ادب >> مضمون >> محمداظہار الحق کی شاعری
ادب
محمداظہار الحق کی شاعری
ظفر اقبال
ایک بات ابتداء ہی سے صاف ہو جانی چاہیے، میں محض ایک غزل گو ہوں اور اپنے حدود و قیود سے اچھی طرح واقف بھی ۔ اگرچہ غزل کے بارے میں میری رائے کو کوئی استناد حاصل نہیں ہے۔ میں نظم پر بھی اظہار رائے کچھ زیادہ شوق سے نہیں کیا کرتا جبکہ نثری نظم تو کسی طوربھی میرے دائرہ خیال میں نہیں آتی اور اسے غیر متعلق ہی سمجھناچاہیے غالباً اپنی غزل کی ٹیوننگ کی وجہ سے میں نظم سے بھی ایک طرح کے لطف سخن کا طلب گار رہتا ہوں حالانکہ میں نے دیکھا ہے کہ بہت کم نظم گو اس کا اہتمام کرنا ضروری خیال کرتے ہیں تاہم الحمد اللہ میں نظم کے حوالے سے کسی تعصب یا تنگ نظری میں مبتلا نہیں ہوں ۔
میرے سینئرز اور دیگر ہم عصر شعراء جو بنیادی طور پر غزل گو ہیں پورے التزام کے ساتھ نظم پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں لیکن فیض اور منیر نیازی کے علاوہ اور کوئی ایسا دستیاب نہیں ہے جو ہر دور میں اپنا لوہا منوا سکا ہویا غزل کے ساتھ ساتھ جس کی نظموں کا حوالہ بھی دیا جاتا ہو۔ میں اس بات کا بھی قائل نہیں ہوں کہ تنگنائے غزل نے انہیں ساتھ ساتھ نظم گوئی بھی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہو یا کچھ ایسی باتیں موضوعات اور معاملات بھی ہو سکتے ہیں جن کا غزل میں اظہار نہیں کیا جا سکتا ۔ وہ ایسا کسی بے بضاعتی کی وجہ سے کرتے ہوں تو الگ بات ہے ورنہ کوئی ایسا مضمون یا معاملہ نہیں ہے جو غزل کے احاطہٴ کار میں نہ آتا ہو اسی لئے جن شعراء کی شناخت غزل کی وجہ سے قائم ہوئی وہ نظم میں کوئی نتیجہ خیزی پیدا نہیں کر سکے البتہ منہ کا مزہ بدلنے کی اور بات ہے ۔
محمد اظہار الحق شر وع ہی سے غزل کے ساتھ ساتھ نظم بھی کہہ رہے ہیں لیکن جہاں مجھے ان کی غزل میں ایک امتیازی وصف نظر آیا ہے وہاں ان کی نظم نے مجھے اس طرح سے کبھی متاثر نہیں کیا ہے حتیٰ کہ وہ آزاد نظم کے علاوہ نثری نظم کی طرف بھی گئے یہ کام شہزاد احمد نے بھی کیا تھا اور اس کا بھی وہی نتیجہ نکلنا چاہیے تھا اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں نظم یا نثری نظم سے الرجک ہوں کیونکہ ڈاکٹر وحید احمد، ڈاکٹر جاوید اختر، عذراعباس ، کشور ناہید ، نسرین انجم بھٹی، نصیر احمدناصر، احمد ہمیش اور محمد سلیم الرحمان کی کوئی نظم میں مس نہیں کرتا جن میں سے بیشتر نثر ی نظم لکھتے ہیں ان میں افضال احمد سید کے علاوہ یقینا کئی اور نام بھی شامل ہیں ۔
ہر شاعر یہ فیصلہ خود کرتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں پہلے وہ خود پر بطور شاعر ایمان لاتا ہے اور اس کے بعد اپنے سفر کا باقاعدہ آغاز کرتا ہے البتہ اصناف سخن کے حوالے سے ان پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خالص غزل گو ہونے کے باوجود ناصرکاظمی نے “پہلی بارش ” کے عنوان سے طویل نظم بھی لکھی جو اگر چہ غزل ہی کے پیرائے میں تھی لیکن یہ ذکر ناصر کی غزل ہی رہی خود میں نے 60ء کی دہائی میں مجموعہ بھر نظمیں لکھیں جو مختلف رسائل میں شائع بھی ہوئیں لیکن چونکہ مجھے اصل چیلنج غزل ہی کی طرف سے درپیش تھا اس لئے میں غزل ہی کا ہو کر رہ گیا اور ہم نے ایک دوسرے کو حتیٰ الامکان خراب بھی کیا چنانچہ میں اظہار الحق کے حوالے سے بطور خاص یہ بات کہنے پر مجبور ہوں کہ اس قدر بے عیب غزل لکھنے اور اس صنف کا پوری طرح سے رمزشناس ہوتے ہوئے اسے نظم لکھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی جبکہ اس کی زیادہ تر غزلیں پہلے ہی نظم کا اندازرکھتی ہیں ۔
اظہار کی نظموں کا پس منظر بھی بالعموم وہی ہے جو اس کا مرغوب ترین ہے اور جو اس کے مزاج کا حصہ بن چکا ہے اور جس کی ابتداء اس کی پہلی نظم بعنوان “اپنے لئے ایک نظم ” ہی سے ہوتی ہے اور جو کتاب کے آٹھ صفحات کو محیط ہے ۔ اتنی طویل نظموں کا بوجوہ اب کوئی رواج اور جواز نہیں رہاجبکہ اسی موضوع پر بے حد اختصار سے بھی کام لیا جا سکتا تھا اور غزل پہلا سبق ہی ایجاز و اختصار کا دیتی ہے اساسی طور پر ایک غزل گو ہوتے ہوئے اظہار کو جس کا خیال رکھنا چاہیے تھا تاہم اس کے باجود یہ ایک لائق مطالعہ نظم ہے اور قاری پر ایک گہرا اثر چھوڑتی ہے اگرچہ ان نظموں میں کوئی آوٴٹ سٹینڈنگ نظم دستیاب نہیں ہوتی جس طرح سے کہ لوگوں کو اظہار کے شعر یاد ہیں ۔
اس مجموعے میں پابند ، آزاد اور نثری نظمیں آپس میں اس طرح شیر و شکر ہیں کہ آسانی سے ایک دوسری سے شناخت نہیں کی جاسکتیں اسی لئے میں نے اپنے کسی گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ اگر یہ نثری نظمیں ہیں تو انہیں جملوں میں تقسیم کرنے کے بجائے پیرا گرافوں میں ہونا چاہیے تاکہ کم از کم ملی جلی نظموں میں ان کی تخصیص کی جا سکے ورنہ تو یہ ایک طرف تو قاری کو مشکل سے دوچار کرنے والی بات ہے کیونکہ نظم کا ایک قابل ذکر ابتدائی حصہ پڑھنے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ یہ نثری نظم ہے یا آزاد دوسرے اسی طرح ایک سراسر نثری ٹکڑے کو فقروں میں تقسیم کرکے اسے نظم کہنے پر اصرار کرناکچھ زیادہ مناسب نہیں لگتا کہ اگر یہ نثری نظم ہے تو اس کا لباس بھی نثری ہی ہونا چاہیے ۔
بظاہر ایک سکہ بند غزل گو جب نظم لکھتا ہے تو ورائٹی کی خاطر ہی ایسا کرتا ہے حالانکہ یہی تنوع وہ غزل میں بھی پیدا کرسکتا ہے خاص طور پر اظہار جیسے قادر الکلام اور غزل کے اندر رچے ہوئے شاعر کیلئے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ غزل کو وسعت آشنا کرنا بھی اسی کے فرائض میں شامل ہے کہ غزل بہرحال اس کے پہلے معاشقے کی حیثیت رکھتی ہے ان تمام تر تحفظات کے باوصف اظہار کی ہر طرح کی شاعری آج بھی ایک نعمت سے کم نہیں ہے جس کا یہ کتاب ایک اور ثبوت فراہم کرتی ہے ۔
کچھ اگر بے کنار ہے مجھ میں
کون یہ آر پار ہے مجھ میں










پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2008. All rights reserved.