ادب >> عالمی ادب >> جاپانی ادب >> کنزابورواواے
ادب
کنزابورواواے
تحریر:ڈاکٹر تبسم کاشمیری

6دسمبر 1994ء کو مغرب کے نیلے آسمانوں پر اڑتا ہوا اواے کا جہاز جب سویڈن کے شہر سٹاک ہوم کے ہوائی اڈے پر اترا تو اس کے بچپن کی ایک پیش گوئی پوری ہو چکی تھی اواے کا بچپن شکوکو Shikokuکے پہاڑی جنگلوں میں رہتے ہوئے گزرا تھا جہاں نلز کی عجیب مہمات The Wonderful Adventures of Nils پڑھتے ہوئے اس کے ذہن میں دو پیش گوئیاں پیدا ہوئی تھیں اول یہ کہ ایک نہ ایک دن شاید اپنی پیاری جنگلی بطخوں کے ساتھ اڑنے لگے اور اڑتے اڑتے سیکنڈے نیویا کی سرزمین پر پہنچ جائے ۔
2دسمبر 1994ء کو اس کے بچپن کا یہ خواب پورا ہو گیا تھا اوراوائے اپنی پیاری بطخوں کے ساتھ اڑتے اڑتے سویڈن کے آسمانوں تک جا پہنچا جہاں سٹاک ہوم میں اسے 8 دسمبر کو دنیا کا سب سے بڑا ادبی انعام دیا جانے والا تھا ۔
اواے 1935ء میں جاپان کے جزیرے شکوکوکے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ ٹوکیو یونیورسٹی سے فرانسیسی ادب میں تعلیم حاصل کی اپنے زمانہ تعلیم ہی سے اوائے ایک غیر معمولی ذہانت رکھنے والا ادیب سمجھا جانے لگا تھا ۔ سی لئے اواے ان جاپانی ادیبوں کی صف اول میں شامل ہے جنہوں نے یورپ یا ایشیا کے ادب کو جاپانی یا انگلش ترجمہ کی مدد سے نہیں پڑھا ۔ وہ کئی زبانوں پر عبور رکھتا ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دانتے کو اطالوی میں ، کنفیوشس کو چینی می ، ولیم فاکنر کو انگلش میں اور سارتر کو فرانسیسی اور روسی ادیبوں کو روزی زبان میں پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس کی ادبی ذہانت کے اعتراف کے طور پر اسے زمانہ طالب علمی میں ہی جاپانی ادب کا ایک باوقار انعام آکوتا گاوا انعام Akutagawa Prizeدیا گیا ۔ یہ انعام اسے ایک کہانی The Catchپر ملا تھا اوراس وقت اس کی عر تیتیس برس تھی ۔ اواے کا تعلق جاپان کی اس نسل سیہے جو جاپان کی قدامت پسندجنگ اور ابہام کے خلاف ہے اور انسانیت پر سی ، جمہوریت اور آزادی کے حق میں ہے ۔ جاپانی تہذیب اور سیاست پر س کی تیز و تند مگر حقیقت پرستانہ تنقید کو جاپان کے روایتی حلقے پسند نہیں کرتے تھے مگر اوائے کسی بھی خوف کے بغیر نئے جاپانی سماج کی تخلیق کے لئے کوشاں رہا ۔
اوائے نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی کے دوران میں بے تحاشا ادبی کام کیا ہے مگر اس کے کام کا بہت کم ترجمہ انگلش میں ہو سکا ہے ۔ اس کام میں اس کے دو ناول ” ذاتی مسلہ The Personal Matter اور خاموش چیخ The Silent Cryشامل ہیں ایک ہیرو شیما کے شذرات Hiroshima Notesاور چند کہانیوں کے ترجمے ملتے ہیں ۔
اوائے آج کل ٹوکیو میں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہے ۔ اس کا تخلیقی سفر جاری ہے ان ہی دنوں میں اس نے تین جلدوں مشتمل اپنے ضخیم ناول کی تیسری جلد مکمل کی ہے اور اس کا نام ایک سبز پیٹر شعلوں میں ڈبلو بی اینس کیا یک نظم تذبذب Vaclilationکے ایک استانزے پر رکھا گیا ہے
Atree there is that from its topmost bough is haif all glittering flame and half all green abounding foliage moistened with the dew -
اوائے کا اصرار ہے کہ یہ اس کا آخری ناول ہوگا مگر یورپ کے حالیہ سفر سے واپسی پر اس نے نئی تخلیقی تابناکی کا تجربہ کیا ہے اور شاید اب وہ جاپانی ادب کے لئے مزید تجربات کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے ۔
نوبل انعام ملنے کے بعدجاپان کے ادبی حلقوں میں یہ خوش گوار تاثر پیدا ہوا ہے کہ اب جاپانی قارئین توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ اوائے کی کتابوں کا مطالعہ کریں گے یہاں اس بات پر بھی دانش ور حلقوں میں افسوس کیا جاتا رہا ہے کہ اوائے کی تخلیقات کی قدرو منزلت یورپ کے ادبئی حلقوں می نسبتاً زیادہ رہی ہے جہاں اس کی اعلی فنی استعداد کا اعتراف کیاجاتا رہا ہے ۔ مگر اس کے اپنے ملک میں سنجیدہ قارئین کی وہ کثیر تعداد میسر نہیں تھی جس کا وہ مستحق تھا ۔ اس کی وجہ آخر کیا ہے ؟ اس پر ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے اوائے کے بارے میں ایک ہی بات کہی جاتی رہی ہے کہ وہ بہت مشکل ہے یہ بت تو اتر سے کہی گئی ہے اس کے ایک ناشر کا بھی یہی کہنا ہے کہ اوائے بہت اوق ہے ۔
جاپانی ادب کے امریکن نقاد جے نامس رمر کے بقول اوائے کے ایک مبصر نے ایک بار اس کے ایک ناول کو ” دانت کے درد “ سے تعبیر کیا تھا مگر ایک ایسے درد سے جو جڑوں تک جا پہنچتا ہے او رپڑھنے والا مجبور ہو کر اس کے درد کی آگاہی کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے ۔ اوسا کا میں جس کسی سے بھی میں نے پوچھا کہ اوائے کیسا ادیب ہے تو ہر کسی سے ایک ہی جواب ملا ” صاحب وہ تو بہت مشکل ہے “ مرے اپنے بعض پڑھے لکھے دوستوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اوائے کا مطالعہ نہیں کیا ہے پورے جاپان میں یہ بات مشہور ہے کہ اوائے بہت مشکل ہے صاحب وہ بہت مشکل ہے
شاید دنیا کی اعلی ترین صنعتی ترقی سے مزین اس قوم کے پاس اپنی شبانہ رو زکی شدید محنت کے بعد جووقت بچتا ہے وہ اسے صارفین کے ادب پر صرف کر دیتی ہے یا میشیما کاواباتا اور تافی زاکی اور نئی نسل بنانا پوشی موتو کو پڑھنا پسند کرتی ہے یہ سب اسلوب ہے جسے لوگ بہت پسند کرتے ہیں مگر اوائے کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ اس کے اسلوب سے وہ مانوس نہیں ہیں اوائے کے بہت مشہور ناول خاموش چیخ The Silent Cryکے مترجم جان بیسٹر کا کہنا یہ ہے کہ اوائے کے جاپانی اسلوب کو دیکھت ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم انگلش سے ترجمہ شدہ کوئی تحریر پڑھ رہے ہیں ممکن ہے یہ اسلوب عام قاری کو پسند نہ آتا ہو اور دوسرے اس کے ہاں معنوی گہرائی بھی ہے ۔ اس کی تحریر کو پڑھتے ہوئے قاری آسانی سے آگے نہیں برھ سکتا ۔ اس کو روکنا پڑتا ہے اور جاپانی قاری جو سب وے یا ریل گاڑی میں سفر کرتے کرتے پڑھتا جاتا ہے ۔ وہ صرف اس وقت رکنے کا عادی ہے جب اس کا سٹیشن آچکا ہو ۔ اور اب اوائے کے مقام کو دیکھئے تو اس کا شمار ان اعلی ادیبوں میں ہوتا ہے جو صرف سنجیدہ ادب تخلیق کرنے پر یقین رکھتے ہیں اوائے ان تمام ناول نگاروں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا کہ جن کے ناول ٹوکیو کے صارفین کی وسیع ثقافت اور دنیا کی ذیلی ثقافتوں کو پیش کرتے ہیں اور ایسے تمام ناول نگاروں کامقصد قاری کو اس کے سٹیشن تک پہنچا دیتا ہے اور بس ۔
چھ دسمبر 1994ء کو جاپانی سٹلائٹ ٹی وی پر دکھایا جارہا تھا کہ اوائے نوبل انعام پانے کے لئے سویڈن پہنچ چکا ہے ۔ گھوم پھر رہا ہے پھر اسے کتابوں کی ایک بڑی دکان پر دکھایا گیا جہاں اس کے مداح قطار لگائے کھڑے تھے اور وہ اپنے خاص جاپانی برش سے دستخط شدہ نسخے فروخت کر رہا تھا۔ اس مقام پر بعض مقامی مداحوں کے ارویو بھی دکھائے گئے جو اوائے کے فن کے لئے تو صیفی کلمات ادا کر رہے تھے بالخصوص اس کے ہاں قصہ پن اور خیال افروزی کی تعریف کی جا رہی تھی ظاہر ہے یہ لوگ نقاد نہیں تھے عام قسم کے عقیدت مند قاری تھے جو 1994ء میں نوبل انعام پانے والے ایشیائی ادیب کو دیکھنے کے لئے آئے تھے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی اوائے کے مشکل ہونے ک مسئلہ کھڑا نہیں کیا شاید وہ مشکل پن سے پیدا ہونے والی خیال افروزی اور اس کے اسلوب کی بے پناہ زرخیزی کی تعریف کر رہے تھے ۔
نوبل انعام کے اعلان کے بعد ٹوکیو کے ایک ٹیلی ویژن سٹیشن نے اوائے کی مادر علمی اور ملک کی سب سے پروقار ٹوکیو یونیورسٹی کے چالیس طلبہ کا انٹرویو کیا تو یہ انکشاف ہوا کہ چالیس میں سے صرف چھ طلبہ نے اس کے ناول پڑھے تھے مگر وہ ایک سے زیدہ ناول پڑھنے کی ہمت نہ کر سکے تھے کہ اوائے کا اسلوب خیال اور کہانی کا انداز بہت مشکل تھا ۔ خود میں نے اوسا کا یونیورسٹی آف فارن سٹڈیز کے شعبہ اردو کے تقریباً پچاس طلبہ سے جب یہ دریافت کیا کہ انہوں نے اوائے کو پڑھا ہے یا نہیں … تو ایک بھی طالب علم ہاں میں جواب نہ دے سکا ۔ وجہ صرف یہ ہے کہ جاپانی قارئین جانتے ہیں کہ اوائے آج کل کے ان ادیبوں میں سے نہیں ہے کہ جو صرف پیسہ کمانے کے لئے دلچسپ تحریریں دھڑا دھڑ لکھتے چلے جاتے ہیں ۔ مشکل یہ ہے کہ اوائے عام قاری کا مصنف نہیں ہے اس کا تخلیق کردہ ادب سنجدہ قارئین کے لئے ہے جو کسی نہ کسی حد تک سوچ اور فکر کی ایک سطح رکھتے ہیں۔ وہ آسانی سے عام قاری کے ذہن کے اندر نہیں اترتا وہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس کی بات سنجیدگی سے سنی اور سمجھی جائے وہ قاری کی ذہنی سطح پر نہیں اترتا بلکہ قاری کو پکارتا ہے کہ اس کا ذہنی سطح تک بلند ہو کر اسے دیکھے سوچے اور سمجھے ۔
اوائے کی مشکل پسندی کا تاثر جاپان میں اس حد تک عام ہے کہ نوبل انعام ملنے کے اعلان کے بعد جاپان کے کثیر الاشاعت اخبار ” یوی اری “ نے مبارک باد کاپر مسرت اداریہ لکھتے ہوئے یہ اقرار کیا کہ اوائے کے ادب پرتنقید کی جاتی ہے کہ وہ ادق ہے اور اسے سمجھنا دشوار ہے اخبار نے اس کا سبب یہ بتایا کہ اس کا خیال اور منطقن پیچیدہ ہے ۔
اوائے کے ایک دوست اورنقاد ماسانوی یوشی کا کہنا ہے کہ اوائے کی زبان اور اسلوب مشکل اور پیچیدہ ہے اور تقریباً تقریباً ناقابل ترجمہ … اسی لئے بہت تجربہ کار اور اعلی استعداد کے حامل مترجم بھی دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں ۔ مگر اسے پڑھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ اس کا دیوامالائی دائرہ صرف سنجیدہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک کائناتی قہقہے اور مضحکہ خیز مزاح سے بھی معمور ہے ۔
دنیا میں ایسے ادیب بہت کم ہوں گے جو اوائے جیسا غیر رسمی اظہار ، پیچیدہ خیالات بے باک تمثال سازی غیر متوقع درخشانی اور تاریخ و انصاف کے کھوج کا شعور کھتے ہیں ۔
اوائے کا کہنا ہے کہ اس کے اسلوب کی بنیاد اس کے ذاتی معاملات پر مبنی ہے ۔ عمر کے مختلف حصوں میں اس کو مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اسے بہت سے ناگہانی صدمات کو بھی برداشت کرنا پڑا یہ صدمات اسے ذاتی اور خانگی زندگی کے معاملات اور جاپانی معاشرے سے ردعمل کے طور پر پہنچے ہیں ۔چنانچہ وہ کہتا ہے کہ مری تحریر کا بنیادی اسلوب مرے نجی تجربات و معاملات سے جنم لیتا ہے ۔ اور بعدازاں میں اسے ریاست معاشرے اور پھر اس وسیع دنیا سے جوڑ دیتا ہوں ۔ نجی معاملات کے ناگہانی وقوع سے جنم لینے والی اس کی سب سے شان دار تحریر اس کا مشہور ناول ” ذاتی مسئلہ “ The personal Matterہے ۔
شادی کے بعد اوائے کے ہاں جو پہلا بچہ پیدا ہوا وہ ذہنی طور پر معذور تھا اس کا نام ” ہی کاری “ یعنی روشنی رکھا گیا ۔ ذاتی مسئلہ کے اسلوب میں ذاتی صدمات کے شدید المیہ سے ایک آواز ابھرتی ہے یہ آواز مصنف کے تمام تر شعوری و لاشعوری تجربات شخصیت اور اظہار کی ترجمان بن جاتی ہے ۔ اور پھر یہی آواز واقعات کی شکلیں بدلنے سے چرچراتی ہوئی صورت اختیار کرتی جاتی ہے ناول کے ہیرو کا عرف احساسات کے ساتھ اسے یہ خبر دیتا ہے جسے دماغی فتق Brain Herniaکہتے ہیں ڈاکٹر بچے کی زندگی کے بارے میں ناامید ہے اس کا خیال ہے کہ وہ ایک دو روز میں مر سکتا ہے اور اگربچہ کسی نہ کسی صورت میں زندہ رہ بھی گیا تو وہ دماغی فتق کے باعث عام آدمی جیسی زندگی بسر نہیں کر سکے گا ۔
” پرندہ “ دیکھتا ہے کہ بچے کا سرپٹیوں میں اس طرح بندھا ہوا ہے جیسے اپالینیر Apollinaireکا سر میدان جنگ میں زخموں کے باعث بندھا ہوا تھا۔ مگر پرندہ یہ نہیں دیکھ سکا تھا کہ ایک تاریک اور تنہا میدان جنگ میں اس کا بچہ اپالینیر کی طرح کیسے زخمی ہوا تھا ۔ پرندہ چیختا ہے پٹیوں میں لپٹا ہوا سر ۔ اپالینیر کی طرح … وہ سوچنے لگتا ہے کہا سے بچے کو میدان جنگ میں مارے جانے والے سپاہی کی طرح دفن کرنا ہوگا ۔
پرندہ مصنف کی ذات کا استعارہ ہے ۔ اس شدید کرب ناک حالت میں وہ کچھ وقت کے لئے اپنے کالج کے ایام کی ایک دوست لڑکی کے اپارٹمنٹ میں جا پہنچتا ہے ۔ جہاں وہ بے تحاشا بادہ نوشی کرتا ہے شراب اس کی رگ رگ میں سرایت کرجاتی ہے دماغ غبارہ بن جاتا ہے مگر اس کا ذاتی عذاب کم نہیں ہوتا اس کی دوست لڑکی کا نام ہی میکو Himikoہے ۔ شادی کے ایک برس بعد اس کا شوہر خودکشی کر کے چل بسا تھا اور اب ہی میکو خود وجودف کے عذاب میں ریزہ ریزہ ہو رہی تھی بعد کے ایام میں ہی میکو اور پرندہ کے درمیان دوستی جنسی تعلقات تک بڑھی ہے مگر دونوں کے وجود کا عذاب ختم نہیں ہوتا ۔
پرندہ کا المیہ یہ بنتا ہے کہ نومولود معذور بچے کی پیدائش اس کے لئے ایک پنجرہ بن جاتی ہے اور پرندہ استعارے کی شکل میں اس پنجرے کے اندر عمرقید کی سزا کاٹنے کے لئے مجبور ہو جاتا ہے ۔
اوائے کے فن میں اس کے اسلوب کو بہت اہمیت دی گئی ہے ۔ اس اسلوب کے خالق کی ذہنی کیفیات تصورات اور اس کے متخیلہ میں مرتعش ہونے والی لہریں ایک برقی حرارت کے ساتھ قاری پر اثر انداز ہونے کی بے پناہ قدرت رکھتی ہیں اس کے خیالات کی پیچیدگی گہرانی اور ژولیدگی کے تمام اثرات اور کیفیات اس اسلوب کے آئینہ میں عکس دکھاتی ہیں ۔ وہ عام ناول نگاروں کی طرح محض کہانی پن کے لئے اظہار کے سیدھے سادھے راستے تلاش نہیں کرتا اور یہی وجہ ہے کہ وہ آسانی کے ساتھ قاری کے شعور میں نہیں اترتا ۔ اس کی نسبط فکری گہرائی ایک نہایت تیز مرتعش رو کی طرح رواں دواں رہتی ہے لہذا اوائے کا ساتھ دینے کے لئے ذرا آہستہ آہستہ پڑھنا ضروری ہو جاتا ہے اوائے کا ذہنی طور پر معذور بچہ ہی کاری اس کے لئے بہت بڑا چیلنج بن گیاتھا ۔ آغاز ہی سے اس کے دل و دماغ پر یہ خیال نقش ہوگیا تھا کہ ہی کاری کو ہر ممکن حد تک نارمل انسانی زندگی گزرانے کے قابل بنایا جائے یہ بات اس کے لاشعور کا لازمی حصہ بن چکی ہے ۔
عجیب بات یہ تھی کہ ہی کاری جب بچہ تھا تو انسانی آوازیں سن کر کوئی ردعمل ظاہر نہ کرتا تھا ۔ مگر پرندوں کی چہچہاہٹ سن کر اس کا ردعمل ظاہر ہوتا تھا ۔ اس کی عمر چھ برس کی ہو گی جب اوائے اپنے خاندان کے ساتھ اپنے دیہاتی سرخ چونچ والے آبی پرندوں Water Railsکے ایک جوڑے کے گنگنانے کی سنی اور خوش ہو کر یہ کہا ” وہ آبی پر ندے ہیں “ یہ پہلا موقع تھا جب ہی کاری نے انسانی آواز میں کچھ کہا تھا ۔ اس کے بعد خاندان کے ساتھ اس کا سلسلہ کلام شروع ہوا ۔ رفتہ رفتہ ذہنی مسرت کے لئے اس کے واسطے موسیقی کی تربیت کا اہتمام کیا گیا ۔ موسیقی میں اس نے گہری دلچسپی لی اور آخر کار اس نے خود دھنیں مرتب کرنا شروع کر دیں ۔ اس کی ان دھنوں کے اصل محترع وہ پرندے ہی تھے اور یوں بقول اوائے ہی کاری نے میری طرف سے اس پیش گوئی کی تکمیل کر دی کہ شاید ایک روز میں پرندوں کی زبان سمجھنے لگوں گا
ہی کاری کی تربیت میں اوائے کا گراں قدر حصہ ہے ۔ چنانچہ جاپانی نقاد یہ بات کہنے پر مجبور ہیں کہ بحیثیت باپ اور مصنف کے اوائے ناقابل تقسیم شخصیت ہے اور اوائے کی تخلیات کے صفحات پر ہی کاری کاعکس نظر آتا ہے ۔
اب تک ہی کاری کی مرتب کردہ دو گمپیگٹ ڈسکس Compact Disesبازار میں آچکی ہیں ۔ اس کی دوسری سی ڈی جو پیانو اور فلوٹ پر مشتمل ہے اوائے کو نوبل انعام ملنے سے صرف چند ہفتے پہلے بازار میں آئی اور خوب بکی تھی ۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اوئے ہی ہی کاری کا حیقیقی معنی میں خالق ہے ۔ ہی کاری ایک ایسی مشکل اور صبر آزما کتاب ہے کہ جسے وہ گزشتہ اکتیس برس ے مسلسل تصنیف کر رہا ہے اور اس کتب کے چند صفحات اسے ہر روز ضرور لکھنے پڑتے ہیں ۔
ہی کاری اگرچہ ذہنی طور پر معذور ہے اور اس کی ذہنی تکلیفوں میں مرگی جیسا مرض بھی شامل ہے اوائے کہتا ہے کہ ہی کاری کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم سب مر رہے ہیں مگر موت کے بارے میں سوچنے کا مطلب مرے نزدیک یہ ہے کہ زندگی کے بارے میں عظیم متخیلہ کے ساتھ سوچتے رہنا … اور یہ چیز بحیثیت ایک ادیب کے میرے واسطے بہت معاون ثابت ہوتی رہی ہے ۔
اسی پس منظر کے پیش نظر اوائے کے نقادوں کی یہ بات سچ معلوم ہوتی ہے کہ اس کے ناول انسانی دنیا کے تاریک رویوں اور واقعات کے الم ناک سلسلوں اور خدمات کو پیش کرتے ہیں ۔اوائے کے ایک ناول ” خاموش چیخ “ The Silent Cry، کا شمار اس کے بہترین ناولوں میں کیا جاتا ہے سویڈش اکیڈمی نے اوائے کے لئے نوبل انعام کا اعلان کرتے ہوئے اس ناول کی طرف بالخصوص اشارہ کیا تھا کہ خاموش چیخ ایک ژولید دنیا کو پیش کرتی ہے جہاں علم ، جذبات ، خواب ، امنگیں اور رویے ایک دوسرے کے اندر جذب ہوجاتے ہیں ۔
خاموش چیخ ، دو بھائیوں کی داستان حیات کا ایک قسم کا کرابنکل ہے ۔ بڑا بھائی ”متسو سا بورو“ Mitsusaburoایک سکالر اور ادیب ہے ۔ چھوٹا بھائی تاکاشی Takashiاپنے اجداد کی طرح سیاست کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے ناول میں کچھ غیر معمولی عورتوں کے کردار بھی ہیں ناول میں خواب پرانی یادیں کابوس اور خواہشوں کے ازدہام پر جگہ نظر آتے ہیں ۔ ناول میں اوائے کے ذاتی تجربات کی مخصوص گہرائی دکھ اور آنچ تاکاشی گاؤں میں سیاسی عمل کے ذریعے تحریک چلاتا ہے مگر ناکام رہتا ہے اور خودکشی کر لیتا ہے مگر موت سے پہلے اپنی ایک مجنون بہن کا انکشاف بھی کرتا ہے ۔
” خاموش چیخ “ کرداروں ، واقعات اور معاشرتی شعور کی ایک پیچیدہ اور گہری داستان ہے
اوائے پیٹرو سے باتیں کرنے والا ایک ادیب ہے
پھولوں او رپیڑوں سے محبت کرنا جاپانی ثقافت کا ایک بنیادی پہلورہا ہے ۔ مگر کچھ لوگ پیڑوں سے محبت کرتے کرتے ان سے ہم کلام بھی ہو جاتے ہیں اور انہیں اپنا دوست بنا لیتے ہیں ۔ اوائے کی عادات ہے کہ وہ فرصت کے اوقات میں پہروں تلک جنگلوں اور جھاڑیوں میں چلتا پھرتا ہے وہ کسی بھی پیڑ کا پتا دیکھ کر یہ بتا سکتا ہے کہ پتا کس پیڑ سے تعلق رکھتا ہے اور یہ بھی کہ اس پیڑ کی تاریخ اور اس کی اصل کیا ہے اور پیڑوں سے محبت کے اسی عالم کے باعث وہ دنیا بھر کے تقریباً تمام پیڑوں کے نام جاپانی انگلش اور لاطینی میں بتا سکتا ہے ۔
پیڑوں کے ساتھ اس کی محبت بچپن کے ان ایام سے شروع ہوئی جب دوسری جنگ عظیم کے شعلے دنیا کو تباہ و برباد کر رہے تھے ۔ اور ان ایام کے دوران میں اوائے اپنے گاؤں کے قریبی جنگلات کو جائے امان سمجھنے لگا تھا ۔ ان ہی دنوں The Adventures of Hucleberry Finnپڑھتے ہوئے یہ زیادہ مناسب معلوم ہوا کہ وہ گھر کی دیواروں میں کبھی بھی محسوس نہ ہو سکا تھا۔ اور یوں پیڑاوائے کے مستقل رفیق بن گئے ۔ آج بھی اس کی پرانی رفاقت اسی طرح سے جاری ہے وہ اپے شہر سے ہٹ کر کہیں بھی جائے جنگلو اور جھاڑیوں میں پہروں تلک گھومتے رہنا ار ان سے ہم کلامی کرنا اس کی عادت بن گئی ہے ۔
1968ء میں نوبل انعام کے اجلاس میں کاواہاتا کے خطبہ کا عنوان تھا ۔ ” جاپان “ خوب صورت جاپان اور میں “ مگر اوائے کا عنوان اس کے متضاد تھا ” جاپان “ مبہم جاپان اور میں
کاواہاتا کو نوبل انعام ملنے کی وجہ یہ بتائیجاتی ہے کہ اس کا ادب جاپانی ذہن کی روح اور جمالیات کا ترجمان ہے ۔ اس کے ہاں جاپان کی انفرادیت کے بے نظیر نمونے ملتے ہیں ۔ کاواہاتا کا انتخاب اس کی جاپانی روح ہی کے طفیل ممکن ہو سکا تھا ۔
اوائے کا خیا ہے کہ کاواباتا کے ہاں ایک نادر باطنیت ملتی ہے جو صرف جاپانی فکر ہی میں نہیں بلکہ مشرق کے وسیع خطے میں پائی جاتی ہے ۔ اوائے نے اس خیال کا اظہار اس وقت کیا جب وہ سٹاک ہوم میں نوبل انعام ملنے پر ایک خطبہ دے رہا تھا ۔ اوائے نے کاواباتا کی نادر باطنیت کو زین مت کے تصور سے تعبیر کیا ہے ۔ اور وہ حیران ہو کر سوچتا ہے کہ بیسویں صدی کے ادیب کی حیثیت سے کاواباتا نے اپنی ذہنی کیفیات کا اظہار زمانہ وسطی کے زین شاعروں کی نظموں کے حوالے سے کیا ہے۔ اور بقول اوائے لفظ ان نظموں کے خوبوں کے اندر بند ہیں اور قاری یہ توقع نہیں کر سکتا کہ لفظ کبھی بھی اپنے ان خولوں سے باہر برآمد ہو کر ہم پر اثر انداز ہو سکیں گے ۔
کاواباتا کے اندر جاپان کی کلاسیکی تہذیبی روح تھی ۔ وہ اس کلاسیکی روایت کا شائد آخری بڑا ادیب تھا ۔ کاواباتا نے زین بدھ مت کے جس بھکشو کی شاعری کا حوالہ دیا تھا وہ ریوکان (Riyokan) تھا ۔ دہی ریوکان جو اٹھارھویں صدی کے جاپان کی باطنی آواز تھا ۔ اور ظاہر ہے کہ بیسویں صدی کے نصف آخر کا دانشور ناول نگار اوائے اس باطنی آواز کے طلسم سے واقعتاً دور کھڑا نظر آتا ہے ۔ وہ برقی آلات موٹر کاروں اور صنعتی ترقی کے شکوہ میں ریوکان سے کیا دلچسپی رکھ سکتا ہے کاواباتا نے 1968ء میں نوبل انعام کے خطبہ میں ریوکان کے جو اشعار سنائے تھے وہ ہیں ۔
مرے بعد مری میراث کیا ہو گی ؟
بہار میں پھول
گرما میں کوئل
اور خزاں میں قرمزی پتے !
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.