ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ اس سر زمین پر دو ارب لوگ بستے تھے: آدھے ارب انسان اور ڈیڑھ ارب دیسی۔ ”حق اول الذکر کے پاس تھا اور فریضہ دوسروں کے پاس۔ ان دونوں کے درمیان چھوٹے موٹے بادشاہ، جاگیردار اور سرمایہ دار تھے“ سر سے پیر تک مصنوعی اور بناوٹی، جن کا کام دلالی تھا۔ نو آبادیوں میں تو حقیقت ننگی تھی مگر ”مادر وطن“ کے فرزند اسے ملبوس دیکھنا پسند کرتے تھے۔ یورپی باشندوں کو ان سے محبت کرنی پڑتی تھی کچھ اس طرح جیسے ماں سے محبت کی جاتی ہے۔ یورپی دانشوروں نے دیسی دانشوروں کا ایک خاص طبقہ ڈھالنے کا تہیہ کیا۔ انہوں نے ہونہار نوجوانوں کا انتخاب کیا۔ انہیں مغربی تہذیب کے اصولوں سے داغا۔ اسی طرح جیسے گرم لوہے سے داغتے ہیں۔ ان کے منہ میں بلند آہنگ فقرے ٹھونسے۔ شاندار چچپپے الفاظ بھرے جو دانتوں سے چپک کر رہ گئے۔ کچھ دن ”مادر وطن“ میں گذار کر انہیں گھر واپس بھیج دیا جاتا۔ اب ان پر سفیدی پھر جاتی تھی۔ یہ وہ چلتے پھرتے دروغ تھے جن کے پاس اپنے بھائیوں کے لئے کوئی پیغام نہ ہوتا․․․وہ محض باز گشت تھے۔ پیرس سے‘ لندن سے‘ ایمسڑڈم سے‘ ہم یہ الفاظ ادا کرتے ”یونانی تہذیب! انسانی برادری“ اور پھر افریقہ اور ایشیا کے کسی گوشے میں ہونٹ کھلتے․․․ ”تہذیب!․․․برادری!“ یہ زمانہ سنہری زمانہ تھا۔
یہ دور ختم ہوا۔ اب منہ خود بخود کھلنے لگا۔زرد اور کالی آوازیں اب بھی ہماری انسان پسندی ہی کی بات کرتیں مگر اب وہ ہمیں غیر انسانیت پر مطعون کرنے لگیں۔ نا پسندیدگی کے مہذب اظہار پر ہم نا خوش نہ ہوتے اور اول اول تو ہمیں اس پر فخر آمیز تعجب ہوتا اچھا؟ اب یہ خود بخود بولنے گے؟ ذرا دیکھنا ہم نے انہیں کیا سے کیا بنا دیا! ہمیں اس پر کوئی شبہ نہ تھا کہ بالا خر وہ ہمارے نصب العین اپنا لیں گے اس لئے کہ وہ ہمیں ان کا پابند نہ رہنے پر مطعون کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں یورپ کو اپنے مشن کا ایقان ہو جاتا، کہ بالا خر اس نے ایشیائی اقوام کو مہذب بنا دیا۔ اس نے یونانی لاطینی نیگروؤں کی ایک نئی نسل تیار کر دی اور ہم آپس میں یہ کہتے‘ جیسے دنیا والے کہتے ہیں ”بہر حال انہیں چیخنے چلانے دو‘ اس طرح ان کا دل ٹھنڈا ہوتا ہے، گرجنے والے برستے نہیں۔“
اب اس منظر پر ایک نئی نسل ابھری جس نے مسائل کا رخ موڑ دیا۔ ناقابل یقین صبر وسکون کے ساتھ نئے ادیبوں اور شاعروں نے ہم پر یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ہماری اقدار اور ان کی زندگی کے صحیح حقائق ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے‘ اور یہ کہ وہ ان اقدار کو نہ تو پورے طور پر رد کر سکتے ہیں نہ ہی انہیں کلیتاً ہضم کر سکتے ہیں۔ کم وبیش وہ یہ کہنا چاہتے تھے ”تم ہمیں وحشی بنا رہے ہو‘ تمہاری انسان پسندی ہمیں بتاتی ہے کہ ہم دنیا کے انسانوں کے برابر ہیں مگر تمہارے نسلی امتیازات ہمیں دوسروں علحدہ کر دیتے ہیں۔“ہم نے بہت اطمینان سے ان کی باتیں سنیں۔نو آبادیاتی حکام کوہیگل کے مطالعے کے لئے تنخواہ نہیں ملتی۔اسی لئے وہ اس کا مطالعہ کم ہی کرتے ہیں لیکن انہیں یہ بتانے کے لئے کسی فلسفی کی ضرورت نہیں کہ غیر مطمئن ضمیر اپنے ہی تضادات میں پھنس جاتا ہے۔ ایسے لوگ کہیں کے نہیں رہتے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ان کی بے اطمینانی کا تسلسل جاری رکھا جائے۔پھر وہ باتوں کے سوا اور کچھ نہ کرسکیں گے۔اور ماہرین نے ہمیں یہ بتایا کہ اگر اپنی آہ زاری کے دوران میں وہ کوئی ٹھوس مطالبہ بھی کریں گے تو وہ انضمام کا مطالبہ ہوگا۔ظاہر ہے کہ اس مطالبہ کومنظور کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے وہ نظام جس کی بنیاد لاتعداد استحصال پر ہے،جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔ تباہ ہو جائے گا۔ یہ کافی ہے کہ انہیں گاجر دکھائی جاتی رہے اور وہ سر پٹ دوڑتے رہیں گے۔ جہاں تک بغاوت کا تعلق ہے، ہمیں اس سلسلے میں مطلق پریشان نہ ہونا چاہئے۔ بھلا کو نسا ایسا دیسی باشندہ ہو گا جو نیک فرزند ان یورپ کو محض اس لئے قتل کرے گا کہ وہ خود انہیں طرح کا یورپی ہونا چاہتا ہے؟ مختصراً یہ کہ ہم نے ان غیر مطمئن روحوں کوہمت افزائی کی اور اسے نیک شگون سمجھاکہ نیگرو کو بھی ”گاں کور“ انعام دیا جائے۔ یہ 1939سے پہلے کی بات ہے۔
اب 1961ہے۔ سنیئے: ”ہمیں بنجر دعاؤں اور مکروہ نقالی میں وقت ضائع نہ کرنا چاہئے۔ یورپ کو اپنے حال پر چھوڑ و کہ وہاں لوگ انسان کے موضوع پر بات کرتے نہیں تھکتے لیکن جہاں بھی انہیں انسان نظر آتا ہے اسے قتل کر دیتے ہیں: اپنی ہر سڑک کے موڑ پر ․․․دنیا کے گوشے گوشے میں․․․․صدیوں تک انہوں نے نام نہاد روحانی واردات کے نام پر کم وبیش پوری انسانیت کا گلا گھونٹے رکھا ہے۔“ یہ لہجہ نیا ہے۔ اس طرح بولنے کی کسے ہمت ہوئی؟ یہ ایک افریقی ہے۔ تیسری دنیا کا ایک انسان۔ ایک سابق ”دیسی۔“ وہ مزید کہتا ہے ”یورپ آج ایسی دیوانگی اور ناعاقبت اندیشی کی دوڑ میں مبتلا ہے کہ اب اس نے تمام تر ہدایت ودانش سے قطع نظر کرلی ہے اور سر کے بل ایک گہری کھائی میں گر رہا ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اس سے بچنے کی کوشش کریں۔“ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ اب ختم ہو چکا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا بیان خوشگوار نہیں لیکن ہم سب اسے مانتے ہیں۔ کیوں، میرے یورپی ساتھیو، کیا ہمیں اپنے دلوں کی گہرائیوں تک میں اس کا یقین نہیں ہے؟