ادب >> عالمی ادب >> روسی ادب >> لیو ٹالسٹائی
ادب
لیوٹا لسٹائی
Leo Tolstoy
(1828ء ۔1910ء)

ٹالسٹائی اپنی خاندانی جاگیر ” یاسنایا پولیانا “(روس) میں اگست 1828ء میں پیدا ہوا۔ بچپن میں فرانسیسی اور جرمن استادوں سے تعلیم حاصل کی اور سولہ سال کی عمر میں ”کازاں یونیورسٹی“ چلا گیا۔ 1847ء میں تعلیم پوری کیے بغیر اس نے یونیورسٹی کو خیر باد کہہ دیا اور کئی سال تک ماسکو اور پیٹرس برگ کی سماجی زندگی کا مطالعہ اورکسانوں کی حالت بہتر بنانے کے منصوبے بناتا رہا ۔1851ء میں وہ فوج میں شامل ہوگیا 1854ء میں اس نے ترکو ں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا لیکن جلد ہی وہ فوجی زندگی سے اکتا گیا اور 1855ء میں پیٹرس برگ آگیا ۔ اس کا پہلا ناول 1856ء میں ” بچپن “ کے نام سے شائع ہو چکا تھا ۔ لیکن اس کی شہرت اس وقت پھیلی جب اس نے جنگ کی ہولناکیوں کے بارے میں ” سیواتوپول “ کی کہانیاں لکھیں ۔ 1861ء میں مغربی یورپ کی طویل سیاحت کے بعد اپنی جاگیر پر واپس آگیا اور جاگیر کے انتظام اور کسانوں کے بچوں کی تعلیم و تربیت میں مصروف ہو گیا ۔1862ء میں اس نے شادی کی 1865-69ء میں اس نے اپنا زندہ جاوید ناول ” وار اینڈ پیس “ لکھا اور 1878-77ء میں ” اینا کرینینا “ لکھا یہ ناول لکھ کر اس کا سکون اور اطمینان قلب جاتا رہا ۔ طرح طرح کے خیالات نے اس کے ذہن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ روس کے کلیسائی مذہب سے بدظن ہو گیا ۔ اس عرصے میں اس نے عیسائیت کا اپنا نظر یہ وضع کیا اور ” ایک اعتراف “ کے نام سے 1879ء میں ایک کتاب لکھی جس میں اپنے نئے مذہب اور عقائد کو پیش کیا ۔ اس نے ذاتی ملکیت کے تصور کو رد کیا۔ انسان سے انسان کے جبرو استحصال کی شدت سے مذمت کی ۔ وہ اپنے نئے عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتا تھا لیکن خاندان والوں کی مخالفت اوربیوی کی سختی نے اس کی زندگی کے رہے سہے سکون کو بھی تہ وبالا کر دیا ۔ 1886ء میں اس نے ” آئی وان الیچ کی موت “ لکھا ،1889ء میں ” کرینٹنرر سوناٹا “ لکھا۔ 1898ء میں فن کیا ہے “ لکھا ۔ ٹالسٹائی کی زندگی کے آخری ایام پر درد اور افسوس ناک تھے ۔ اس کا نیا مذہب اور اس کے عقائد خاندان کے افراد سے متصادم تھے ۔ رفتہ رفتہ صورت حال اتنی بگڑی کہ اکتوبر1910ء میں ٹالسٹائی دل گرفتہ اور رنجور ہو کر گھر سے نکل گیا اور 8نومبر 1910ء کو ایک اسٹین کے پلیٹ فارم پر مردہ پایا گیا ۔

ٹالسٹائی کا نام اسکے دو ناوولوں ” وار اینڈ پیس “ اور اینا کرینینا “ کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہے گا لیکن اس کی تنقیدی وفکری ” فن کیاہے “ وہ تصنیف ہے جس نے مغربی تنقیدی فکر میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے ۔ اس تصنیف میں ٹالسٹائی فن کے مسئلے کا جائزہ اپنے نئے عقیدے اور نئے مذہب کے نقطہ نظر سے لیتا ہے ۔ مغربی نقادوں کو ٹالسٹائی کا نقطہ نظر اس لیے ناگوار ہے کہ وہ ان شاہکاروں کو بھی ہدف ملامت بناتا ہے جن پر مغربی مفکر و ادب ناز کرتے ہیں ۔ وہ شیکسپیئر اور نطشے کو رد کر دیتا ہے ۔ گوئٹے کی ” فاؤسٹ “ کے بارے میں کہتا ہے کہ فاؤسٹ میں ایک حقیقی فن پارہ کی ممتاز صفات یعنی کاملیت ، وحدت اور مواد وہیت کا اٹوٹ رشتہ نہیں ہے ۔ وہ مغرب کے جدید فن کو اس لیے رد کرتا ہے کہ جدید فن کے موضوعات محدود ہوگئے ہیں ۔ اس نے مذہب اورمحنت کے موضوعات و محسوسات کو چھوڑ دیا ہے اور لے دے کر صرف تین قسم کے احساسات کو موضوع بنایا ہے یعنی احساس افتخار ، جنسی خواہش اور زندگی کی شکستگی و پسپائی ۔ جدید فن چونکہ قنوطی اور جنس زدہ ہے اسی لیے وہ بیمار اور مبہم ہے ۔ اس سلسلے میں ٹالسٹائی ورلین ، بودلیئر ملا رمے اور میتر لنک کی نظمیں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لیے پیش کرتا ہے ۔ وہ جدید ڈراما نگار ابسن ، میتر لنک ، ہاؤپٹ مان کو بھی اسی نقطہ نظر کے علمبردار کہتا ہے ۔ ویگنر اور اسٹراس جیسے موسیقاروں کوبھی اسی لییے رد کرتا ہے ۔ یہ ایک نیا نقطہ نظر تھا جس سے مغرب کی جدید فکربوکھلا گئی ۔

” فن کیا ہے “ 1898ء میں شائع ہوئی 1897ء میں ” ایلمر ماؤڈ “ روس میں تھا۔ اس نے اس تصنیف کا اسی وقت ترجمہ شروع کردیا جب ٹالسٹائی اس پر نظر ثانی کرر ہا تھا روسی زبان میں یہ تصنیف احتساب کی سخت پابندیوں کی وجہ سے پوری نہ شائع ہو سکی لیکن یہ اصل شکل میں پوری کی پوری پہلی بار انگریزی زبان میں شائع ہوئی ۔ ٹالسٹائی نے اس تصنیف میں فن کی ایک نئی بنیاد قائم کی اور یہ سوال اٹھایا کہ معاشرے کے لیے فن کی کیا افادیت ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ فن کا کام یہ ہے کہ وہ احساس کااس طورپر اظہار کرے کہ یہ احساس دوسروں تک عام آدمی تک آسانی سے پہنچ جائے اور وہ بھی اس میں شریک ہو جائے ۔ فن کی اصل قدرو قیمت اس بات میں مضمر ہے کہ خود عالم انسانیت کے لیے اس کی قدرو قیمت کیا ہے ؟ ٹالسٹائی ایسے فن پاروں کو مسترد کر دیتا ہے جو کسی مخصوص طبقے کے ہے ۔ ٹالسٹائی کہتا ہے کہ فن کا یہ کام نہیں ہے ۔ فن تو انسانی زندگی کی ایک حالت ہے ۔ اس کا کام انسان انسان کے درمیان تفہیم پیدا کرنا ہے ۔ فن ایک اہم انسانی سرگرمی ہے فن کے ذریعے ایک انسان شعوری طور پر خارجی اشاروں کی مدد سے دوسرے انسانوں کو روح میں اتر جانے والی اثر آفرینی سے اپنے ان احساسات میں شریک کر لیتا ہے جو اس کی زندگی کا سرمایہ ہیں ۔ اس طرح فن کا ر کا تجربہ ان کا تجربہ بن جاتا ہے ۔ ٹالسٹائی کہتا ہے کہ لوگ فن کے ناقابل فہم ہونے کی بات کرتے ہیں لیکن اگر فن انسان کے مذہبی ادراک سے پیدا ہوا ہے تو وہ ہرگز ناقابل فہم نہیں ہو سکتا ۔ مذہبی ادراک کے معنی ہیں خدا کے بعد فن ہی انسان کے ذہن اور اس کے احساسات کی شکیل کر سکتا ہے تمام فنون میں یہ صفت مشترک ہے کہ وہ لوگوں کو متحدد کر دیتے ہیں ۔ سچے فن کو طبقاتی فن نے جھوٹے فن نے خراب کر دیا ہے ۔ فن وہ ہے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچتا ہے اسی لیے ٹالسٹائی کاخیال ہے کہ مستقبل کا فن موضوع و ہیت دونوں کے اعتبار سے آج کے فن سے ممتاز ہو گا ۔ مستقبل کے فن کا واحد موضوع یا تو وہ احساسات ہوں گے جوانسان کو انسان سے اتحاد و قربت کے رشتے میں پروتے ہیں یا پھر وہ احساسات ، جو انہیں پہلے سے متحد کیے ہوئے ہیں ۔ ساتھ ساتھ اصناف فن اورہیت بھی ایسے ہوں گے جن کے دروازے سب پر ہر ایک پر کھلے ہوں ۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.