایا کی بے لوث خدمت کریں، ایک روز جب کہ رام اور لکشمن دونوں شکار کوگئے ھوئے تھے لنکا کا راجا آیا اور سیتا جی کو اٹھا کر لے گیا، اس پر رامچندر جی اور رادن میں لڑائی ھوئی، گھمسان کا رن پڑا جیسا کہ دسہرے کے تہوار میں پڑتا آپ نے دیکھا ہوگا۔ ہنومان جی اور ان کے بندروں نے رامچندر جی کا ساتھ دیا اور وہ راون اور اس کے راکشسوں کو مار کر جیت گئے اور پرانے خیال کے ہندو اسی لئے بندروں کی اتنی عزت کرتے ہیں، ان کو انسانوں پر ترجیح دیتے ہیں۔
فعل دیگر
فعل کی بنیادی قسمیں دو ہیں، جائز فعل، ناجائز فعل، ہم صرف جائز فعل کے افعال سے بحث کریں گے، کیونکہ قسم دوئم پر پنڈت کو آنجہانی اور جناب جوش ملیح آبادی مبسوط کتابیں لکھ چکے ہیں۔ فعل کی دو قسمیں فعل لازم اور فعل متعدی بھی ہیں، فعل لازم وہ ہے جو کرنا لازم ہو، مثلا افسر کی خوشامد، حکومت سے ڈرنا، بیوی سے جھوٹ بولنا وغیرہ۔ فعل متعدی عموما متعدی امراض کی طرح پھیل جاتا ہے ایک شخص کنبہ پروری کرتا ہے، دوسرے بھی کرتے ہیں، ایک رشوت لیتا ہے، دوسرے اس سے بڑھ کر لیتے ہیں، ایک بناسپتی گھی کا ڈبہ پچیس روپے میں کردیتا ہے دوسرا گوشت کے ساڑھے بارہ روپے لگاتا ہے، لطف یہ ہے کہ دونوں اپنے فعل متعدی کو فعل لازم قرار دیتے ہیں، ان افعال میں گھاٹے میں صرف مفعل رہتا ہے، یعنی عوام ، فائل کی شکایت کی جائے تو فائلیں دب جاتی ہیں۔ فعل ماضی ماضی میں کسی شخص نے جو فعل کیا ہو اسے فعل ماضی کہتے ہیں، کرنے والا عموما اسے بھولنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن لوگ نہیں بھولتے۔ ماضی کی کئی قسمیں مشہور ہیں، سب سے زیادہ شاندار ماضی ہے، جس قوم کو اپنا مستقبل ٹھیک نظر نہ آئے وہ اس صیغے کو بہت استعمال کرتی ہے۔ ایک ماضی شکیہ ہے جن لوگوں کا ماضی مشکوک ہو وہ ماضی شکیہ ذیل میں آتے ہیں عموما ہاتھوں لئے جاتے ہیں۔ ماضی شرطی یا ماضی تمنائی جن لوگوں نے ریس میں یا تاش پر شرطیں بدل بدل کر اپنا ماضی تباہ کیا ہو ان کے ماضی کو شرطی کہتے ہیں، چونکہ ان لوگوں کی تمنا ہوتی ہے کہ اور پیسے آئیں تو انکو بھی ریس میں لگائیں اور اس لئے شرطی اور تمانئی دونوں ماضیاں ساتھ ساتھ آتی ہیں۔ اس کی دو اور قسمیں ہیں ماضی قریب اور ماضی بعید ، ماضی کو حتمی الوسع قریب نہ آنے دینا چاہیئے، جتنی بعید رہے گی اور جتنے اس پر پردے پڑے رہیں گے، اتنی ہی بھلی معلوم ہوتی ہے، ماضی کا بعید رہنا مستقبل کیلئے بھی اچھا ہے۔ لفظ اور صیغے پرانے زمانے میں تذکیر و تانیث کے قاعدے مقرر تھے، قاعدہ یاد ہوتو لباس اور بالوں وغیرہ سے پہچان ہوجاتی ہے، اب مخاطب سے پوچھنا پڑتا ہے، کہ تو مذکر ہے یا مونث اور بتا تیری رضا کیا ہے؟اس کے بعد اس سے صحیح صیغے میں گفتگو کرتے ہیں یا ایران ہوتو اس کے ساتھ صیغہ کرتے ہیں۔ بہت سے واحد ایک جگہ اکھٹے ہوں تو جمع کے صیغے میں آجاتے ہیں، جمع کے صیغے میں تھوڑی احتیاط ضروری ہے خصوصا جن دنوں شہرمیں دفعہ ١٤٤ لگی ہوتی ہے، ان دنوں جمع نہیں ہونا چاہئیے، واحد رہنا ہی اچھا ہے۔