ادب >> علاقائی ادب >> پنجابی ادب >> سلطان باہو
ادب
سلطان باہو (1631-1691)

راشد متین
پنجاب کے صوفی ۱ کا برین میں سلطان باہو کو بھی ممتاز ترین مقام حاصل ہے۔ ان کا تعلق شاہ جہاں کے عہد کے ایک جاگیردار خاندان سے تھا جس کا تعلق پنجاب کے ضلع جنگ سے تھا۔ ان کے والد بایزید محمد ایک صالح شریعت کے پابند حافظ قرآن، فقیہہ ، دنیاوی تعلقات سے آشنا سلطنت دہلی کے منصب دار تھے۔
باہو ۱۶۳۱ ء میں جھنگ کے موضع اعوا ن میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ظاہری علوم کا اکتساب باقاعدہ اور روایتی اندز میں نہیں کیا بلکہ زیادہ ترابتدائی تعلیم اپنی والدہ سے حاصل کی ۔ خود ہی ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
”اگرچہ میں ظاہری علوم سے محروم ہوں لیکن علم باطنی نے میری زندگی پاک کر دی ہے۔“
مرشد کی تلاش میں سرگرداں ہوئے تو ان کی ملاقات شور کوٹ کے نزدیک گڑھ بغداد میں سلسلہ قادر یہ کے ایک بزرگ شاہ حبیب اللہ سے ہوئی۔ اور جب مرید مرشد سے بھی آگے بڑھ گیا تو مرشد نے انہیں سید عبدالرحمن کی جانب رجوع کرنے کا مشور ہ دیا۔ اور نگز یب کے عہد میں وہ سید عبدالرحمن سے ملنے دہلی پہنچے مگر معروضی حالات کی بنا پر ان کے عالمگیر کے ساتھ تضادات پیدا ہو گئے۔ اسی بنا پر وہ دہلی سے واپس چلے گئے اور بقیہ زندگی روحانی ریاضتوں اور لوگوں کو روحانی فیض پہنچانے میں بسر کی۔ وہ دوسرے صوفیا کی طرح محض درویشانہ زندگی نہیں گزارتے تھے بلکہ ایک بڑے خاندان کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی زندگی کا انداز بلاشبہ روایتی صوفیانہ زندگی سے مختلف تھا۔ زندگی کے آخری دنوں میں انہوں میں سب کچھ تیاگ دیا تھا۔
ان کی تصانیف کی طویل فہرست عربی، فارسی اور پنجابی زبانوں پر محیط ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں نہ صرف مروجہ زبانوں پر عبور حاصل تھا بلکہ وہ مذہبی علوم سے بھی کماحقہ فیض یاب ہوتے تھے۔ ان کی شاعری میں ایک سرور انگیز مقدس آواز کی صورت میں لفظ ” ہو“ کا استعمال انہیں تمام صوفی شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ بظاہر فلسفیانہ موشگافیوں سے پرہیز کرتے اور سیدھی سادھی باتیں خطیبا نہ انداز میں کہے چلے جاتے، جن کا مطالعہ بلاشبہ ہماری دیہاتی دانش کا مطالعہ ہے۔ ان کی شاعری سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ سلسلہ قادریہ کے دوسرے صوفیا سے مختلف نہیں ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :
”میں نہ توجوگی ہوں نہ جنگم ، نہ ہی سجدوں میں جا کر لمبی لمبی عبادتیں کرتا ہوں نہ میں ریاضتیں کرتا ہوں ۔میرا ایمان محض یہ ہے، جو لمحہ غفلت کا ہے وہ لمحہ محض کفرکا ہے۔جو دم غافل سو دم کافر۔“
سرچشمہ علوم وفیوض ہیں، مشہور ہے کہ انہوں نے ایک سوچا لیس کتابیں تصنیف کیں جن میں سے بہت سی کتابیں امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں نا پید ہیں ۔تاہم اب بھی ان کی بہت سی کتابیں دستیاب ہیں اور علمائے ظاہر کے مقابلے میں سلطان باہوفقر کا تصور پیش کرتے ہیں جہاں علما لذتِ نفس ودنیا میں مبتلا ہو کر نفس پروری کرتے ہیں اورلذتِ یا دِالٰہی سے بیگانہ رہتے ہیں ،وہاں فقرا شب وروز یا دِخدا میں غرق ہو کر امر ہو جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ترک دنیا اور نفس کشی کے خیالات بکثرت ملتے ہیں۔ان کے نقطہ نظر کے مطابق دین ودنیا دو ایسی متضاد قوتیں ہیں جن کے باہم تفاوت کو حل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ سلطان باہو کا وصال ۱۶۹۱ ء میں ہوا۔
پیچھے مرکزی صفحہ آگے
Gifts, & Sentiments
Flowers, Mithai, Cakes, Fruit Baskets, Perfumes, Chocolate, Gift Books, Stuffed Toys, Fashion Jewelry, Mehndi, Choorian
Urdu Books
English Books
Apparel - Dresses
Paper Wishing Cards
CDs & DVDs
Mobile Phone
Electronics, Computers
Kids Toys - All products
Shop at eMarkaz
Gifts to Pakistan, Urdu Books, Men and women dresses, Mobile Scratch cards
Popular Searches: Eid Gifts to Pakistan, Eid Gifts, Eid Day Gifts, Gifts to Pakistan, Gifts to Pak, Pakistan Gifts, Gift to Pakistan, Send Gifts to Pakistan, Sending Gifts to Pakistan, Flowers to Pakistan, Cakes to Pakistan, Pakistani Gifts, Gifts for Pakistan, Valentine day, Buy Pakistani Clothing, Shalwar Suits, Kurta Shalwar, Clothes In Pakistan, Kameez Shalwar, Shalwar Kameez, Pakistani Women Wear, Cheap Flights, Hotels, Car Rentals, Cruise, Deals, Vacation Packages, Travel Comparison Tools, Trading Solution - eMarkaz

UrduPoint Network

contact us
advertisement info.
guest book
our team
feedback
privacy policy
sitemap
disclaimer

Al Razzaq Group. Parent company of UrduPoint Network

UrduPoint - pride of Pakistan
RSS Feeds (C) - UrduPoint Network. 1997-2009. All rights reserved.