سروجنی نائیڈو بیک وقت انگریزی کی ایک عظیم شاعرہ، عظیم مجاہدہ آزادی، دانشور و مدبّر خاتون کے ساتھ ساتھ زبردست قائدانہ صلاحیت کی حامل، آتش بیاں مقرر، سچی محب وطن اور ہندو مسلم اتحاد و یگانگت کی حامی تھیں۔
سروجنی نائیڈو 13فروری 1879کو حیدرآباد کے ایک بنگالی برہمن خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والداگھورے ناتھ چٹوپادھیائے ایک سائنس داں اور ماہر تعلیم تھے اور نظام کالج حیدرآباد کے پرنسپل بھی رہے۔ ان کی والدہ سنسکرت زبان کی ماہر اور بنگالی زبان کی شاعرہ تھیں۔ سروجنی نائیڈو اپنے والدین کی آٹھ اولاد میں سب سے بڑی تھیں۔ ابتدائی تعلیم مدراس میں ہوئی۔ پڑھنے میں ذہین تھی اس لیے صرف بارہ سال کی عمر میں دسویں جماعت کا امتحان پاس کر لیا۔ پوری مدراس پریزیڈنسی میں اول آنے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ بھیجا گیا۔ لندن میں انھوں نے کنگز کالج اور کیمبرج کے گِرٹن کالج میں داخلہ لیا۔ لیکن انھوں نے پڑھائی لکھائی میں زیادہ دلچسپی نہیں لی۔
سروجنی نائیڈو کو شاعری ورثے میں ملی تھی۔ حالانکہ ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ سائنس کے میدان میں کوئی کارنامہ انجام دیں۔ لیکن ایک چھوٹے سے واقعے نے ان کی اس سوچ کو تبدیل کردیا۔ ہوا یوں کہ ایک بار سروجنی الجبرا کے ایک مسئلے کا حل نکالنے میں ناکام رہیں۔ لیکن اسی دوران انھوں نے ایک نظم لکھ ڈالی۔ اپنی بیٹی کی اس پوشیدہ صلاحیت سے متاثر ہو کر انھوں نے اسے شاعری کی ترغیب دی۔ انگریزی زبان میں ان کی نظمیں اگھورے ناتھ کو اتنی اچھی لگیں کہ 1903 میں ان کی نظموں کا ایک مجموعہ شائع کرادیا۔
انگلستان میں قیام کے دوران سروجنی نائیڈو کے دوستوں اور اس وقت کی ادبی ہستیوں نے ان کی شاعری کی بہت تعریف کی۔ ان اشخاص نے سروجنی کو اپنی شاعری میں ہندوستانیت کو موضوع بنانے کی ترغیب دی۔ وہ تقریباً اگلے بیس سال تک نظمیں لکھتی رہیں اور اس عرصے میں ان کی نظموں کے تین مجموعے شائع ہوئے۔ سروجنی نائیڈو کی نظموں کے پہلے مجموعے”سنہری دہلیز“ (1905) کی خوب پذیرائی ہوئی۔ انگلستان کے اخبارات میں اس مجموعہ پر تبصرے شائع ہوئے۔ ”سنہری دہلیز“ کے بعد ان کا دوسرا مجموعہ ”وقت کا پرندہ“1912 میں منظر عام پر آیا۔ ان کی نظموں کا تیسرا مجموعہ ”شکستہ پر“ 1917 میں شائع ہوا اور آخری شعری مجموعہ۔ ”بانسری ایک عصائے شاہی“ 1937 میں زیورِ اشاعت سے آراستہ ہوا۔
بلاشبہ ان کی شاعری نے جدید ہندوستانی ادب پر واضح نقوش چھوڑے ہیں۔
سروجنی نائیڈو 1895-1898 تک انگلستان میں رہیں اور وطن واپس لوٹنے کے بعد ڈاکٹر گووند راجو لونائیڈو سے شادی کر لی جو فوج میں ڈاکٹر تھے۔
1905 میں لارڈ کرزن نے بنگال کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کے خلاف بدیسی مال کے بائیکاٹ سے سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی۔ اس عوامی تحریک میں سروجنی نائیڈو کے کردار کو تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ بڑے بڑے سیاسی جلسوں میں سروجنی نائیڈو نے انتہائی سحر انگیز تقریریں کیں۔ کم سنی کے باوجود ان کی جادو بیانی سے طلبہ برادری ان کی گرویدہ ہو گئی۔1917-1919 کے دوران انھوں نے جملہ عظیم سیاسی مسائل میں سرگرم حصہ لیا۔
گوپال کرشن گوکھلے کے مشورے پر وہ سرگرم طور پر قوم کی خدمت کے لیے تیار ہو گئیں۔ اور اپنی زندگی اور اپنے گیت اپنی قوم کے لیے وقف کر دیے۔ لندن میں قیام کے دوران ان کی ملاقات گاندھی جی سے بھی ہوئی تھیں۔ اور اس ایک ملاقات نے گویا ان کی آئندہ زندگی کا راستہ طے کر دیا۔ گاندھی جی جب جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے خلاف ہندوستانیوں کا ساتھ دے رہے تھے تو اس وقت سروجنی نائیڈو نے بھی ایک فعال رضاکار کے طور پر کام کیا۔ آزادی کا پرچم بلند کرنے کے لیے وہ پورے ہندوستان کا دورہ کرتیں اور ہندو مسلم اتحاد پر بھی زور دیتی تھیں۔ ان کے بقول متحد ہوئے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہندو، مسلم ایک پلیٹ فارم پر آجائیں۔
سروجنی نائیڈو انڈین نیشنل کانگریس کی ایک بڑی رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں اور 1925 میں انڈین نیشنل کانگریس کے کانپور اجلاس میں وہ صدر منتخب ہوئیں۔ اپنے صدارتی خطبے میں سروجنی نائیڈو نے ہندوستان کی سماجی، اقتصادی اور صنعتی ترقی پر زور دیا۔ ہندوستان کو ایک آزاد اور خود مختار ملک بنانے کے لیے مل جل کر کام کرنے کی تلقین کی۔ انھوں نے اپنی تقریر کو ان الفاظ کے ساتھ ختم کیا۔ ”آزادی کے لیے لڑائی میں خوف ایک ناقابل معافی غدّاری ہے اور مایوسی ایک ناقابل معافی گناہ۔
پنجاب کے شہر امرتسر میں 1919 میں جلیانوالا باغ کے قتل عام سے پوری قوم غصے سے بھڑک اٹھی۔ رابندر ناتھ ٹیگورنے اس وحشیانہ حرکت کے خلاف ’سر‘ کا خطاب واپس کر دیا اور سروجنی نائیڈو نے بھی ”قیصر ہند“ کا میڈل لوٹا دیا جو ان کی سماجی خدمات کے صلے میں انھیں ملا تھا۔ آزادی کے عہدنامے پر دستخط کرنے والے رضاکاروں میں سروجنی نائیڈو بھی شامل تھیں۔1930 کے مشہور ’نمک ستیہ گرہ‘ کے دوران وہ مہاتما گاندھی جی کے شانہ بہ شانہ رہیں۔ اور گاندھی جی کی گرفتاری کے بعد وہ اس تحریک کی قیادت اس وقت تک کرتی رہیں جب تک کہ وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ خود گرفتار نہ ہوگئیں۔
سروجنی نائیڈو کے اس عزم اور حوصلہ نے آزادی کے متوالوں کے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔ ان لوگوں کے اندر نیا جوش پیدا ہوگیا۔ اسی دوران 8اگست 1942 کو کانگریس کے بمبئی اجلاس میں گاندھی جی نے انگریزوں کو ہندوستان چھوڑنے کا الٹی میٹم دے دیا۔ ہندوستان چھوڑو تحریک زور پکڑنے لگی۔ ”کرویا مرو“ کا نعرہ بلند ہونے لگا۔ 8اگست کی آدھی رات کو گاندھی جی اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ تقریباً دو سال بعد گاندھی جی اور کانگریس کے دوسرے رہنما ایک ایک کرکے رہا کیے گئے۔
آزادی کے بعد سروجنی نائیڈو کو اتر پردیش کا گورنر بنایا گیا اور وہ اپنے سرکاری فرائض بڑی حسن و خوبی کے ساتھ انجام دینے لگیں۔ 30 جنوری 1948 کو گاندھی جی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ سروجنی نائیڈو نے ان الفاظ میں گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ”ان کے لیے عظیم موت صرف یہی تھی ذاتی سوگ منانے کا وقت ختم ہوا اب وقت ہے کھڑے ہوکر یہ کہنے کا جن لوگوں نے گاندھی جی کو اپنا کام کرنے سے روک دیا ان کی چنوتی اب ہم قبول کرتے ہیں۔
سروجنی نائیڈو نے عورتوں کی آزادی، مساوات اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے نئی نسل میں بیداری اور شعور پیدا کیا۔ چنانچہ آل انڈیا ویمنس کانفرنس جیسی تنظیم کا قیام انھیں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ عورتوں کے حقوق کے لیے وہ ہمیشہ فعال رہیں اور عورتوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں سے وہ پریشان ہو جاتی تھیں، وہ تعلیم نسواں پر بہت زور دیتی تھیں۔ ان کے مطابق ”تعلیم حاصل کرکے ہی ایک عورت اپنے گھر اور سماج کے لیے بہترین کام کر سکتی ہے۔“ عورتوں کی فلاح سے غیر معمولی دلچسپی کے باعث سروجنی نائیڈو کے یوم ولادت یعنی 13 فروری کو ”یوم خواتین“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔’موت سے کس کو رستگاری ہے‘ کے مصداق 2 مارچ 1969 کو اس عظیم مجاہدہ ¿ آزادی کا انتقال ہوگیا۔