ادب >> عالمی ادب >> روسی ادب >> نو آبادیاتی دنیا کی تقسیم
ادب
نو آبادیاتی دنیا کی تقسیم

نوآبادیاتی دنیا دو علاقوں میں بٹی ہوئی دنیا ہے۔ ان کی حد بندی، ان کی سرحدیں فوجی چھاؤنیوں اور پولیس چوکیوں کے ذریعے ظاہر ہوتی ہیں۔ نوآبادیات میں پولیس کے سپاہی اور فوجی سرکاری طور پر متعین سفیر ہوتے ہیں جو دونوں علاقوں کے درمیان رابطہ قائم رکھتے ہیں اور جو نوآبادکاروں اور ان کی متشددانہ حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرے کا نظام تعلیم خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی، اخلاقی رد عمل کاوہ نظام جو باپ سے بیٹے کو وراثت میں ملتا ہے، مزدوروں کی وہ مثالی ایمانداری جس کے عوض میں انہیں پچاس برس پوری وفاداری سے خدمت کرنے کے بعد تمغہ انعام دیا جاتا ہے او روہ جذبات جو خوشگوار تعلقات اور اچھے کردار سے جنم لیتے ہیں،․․․غرضیکہ مروجہ نظام کے احترام کا یہ تمام جمالیاتی اظہار، استحصال زدگان کے چاروں طرف اطاعت اور گھٹن کی ایک ایسی فضا قائم کر دیتا ہے۔ جس میں پولیس کا کام بڑی حد تک ہلکا ہو جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ممالک میں حاکم و محکوم طبقہ کے درمیان معلّمان اخلاق، مشیران قوم اور ”ذہنی الجھنیں پیدا کرنے والوں“ کی کثیر تعداد ہوتی ہے۔ اس کے برعکس نوآبادیاتی ممالک میں پولیس اورفوج کے آدمی اپنی بروقت موجودگی اور بسا اوقات اپنے براہ راست عمل کے ذریعے مقامی باشندوں سے رابطہ استوار کرتے ہیں۔ اور بندوق کے کندوں اور آتش گیر مادوں کی مدد سے انہیں پرسکون رہنے کا مشورہ دیتے ہیں ظاہر ہے کہ یہاں حکومت کے نمائندے خالصتاً جبر کی زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔ یہ درمیانی واسطہ قائم کرنے والے ظلم وتشدد کو کم نہیں کرتے نہ ہی وہ اپنی بالا دستی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ صاف ضمیرکے ساتھ قیام امن کے لئے اپنی قوت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور عملی طور پر اس کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ تاہم وہ مقامی باشندوں کے گھروں میں اور ان کے ذہنوں میں تشدد کے پیغامبربن کر آتے ہیں۔
وہ علاقہ جہاں مقامی باشندے رہتے ہیں، نوآباد کاروں کے علاقہ رہائش سے ملحق نہیں ہوتا۔ یہ دونوں علاقے ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں مگر یہ ضد کسی بڑی اکائی کو پیدا کرنے کے لئے نہیں ہوتی۔ یہ دونوں علاقے ارسطا طیلیسی منطق کے تحت ایک دوسرے کو خارج کرنے کے اصول پر قائم رہتے ہیں۔ ان میں کوئی قدر مشترک دریافت کرنا ممکن نہیں کہ ان دو اصطلاحوں میں ایک فاضل ہے۔ نو آباد کار کا شہر پتھر اور فولاد سے بنا ہوا مضبوط شہر ہوتا ہے۔ یہ جگ مگ کرتی روشینوں کا شہر ہوتا ہے۔ سڑکیں پختہ ہوتی ہیں، جگہ جگہ کوڑے کی ٹوکریاں کوڑے کر کٹ کواس طرح نگل لیتی ہیں کہ نہ تو انہیں کوئی دیکھتا ہے، نہ جانتا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کچھ سوچتا ہے۔ نوآباد کار کے پاؤں کبھی دکھائی نہیں دیتے۔ ماسوا سمندر میں نہاتے وقت۔ لیکن آپ ان کے قریب بھی تو نہیں ہوتے کہ پاؤں دیکھ سکیں۔ اس کے پیروں کی حفاظت مضبوط جوتے کرتے ہیں۔ حالانکہ اس شہر کی سڑکیں صاف وشفاف اور ہموار ہوتی ہیں جن پر نہ کوئی پتھر ہوتا ہے اور نہ وہ شکستہ ہوتی ہیں۔ نو آباد کار کا شہر شکم سپر اور آسودہ حال ہوتا ہے۔ اس کے شکم میں ہمیشہ اچھی چیزیں بھری ہوتی ہیں۔ نوآباد کار کا شہر سفید فام لوگوں کا، بیرونی افراد کا شہر ہوتا ہے۔
مقامی باشندوں کا شہر، یا کم از کم مقامی شہر، جشیوں کا گاؤں، مدنیہ، مقامی لوگوں کا مخصوص علاقہ، ایک بدنام مقام ہوتا ہے، جس میں بدقماش لوگ رہائش رکھتے ہیں۔ وہ وہاں پیدا ہوتے ہیں، کیسے اور کہاں، یہ بات بے محل ہے، اور وہیں مر جاتے ہیں، کیسے اور کہاں، یہ پوچھنے کی گنجائش نہیں۔ یہ ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جس میں طول وعرض نہیں ہوتے۔ لوگ ایک کے اوپر ایک رہتے ہیں اوران کی جھونپڑیاں تلے اوپر بنتی ہیں۔ مقامی شہر بھوکا شہر ہوتا ہے جہاں روٹی، گوشت کوئلہ اور روشنی نایاب ہوتی ہے۔ مقامی شہر ایک پست گاؤں ہوتا ہے۔ گھٹنوں کے بل جھکا ہو ا شہر، کیچڑ میں لت پت شہر۔ یہ جشیوں اور گندے عربوں کا شہر ہوتا ہے۔ مقامی باشندہ جس نگاہ سے نوآباد کاروں کے شہر کو دیکھتا ہے وہ حرص اور حسد کی نگاہ ہوتی ہے۔ اس نگاہ میں اس کی ملکیت کے خواب ہوتے ہیں۔ ہر قسم کی ملکیت کے خواب۔ یعنی نوآبادکاروں کی میز پر کھانا کھانے کے خواب، نوآباد کار، کے بستر پر سونے کے خواب اور اگر ممکن ہو تو اس کی بیوی کے ساتھ۔ مقامی باشندہ بہت حاسد ہوتا ہے اور نوآباد کار اس حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ جب دونوں کی نگاہیں چار ہوتی ہیں تو آباد کار مدافعتی انداز کو برقرار رکھتے ہوئے تلخی کے ساتھ اس خواہش کو جانچ لیتا ہے ”یہ لوگ ہماری جگہ لینا چاہتے ہیں۔“ اور یہ حقیقت ہے اس لئے کہ کوئی مقامی باشندہ ایسا نہیں ہے جو دن میں کم از کم ایک بار نوآباد کار کا مقام حاصل کرنے کا خواب نہ دیکھتا ہو۔
یہ دنیا جو خانوں میں تقسیم ہے، یہ دنیا جو دو حصوں میں بٹی ہوتی ہے، اس میں دو مختلف مخلوق بستی ہیں۔ نوآبادیاتی صورت حال کی اصل جدت وہ اقتصادی حقیقت ہے، جس میں اتنی شدید معاشی نا ہمواری اور طرز زندگی کا اتنا بڑا فرق ہوتا ہے کہ انسانی صورت حال کی اس قدر پردہ پوشی کسی اور طریقے سے کبھی نہیں ہوتی۔ اگر آپ ذرا قریب سے نوآبادیاتی صورت حال کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ جو چیز دنیا کو اس طرح تقسیم کرتی ہے اس کی ابتدا اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ آیا آپ کسی ایک نسل سے متعلق ہیں یا نہیں، کسی ایک نوع سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں۔ نوآبادیات میں اقتصادیات کا زیریں نظام بھی ایک بالائی نظام ہوتا ہے۔ سبب ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ آپ دولت مند ہیں اس لئے کہ آپ سفید فام ہیں، آپ سفید فام ہیں، اس لئے کہ آپ دولت مند ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ جب ہم نوآبادیاتی صورت حال کو مارکسی تجزیہ کے مطابق دیکھتے ہیں تو ہمیں اس تجزیہ کو زیادہ پھیلانا پڑتا ہے․․․․سرمایہ دارانہ نظام سے پہلے کی معاشرت اور اس کی ماہیت کا جو خوبصورت تجزیہ مارکس نے کیا ہے اس پر اس صورت حال میں ہمیں دوبارہ غور وخوض کرنا پڑتا ہے۔ کسان اپنی ماہیت کے اعتبار سے جاگیردار سے مختلف ہوتا ہے لیکن اس قانونی فرق کو فی الواقعی قانونی بنانے کے لئے نیا بت الہٰی کا حوالہ ضروری ہے مگر نوآبادیوں میں تو یہ ہوا ہے کہ بیرونی لوگوں نے دوسرے ممالک سے آکر مشینوں اور بندوقوں کے بل پر اپنی حکومت ٹھونسی ہے۔ اپنی کامیاب نقل مکانی سے قطع نظر اور اپنی ملکیت قائم کرنے کے باوجود، نوآباد کار ہمیشہ بیرونی رہتا ہے جو چیز حاکم طبقہ کو دوسروں سے ممیز کرتی ہے وہ ملوں او راملاک کی ملکیت یا بینک میں ان کا سرمایہ نہیں ہوتا۔ حاکم نسل بنیادی طو رپر ان لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو کہیں اور سے آتے ہیں، وہ جو مقامی باشندوں کے مثل نہیں ہوتے، وہ جو محض ”دوسرے“ ہوتے ہیں۔
وہ تشدد جو نوآبادیاتی دنیا کی تنظیم کو برقرار رکھتا ہے، وہ جو مقامی معاشرتی سانچوں کی تباہی کے آہنگ کو مسلسل قائم رکھتا ہے او رجس نے بلا تامل ان کے اقتصادی حوالوں کے نظام کو درہم وبرہم کیا ہے، ان کے لباس کو ختم اور ان کی زندگی کے خارجی اظہار کے پیکروں کو توڑا ہے، اسی تشدد کا دعویٰ مقامی باشندے کریں گے اور اس وقت اسے اپنے ہاتھوں میں لیں گے جب وہ مجسم تاریخ بن کر ممنوعہ علاقہ پر ہلہ بولیں گے۔ اب نوآبادیاتی دنیا کو تباہ کرنا عمل کی ایک ایسی ذہنی تصویر ہے جو بہت واضح ہے، جسے سمجھنا بہت آسان ہے اور جسے ہر وہ شخص اپنے ذہن میں کھینچ سکتا ہے جو مقامی آبادی کا فرد ہے۔ نوآبادیاتی دنیا کی تباہی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب سرحدیں ختم ہو جائیں گی تو دونوں علاقوں کے درمیان رابطہ قائم رہے گا۔ نوآبادیاتی دنیا کی بربادی کا مفہوم اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایک علاقے کو ختم کر دیا جائے اسے زمیں کی گہرائیوں میں دفن کر دیا جائے یا پھر اسے ملک بدر کر دیا جائے۔
نوآبادیاتی دنیا کو مقامی باشندوں کا چیلنج مختلف نقطہ ہائے نظر کا عقلی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ یہ آفاقی صداقتوں کے اظہار کے بجائے ایک نئے تصور کا بے ڈھنگا اقرار ہوتا ہے۔ جسے ایک مطلق صداقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ نوآبادیاتی دنیا مانویت (3) کے اصول پر قائم ہوتی ہے نوآبادکار کے لئے محض یہ کافی کہ وہ فوج اور پولیس کی مدد سے مقامی باشندوں کے سرحدوں کی حد بندی کر دے۔ غالباً استعماراتی استحصال کی مطلق العنانیت کا مظاہرہ کرنے کے لئے ہی نوآباد کار مقامی باشندے کو بدی کے ست کے طور پر پیش کرتا ہے۔ محض یہ نہیں کہ مقامی معاشرت کے بارے میں یہ کہا جائے کہ اس میں اقدار کی کمی ہے۔ نوآباد کار کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ یہ جتائے کہ اقدار نوآبادیاتی دنیا سے غائب ہو گئی ہیں یا یہ کہ یہاں ان کا کبھی وجود ہی نہ تھا۔ مقامی باشندوں کے متعلق یہ اعلان ہوتا ہے کہ وہ اخلاقیات سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ نہ صرف یہ کہ وہ اقدار کے عدم وجود کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ خود اسی ذات میں ان کی نفی ہیں۔ ہمیں یہ بات مان لینی چاہئے کہ وہ اقدار کے دشمن ہوتے ہیں، اور اسی مفہوم میں کلیتاً بد ہوتے ہیں۔ مقامی باشندہ بہت تباہ کن عنصر ہوتا ہے او رگردہ پیش کی ہر شے کو برباد کر دیتا ہے۔ وہ اشیا کی اصل ہیئت کو بگار دیتا ہے جس سے اس واسطہ پڑے۔ وہ نہایت مضر طاقتوں کا منبع اور اندھی قوتوں کا شکار او ان کا لاشعوری آلہ کار ہوتا ہے۔ اسی باعث موسیو میٹر نے فرانسیسی قومی اسمبلی میں نہایت سنجیدگی سے یہ بات کہی تھی کہ الجزائری عوام کو فرانسیسی جمہوریہ کا حصہ بنا کر اسے آلودہ نہ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام اقدار جن کا تعلق نوآبادیاتی اقوام کے ساتھ ہوتا ہے اس طرح زہر آلود اور مہلک ہو جاتی ہیں کہ پھر ان کا کوئی علاج ممکن نہیں ہوتا۔ نوآبادیاتی اقوام کے رسوم، ورواج، ان کی روایات اور سب سے زیادہ ان کی داستانیں ان کے روحانی بنجر پن اورآئینی زوال کی علامتیں ہوتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہمیں ان جراثیم کو مارنیکے لئے جو بیماریوں کو پھیلاتے ہیں، فوری طو رپر ڈی ڈی نی کا استعمال کرنا چاہئے، بالکل اسی طور پر سے جس طرح عیسائی مذہب ان کی بدعتوں اور جبلی عناصر کے خلاف جہاد کرتا ہے جو انسان کے باطن میں ہوتے ہیں اور ان برائیوں کے خلاف جنگ کرتا ہے جن کے پیدا ہونے کا امکان ہے۔زرد بخار کاانسداد اور انجیل مقدس کی تبلیغ ایک ہی لائحہ عمل کا حصہ ہیں۔ لیکن تبلیغی جماعتوں کے فاتحانہ اعلانات یہ معلومات فراہم کرتے ہیں کہ کس حد تک بیرانی اثرات مقامی باشندوں کی جڑوں میں سرایت کر چکے ہیں۔ میں عیسائی مذہب کے بارے میں گفتگو کر ہا ہوں او ر اس بات پر کسی کو متعجب نہیں ہونا چاہئے۔ نوآبادیوں کا کلیسا، سفید فام لوگوں کا کلیسا، بیرونی لوگوں کا کلیسا ہوتا ہے۔ یہ کلیسا مقامی آبادی کو خدائے برتر کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی دعوت نہیں دیتا بلکہ سفید فام لوگوں، آقاؤں اور ظالموں کی راہ چلنے پر اکساتا ہے۔ او رجیسا کہ ہم جانتے ہیں اس راہ میں بلائے جانے والے تو بہت ہوتے ہیں لیکن خدا کے منتخب بندے خال خال ہیں۔
مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.