ادب >> مضمون >> سچائی کی تلاش
ادب
سچائی کی تلاش

سچائی کیا ہے؟ روایت یہ ہے کہ رومی شہنشاہ کے مقامی نمائندے مجسٹریٹ پونتیئس پیلات نے یہ سوال عیسیٰ مسیح نام کے ایک جہاں گرد مفلس مبلغ سے کیا تھا جنہیں گرفتار کرکے لایا گیا تھا اور جن پر الزام یہ تھا کہ وہ یہ دعوی کر کے ایک بلند تر سچائی سے واقف ہیں لوگوں میں فساد پھیلاتے ہیں۔ اسی پر پونتیئس پیلا#ت نے سوال کیا تھا کہ سچائی کیا ہے؟ اور اس طرح اس نے سچائی کے وجود پر اور اس کے قابل حصول ہونے پر شک کا اظہار کیا تھا۔
”سچائی“ کا تصور کلی کثیر المعنی ہے اور اکثر مختلف مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لوگ سچے دوست، سچی خوبصورتی، سچے شاعر کی بلکہ یہاں تک کہ سچے جرائم پیشہ کی بھی بات کرتے ہیں۔ ان فقروں میں سے ہر ایک میں اس مخصوص مظہر، شے یا عمل کی اہمیت ومعنویت کی طرف توجہ مبذول ہو جاتی ہے لیکن یہ سب ”سچائی“ کے تصور سے مشتق ہیں۔ فلسفیانہ معنوں میں اس سے خارجی دنیا اور علم کے مافیہ کے مخصوص رشتے کا اظہار ہوتا ہے۔ سچائی سے خیال میں حقیقت کی یقینی، صحیح عکاسی سمجھا جاتا ہے۔ سچائی خود مظہروں کا خاصہ نہیں ہوتی بلکہ صرف انسان کے ذہن میں انکا قابل یقین عکس ہوتا ہے۔ کارل مارکس#کے الفاظ میں سچائی کو جاننے کا مطلب ہے ”چیزوں تک پہنچنا اس طرح جیسی کہ وہ حقیقت میں وجود رکھتی ہیں“ (مارکس واینگلس، مجموعہ تصانیف، جلدا، صفحہ 29، روسی زبان میں)۔ یہ اتفاقی امر نہیں ہے کہ قدیم مفکروں نے اس کو صحیح علم سے وابستہ کیا جو حقیقت سے مطابقت رکھتا ہو۔ اور غلط تصور سے انہوں نے غیر صحیح، حقیقت کو مسخ کرنے والا علم سمجھا۔ ارسطو نے اپنے ایک جریدے میں لکھا کہ ”سچ وہ لوگ بولتے ہیں جو متحد کو متحد اور منتشر کہتے ہیں ․․․․“ اور پھر آگے چل کر لکھا کہ ”تم اس لئے گورے نہیں ہو کہ ہم صحیح طور سے تمہیں گورا سمجھتے ہیں بلکہ (برعکس) چونکہ تم گورے ہو اس لئے ہم اس کی توثیق کرنے میں صحیح ہیں“۔ جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے اس معاملے میں سچے علم کی کردار نگاری یہ کی گئی ہے کہ وہ حقیقت کے مطابق ہو۔ سچے علم کی کردار نگاری یہ کی گئی ہے کہ وہ حقیقت کے مطابق ہو۔ سچائی کا جو تصور کلی ارسطو نے پیش کیا ہے اس کے صحیح ہونے اور اس کے مادیت پسندانہ میلان کے باوجود اس کی پیش کردہ تعریف ناکافی ثابت ہوئی اس لئے کہ وہ بہت زیادہ وسیع اور مبہم ہے۔ اس طرح کی تعریف سے توعینیت پرستی بلکہ لاادریت کے نمائندے بھی تصورات کلی ”مطابقت“ اور ”حقیقت“ کی اپنی طرح سے تشریح کرکے متفق ہو سکتے تھے۔
یہ سوال کہ سچائی کیا ہے سائنس داں کے عام فلسفیانہ موقف سے اور فلسفے کے بنیادی سوال کے اس کے جواب سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ سچائی کے سوال میں سائنس اور مذہب کا تضاد غیر معمولی شدت کے ساتھ نمایاں ہو جاتا ہے۔ اگر سائنس کے لئے سچائی کی تلاش اہم ترین فریضوں میں ہے تو مذہب عقیدے سے رجوع کرتا ہے اور کبھی کبھی بالکل علانیہ اسے سچائی کا مدمقابل بنا دیتا ہے۔
سچائی کے سوال کے حل میں مادیت پسندی اور عینیت پرستی کا تضاد ظاہر ہو جاتا ہے۔ لیکن ہر قسم کی عینیت پرستی یا لاادریت سچائی کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرتے۔ ان کی تشریح کردہ سچائی انتہائی داخلیت پرستانہ ہوتی ہے اور اس کا کوئی تعلق اردگرد کی حقیقی موجود دنیا کو، اس کے صحیح استدراک کے لئے اور اپنے شعور میں اس کی عکاسی کے لئے انسان کی صلاحیت کو تسلیم کرنے سے نہیں ہوتا۔ بعض عینیت پرست سچائی کو لوگوں کے درمیان معاہدے کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ سچائی کو اس طرح سمجھنے والے اولین لوگوں میں فرانسیسی ریاضی داں آنری پو آنکارے تھے۔ انکی رائے میں سائنسی نظریوں (بہ استثنائے حساب) کا بنیادی بادلیل دعوی سچائی نہیں، سائنسی قوانین مشروطیت پر مبنی ہیں۔ جن کے لئے واحد مطلق مطالبہ ہے عدم تضاد۔ یہی نتیجہ سچائی کو عام اہمیت کا علم سمجھنے سے بھی نکلتا ہے۔ لیکن عام اہمیت تو جھوٹے علم کی بھی ہو سکتی ہے مثلاً حرارت اور ایتھر کے نظریے، رجعت پرست سیاسی نظریے (ارضی سیاست، نو مالتو زیت اور مختلف قسم کے نسل پرستی کے تصورات وغیرہ)۔ کبھی کبھی سچائی اس کو کہا جاتا ہے جو مفید ہو۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ہر مفیدچیز سچائی نہیں ہوتی ۔
”جو سچائی کی تلاش کرتے ہیں، عجیب وغریب اور غلط تصورات سے ہمکنار بھی ہوتے ہیں“۔
جو کچھ کہا جاچکا ہے وہ ہمیں پیش کردہ سوال کے صحیح جواب کی طرف لے جاتا ہے۔ سچائی کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ حقیقت کے علم سے مطابقت رکھتی ہے جس کا وجود معروضی، انسان کے شعور اور مرضی سے آزاد ہوتا ہے۔ استوار سائنسی جدلیاتی مادیت پسندی سچائی کے تصور کو معروضی قرار دے کر اس کو مختص بنا دیتی ہے۔ لینن معروضی سچائی کو ایسا علم سمجھتے تھے جس کے مافیہ کا انحصار نہ انسان پر ہو نہ نوع انسانی پر (لینن، مجموعہ تسانیف، جلد18، صفحہ 123، روسی زبا ن میں)۔ یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سچائی کا انحصار انسان سے نہ ہو جب کہ وہ اس کا ادراک حاصل کرتا ہے؟ آخر سچائی کا تعلق خارجی دنیا سے تو نہیں ہے۔ وہ تو انسان کی سرگرمی کے نتیجے میں نمودار ہوتی ہے۔ مثلاً استحصال سرمایہ داری کا خاصہ ہے، ایک معروضی حقیقت ہے۔ لیکن مارکس# سے پہلے اس کے جوہر کو لوگوں نے نہیں سمجھا۔ سرمایہ داروں کے مال دار اور مزدوروں کے مفلس ہونے کے اسباب کے بارے مین ان کے زاویہ نظر جھوٹے تھے۔ سرمایہ دارانہ استحصال کے جوہر کے بارے میں مارکس# کی دریافت نے ہمارے علم کو معروضی حقیقت سے مطابقت عطا کر دی اور ان کو معروضی سچائی کا کردار حاصل ہو گیا۔
”معروضی سچائی“ کے تصور کلی میں معروضی دنیا کا علم شامل ہے یعنی ہمارے تصورات اور ہمارا تفکر ہمیں صحیح، سچا علم دیتے ہیں (جو معروضی دنیا سے مطابقت رکھتا ہے)۔ لیکن معروضی سچائی استدراک میں حاصل ہوتی ہے جس کی بنیاد ہوتی ہے لوگوں کی عملی سرگرمی۔ اس لئے سچائی کے بارے میں اس طرح بتانا درست نہ ہوگا کہ یہ کوئی ایسی چیز ہے جو انسان سے باہر، اس کے شعور سے باہر وجود رکھتی ہے۔ لوگوں کی سرگرمی کے ساتھ سچائی کا تعلق اس کی فعالیت کا اظہار کرتا ہے۔ سچائی کا حصول ایک مشکل عمل ہے اس لئے کہ اس کی تشکیل فوراً نہیں ہو جاتی ہے۔بلکہ بتدریج ہوتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر سچائی محدود اور اضافی ہوتی ہے۔ ہم اپنے مطالعے کے موضوع کے قریب کس حد تک پہنچ سکتے ہیں؟ یہاں ہم اس میدان میں داخل ہو رہے ہیں جسے مطلق اور اضافی سچائی کا رشتہ باہم کہا جاتا ہے۔
ہمارے اردگرد کی دنیا مالا مال، کثیر پہلو، دائمی اور لامتناہی ہے۔ اس لئے دنیا کے بارے میں ہمارا علم تاریخ ارتقا کے ہر دور میں محدود اور اضافی ہے۔ اضافی سچائی ہمارے علم اور سرگرمی میں ناممکن مطابقت، صرف جزوی، قریبی مطابقت ہوتی ہے۔ اضافی سچائی پر مشتمل علم آئندہ زیادہ گہرا، زیادہ صحیح ہو سکتا ہے۔ قدیم دنیا کے مفکروں نے مظہروں یا عملوں کے صرف خارجی پہلوؤں کا مشاہدہ کرکے ان کی پیچیدہ اندرونی ساخت کے بارے میں کبھی کبھی گہرے قیاسات کیے لیکن ان کا علم سائنس کی تشکیل کا صرف ابتدائی مرحلہ تھا۔ عمل اور سائنس کے ارتقاکے مطابق لوگ رفتہ رفتہ سچائی پر قدرت حاصل کر رہے ہیں۔ چنانچہ دیمو قریطس نے دنیا کی ایٹم ساخت کے بارے میں بے مثال قیاس کیا تھا اور ہمارے زمانے کے ماہر طبیعیات نیل بوہرنے ایٹم کی ساخت کو دریافت کر لیا۔
معروضی سچائی صرف اضافی، تاریخ اعتبار سے محدود اور نامکمل ہی نہیں ہوتی، اس کے ساتھ ہی وہ مطلق بھی ہوتی ہے۔ مطلق سچائی مکمل، جامع اور اٹل علم ہوتی ہے۔ سچائی کا مطلق ہونا اس کی معروضیت سے تعلق رکھتا ہے اور اس امر پر مشتمل ہے کہ سائنس کے ارتقا کے ایک خاص مرحلے پر تشکیل یافتہ بادلیل دعوی اس کے مزید ارتقا کے دوران میں کبھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ معروضی سچائی میں مطلق اورا ضافی کی وحدت اس امر پر مشتمل ہے کہ یہ ایسا علم ہوتا ہے جس کی خصوصیت ہے نامکمل پن اور اس کے ساتھ ہی معروضیت بھی۔ مطلق سچائی لامحدود دنیا کے بارے میں جامع علم ہے۔ ظاہر ہے کہ نوع انسانی اپنے ارتقا کے ہر مرحلے پر اس طرح کے علم کی مالک نہیں ہوتی، اس کا حصول تو نوع انسانی کے، اس کے عمل اور ادراک کے لامحدود ارتقا میں ہوتا ہے۔ اسی لئے علم کے ارتقا کا قانون اضافی سے مطلق کی طرف علم کی حرکت پر مشتمل ہے۔ بے شمار اضافی سچائیوں کا انبار جمع ہو کر مطلق سچائی بنتی ہے۔
سچائی کے ساتھ یک رخارشتہ کٹر اصول پرستی کی خصوصیت ہے۔ کٹر اصول پرست سچائی کو مطلق سمجھتے ہیں اور اس کی اضافیت سے انکار کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دائمی سچائیاں ہیں۔ اس طرح کی سچائیوں کے بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ ان میں، حسب قاعدہ، حقائق یا صورت حالات ہیں: واکایا ما جاپان کا شہر اور بندر گاہ ہے، ہر یانہ ہندوستان کی ریاست ہے، نپولین کی موت 1821میں ہوئی وغیرہ۔ لیکن سائنسی علم اسی طرح کی سچائیوں تک محدود نہیں ہے، وہ انہیں خرافات کہتا ہے۔سائنس ”دائمی سچائیوں“ کا میزان کل نہیں ہے۔
کٹر اصول پرستی کے برخلاف اضافیت پرستی ہمارے علم کے اضافی ہونے کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کرتی ہے۔ ہر سچائی کے اضافی ہونے کا ذکر قدیم فلسفیوں ہی نے کیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہر شخص کے لئے اپنی سچائی ہے۔ سچائی کے اضافی ہونے کی تائید کرتے ہوئے اضافیت پرست ابتدا حقیقی صورت حال سے کرتے ہیں اس لئے کہ دنیا میں سب کچھ تو واقعی بدل جاتا ہے۔ لیکن حقیقت کے مظہر نسبتاً محکم (ثابت) ہیں۔ تغیر اور ثبات کی وحدت کو نہ سمجھنا اضایت کی انتہا پسندانہ صورتوں تک لے جاتا ہے۔ اگر سب کچھ رواں اور تغیر پذیر ہے تو مطلب یہ ہو ا کہ ہم ایسی دنیا میں ہیں جہاں غیر تغیر پذیر سچائی ہے ہی نہیں۔ اور ہمارا علم خالص مشروط کردار کا حامل ہے۔
خود سائنس داں اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ آئیے نیل بوہر سے پوچھیں۔ اس نے طبیعیات میں مطابقت کے اصول کو آگے بڑھایا جو یوں ہے کہ سابق نظریے اور قوانین جن کی توثیق عمل نے کر دی ہے، ان میدانوں کے لئے جن میں وہ پیش کیے گئے تھے، آئندہ کے لئے بھی سچائی رہتے ہیں۔ ان نظریوں کے نئے نظریے پوری طرح سے رد نہیں کرتے بلکہ خاص اتفاقات کی حیثیت سے ان میں شامل ہو جاتے ہیں۔ مثلاً آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے گلیلیو اور نیوٹن کی کلا سیکی طبیعیات کی جگہ لے لی۔ نیوٹن کے قوانین کو آفاقی سمجھا جاتا تھا لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ ان کے عمل کی حد محدود ہے۔
غیر اقلیدسی جیومیٹری، جس کے اصولوں کا مطالعہ لوما چیفسکی نے کیا، اقلیدس کی جیومیٹری کے بہت سے کلیوں کو رد کرتی ہے مثلاً متوازی خطوط کا نظریہ، مکان کی ”خط مستقیم والی نوعیت“ وغیرہ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اقلیدسی جیومیٹری کو پوری طرح ترک نہیں کرتی بلکہ اس کے بنیادی بادلیل دعووں اور کلیوں کے ایک حصے کو اپنے متن میں شامل کرلیتی ہے۔ ”کمیونسٹ پارٹی کے منشور“ ، مارکسزم کی پہلی پروگرام دستاویز میں توثیق کی گئی ہے کہ پوری تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے۔ بعد میں اینگلس کو ایک حاشیے کا اضافہ کرنا پڑا: سائنس کے حقائق طبقات سے پہلے کے ایک سماج کے وجود کی شہادت دیتے ہیں جس میں طبقاتی جدوجہد ہو ہی نہ سکتی تھی۔
سچائی کے نظریے میں اس کے ٹھوس ہونے کا اعتراف بھی اہمیت رکھتا ہے۔ سچائی کا ٹھوس ہونا، اس کی قطعیت سب سے پہلے یہ مان کر آگے بڑھتی ہے کہ ان ساری مشرطوں اور حالات کا صحیح حساب لگایا گیا جن میں ادراک کا معروض واقع ہے، خاص اور جوہری خواص، تعلق، رجحانات ارتقا کو الگ کر لیا گیا ہے۔ ایک سادہ مثال لیجئے۔ فرض کیجئے ہم دعویٰ کریں کہ بارش برکت (مفید)ہے یا بارش لعنت (نقصان دہ) ہے۔ تو کون سا دعویٰ درست ہو گا؟ اس سوال کو ٹھوس حالات کا حساب لگائے بغیر یک طرفہ طور پر حل نہیں کیا جا سکتا ۔ بارش بوائی کے بعد یا انکھوے نکلنے کے وقت بلا شبہہ مفید ہے لیکن فصل کٹنے کے وقت وہ نقصان دہ ہے۔
زیادہ پیچیدہ سوالات کو حل کرنے میں سچائی کی قطعیت کا علم حاصل کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ سرمایہ داری کے ارتقا کے ماقبل سامراجی مرحلے پر سوشلسٹ انقلاب بہ یک وقت سارے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ملکوں میں فتحمند ہو سکتا تھا لیکن سامراجیت کے دور میں صرف ایک ملک میں جو سب سے کمزور کڑی تھا۔ اسی طرح جنگ کے سوال کا بھی تصفیہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں، جنگیں حق بجانب بھی ہوتی ہیں اور ناجائزو ناروا بھی۔ اس کا تعین ان کے سیاسی مافیہ سے ہوتا ہے۔ یوں سماجی اور قومی استبداد سے آزادی حاصل کرنے کے لئے، اپنی ریاستی خود مختاری کی مدافعت کے لئے، سامراجی جارحیت کے خلاف جو جنگیں عوام کرتے ہیں انہیں مارکسزم حق، بجانب سمجھتا ہے۔ جو جنگیں استحصال کرنے والے طبقے یا قومیں محکوم ومجبور طبقوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کے مقصد سے، دوسرے کی سر زمین پر قبضہ کرنے، دوسری قوموں کو غلام بنانے کے لئے کریں وہ ناجائز وناروا ہیں۔
لیکن سچائی اور فریب میں امتیاز کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب مارکسزم یہ دیتا ہے کہ صرف عمل میں ہمارے علم کی سچائی مسلم اور موثق ہوتی ہے۔ صرف عمل ہی میں ہم سچے علم کو جھوٹے علم سے الگ کر سکتے ہیں۔ اس لئے قدرتی بات ہے کہ سرگرمی کا نتیجہ براہ راست اس پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ شے کے علم سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں جس پر ہماری سرگرمی کا رخ تھا۔ اگر علم صحیح ہے اور حقیقت کی درست عکاسی کرتا ہے تو اس سے ہماری بامقصد سرگرمی کا میابی کے ساتھ انجام پا جائے گی اور ضروری نتیجہ حاصل ہو جائے گا۔ جھوٹا خیال مختلف نتیجے کا موجب ہو گا۔ چنانچہ حرکت استمراری والی مشین کی تعمیر کا خیال جھوٹا ثابت ہوا اس لئے کہ وہ معروضی قانون کی تردید کرتا تھا۔
لیکن سچائی کو حاصل کر لینا کافی نہیں ہے۔ اسے برقرار رکھنا اہم ہے۔ سائنس کی تاریخ میں سچائی کی اذیت ناک تلاش اور اس کے لئے سخت جدوجہد کی مثالیں کم نہیں ہیں سچائی کے لئے جدوجہد نے اطالوی فلسفی جیودانو برونو اور اسپینی مفکر اور طبیب میکائیل سیرو یتس کو انکوئزیشن کے دہکتے الاؤ تک پہنچا دیا ور سچائی کی تلاش میں علم ہیئت کے عظیم ماہر تیخودی برا ہے کی راہ حیات انتہائی دشوار گزار بنا دی گئی تھی۔ سچائی کی تلاش میں بہت سے سائنس دانوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں۔ پلینی بزرگ کوہ آتش فشاں ویزو ویئس کے پھٹنے کا مشاہدہ کرتے ہوئے مرگیا اورا یک تجربہ کرنے کے دوران میں فرانسس بیکن مر گئے۔ بہت سے ترقی پسند سائنس داں، سیاسی اور سماجی کارکن، امن اور انصاف کے مجاہد لوگوں تک سچائی کی روشنی پہنچانے کی کاوش میں اذیتوں اور مظالم کے شکار ہوئے۔ انہیں میں پاترس لو ممبا، سلوا ڈور آلیندے، مارٹن لوتھر کنگ تھے۔ سائنس کا ذکر کرتے ہوئے کا رل مارکس نے دانتے کے الفاظ کا ترجمہ کیا ہے جو ہم ان تمام لوگوں سے منسوب کرتے ہیں جو سچائی کی تلاش کرتے ہیں اور اس کے لئے جدوجہد کرتے ہیں:
یہاں ضروری ہے کہ دل مضبوط ہو، یہاں خوف وبزدلی کو مشورہ نہ دینا چاہئے۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2008. All rights reserved.