تفکر کی بیداری
ظاہر ہے کہ روز مرہ زندگی کے عام سوالوں پر غور و فکر کرنے کے لئے دنیا کے بارے میں کچھ نہ کچھ کم سے کم علم ہونا ضروری ہے جس سے غور فکر کے لئے غذا ملتی ہے۔ صدیوں بلکہ ہزاروں سال تک انسانیت کے ”حافظے“ میں سورج گرہن اور دریاؤں میں سیلاب آنے کے اسباب کے بارے میں الگ الگ مشاہدے جمع ہوتے رہے، زندگی کے جنم لینے اور فی الحقیقت اس کے ناپید ہو جانے کے اسباب کے بارے میں، جسم انسانی کی ساخت کے بارے میں قیاسات پیدا ہوتے رہے۔
لیکن قدیم دنیا کے انسان میں بہت دنوں تک یہ صلاحیت موجود نہ تھی کہ وہ الگ الگ حقیقتوں کی تعمیم کر سکے۔ چیزوں کے متعلق عام تصورات کی تشکیل کرنے کے لئے اس کا ذہن تیار نہیں ہوا تھا اس لئے انسان مخصوص (مظہروں) سے تجرید نہیں کر سکتا تھا۔ مثلاًہم جانتے ہیں کہ ”نیکی “ ایک تجرید ہے یعنی ایک تعمیم کردہ خیال جس کی تشکیل بہت سے نیک لوگوں سے، ان کے قطعی طور پر اچھے، نیک برتاؤ سے ہماری واقفیت کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ ہم گویا اس خیال کے غیر اساسی پہلوؤں سے خود کو الگ یعنی اپنی تجرید کر کے اس میں جو خاص اور بنیادی ہے اس پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ چنانچہ نیکی، جیسے کہ بدی کسی ٹھوس ہستی یا شے کی حیثیت سے وجود نہیں رکھتی۔ یہ صرف خاص خاص لوگوں اور ان کے برتاؤ کے پہلو اور خصوصیات ہیں۔ لیکن قدما تجریدوں کو اس طرح دیکھتے تھے جیسے وہ الگ الگ چیزوں کی حیثیت سے وجود رکھتی ہوں۔وہ ان تجریدوں کے مظہروں کو ٹھوس شکلوں سے الگ نہیں کر سکتے تھے۔ اس طرح قدیم یونانی دیو مالا میں پنڈورا کے صندوق والے قصے میں بدی کو یوں پیش کیا گیا ہے جیسے وہ بالکل ٹھوس شے ہو۔ ایپی# میتیئس کے گھر میں وہ صندوق رکھا تھا جس میں بدی سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔ اس کی متجسس بیوی پنڈورا# نے صندوق کا ڈھکنا کھول دیا اور بدی ہر طرف کواڑ گئی۔ اور یوں، قدما کے خیال کے مطابق، لوگوں کے درمیان بدی کا ظہور ہوا۔
اپنے ارتقا کے مخصوص مرحلوں پر دنیا کی ساری قومیں اس خصوصیت کی حامل رہی ہیں__عام کوانسان نے محض ٹھوس نہ نظر آنے والی تمثیل کے ذریعے قبول کیا۔چنانچہ ایک افریقی قوم اشانتی میں ہمیں دانش کاایسا ہی ”مادی“ تصور ملتا ہے۔ مکڑا انانسی ساری دنیا میں مارا مارا پھرتا رہااور دانش کے ذرّے چن چن کر ایک برتن میں جمع کرتا رہا۔ جب اس نے پورے برتن بھر دانش جمع کرلی تو وہ چاہتا تھا کہ اسے ایک پیڑ پر چھپا دے۔ مگر اس کو اپنے بیٹے پر غصہ آگیا اور اس نے وہ برتن زمین پر پھینک دیا۔ برتن گرا اور ٹوٹ گیا۔ سارے لوگ دوڑ کر دانش کے ذروں کو چننے لگے۔ جن لوگوں کو دیر ہو گئی اور ایک ذرہ بھی ان کے ہاتھ نہ لگا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے احمق رہ گئے۔
بہت زمانے تک لوگوں کی زبانوں میں اردگرد کی دنیا کی چیزوں اور اعمال کی عام خصوصیات کے اظہار کے لیے الفاط ہی نہیں تھے۔ چنانچہ اقوام مشرقی کی قدیم ترین زبانوں میں سے ایک، سمیری، میں ”قتل کرنے“ کے لئے کوئی لفظ نہیں تھا۔ جب لوگ اس بات کی اطلاع دنیا چاہتے تھے کہ کسی کوقتل کر دیا گیا تو وہ لفظ استعمال کرتے تھے جس کے معنی ہوتے تھے ”سرپر ڈنڈا مارنا“۔
تعمیم کرنے کی صلاحیت کے لئے لزوم واتفاق میں، علت و معلول میں تمیزکرنے کی اہلیت درکار ہوتی ہے۔ یہ صلاحیت بھی فوراً شکل پذیر نہیں ہوگئی۔ ابتدائی دور کے انسان نے اشیاء یا مظہروں کے درمیان خارجی مماثلت دیکھ کر یہ نتیجہ نکالا کہ ان کے درمیان کوئی اٹوٹ تعلق ہے۔ چنانچہ جنوبی امریکہ کی وادی اور لینوکو میں رہنے والے ایک ریڈانڈین قبیلے کا خیال تھا کہ بوائی کاکام صرف عورتوں کو کرنا چاہئے۔ چونکہ عورت بچہ جنتی ہے اس لئے مطلب یہ ہوا کہ اگر زمین میں بیج عورت کے ہاتھوں سے پڑے گا تو زمین بھی اچھی فصل دے سکتی ہے۔ مثلاً یوگنڈا میں ا بھی بھی تک لوگوں کا عقیدہ ہے کہ بانجھ عورت اپنے شوہر کے کھیت اور باغ کو بھی بانجھ بنا دیتی ہے۔
زمانہ قدیم میں انسان خود کو فطرت سے الگ نہیں کرتاتھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ خود فطرت بھی انسانوں ہی جیسی ہستیوں سے، پانی، آگ، ہوا، زمین کی روحوں سے آباد ہے۔ فطرت کو یوں ”انسان نما بنانے “ کی باقیات یوگنڈا کے بہت سے قبیلوں میں اب تک محفوظ ہیں۔ اردگرد کی ساری دنیا روحیں ہیں جنہیں ”جوک“ کہا جاتا ہے۔ جوک پوری طرح سے ٹھوس سمجھے جاتے ہیں۔ اور جو لوگ ان پر عقیدہ رکھتے ہیں ان کی دانست میں حقیقی وقابل لمس ہیں۔ مرنے کے بعد انسان خود جوک بن جاتا ہے، قبیلے کے سردار کی سر پرستی کرنے لگتا ہے اور اس کے قبیلے کے لوگوں کی مدد کرتا ہے یا انہیں سزا دیتا ہے۔
اس طرح ابتدائی قدیمی شعور میں فطرت کی دنیا اور انسان کی دنیا، چیزوں کی دنیا اور روحوں کی دنیا باہم وابستہ وپیوستہ تھی۔ انسان فطرت کی قوتوں کے ساتھ اسی طرح برتاؤ کرتا تھا جیسے وہ جاندار ہستیاں ہوں__طوفانوں، اولوں اور قحط کے لئے ان پر غصہ کرتا تھا، اچھی فصل کے لئے زمین کا شکریہ ادا کرتا تھا اور بہت انتظار کے بعد بارش ہوتی تو آسمان کا شکر گزار ہوتا۔
اسی طرح تجریدی خیال کی تشکیل نہ کر سکنا، اہم کو غیر اہم سے الگ کرنے کی صلاحیت نہ ہونا، عقل پر جذبات کا غلبہ __یہ ہیں ابتدائی قدیمی انسان کے شعور کی خصوصیات۔ دور حاضر کے عظیم مفکرو شاعر رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنی ایک نظم میں اس طرح کے شعور کا انتہائی صحیح نقشہ کھینچاہے:
ناسمجھ ذہن چاہتا ہے چلے
خود کو تاریخ میں تلاش کرے،
راستے کا مگر نہیں ہے پتہ،
حجرے سے صحن میں نکل آیا
وسعتوں، کھیتوں، جنگلوں میں پھرا۔
ٹھوکروں سے اڑی جو دھول گئی
آسمانوں تلک، وہ چیخ اٹھا
سرکو پیڑوں پر اس نے دے مارا۔
روشنی دیکھی دور پر، لپکا
گرد اس کے طواف کرنے لگا،
چاہا بس اس کو قبضے میں کرلے۔
بچے کی طرح اوندھے منہ وہ گرا اور بے سدھ ہے گھاس پر وہ پڑا۔
سب ہے گڈمڈ، پتہ نہیں چلتا
کیا ہے خواب اورہے حقیقت کیا۔
ابتدائی قدیمی شعور اور دور حاضر کے انسان کے خیالات و احساسات میں اتنا شدید فرق دیکھ کر کئی مفکر اس نتیجے پر پہنچے کہ فلسفہ اپنے آپ، محض قدرتی اسباب کی قوت سے، وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ فلسفہ بلند تر خدائی قوتوں کا خاص عطیہ ہے جو ”منتخب“ لوگوں کو اور سب سے پہلے مغربی یورپی قوموں کو بخشا گیا ہے۔ 19ویں صدی کا انگریز فلسفی اور عمرانیات داں ہربرٹ اسپنسر# سمجھتا تھا کہ نیگرو اپنی فطرت کی بناپر تجریدی تفکر کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا، وہ صرف ٹھوس تمثیلوں میں سوچ سکتا ہے، اس کے جذبات اس کی عقل پر غالب ہوتے ہیں۔ وہ پیچیدہ فلسفیانہ خیالات کا تصور ہی نہیں کر سکتا۔
20ویں صد ی میں دوسرا نقطہٴ نظر مقبول ہوگیا جس کے طرفداروں کا کہنا ہے کہ انسان علم کی کاوش میں فطرت کی ساتھ، دوسرے لوگوں کے ساتھ اپنے اتحاد سے محروم ہو گیا۔ صرف مشرق کی قومیں اپنی خاص، پیدا ئشی صفات کی بنا پر اس ابتدائی قدیمی ”سا لمیت“ کو برقرار رکھ پائیں۔ اسی لئے ان میں تجریدی تفکر کی، مبنی بر تعقل فکر کی صلاحیت نہ ہونا، فلسفے کی اہلیت نہ ہونا کوئی لعنت نہیں بلکہ برکت ہے۔ سینیگل کے شاعر، فلسفی اور ریاستی رہنمالیو لدسینگور نے لکھا کہ ”سیاہ فام لوگوں کی خاصیت ہے جذبات، یونانیوں کی خاصیت ہے عقل“، افریقی تفکر تمثیلی اور شاعرانہ ہے۔ ایک ”افریقی شخصیت“ کے حامی جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں وہ نسل پر ستوں کے اس دعوے سے مماثلت رکھتا ہے کہ افر یقیوں میں اپنی سائنس کی، اپنے فلسفے کی تشکیل کر سکنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں، ایسا سوال بھی، جیسا کہ فلسفے کے ظہور کی شرائط اولین، جو معاصرانہ مسائل سے بہت ہی دور لگتا ہے، خیالات کی جدوجہد کا موضوع بنا ہوا ہے۔
آئیے دیکھیں کہ قدیم انسان کے تفکر، اس کے شعور کی ایک خاص قسم کو کس چیز نے جنم دیا۔ غالباً جواب کی تلاش عملی سرگرمی اور محنت، رو زمرہ زندگی، لوگوں کے باہمی رشتوں کے حالات میں کرنی چاہئے۔ بغیر کسی استثنیٰ کے ساری قومیں ارتقا کے اس مرحلے پر پہنچیں۔ جس کی خاصیت ہے محنت کے ابتدائی اوزار۔ غذا دستیاب کرنے کے لئے انسان کو گھنٹوں تھکا دینے والی محنت کرنی پڑتی تھی۔وہ پوری طرح فطرت کا، اس کے ”واہموں“کاتابع تھا۔ اس لئے روحیں، جو ابتدائی قدیمی تفکر کی دوراز کا رپرواز کی پیدا وار تھیں، ”عملی“ اہمیت کی حامل ہو گئیں۔ ان سے کچھ بھی مفید عمل کرنے کی گزارش کی جاسکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم انسان نے یونان میں جنگوں، کھیتوں، دریاؤں کو بے شمار بن پریوں سے، روس میں جل پریوں، گھریلو نیک دل بھوتوں، پریتوں سے افریقہ میں جوکوں سے آباد کر دیا۔
چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ فطرت کی قوتوں کے سامنے انسان کی بے بسی، علم دانش اور تجربے کو فقدان نے ”ابتدائی قدیمی تفکر“ کو جنم دیا۔ اب ہمارے زمانے میں اس کو جوں کاتوں برقرار رکھنے کی کوشش کا مطلب ثقافت کے ارتقا اور ترقی میں رکاوٹ ڈالنا ہوگا۔