تخلیقی عمل
خلیقی عمل کس کو کہتے ہیں؟
اکثر اسے نئے کی تخلیق کے مترادف سمجھا جا تا ہے۔ تخلیقی فعل کی تحقیق اس وجہ سے مشکل ہو جاتی ہے کہ نئے علم کا حصول اکثر اچانک، ”انکشاف“کے طور پر، جو ہر میں اچانک دخول حاصل ہو کر وقوع پذیر ہوتا ہے۔ یہ چیز تخلیقی عمل میں دو پہلوؤں کو ایک دوسرے کا مد مقابل بنا دیتی ہے: باشعور جس کا تعین تفکر سے ہوتا ہے اور تحت شعور (لاشعور) جس کی ہدایت کاری گہرے پوشیدہ عملوں، وجدان اور تخیل سے ہوتی ہے، جو تحت شعور کو مطلق بنا دینے کا (بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا) یعنی وجدان اور تفکر کو مقابل دینے کا (اور آخری تجزیے میں تخلیقی عمل کی عینیت پرستانہ سمجھ کا اور تخلیق میں شعور کے رول کو کم کرنے کا موجب بنتی ہے۔
اسی طرح تخلیقی عمل کو”آزمانے اور غلطی کرنے“ کے، نئے کی دریافت کے عادی طریقوں کو چھوڑ کر ممکن حلوں کے میکانیکی انتخاب کے عمل کی طرح پیش کرنا بھی غلط ہے۔
تخلیقی عمل کے جوہر کے سوال کے سائنسی حل کی بنیاد جدلیاتی مادیت پسندانہ رویہ ہے۔ اس کا اہم ترین بادلیل دعوی فطرت کی اور سماج کی دنیا کے اور عملی سر گرمی میں دنیا کی ازسرنو تشکیل کرنے والے انسان کے معروضی وجود کو تسلیم کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ مارکسزم اس امر سے ابتدا کرتا ہے کہ مادی سرگرمی کو اولیت حاصل ہے اور تخلیقی عمل کی ساری قسمیں اسی سے مشتق ہیں اور اسی سے معین ہوتی ہیں۔ا س طرح کا رویہ انسان کی آزادانہ اور من مانی سرگرمی کی حیثیت سے تخلیق عمل کی عینیت پرستانہ سمجھ پر غلبہ حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے۔ دراصل تخلیقی عمل بنیادی طور پر باشعور عمل ہے۔ وسیع مفہوم میں تخلیقی عمل لوگوں کی وہ سرگرمی ہے جس سے وہ نئی اور سماجی اہمیت رکھنے والی پیداوار کی تخلیق کرتے ہیں۔ محدود مفہوم میں اسے دریافت اور ایجاد کے عمل کی حیثیت سے سمجھا جاتا ہے۔ تخلیقی عمل میں دو پہلو متحد ہوتے ہیں، مطالبات اور مقاصد کے مطابق دنیا کی ازسرنو تشکیل کرنے والے انسان کی فعالیت اور تخلیق کردہ پیداوار، تمدن کی دنیا کی سماجی قدر وقیمت_تخلیقی عمل کے دوران میں انسان کی خود اپنی ازسر نو تشکیل بھی ہوتی ہے، اس کی صلاحیتوں کا ارتقا ہوتا ہے۔
تخلیقی عمل کی ایک صورت دنیا کاسائنسی ادراک ہے جس کا رول سائنسی ٹکنیکی انقلا ب کے عہد میں بے انتہا بڑھ جا تا ہے۔ ممتاز سماجی وسیاسی کارکن جواہر لال نہرو نے لکھا ہے کہ ”․․․․مجھے یقین ہے کہ سائنس کے طریقوں اور رویوں نے تاریخ کی طویل روش میں ہر چیز سے زیادہ انسانی زندگی میں انقلاب پیدا کیا ہے․․․“ سائنس میں تخلیقی عمل سب سے پہلے نئے علم کی تشکیل کو، مظہروں کے نئے دائرے کی توضیح کو، دریافت کو کہا جاتا ہے۔ اور اس کے لئے اطلاعات کا ذخیرہ اور تجزیہ بھی درکار ہوتا ہے اور نئے خیالات کی مسلسل تخلیق بھی حالانکہ امریکی طبیعیات داں رچرد فائن مین کے قول کے مطابق“ نیا خیال سوچ لینا بہت مشکل ہے“۔ عام طور سے سائنسی تخلیقی عمل کاتصور ایک ایسے عمل کی طرح کیا جاتا ہے جو کسی خط مستقیم پر آگے نہیں بڑھتالیکن مسلسل جاری رہتا ہے اور اس میں جست اور وجدان بھی شامل ہوتے ہیں۔
سائنسی استدراک کے میدان میں اہم ترین اور لازمی کڑی ہوتی ہے ایک سائنسی مسئلہ۔ مسئلہ پیش کیے بغیر نہ تخلیقی عمل ہوتا ہے نہ دریافت۔