ادب >> مضمون >> تصورات کیسے پیدا ہوتے ہیں
ادب
تصورات کیسے پیدا ہوتے ہیں
تصور تفکر کی بنیادی اور دادہ ترین صورت ہے۔ تصور خیال کی ایسی صورت ہے جس کی مدد سے انسان شے کی عام، جوہری علامات کا اظہار کرتا ہے__ ”حرکت“، ”رفتار“، ”تابع زمین سیارہ“، ”دھات“، ”انسان“،”جانور“ وغیرہ۔ چنانچہ ”بنات“ کے تصور میں صرف ان علامات سے مختص ہوتا ہے جو ساری نباتات میں موجود ہیں۔ یا ”انسان“ کے تصور کلی کو لے لیں۔ اس میں کسی منفرد انسان کی قومیت، عمر، مقام سکونت، پیشہ، جنس، خاندانی حیثیت، امتیازی خدو خال، عادات وغیرہ کے بارے میں کوئی تصریح شامل نہیں ہے۔ افلاطون نے انسان کو دو ٹانگوں والا لیکن بن پروں کا حیوان قرار دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا ایک شاگرد سبق میں ایک پر نچا ہو امرغالے آیا اور اسے میز پر رکھ کر بولا: یہ ہے افلاطون کا ”انسان“۔ انسان کے بارے میں دوسرے تصورات بھی تھے مثلاً یہ کہ حیوان عاقل اور حیوان ناطق ہے۔ صرف کارل مارکس نے انسان کا ایسا تصور بیان کیا جس نے واقعی اسے عالم حیوانات سے الگ کر دیا__ کہ اس میں اوزار محنت پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس میں وہ علامات مختص ہو جاتی ہیں جو سارے لوگوں کے لئے کرداری (جوہری) ہیں __محنت کرنے، سوچنے اور بات کرنے کی صلاحیت۔ تصورات کی تخلیق کرنے کا عمل تجرید کرنے کے دوران میں روپذیر ہوتا ہے اور خود تصورات ہی تجریدات ہوتے ہیں۔
تصور کی تشکیل کے لئے لوگوں کا عمل، ان کی سرگرمی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ ”مثلث“ ، ”دائرہ“، ”مربع“ کے تصور کے شکل پذیر ہونے سے پہلے لوگوں کو عملی سرگرمی میں مختلف ناپ اور صورت کی بہت سی اشیا سے سابقہ پڑ چکا تھا۔ ان کی پیمائش کرنے اور موزانہ کرنے یعنی ان کے ساتھ عمل کرنے میں لوگوں نے ان کی عام علامات اور خواص کو مختص کر دیا۔عمل کرنے میں اہمیت یہ بھی ہے کہ وہ ہمیں خاص چیز کا ادراک حاصل کرنے کی طرف مائل کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ لگے کہ تصور (تجرید) تو بلاوسطہ احساسی تاثر کی بہ نسبت بہت ناقص ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ سادہ ترین تصور بھی احساسی تاثرات سے زیادہ گہرا، قابل اعتبار ہوتا ہے اور شے کا ادراک حاصل کرنے کا پورا موقع دیتا ہے۔ ”حرکت“ کے تصور کو ہم حرکت کی مختلف صورتوں سے متعلق کرتے ہیں۔ اور یہ علم مشینوں، گھوڑوں، لوگوں وغیرہ کی حرکت کا مشاہدہ کرنے سے کہیں زیادہ جوہری ہے۔ پھر بھی شاید یہ سوال کیا جائے کہ کیا تصور یعنی تجرید کسی حقیقی مظہر کی عکاسی کرتا ہے؟ مثال کے طور پر ”پھل“ کے تصور کو لے لیں۔ یہ ٹھوس سیب، مخصوص سنترہ اور کیلا ہے۔ وہ حقیقی طور پر موجود ہیں اور ٹھوس بہم مطابق سمجھ کی مدد سے ان کا اظہار تفکر میں کیا جا سکتا ہے یعنی ”سیب“ ، ”کیلا“۔ ہاں یہ صحیح ہے لیکن ساری بات یہ ہے کہ ٹھو س ہی نہیں بلکہ زیادہ مختص کردہ، جیسے ہماری مثال میں ”پھل“کا تصور بھی اسی طرح حقیقی خواص کی عکاسی کا کام دیتا ہے۔ اس میں ان عام خواص کا اظہار ہوتا ہے پھلوں کی مختلف قسموں میں موجود ہوتے ہیں۔ تصور میں عکاسی کا کام دیتا ہے۔ اس میں ان عام خواص کا اظہار ہوتاہے جو پھلوں کی مختلف قسموں میں موجود ہوتے ہیں۔ تصور میں تغیر پذیر دنیا کی اور عمل کی عکاسی ہوتی ہے اس لئے وہ خود بدل جاتا ہے اور اس کا ارتقا ہوتا ہے اور یوں نیا تصور پیدا ہوتا ہے: ”ہوائی جہاز“، ”کائنات پیما“وغیرہ ۔ مثلاً ماہرین طبیعیات خرد ذرات کے نئے خواص اور ان کے خلاف معمول خواص دریافت کرتے ہیں جن کااظہار ان کے ناموں کے خلاف معمول ہونے، ”عجیب وغریب“، ”مسحور“ وغیرہ میں ہوتا ہے۔
پورے طور پر تفکر کی طرح تصور کی تشکیل اٹوٹ طور پر تقریر سے، زبان سے وابستہ ہے۔ زبان میں تصور (خیالات) کا اظہار الگ الگ لفظوں یا فقروں کے ذریعے ہوتا ہے اور پھر یہ بھی سچ ہے کہ تفکر کے بغیر زبان بھی نہیں ہوتی۔ زبان کی خصوصیت اس امر میں ہے کہ سب سے پہلے وہ اشیا کی نشاندہی کرنے کا کام انجام دیتی ہے اور لوگوں کے لئے ترسیل کا وسیلہ بھی ہوتی ہے۔ سب سے پہلے تو انسان نے آوازوں کی مدد سے مظہروں کی نشاندہی کی اور اس کے بعد اس نے تصویری تمثیل کا سہارا لیا۔لیکن زبان صرف نشاندہی نہیں کرتی خیالات کا اظہار بھی کرتی ہے۔ جو ناتھن سوئفٹ کی کتاب ”گلیورز ٹریویلس“ (گلیور کے سفر) میں ان سائنس دانوں کا مذاق اڑایا گیا جو سمجھتے تھے کہ الفاظ صرف اشیا کا بدل ہیں۔ اس زوایہ نظر کے پیرؤں نے الفاظ کے بغیر کام چلانے کا فیصلہ کیا۔ لفظوں کی جگہ اشیالی گئیں۔ ان میں سے ہر ایک بوری بھر اشیا لے کر چلتا اور ان کی طرف متوجہ کر کے سننے والے کو اشیا دکھاتا۔ لیکن ان کی یہ کوشش بالکل نا کام رہی کہ وہ لوگوں کو سمجھا سکیں۔ درحقیقت آواز یا تصویری تمثیلیں کسی نہ کسی خیال کی حامل ہوتی ہیں۔
بولنے میں الفاظ کی مدد سے ہم نہ صرف اشیا کی نشاند ہی کرتے ہیں بلکہ ان کی علامات کو بھی مختص کرتے ہیں۔ چنانچہ گھڑی کو لفظ ”گھڑی“ سے پکار کر ہم اس چیز کو مختص کر دیتے ہیں جو جو ہری طور پر اس شے میں ہے اور بتا دیتے ہیں کہ اس کا رشتہ ”گھنٹے“ کی مدت سے یعنی وقت سے ہے۔ دوسری صورتوں میں اس تجرید کردہ فعل کا اظہار کم وضاحت کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ آلات کو ”خردبین“”قطب نما“ کہہ کر ہم ان کی جوہری علامات کو اور اس کردار کو مقرر کر دیتے ہیں جو وہ ہماری زندگی میں ادا کرتے ہیں (خرد نظام جسمانی کا مشاہدہ، مکان میں تعین سمت وغیرہ ) لفظوں سے اشیا کی نشاند ہی کر کے، ان کے نام رکھ کر ہم احساسی تجربے کا تعلق علم کے ساتھ قائم کر دیتے ہیں ۔کوئی معین مکان اور ”انسان کا مسکن“،بھوج یا دیودار ”پیڑ“ کا تصور، ”شیر“، ”بھالو“__”وحشی جانور“، ”درندہ“وغیرہ۔ چنانچہ لفظ احساسی تجربے کی، مختلف لوگوں کے روز مرہ تجربے کی تعمیم کرتا ہے اور نئے علم کی تشکیل کا امکان پیدا کرتا ہے۔
تصور تفکر کی ایک صورت ہے۔ دوسری صورتیں ہیں فیصلہ اور استنباط۔ فیصلہ تصورات کا ایسا سلسلہ ہوتا ہے جس میں ایک کی کردار نگاری دوسرے کے ذریعے ہوتی ہے، ایسا خیال جس کی مدد سے کسی چیز کی تائید یاتردید ہوتی ہے__عوام تاریخ کے خالق ہوتے ہیں، حرکت استمراری رکھنے والی مشین بنانا ناممکن ہے۔ تصور اورفیصلہ بہم متعلق ہوتے ہیں۔ فیصلے میں تصور شامل ہوتا ہے اس لئے فکر کرنے (سوچنے) کا مطلب ہوتا ہے فیصلہ دینا۔ یہ ہے شاعر کا فیصلہ، ”نیکی کے الفاظ مثل گلاب کے، بدی کے الفاظ مثل زہراب کے“۔ فیصلہ فکر کے ارتقا میں مدد دیتا ہے۔ مثلاً قدیمی ابتدائی انسان نے رگڑ سے آگ (حرارت) پیدا کرنا سیکھ لیا۔ لیکن یہ فیصلہ صدیاں گزرنے کے بعد ہی کیا جا سکا کہ ”حرارت کا سرچشمہ رگڑ“ ہے۔ اور مدت گزری تب سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ صرف رگڑ ہی نہیں بلکہ ہر میکانیکی حرکت کے ساتھ حرارت کا اخراج ہوتا ہے۔ اور آخر کار19ویں صدی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ حرکت و حرارت کا تعلق باہم عام کردار کا حامل ہے اور اس کا اظہار اس قانون میں کیا گیا__حرکت ناپید نہیں ہوتی بلکہ ایک صورت سے دوسری میں منقلب ہو جاتی ہے۔ اس سے استدراک کے ارتقا کی شہادت ملی__تفکر کی حرکت، سادہ فیصلے سے زیادہ عام کی طرف اور پھر اس سے آفاقی کی طرف۔ فیصلوں کا سلسلہ تفکر کی نئی صورت، استنباط، کی تشکیل کرتا ہے۔ اس میں حاصل شدہ علم اور تجربے کی بنیاد پر نیا علم منتج کیا جاتا ہے۔ مثلاً ارسطو نے دلالت کی کہ سارے انسان فانی ہیں، سقراط انسان ہے چنانچہ سقراط مر جائے گا (وہ بھی فانی ہے)۔ دوسری مثال پیش کی جاسکتی ہے: فرانسیسی سائنس داں لوئی پاستیر بھیڑتپ (انتھراکس) کا مطالعہ کرنے میں بہت دنوں تک یہ نہ طے کر سکا کہ بھیڑوں کی اس بیماری کاچھوت چراگاہوں میں کیسے لگ جاتا ہے۔ ایک بار اس نے دیکھا کہ چراگاہ کے ایک حصے کی گھاس زیادہ ہلکے رنگ کی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہاں پر ایک بھیڑ دفن ہے جو بھیڑ تپ سے مرگئی تھی۔ زمین کا مطالعہ بڑے غور کے ساتھ کرنے کے بعد پاستیر# نے دیکھا کہ اس جگہ پر کیچوؤں کے آثار بہت زیادہ ہیں۔ پاستیر نے یہ بادلیل دعوی کیا جس کی بعد کو توثیق ہو گئی کہ کیچوا زمین کی گہرائی سے بیکٹیریا کی اولین شکلیں سطح پر لاتا ہے اور اس طرح وہ مرض بردار بن جاتے ہیں۔ اس طرح ایک قابل اعتبار استنباط کیا گیا اور تفکر کے ذریعے نیا علم دستیاب ہو گیا۔ تفکر کا اہم ترین خاصہ ہے نا معلوم سے معلوم کی طرف عبور کرنا، اس کا ادراک کرنا۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2008. All rights reserved.